سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 38
Sunan Ibn Majah 38
کتاب #1: کتاب: سنت کی اہمیت و فضیلت
5: بَابُ : مَنْ حَدَّثَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثًا وَهُوَ يُرَى أَنَّهُ كَذِبٌ
باب: جان بوجھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جھوٹی حدیث روایت کرنے والے کی مذمت۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ هَاشِمٍ ، عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ الْحَكَمِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ حَدَّثَ عَنِّي حَدِيثًا وَهُوَ يُرَى أَنَّهُ كَذِبٌ فَهُوَ أَحَدُ الْكَاذِبَيْنِ".
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص مجھ سے کوئی حدیث یہ جانتے ہوئے بیان کرے کہ وہ جھوٹ ہے تو وہ دو جھوٹوں میں سے ایک ہے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 38]
💡 وضاحت:
۱؎: «الكاذبين» تثنیہ کے ساتھ یعنی دو جھوٹے، دو جھوٹوں سے مراد ایک تو وہ شخص ہے جو جھوٹی حدیثیں گھڑتا ہے، دوسرا وہ شخص ہے جو ان کی روایت کرتا ہے، مطلب یہ ہے کہ روایت کرنے والا بھی گناہ میں گھڑنے والے کے ساتھ شریک ہو گا، اور «الكاذبين» جمع کے ساتھ بھی آیا ہے تو اس کا معنی یہ ہو گا کہ بہت سارے جھوٹے لوگوں میں سے ایک جھوٹا آدمی احادیث کا گھڑنے والا بھی ہو گا۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 10212)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/العلم 9 (2662)، مسند احمد (5/14، 20) (یہ حدیث مکرر ہے، دیکھئے: 40) (صحیح)