سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 78
Sunan Ibn Majah 78
کتاب #1: کتاب: سنت کی اہمیت و فضیلت
10: بَابٌ في الْقَدَرِ
باب: قضا و قدر (تقدیر) کا بیان۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ . ح وحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، وَوَكِيعٌ عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ ، عَنْ عَلِيِّ ، قَال: كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبِيَدِهِ عُودٌ فَنَكَتَ فِي الْأَرْضِ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ، فَقَالَ: " مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا وَقَدْ كُتِبَ مَقْعَدُهُ مِنِ الْجَنَّةِ، وَمَقْعَدُهُ مِنَ النَّارِ"، قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفَلَا نَتَّكِلُ؟ قَالَ: " لَا، اعْمَلُوا، وَلَا تَتَّكِلُوا، فَكُلٌّ مُيَسَّرٌ لِمَا خُلِقَ لَهُ، ثُمَّ قَرَأَ فَأَمَّا مَنْ أَعْطَى وَاتَّقَى {5} وَصَدَّقَ بِالْحُسْنَى {6} فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْيُسْرَى {7} وَأَمَّا مَنْ بَخِلَ وَاسْتَغْنَى {8} وَكَذَّبَ بِالْحُسْنَى {9} فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْعُسْرَى {10} سورة الليل آية 5-10.
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے تھے ، آپ کے ہاتھ میں ایک لکڑی تھی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے زمین کو کریدا ، پھر اپنا سر اٹھایا اور فرمایا : ” جنت و جہنم میں ہر شخص کا ٹھکانہ لکھ دیا گیا ہے “ ، عرض کیا گیا : اللہ کے رسول ! کیا ہم اس پر بھروسہ نہ کر لیں ( اور عمل چھوڑ دیں ) ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” نہیں ، عمل کرو ، اور صرف لکھی تقدیر پر بھروسہ نہ کر کے بیٹھو ، اس لیے کہ ہر ایک کو اسی عمل کی توفیق دی جاتی ہے جس کے لیے وہ پیدا کیا گیا ہے “ ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی : «فأما من أعطى واتقى وصدق بالحسنى فسنيسره لليسرى وأما من بخل واستغنى وكذب بالحسنى فسنيسره للعسرى» ، یعنی : ” جس نے اللہ کی راہ میں دیا اپنے رب سے ڈرا ، اور اچھی بات کی تصدیق کرتا رہا ، تو ہم بھی اس پر سہولت کا راستہ آسان کر دیں گے ، لیکن جس نے بخیلی کی ، لاپرواہی برتی اور اچھی بات کو جھٹلایا تو ہم بھی اس کی تنگی و مشکل کے سامان میسر کر دیں گے “ ( سورة الليل : 5-10 ) ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 78]
💡 وضاحت:
۱؎: اس میں ان شیطانی وسوسوں کا جواب ہے جو اکثر لوگوں کے ذہنوں میں آتے رہتے ہیں کہ جب جنتی اور جہنمی کا فیصلہ پہلے ہی ہو چکا ہے تو اب عمل کیونکر کریں؟ لیکن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عمل کرو، تقدیر پر بھروسہ کر کے بیٹھ نہ جاؤ، کیونکہ ہر شخص کو اسی عمل کی توفیق دی جاتی ہے جس کے لئے وہ پیدا کیا گیا ہے“، اس لئے نیک عمل کرتے رہنا چاہیے کیونکہ یہی جنت میں جانے اور اللہ تعالیٰ کی رحمتوں کے مستحق بننے کا ذریعہ ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الجنائز 82 (1362)، تفسیر القرآن 92 (4945)، الأدب 120 (6217)، القدر 4 (6605)، التوحید 54 (7552)، صحیح مسلم/القدر 1 (2647)، سنن ابی داود/السنة 17 (4694)، سنن الترمذی/القدر 3 (2136)، التفسیر 80 (3344)، (تحفة الأشراف: 10167)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/82، 129، 13، 140) (صحیح)