سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 92
Sunan Ibn Majah 92
کتاب #1: کتاب: سنت کی اہمیت و فضیلت
10: بَابٌ في الْقَدَرِ
باب: قضا و قدر (تقدیر) کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّى الْحِمْصِيُّ ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ مَجُوسَ هَذِهِ الْأُمَّةِ الْمُكَذِّبُونَ بِأَقْدَارِ اللَّهِ، إِنْ مَرِضُوا فَلَا تَعُودُوهُمْ، وَإِنْ مَاتُوا فَلَا تَشْهَدُوهُمْ، وَإِنْ لَقِيتُمُوهُمْ فَلَا تُسَلِّمُوا عَلَيْهِمْ".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس امت کے مجوسی وہ لوگ ہیں جو اللہ کی تقدیر کے جھٹلانے والے ہیں ، اگر وہ بیمار پڑ جائیں تو تم ان کی عیادت نہ کرو ، اگر مر جائیں تو ان کے جنازے میں شریک نہ ہو ، اور اگر ان سے ملو تو انہیں سلام نہ کرو “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 92]
💡 وضاحت:
۱؎: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تقدیر کے منکرین کو مجوس سے اس لئے تشبیہ دی کہ وہ دو خالق کے قائل ہیں: ایک خیر کا خالق ہے، اس کا نام یزدان ہے، اور دوسرا شر کا خالق ہے، اس کا نام اہرمن ہے، اور قدریہ خالق سے خلق کے اختیار کو سلب کرتے ہیں اور خلق کو ہر مخلوق کے لئے ثابت کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ شر کا خالق نہیں ہے، بلکہ اللہ تعالیٰ پر اصلح (زیادہ بہتر کام) واجب ہے، اور اسی لئے علمائے اہل سنت نے کہا ہے کہ معتزلہ مجوس سے بدتر ہیں اس لئے کہ وہ دو ہی خالق اور الٰہ کے قائل ہیں اور معتزلہ بہت سے خالقوں کے قائل ہیں کہ وہ ہر انسان کو اپنے افعال کا خالق قرار دیتے ہیں۔
قال الشيخ الألباني:
حسن دون جملة التسليم
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف ¤ ابن جريج و أبو الزبير مدلسان وعنعنا ¤ ولبعض الحديث طرق أخري ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 378
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 2879، ومصباح الزجاجة: 36) (حسن) (سند میں بقیہ بن الولید اور ابو الزبیر مدلس راوی ہیں، اور دونوں نے عنعنہ سے روایت کی ہے، لیکن شواہد کی بناء پر یہ حسن ہے، اور وإن لقيتموهم فلا تسلموا عليهم کا جملہ ضعیف ہے، ملاحظہ ہو: السنة لا بن أبی عاصم: 337)