سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 91
Sunan Ibn Majah 91
کتاب #1: کتاب: سنت کی اہمیت و فضیلت
10: بَابٌ في الْقَدَرِ
باب: قضا و قدر (تقدیر) کا بیان۔
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ مُسْلِمٍ الْخَفَّافُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ سُرَاقَةَ بْنِ جُعْشُمٍ ، قَالَ: قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ: الْعَمَلُ فِيمَا جَفَّ بِهِ الْقَلَمُ، وَجَرَتْ بِهِ الْمَقَادِيرُ، أَمْ فِي أَمْرٍ مُسْتَقْبَلٍ؟ قَالَ: " بَلْ فِيمَا جَفَّ بِهِ الْقَلَمُ، وَجَرَتْ بِهِ الْمَقَادِيرُ، وَكُلٌّ مُيَسَّرٌ لِمَا خُلِقَ لَهُ".
سراقہ بن جعشم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! یہ اعمال جو انسان سے صادر ہوتے ہیں آیا اس تقدیر کے مطابق ہوتے ہیں جس کو لکھ کر قلم خشک ہو چکا ہے ، اور جو جاری ہو چکی ہے ؟ یا ایسے امر کے مطابق ہوتے ہیں جو آگے ہونے والا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” نہیں ، بلکہ اسی تقدیر کے مطابق ہوتے ہیں جس کو قلم لکھ کر خشک ہو چکا ہے ، اور جو جاری ہو چکی ہے ، اور پھر ایک شخص کے لیے اس کی تقدیر کے مطابق وہی کام آسان کر دیا جاتا ہے جس کے لیے وہ پیدا کیا گیا ہے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 91]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 3819، ومصباح الزجاجة: 35)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/197) (صحیح) (اس حدیث میں مجاہد اور سراقہ رضی اللہ عنہ کے درمیان انقطاع ہے، لیکن ابن عمر رضی اللہ عنہما کی حدیث سے تقویت پاکر یہ حدیث صحیح ہے، ملاحظہ ہو: السنة لابن ابی عاصم: 169)