سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 19
Sunan Ibn Majah 19
کتاب #1: کتاب: سنت کی اہمیت و فضیلت
2: بَابُ : تَعْظِيمِ حَدِيثِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالتَّغْلِيظِ عَلَى مَنْ عَارَضَهُ
باب: حدیث نبوی کی تعظیم و توقیر اور مخالفین سنت کے لیے سخت گناہ کی وعید۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْخَلَّادِ الْبَاهِلِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، أَنْبَأَنَا عَوْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ: " إِذَا حَدَّثْتُكُمْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَظُنُّوا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِي هُوَ أَهْنَاهُ، وَأَهْدَاهُ، وَأَتْقَاهُ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب میں تم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی حدیث بیان کروں تو تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق یہی ( خیال و گمان ) رکھو کہ آپ کی بات سب سے زیادہ عمدہ ، اور ہدایت و تقویٰ میں سب سے بڑھی ہوئی ہے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 19]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف منقطع
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف ¤ قال البوصيري: ”ھذا إسناد فيه انقطاع،عون بن عبد اللّٰه لم يسمع من عبد اللّٰه بن مسعود“ ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 375
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 9532، ومصباح الزجاجة: 7)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/415)، سنن الدارمی/المقدمة 50 (612) (ضعیف) (عون بن عبداللہ کی ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے ملاقات نہیں ہے، سند میں انقطاع کی وجہ سے یہ حدیث ضعیف ہے، لیکن آگے علی رضی اللہ عنہ سے ثابت اس معنی کا قول آرہا ہے، ملاحظہ ہو حدیث نمبر: 20)