سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 67
Sunan Ibn Majah 67
کتاب #1: کتاب: سنت کی اہمیت و فضیلت
9: بَابٌ في الإِيمَانِ
باب: ایمان کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى أَكُونَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ وَلَدِهِ، وَوَالِدِهِ، وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم میں سے کوئی شخص مومن نہیں ہو سکتا جب تک کہ میں اس کے نزدیک اس کی اولاد ، اس کے والد ، اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 67]
💡 وضاحت:
۱؎: معلوم ہوا کہ جب تک ساری دنیا کے رسم و رواج اور عادات و رسوم، اور اپنی آل اولاد اور ماں باپ سے زیادہ سنت کی محبت نہ ہو اس وقت تک ایمان کامل نہیں، پھر جتنی اس محبت میں کمی ہو گی اتنی ہی ایمان میں کمی ہو گی۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الإیمان 7 (13)، 8 (15)، صحیح مسلم/الإیمان 16 (44)، سنن النسائی/الایمان 19 (5016)، سنن الترمذی/صفة القیامة 59 (2515)، (تحفة الأشراف: 1239)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/177، 207) (صحیح)