سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 80
Sunan Ibn Majah 80
کتاب #1: کتاب: سنت کی اہمیت و فضیلت
10: بَابٌ في الْقَدَرِ
باب: قضا و قدر (تقدیر) کا بیان۔
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، وَيَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، سَمِعَ طَاوُسًا ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يُخْبِرُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " احْتَجَّ آدَمُ وَمُوسَى، فَقَالَ لَهُ مُوسَى: يَا آدَمُ أَنْتَ أَبُونَا، خَيَّبْتَنَا، وَأَخْرَجْتَنَا مِنَ الْجَنَّةِ بِذَنْبِكَ، فَقَالَ لَهُ آدَمُ: يَا مُوسَى، اصْطَفَاكَ اللَّهُ بِكَلَامِهِ، وَخَطَّ لَكَ التَّوْرَاةَ بِيَدِهِ، أَتَلُومُنِي عَلَى أَمْرٍ قَدَّرَهُ اللَّهُ عَلَيَّ قَبْلَ أَنْ يَخْلُقَنِي بِأَرْبَعِينَ سَنَةً؟ فَحَجَّ آدَمُ مُوسَى، فَحَجَّ آدَمُ مُوسَى، فَحَجَّ آدَمُ مُوسَى" ثَلَاثًا.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” آدم و موسیٰ علیہا السلام میں مناظرہ ہوا ، موسیٰ علیہ السلام نے آدم علیہ السلام سے کہا : اے آدم ! آپ ہمارے باپ ہیں ، آپ نے ہمیں ناکام و نامراد بنا دیا ، اور اپنے گناہ کے سبب ہمیں جنت سے نکال دیا ، تو آدم علیہ السلام نے ان سے کہا : اے موسیٰ ! اللہ تعالیٰ نے تم کو اپنی ہم کلامی کے لیے منتخب کیا ، اور تمہارے لیے اپنے ہاتھ سے تورات لکھی ، کیا تم مجھ کو ایک ایسے عمل پر ملامت کرتے ہو جس کو اللہ تعالیٰ نے میری پیدائش سے چالیس سال پہلے میری تقدیر میں لکھ دیا تھا ! “ ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار فرمایا : ” چنانچہ آدم موسیٰ پر غالب آ گئے ، آدم موسیٰ پر غالب آ گئے ، آدم موسیٰ پر غالب آ گئے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 80]
💡 وضاحت:
۱؎: آدم علیہ السلام موسیٰ علیہ السلام پر غالب آ گئے اور ان سے جیت گئے یعنی انہیں اس بات کا قائل کر لیا کہ بندہ اپنے افعال میں خود مختار نہیں ہے، اور اللہ تعالیٰ نے جس کام کو اس کے لئے مقدر کر دیا ہے اس کے نہ کرنے پر وہ قادر نہیں، لہذا جو کچھ انہوں نے کیا اس پر انہیں ملامت کرنا درست نہیں، صحیح مسلم کی روایت میں ہے کہ آدم علیہ السلام نے موسی علیہ السلام سے پوچھا کہ تم نے تورات میں پڑھا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے میری پیدائش سے کتنے برس پہلے تورات لکھی؟ انہوں نے کہا: چالیس برس، پھر آدم علیہ السلام نے فرمایا کہ تم نے اس میں پڑھا ہے: «وعصى آدم ربه فغوى» یعنی ”آدم علیہ السلام نے اپنے رب کی نافرمانی کی، تو راہ بھول گئے“، انہوں نے کہا: ہاں، آدم علیہ السلام نے فرمایا: پھر بھلا تم مجھے کیا ملامت کرتے ہو؟ باقی وہی مضمون ہے، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار فرمایا کہ آدم علیہ السلام جیت گئے، اور یہ تکرار تاکید کے لئے تھی تاکہ بخوبی یہ بات سمجھ لی جائے کہ آدم علیہ السلام مستقل فاعل نہ تھے کہ فعل و ترک کا اختیار کامل رکھتے ہوں، بلکہ جو تقدیر الٰہی تھی اس کا ان سے وقوع ہوا، اور اللہ کی مرضی و مشیت کا ہونا ضروری تھا، گویا کہ آدم علیہ السلام نے یہ کہا کہ پھر تم اس علم سابق سے جو بذریعہ تورات تمہیں حاصل ہو چکا ہے کیوں غافل ہوتے ہو، اور صرف میرے کسب (یعنی فعل اور کام) کو یاد کرتے ہو، جو صرف سبب تھا، اور اصل سے غفلت کرتے ہو جو تقدیر الٰہی تھی اور تم جیسے منتخب اور پسندیدہ اور اسرار و رموز الٰہی کے واقف کار سے یہ بات نہایت بعید ہے، اور ان دونوں نبیوں میں یہ گفتگو عالم تکلیف و اسباب میں نہیں ہوئی کہ یہاں وسائط و اکتساب سے قطع نظر اور وسائل اور مواصلات سے چشم پوشی جائز نہیں بلکہ عالم علوی میں ہوئی جو اہل تقوی کی ارواح کے اکٹھا ہونے کی جگہ ہے، اور مکلف اس وقت تک ملامت کا مستحق ہو گا جب وہ عہد تکلیف و مسئولیت میں ہو تو اس پر ملامت امر معروف میں داخل ہے، اور معاصی سے ممانعت کا سبب ہے، اور دوسروں کے لئے عبرت اور موعظت کا سبب ہے، اور جب آدمی تکلیف و مسئولیت کے مقام سے نکل گیا تو اب وہ ملامت کا مستحق نہ رہا بلکہ حقیقت واقعہ یہ ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے جو چیز مقدر کر دی تھی اس کا ظہور ہوا، اور یہ بھی واضح ہے کہ یہ گفتگو اس وقت ہوئی جب آدم علیہ السلام تائب ہو چکے تھے، اور اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول کرلی تھی، اور تائب ملامت کے لائق نہیں ہوتا، مقصد یہ ہے کہ اس واقعہ سے فساق و فجار اپنے فسق و فجور اور بد اعمالیوں پر استدلال نہیں کر سکتے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
بخاري ومسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/التفسیر سورة طہ 1 (4736)، القدر 11 (6614)، صحیح مسلم/القدر 2 (2652)، (تحفة الأشراف: 13529)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/السنة 17 (4701)، سنن الترمذی/القدر 2 (2135)، موطا امام مالک/القدر 1 (1)، مسند احمد (2/248، 268) (صحیح)