سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 66
Sunan Ibn Majah 66
کتاب #1: کتاب: سنت کی اہمیت و فضیلت
9: بَابٌ في الإِيمَانِ
باب: ایمان کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى يُحِبَّ لِأَخِيهِ، أَوْ قَالَ: لِجَارِهِ مَا يُحِبُّ لِنَفْسِهِ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کوئی شخص مومن نہیں ہو سکتا جب تک کہ وہ اپنے بھائی ( یا اپنے پڑوسی ) کے لیے وہی چیز پسند نہ کرے جو وہ اپنے لیے پسند کرتا ہے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 66]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی کامل مومن نہیں ہو سکتا، اس حدیث سے مسلمانوں کی باہمی خیر خواہی کی اہمیت و فضیلت ظاہر ہوئی، اس سنہری اصول پر اگر مسلمان عمل کرنے لگ جائیں تو معاشرے سے لوٹ کھسوٹ، رشوت، بددیانتی، جھوٹ فریب وغیرہ بیماریاں خودبخود ختم ہو جائیں گی۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الإیمان 7 (13)، صحیح مسلم/الإیمان 17 (45)، سنن الترمذی/صفة القیامة 59 (2515)، سنن النسائی/الإیمان 19 (5019)، (تحفة الأشراف: 1239)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/89، 3/171، 172، 176، 206)، سنن الدارمی/الرقاق 29 (2782) (صحیح)