سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 14
Sunan Ibn Majah 14
کتاب #1: کتاب: سنت کی اہمیت و فضیلت
2: بَابُ : تَعْظِيمِ حَدِيثِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالتَّغْلِيظِ عَلَى مَنْ عَارَضَهُ
باب: حدیث نبوی کی تعظیم و توقیر اور مخالفین سنت کے لیے سخت گناہ کی وعید۔
حَدَّثَنَا أَبُو مَرْوَانَ مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعُثْمَانِيُّ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عن الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ أَحْدَثَ فِي أَمْرِنَا هَذَا مَا لَيْسَ مِنْهُ فَهُوَ رَدٌّ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس شخص نے ہمارے اس دین میں کوئی ایسی نئی چیز ایجاد کی جو اس میں سے نہیں ہے ، تو وہ قابل رد ہے ۱؎ “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 14]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ ایک اہم شرعی ضابطہ ہے، اس سے معلوم ہوا کہ جس کام پر کتاب اور سنت صحیحہ کی کوئی دلیل نہ ہو، اور صحابہ و تابعین اور خیر القرون کے تعامل سے وہ محروم ہو تو وہ بدعت ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
بخاري ومسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الصلح 5 (2697)، صحیح مسلم/الأقضیة 8 (1718)، سنن ابی داود/السنة 6 (4606)، (تحفة الأشراف: 17455)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/73، 146، 180، 240، 256، 270) (صحیح)