باب فى فضائل اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم
رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کے فضائل و مناقب
کتاب #2 • کل احادیث: 75
|
12: بَابُ : فَضْلِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
باب: صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے فضائل و مناقب ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے مناقب و فضائل۔
|
|
|
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَلَا إِنِّي أَبْرَأُ إِلَى كُلِّ خَلِيلٍ مِنْ خُلَّتِهِ، وَلَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا خَلِيلًا، لَاتَّخَذْتُ أَبَا بَكْرٍ خَلِيلًا، إِنَّ صَاحِبَكُمْ خَلِيلُ اللَّهِ" قَالَ وَكِيعٌ: يَعْنِي نَفْسَهُ.
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” آگاہ رہو ! میں ہر خلیل ( جگری دوست ) کی دلی دوستی سے بری ہوں ، اور اگر میں کسی کو خلیل ( جگری دوست ) بناتا تو ابوبکر کو بناتا ، بیشک تمہارا یہ ساتھی اللہ کا خلیل ( مخلص دوست ہے ) “ ۱؎ ۔ وکیع کہتے ہیں : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ساتھی سے اپنے آپ کو مراد لیا ہے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 93]
💡 وضاحت:
۱؎: خلیل ایسا جگری دوست ہے کہ جس کے سوا دل میں کسی کی جگہ نہ رہے، اس لئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایسا خلیل (جگری دوست) میرا اللہ تعالیٰ ہی ہے کہ میرے دل میں اس کی محبت نے ذرہ برابر جگہ نہ چھوڑی کہ اب کسی کی محبت دل میں آ سکے، اور اگر ذرا بھی دل میں گنجائش ہوتی تو میں ابوبکر کو اس میں اس خصوصی دوستی والے جذبہ میں جگہ دیتا، اس حدیث سے ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بڑی فضیلت ثابت ہوئی، اور معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کے بعد آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جگری دوستی اور خصوصی محبت کے قابل اور مستحق ہیں۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/فضائل الصحابة 1 (2383)، سنن الترمذی/المنا قب 16 (3655)، (تحفة الأشراف: 9498)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/377، 389، 389، 433، 408) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا نَفَعَنِي مَالٌ قَطُّ، مَا نَفَعَنِي مَالُ أَبِي بَكْرٍ"، قَالَ: فَبَكَى أَبُو بَكْرٍ، وَقَالَ: هَلْ أَنَا، وَمَالِي إِلَّا لَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مجھے کسی بھی مال نے اتنا فائدہ نہیں پہنچایا جتنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے مال نے فائدہ پہنچایا “ ۔ ابوہریرہ کہتے ہیں : یہ سن کر ابوبکر رضی اللہ عنہ رونے لگے اور کہا : اللہ کے رسول ! میں اور میرا مال سب صرف آپ ہی کا ہے ، اے اللہ کے رسول ! ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 94]
💡 وضاحت:
۱؎: حقیقت میں ابوبکر رضی اللہ عنہ کے مال و دولت اور جاہ و شخصیت سے اسلام کو بڑی تقویت ملی، چنانچہ تاریخ میں مذکور ہے کہ انہوں نے ابتدائے اسلام میں اور مسلمانوں کی فقر و مسکنت اور قلت تعداد کی حالت میں چالیس ہزار درہم مسلمانوں کی تائید و تقویت میں خرچ کئے، اور قریش سے سات غلاموں کو آزاد کرایا، بلال اور عامر بن فہیرہ رضی اللہ عنہما انہی میں سے تھے، اور آپ کے والد ابو قحافہ رضی اللہ عنہ اس پر معترض ہوئے تو آپ نے کہا کہ میں اللہ عز وجل کی رضا حاصل کرنے کے لئے ایسا کرتا ہوں اور آیت: «فأما من أعطى واتقى (۵) وصدق بالحسنى (۶)» (سورة الليل: 5-6) اسی باب میں نازل ہوئی۔ ہر مسلمان کو چاہئے کہ وہ اپنی طاقت بھر اسلام کی خدمت، کتاب و سنت کی نشر و اشاعت اور اہل علم و دین کی تائید و تقویت میں حصہ لے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی ایمان پرور زندگی میں ہمارے لئے بڑی عبرت اور موعظت کا سامان ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ الأعمش مدلس وعنعن ¤ وللحديث شاھد ضعيف عند الترمذي (3661) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 378
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 12528، ومصباح الزجاجة: 38)، وأخرجہ: سنن الترمذی/المناقب 16 (3655)، مسند احمد (2/253) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ الْحَسَنِ بْنِ عُمَارَةَ ، عَنْ فِرَاسٍ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ الْحَارِثِ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ سَيِّدَا كُهُولِ أَهْلِ الْجَنَّةِ مِنَ الْأَوَّلِينَ، وَالْآخِرِينَ، إِلَّا النَّبِيِّينَ، وَالْمُرْسَلِينَ، لَا تُخْبِرْهُمَا يَا عَلِيُّ مَا دَامَا حَيَّيْنِ".
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ابوبکرو عمر نبیوں اور رسولوں کے علاوہ جملہ اولین و آخرین میں سے ادھیڑ عمر والے جنتیوں کے سردار ہوں گے ، علی ! جب تک وہ دونوں زندہ رہیں انہیں یہ بات نہ بتانا “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 95]
💡 وضاحت:
۱؎: ادھیڑ عمر والے جنتیوں سے مراد وہ لوگ ہیں جو ادھیڑ عمر ہو کر مرے ہیں کیونکہ جنت میں کوئی ادھیڑ عمر کا نہیں ہو گا سب جوان ہوں گے، «كهول» جمع ہے «كهل» کی، اور «كهل» مردوں میں وہ ہے جس کی عمر تیس سے متجاوز ہو گئی ہو، اور بعضوں نے کہا چالیس سے اور بعضوں نے تینتیس سے پچپن تک، اور اس سے مراد یہ ہے کہ جو مسلمان اس عمر تک پہنچ کر انتقال کر گئے ہیں یہ دونوں یعنی ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما جنت میں ان کے سردار ہوں گے، یا کہولت سے کنایہ کیا عقل و شعور اور فہم و فراست کی پختگی پر یعنی جو دانا اور فہمیدہ لوگ جنت میں ہوں گے ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما ان کے سردار ہوں گے۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ غیر نبی، نبی کے درجہ کو نہیں پہنچ سکتا اور انبیاء کے بعد شیخین (ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما) سب سے افضل ہیں۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ غیر نبی معصوم نہیں ہو سکتا اور معلوم ہوا کہ نبی کے بعد خلافت کے مستحق یہی ہیں اس لئے کہ جب جنت میں یہ سردار ہوں گے تو دنیا کی سرداری میں کیا شک رہا، مگر واقع میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں جنتیوں کا سردار فرمایا ہے، جہنمیوں کا نہیں، اس لئے گمراہ اور جاہل ان کی سرداری کا انکار کرتے ہیں۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف ¤ إسناده ضعيف جدًا ¤ الحسن بن عمارة: متروك ¤ والحارث الأعور: ضعيف ¤ وحديث الترمذي (3666) يغني عنه ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 378
تخریج دارالدعوہ:
سنن الترمذی/ المنا قب 16 (3666)، (تحفة الأشراف: 10035)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/80) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَعَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ عَطِيَّةَ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ أَهْلَ الدَّرَجَاتِ الْعُلَى يَرَاهُمْ مَنْ أَسْفَلَ مِنْهُمْ، كَمَا يُرَى الْكَوْكَبُ الطَّالِعُ فِي الْأُفُقِ مِنْ آفَاقِ السَّمَاءِ، وَإِنَّ أَبَا بَكْرٍ، وَعُمَرَ مِنْهُمْ، وَأَنْعَمَا".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بلند درجے والوں کو ( جنت میں ) نیچے درجہ والے دیکھیں گے جس طرح چمکتا ہوا ستارہ آسمان کی بلندیوں میں دیکھا جاتا ہے ، اور ابوبکرو عمر بھی انہیں میں سے ہیں ، اور ان میں سب سے فائق و برتر ہیں “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 96]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے شیخین (ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما) کے درجات کی بلندی کا علم ہوتا ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن ¤ قال ابي رحمه الله: وله شاھد حسن عند الطبراني في الاوسط (6/ 7 ح 6003 وسنده حسن، نسخه اخريٰ: ح 6006) قلت يعني معاذ: وله شاھد حسن عند البزار (البحر الزخار: 17/ 84 ح 9619 وسنده حسن) وامالي ابن منده (6) ولفظه: ’’إن الرجل من أهل الجنة ليشرف علي أهل الجنة كأنه كوكب دري، وإن أبا بكر، وعمر منهم، وأنعما‘‘
تخریج دارالدعوہ:
سنن الترمذی/المنا قب 16 (3658)، (تحفة الأشراف: 4206)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الحروف والقراء ات 1 (3987)، مسند احمد (3/27، 72، 93، 98) (صحیح) (اس سند میں عطیة العوفی ضعیف ہیں، امام ترمذی نے اسے حسن کہاہے، اور سنن ابی داود کا سیاق اس سے مختلف ہے (3978)، شیخ البانی نے شواہد کی بناء پر اس کی تصحیح کی ہے، صحیح ابن ماجہ: 96)
|
|
|
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ . ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ مَوْلًى لِرِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنِّي لَا أَدْرِي مَا قَدْرُ بَقَائِي فِيكُمْ، فَاقْتَدُوا بِاللَّذَيْنِ مِنْ بَعْدِي، وَأَشَارَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ، وَعُمَرَ".
حذیفہ بن الیمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں نہیں جانتا کہ کب تک میں تمہارے درمیان رہوں ، پس میرے بعد ان دونوں کی پیروی کرنا “ ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبکرو عمر رضی اللہ عنہما کی جانب اشارہ کیا ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 97]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
سنن الترمذی/المناقب 16 (3662، 3663)، (تحفة الأشراف: 3317)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/382، 385، 399، 402) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ ، عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ: لَمَّا وُضِعَ عُمَرُ عَلَى سَرِيرِهِ، اكْتَنَفَهُ النَّاسُ يَدْعُونَ، وَيُصَلُّونَ، أَوْ قَالَ: يُثْنُونَ، وَيُصَلُّونَ عَلَيْهِ قَبْلَ أَنْ يُرْفَعَ وَأَنَا فِيهِمْ، فَلَمْ يَرُعْنِي إِلَّا رَجُلٌ قَدْ زَحَمَنِي، وَأَخَذَ بِمَنْكِبِي، فَالْتَفَتُّ فَإِذَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، فَتَرَحَّمَ عَلَى عُمَرَ، ثُمَّ قَالَ: مَا خَلَّفْتُ أَحَدًا أَحَبَّ إِلَيَّ أَنْ أَلْقَى اللَّهَ بِمِثْلِ عَمَلِهِ مِنْكَ، وَايْمُ اللَّهِ، إِنْ كُنْتُ لَأَظُنُّ لَيَجْعَلَنَّكَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مَعَ صَاحِبَيْكَ، وَذَلِكَ أَنِّي كُنْتُ أَكْثَرُ أَنْ أَسْمَعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " ذَهَبْتُ أَنَا، وَأَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ، وَدَخَلْتُ أَنَا، وَأَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ، وَخَرَجْتُ أَنَا، وَأَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ، فَكُنْتُ أَظُنُّ لَيَجْعَلَنَّكَ اللَّهُ مَعَ صَاحِبَيْكَ".
ابن ابی ملیکہ کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کو کہتے سنا کہ جب عمر رضی اللہ عنہ کو ( وفات کے بعد ) ان کی چارپائی پہ لٹایا گیا تو لوگوں نے انہیں گھیر لیا ، اور دعا کرنے لگے ، یا کہا : تعریف کرنے لگے ، اور جنازہ اٹھائے جانے سے پہلے دعا کرنے لگے ، میں بھی انہیں میں تھا ، تو مجھے صرف اس شخص نے خوف زدہ کیا جو لوگوں کو دھکا دے کر میرے پاس آیا ، اور میرا کندھا پکڑ لیا ، میں متوجہ ہوا تو دیکھا کہ وہ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ ہیں ، انہوں نے کہا : اللہ عمر رضی اللہ عنہ پر رحم کرے ، پھر بولے : میں نے کسی ایسے شخص کو نہیں چھوڑا جس کا عمل آپ کے عمل سے زیادہ مجھے عزیز و پیارا ہو کہ میں اس عمل کو لے کر اللہ سے ملوں ، اور قسم ہے اللہ کی ! میں یقین رکھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ آپ کو آپ کے دونوں ساتھیوں ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم و ابوبکر رضی اللہ عنہ ) کے ساتھ رکھے گا ، اس وجہ سے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اکثر فرماتے ہوئے سنتا تھا : ” میں اور ابوبکرو عمر گئے ، میں اور ابوبکرو عمر داخل ہوئے ، میں اور ابوبکرو عمر نکلے “ ، لہٰذا میں آپ کے ان باتوں کی وجہ سے یقین رکھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کے دونوں ساتھیوں کے ساتھ ( جنت میں ) رکھے گا ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 98]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے عمر رضی اللہ عنہ کی بڑی فضیلت معلوم ہوئی، اور معلوم ہوا کہ تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو ان سے خاص محبت تھی، وہ ان کے جنازے کو گھیرے ہوئے تھے، اور ان کے لئے دعا ئے خیر کر رہے تھے، اور معلوم ہوا کہ علی اور شیخین (ابوبکر و عمر) رضی اللہ عنہم کے دلوں میں کسی طرح کا بغض و حسد اور کینہ نہ تھا جیسا کہ روافض اور شیعہ وغیرہ کا خیال باطل ہے، اور معلوم ہوا کہ شیخین نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دوست اور رفیق تھے کہ اکثر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نشست و برخاست اور جمیع حالات میں ان کی معیت اور رفاقت بیان فرماتے تھے، اور مرنے کے بعد بھی قیامت تک تینوں ایک ہی جگہ یعنی ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرہ میں مدفون ہیں، اور جنت میں بھی بفضل الٰہی ساتھ ساتھ ہوں گے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
بخاري ومسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/فضائل الصحابة 4 (3677)، صحیح مسلم/فضائل الصحابة 2 (2389)، (تحفة الأشراف: 10193)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/112) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ الرَّقِّيُّ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَسْلَمَةَ ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ أُمَيَّةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بَيْنَ أَبِي بَكْرٍ، وَعُمَرَ، فَقَالَ: " هَكَذَا نُبْعَثُ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ابوبکرو عمر کے درمیان نکلے ، اور فرمایا : ” ہم اسی طرح قیامت کے دن اٹھائے جائیں گے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 99]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ سنن الترمذي (3669) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 378
تخریج دارالدعوہ:
سنن الترمذی/المناقب 16 (3669)، (تحفة الأشراف: 7499) (ضعیف) (سند میں راوی سعید بن مسلمہ منکر الحدیث ہیں)
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو شُعَيْبٍ صَالِحُ بْنُ الْهَيْثَمِ الْوَاسِطِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْقُدُّوسِ بْنُ بَكْرِ بْنِ خُنَيْسٍ ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ ، عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ سَيِّدَا كُهُولِ أَهْلِ الْجَنَّةِ مِنَ الْأَوَّلِينَ، وَالْآخِرِينَ، إِلَّا النَّبِيِّينَ، وَالْمُرْسَلِينَ".
ابوجحیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ابوبکرو عمر انبیاء و رسل کے علاوہ جملہ اولین و آخرین میں جنت کے ادھیڑ لوگوں کے سردار ہوں گے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 100]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 11819، ومصباح الزجاجة: 37) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ، وَالْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ الْمَرْوَزِيُّ ، قَالَا: حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسِ ، قَالَ: قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّ النَّاسِ أَحَبُّ إِلَيْكَ؟ قَالَ: " عَائِشَةُ"، قِيلَ: مِنَ الرِّجَالِ؟ قَالَ: " أَبُوهَا".
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا : اللہ کے رسول ! لوگوں میں آپ کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب کون ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” عائشہ “ ، عرض کیا گیا : مردوں میں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ان کے والد ( ابوبکر ) “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 101]
💡 وضاحت:
۱؎: اس سے معلوم ہوا کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بڑے چہیتے اور محبوب تھے، اور جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہیتا اور محبوب ہو وہ اللہ تعالیٰ کا چہیتا اور محبوب ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
سنن الترمذی/المناقب 63 (3890)، (تحفة الأشراف: 774) (صحیح)
|
|
|
13: بَابُ : فَضْلِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
باب: عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے مناقب و فضائل۔
|
|
|
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، أَخْبَرَنِي الْجُرَيْرِيُّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، قَالَ، قُلْتُ لِعَائِشَةَ : " أَيُّ أَصْحَابِهِ كَانَ أَحَبَّ إِلَيْهِ؟، قَالَتْ: أَبُو بَكْرٍ، قُلْتُ: ثُمَّ أَيُّهُمْ قَالَتْ: عُمَرُ، قُلْتُ: ثُمَّ أَيُّهُمْ، قَالَتْ: أَبُو عُبَيْدَةَ".
عبداللہ بن شقیق کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں آپ کو سب سے زیادہ کون محبوب تھا ؟ کہا : ابوبکر ، میں نے پوچھا : پھر کون ؟ کہا : عمر ، میں نے پوچھا : پھر کون ؟ کہا : ابوعبیدہ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 102]
💡 وضاحت:
۱؎: خلاصہ یہ ہے کہ محبت کے مختلف وجوہ و اسباب ہوتے ہیں، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی فاطمہ رضی اللہ عنہا سے محبت بیٹی ہونے کے اعتبار سے اور ان کے زہد و عبادت کی وجہ سے تھی، اور عائشہ رضی اللہ عنہا سے محبت زوجیت، دینی بصیرت، اور فہم و فراست کے سبب تھی، اور ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما سے محبت اسلام میں سبقت، دین کی بلندی، علم کی زیادتی، شریعت کی حفاظت اور اسلام کی تائید کے سبب تھی، شیخین کے یہ کمالات و مناقب کسی پر پوشیدہ نہیں، اور ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ سے محبت اس لئے تھی کہ ان کے ہاتھ پر متعدد فتوحات اسلام ہوئیں۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
سنن الترمذی/المنا قب 14، (3657)، (تحفة الأشراف: 16212)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/218) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مُحَمَّدٍ الطَّلْحِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ خِرَاشٍ الْحَوْشَبِيُّ ، عَنِ الْعَوَّامِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: لَمَّا أَسْلَمَ عُمَرُ، نَزَلَ جِبْرِيلُ، فَقَالَ: " يَا مُحَمَّدُ لَقَدِ اسْتَبْشَرَ أَهْلُ السَّمَاءِ بِإِسْلَامِ عُمَرَ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جب عمر رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کیا تو جبرائیل علیہ السلام نازل ہوئے اور کہا : اے محمد ! عمر کے قبول اسلام سے آسمان والے بہت ہی خوش ہوئے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 103]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف جدا
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ عبد اللّٰه بن خراش: ضعفه الجمهور و قال الھيثمي: و ضعفه الجمھور (مجمع الزوائد 25/4) ¤ و قال الحافظ ابن حجر: ضعيف و أطلق عليه ابن عمار الكذب (تقريب: 3293) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 378
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 6417، ومصباح الزجاجة: 39) (ضعیف جدًا) (سند میں عبداللہ بن خراش منکر الحدیث بلکہ بعضوں کے نزدیک کذاب ہیں)
|
|
|
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مُحَمَّدٍ الطَّلْحِيُّ ، أَنْبَأَنَا دَاوُدُ بْنُ عَطَاءٍ الْمَدِينِيُّ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَوَّلُ مَنْ يُصَافِحُهُ الْحَقُّ عُمَرُ، وَأَوَّلُ مَنْ يُسَلِّمُ عَلَيْهِ، وَأَوَّلُ مَنْ يَأْخُذُ بِيَدِهِ، فَيُدْخِلُهُ الْجَنَّةَ".
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” حق تعالیٰ سب سے پہلے قیامت کے دن عمر سے مصافحہ کریں گے ، اور سب سے پہلے انہیں سے سلام کریں گے ، اور سب سے پہلے ان کا ہاتھ پکڑ کر جنت میں داخل کریں گے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 104]
قال الشيخ الألباني:
منكر جدا
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ داود بن عطاء: ضعيف (تقريب: 1801) والسند ضعفه البوصيري ¤ وقال في داود بن عطاء: ”قد اتفقوا علي ضعفه“ ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 379
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 24، ومصباح الزجاجة: 40) (منکر جدًا) (داود بن عطاء المدینی ضعیف ہیں، اور منکر الحدیث ہیں اس لئے یہ حدیث ضعیف ہے)
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ أَبُو عُبَيْدٍ الْمَدِينِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ الْمَاجِشُونِ ، قَالَ: حَدَّثَنِي الزَّنْجِيُّ بْنُ خَالِدٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اللَّهُمَّ أَعِزَّ الْإِسْلَامَ بِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ خَاصَّةً".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اے اللہ ! اسلام کو خاص طور سے عمر بن خطاب کے ذریعہ عزت و طاقت عطا فرما “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 105]
قال الشيخ الألباني:
صحيح دون قوله خاصة
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ مسلم بن خالد الزنجي: ضعيف،ضعفه النسائي (الضعفاء: 569) والجمھور وقال البخاري: ”منكر الحديث‘‘ (كتاب الضعفاء بتحقيقي: 352) ¤ وانظر ضعيف سنن أبي داود (3510) ¤ وللحديث شاھد معلول عندالحاكم (3/ 83 ح 4485) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 379
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 17244، ومصباح الزجاجة: 42) (صحیح) (اس حدیث کی سند میں زنجی بن خالد منکر الحدیث صاحب أوھام راوی ہیں، لیکن حدیث شواہد کی وجہ سے صحیح ہے، حدیث میں خاصة کا لفظ متابعت یا شاہد کے نہ ملنے سے ثابت نہیں ہے، ملاحظہ ہو: المشکاة: 6036، وصحیح السیرة النبویة)۔
|
|
|
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَمَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيًّا ، يَقُول: " خَيْرُ النَّاسِ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَبُو بَكْرٍ، وَخَيْرُ النَّاسِ بَعْدَ أَبِي بَكْرٍ، عُمَرُ".
عبداللہ بن سلمہ کہتے ہیں کہ میں نے علی رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا : ” رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد لوگوں میں سب سے بہتر ابوبکر ہیں ، اور ان کے بعد لوگوں میں سب سے بہتر عمر ہیں “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 106]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 10189، ومصباح الزجاجة: 41)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/فضائل الصحابة 5 (3671)، سنن ابی داود/السنة 8 (4629) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَارِثِ الْمِصْرِيُّ ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ: كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ رَأَيْتُنِي فِي الْجَنَّةِ، فَإِذَا أَنَا بِامْرَأَةٍ تَتَوَضَّأُ إِلَى جَانِبِ قَصْرٍ، فَقُلْتُ: لِمَنْ هَذَا الْقَصْرُ؟، فَقَالَتْ: لِعُمَرَ، فَذَكَرْتَ غَيْرَتَهُ، فَوَلَّيْتُ مُدْبِرًا"، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: " فَبَكَى عُمَرُ، فَقَالَ: أَعَلَيْكَ بِأَبِي، وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ أَغَارُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے تھے ، آپ نے فرمایا : ” اس اثنا میں کہ میں سویا ہوا تھا ، میں نے اپنے آپ کو جنت میں دیکھا ، پھر اچانک میں نے ایک عورت کو دیکھا کہ ایک محل کے کنارے وضو کر رہی ہے ، میں نے پوچھا : یہ محل کس کا ہے ؟ اس عورت نے کہا : عمر کا ( مجھے عمر کی غیرت یاد آ گئی تو میں پیٹھ پھیر کر واپس ہو گیا ) “ ۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : یہ سن کر عمر رضی اللہ عنہ رونے لگے ، اور عرض کیا : اللہ کے رسول ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ، کیا میں آپ سے غیرت کروں گا ؟ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 107]
💡 وضاحت:
۱؎: وضو نظافت اور لطافت کے لئے تھا، نہ کہ رفع حدث اور طہارت کے لئے کیونکہ جنت شرعی امور و اعمال کے ادا کرنے کی جگہ نہیں ہے، اور اس حدیث سے عمر رضی اللہ عنہ کا جنتی ہونا ثابت ہوا، اور انبیاء کا خواب وحی ہے، خواب و خیال نہیں۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/بدء الخلق 8 (3242)، فضائل أصحاب النبي ﷺ 6 (3680)، التعبیر 32 (7025)، (تحفة الأشراف: 13214)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/فضائل الصحابة 2 (2395)، مسند احمد (2/339) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ يَحْيَى بْنُ خَلَفٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق ، عَنْ مَكْحُولٍ ، عَنْ غُضَيْفِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنَّ اللَّهَ وَضَعَ الْحَقَّ عَلَى لِسَانِ عُمَرَ يَقُولُ بِهِ".
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : ” بیشک اللہ تعالیٰ نے عمر کی زبان پر حق رکھ دیا ہے ، وہ حق ہی بولتے ہیں “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 108]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الخراج والإمارة 18 (2962)، (تحفة الأشراف: 11973)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/145، 165، 177) (صحیح) (تراجع الا ٔلبانی، رقم: 507)
|
|
|
14: بَابُ : فَضْلِ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
باب: عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے فضائل و مناقب۔
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو مَرْوَانَ مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعُثْمَانِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي عُثْمَانُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لِكُلِّ نَبِيٍّ رَفِيقٌ فِي الْجَنَّةِ، وَرَفِيقِي فِيهَا عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہر نبی کا جنت میں ایک رفیق ( ساتھی ) ہے ، اور میرے رفیق ( ساتھی ) اس میں عثمان بن عفان ہیں “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 109]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف ¤ ضعيف ¤ عثمان بن خالد العثماني: متروك الحديث (تقريب: 4464) ¤ فالسند ضعيف جدًا ¤ وللحديث شاهد ضعيف عندالترمذي (3698) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 379
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 13790، ومصباح الزجاجة: 43) (ضعیف) (عثمان بن خالد ضعیف ہیں، نیز ملاحظہ ہو: ا لضعیفہ: 2291)
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو مَرْوَانَ مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعُثْمَانِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي عُثْمَانُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ أَبِى الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَقِيَ عُثْمَانَ عِنْدَ بَابِ الْمَسْجِدِ، فَقَالَ: يَا عُثْمَانُ" هَذَا جِبْرِيلُ، أَخْبَرَنِي أَنَّ اللَّهَ قَدْ زَوَّجَكَ أُمَّ كُلْثُومٍ بِمِثْلِ صَدَاقِ رُقَيَّةَ، عَلَى مِثْلِ صُحْبَتِهَا".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عثمان رضی اللہ عنہ سے مسجد کے دروازے پر ملے ، اور فرمایا : ” عثمان ! یہ جبرائیل ہیں انہوں نے مجھے بتایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی شادی ام کلثوم سے رقیہ کے مہر مثل پر کر دی ہے ، اس شرط پر کہ تم ان کو بھی اسی خوبی سے رکھو جس طرح اسے ( رقیہ کو ) رکھتے تھے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 110]
💡 وضاحت:
۱؎: ام کلثوم اور رقیہ رضی اللہ عنہما دونوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادیاں تھیں، اور پہلے دونوں ابولہب کے دونوں بیٹے عتبہ اور ربیعہ کے نکاح میں تھیں، دخول سے پہلے ہی ابولہب نے اپنے دونوں لڑکوں کو کہا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی لڑکیوں کو طلاق دے دو، تو انہوں نے طلاق دے دی، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے ایک کی شادی عثمان رضی اللہ عنہ سے کی، پھر ان کے انتقال کے بعد دوسری کی شادی بھی انہی سے کر دی، اس لئے ان کا لقب ذوالنورین ہوا۔
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف ¤ ضعيف ¤ انظر الحديث السابق (109) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 379
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 13789، ومصباح الزجاجة: 44) (ضعیف) (اس کی سند میں بھی عثمان بن خالد ضعیف راوی ہیں، اس لئے یہ حدیث ضعیف ہے، جیسا کہ گذشتہ حدیث (109) میں گزرا)
|
|
|
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ ، قَالَ: ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِتْنَةً فَقَرَّبَهَا، فَمَرَّ رَجُلٌ مُقَنَّعٌ رَأْسُهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " هَذَا يَوْمَئِذٍ عَلَى الْهُدَى"، فَوَثَبْتُ، فَأَخَذْتُ بِضَبْعَيْ عُثْمَانَ، ثُمَّ اسْتَقْبَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: هَذَا؟ قَالَ: " هَذَا".
کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک فتنہ کا ذکر کیا کہ وہ جلد ظاہر ہو گا ، اسی درمیان ایک شخص اپنا سر منہ چھپائے ہوئے گزرا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ شخص ان دنوں ہدایت پر ہو گا “ ، کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں تیزی سے اٹھا ، اور عثمان رضی اللہ عنہ کے دونوں کندھے پکڑ لیے ، پھر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب رخ کر کے کہا : کیا یہی ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہاں یہی ہیں ( جو ہدایت پر ہوں گے ) “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 111]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے یہ پتہ چلتا ہے کہ عثمان رضی اللہ عنہ کے خلاف بغاوت کرنے والے، اور فتنہ کھڑا کرنے والے حق پر نہ تھے، اور عثمان رضی اللہ عنہ حق پر تھے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 11117، ومصباح الزجاجة: 45)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/المنا قب 19 (3704)، مسند احمد (4/ 235، 236، 242، 243) (صحیح) (ابن سیرین اور کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کے درمیان انقطاع ہے، لیکن مرة بن کعب کی ترمذی کی حدیث نمبر (3704) کے شاہد سے یہ صحیح ہے، جس کی تصحیح امام ترمذی نے کی ہے)
|
|
|
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْفَرَجُ بْنُ فَضَالَةَ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ الدِّمَشْقِيِّ ، عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا عُثْمَانُ إِنْ وَلَّاكَ اللَّهُ هَذَا الْأَمْرَ يَوْمًا، فَأَرَادَكَ الْمُنَافِقُونَ أَنْ تَخْلَعَ قَمِيصَكَ الَّذِي قَمَّصَكَ اللَّهُ، فَلَا تَخْلَعْهُ"، يَقُولُ: ذَلِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، قَالَ النُّعْمَانُ: فَقُلْتُ لِعَائِشَةَ: مَا مَنَعَكِ أَنْ تُعْلِمِي النَّاسَ بِهَذَا؟ قَالَتْ: أُنْسِيتُهُ وَاللَّهِ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اے عثمان ! اگر اللہ تعالیٰ کبھی تمہیں اس امر یعنی خلافت کا والی بنائے ، اور منافقین تمہاری وہ قمیص اتارنا چاہیں جو اللہ تعالیٰ نے تمہیں پہنائی ہے ، تو اسے مت اتارنا “ ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات تین بار فرمائی ۔ نعمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا : پھر آپ نے یہ بات لوگوں کو بتائی کیوں نہیں ؟ تو وہ بولیں : میں اسے بھلا دی گئی تھی ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 112]
💡 وضاحت:
۱؎: قمیص سے مراد خلافت ہے، ظاہر ہے عثمان رضی اللہ عنہ کی خلافت صحیح تھی، مخالفین ظلم، نفاق اور ہٹ دھرمی کا شکار تھے، ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا بھی یہ حدیث بمنشا الہٰی بھول گئی تھیں، بعد میں آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات یاد آ گئی۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح ¤ مسند احمد (6/ 86، 87 ح 24566 وسنده صحيح)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 17675، ومصباح الزجاجة: 46)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/المناقب 19 (3705)، مسند احمد (6/149) (صحیح) (امام ترمذی نے ربیعہ بن یزید اور نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کے درمیان عبد اللہ بن عامر الیحصبی کا ذکر کیا ہے، ابن حجر نے تہذیب التہذیب میں اسی کو صحیح قرار دیا ہے، ملاحظہ ہو: 3/264)
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ: " وَدِدْتُ أَنَّ عِنْدِي بَعْضَ أَصْحَابِي"، قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَا نَدْعُو لَكَ أَبَا بَكْرٍ؟ فَسَكَتَ، قُلْنَا: أَلَا نَدْعُو لَكَ عُمَرَ؟ فَسَكَتَ، قُلْنَا: أَلَا نَدْعُو لَكَ عُثْمَانَ؟ قَالَ: " نَعَمْ"، فَجَاءَ عُثْمَانُ فَخَلَا بِهِ، فَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكَلِّمُهُ، وَوَجْهُ عُثْمَانَ يَتَغَيَّر"، قَالَ قَيْسٌ: فَحَدَّثَنِي أَبُو سَهْلَةَ مَوْلَى عُثْمَانَ، أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ قَالَ يَوْمَ الدَّارِ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَهِدَ إِلَيَّ عَهْدًا فَأَنَا صَائِرٌ إِلَيْهِ، وَقَالَ عَلِيٌّ فِي حَدِيثِهِ: " وَأَنَا صَابِرٌ عَلَيْهِ، قَالَ قَيْسٌ: فَكَانُوا يُرَوْنَهُ ذَلِكَ الْيَوْمَ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مرض الموت میں فرمایا : ” میری خواہش یہ ہے کہ میرے پاس میرے صحابہ میں سے کوئی ہوتا “ ، ہم نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! کیا ہم ابوبکر کو نہ بلا دیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے ، ہم نے عرض کیا : کیا ہم عمر کو نہ بلا دیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے ، ہم نے عرض کیا : کیا ہم عثمان کو نہ بلا دیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہاں “ ، تو وہ آئے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے تنہائی میں باتیں کرنے لگے ، اور عثمان رضی اللہ عنہ کا چہرہ بدلتا رہا ۔ قیس کہتے ہیں : مجھ سے عثمان رضی اللہ عنہ کے غلام ابوسہلۃ نے بیان کیا کہ عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے جس دن ان پر حملہ کیا گیا کہا : بیشک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے جو عہد لیا تھا میں اسی کی طرف جا رہا ہوں ۔ علی بن محمد نے اپنی حدیث میں : «وأنا صابر عليه» کہا ہے ، یعنی : میں اس پر صبر کرنے والا ہوں ۔ قیس بن ابی حازم کہتے ہیں : اس کے بعد سب لوگوں کا خیال تھا کہ اس گفتگو سے یہی دن مراد تھا ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 113]
💡 وضاحت:
۱؎: صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے شہادت عثمان رضی اللہ عنہ کے دن کو یوم الدار سے یاد رکھا، ظالموں نے کئی دن محاصرہ کے بعد آپ کو بھوکا پیاسا شہید کیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو اس کی پیش گوئی فرما دی تھی، اور تنہائی کی گفتگو کا حال کسی کو معلوم نہ تھا، آپ کی شہادت کے بعد معلوم ہوا، رضی اللہ عنہ۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 17569، ومصباح الزجاجة: 47)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/المناقب 19 (3711)، مسند احمد (1/58، 69، 5/290، 6/ 214)، مقتصراً علی ما رواہ قیس عن أبي سہلة فقط (صحیح) (نیز ملاحظہ ہو: تعلیق الشہری علی الحدیث فی مصباح الزجاجة: 46)
|
|
|
15: بَابُ : فَضْلِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
باب: علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے مناقب و فضائل۔
|
|
|
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ ، وعَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ، عَن عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: عَهِدَ إِلَيَّ النَّبِيُّ الْأُمِّيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَنَّهُ لَا يُحِبُّنِي، إِلَّا مُؤْمِنٌ، وَلَا يُبْغِضُنِي إِلَّا مُنَافِقٌ".
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی امّی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : ” مجھ سے صرف مومن ہی محبت کرے گا ، مجھ سے صرف منافق ہی بغض رکھے گا “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 114]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الإیمان 33 (78)، سنن الترمذی/ المنا قب 21 (3736)، سنن النسائی/الایمان 19 (5021)، (تحفة الأشراف: 10092)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/84، 95، 128) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: سَمِعْتُ إِبْرَاهِيمَ بْنَ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَال لِعَلِيٍّ: " أَلَا تَرْضَى أَنْ تَكُونَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى؟".
سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا : ” کیا تم اس بات پر خوش نہیں کہ تم میری طرف سے ایسے ہی رہو جیسے ہارون موسیٰ کی طرف سے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 115]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ ایک بڑی حدیث کا ٹکڑا ہے (غزوۂ تبوک کی تفصیلات دیکھئے)، بعض منافقوں نے علی رضی اللہ عنہ کو بزدلی کا طعنہ دیا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تم کو بزدلی کے سبب مدینہ میں چھوڑ گئے، ان کو تکلیف ہوئی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شکوہ کیا، تب آپ نے یہ حدیث ارشاد فرمائی، یہ روایت بخاری اور مسلم میں بھی ہے، اور اس میں یہ لفظ زیادہ ہے: «إلا أنه لا نبي بعدي» یعنی اتنی بات ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں، یعنی جیسے ہارون علیہ السلام نبی تھے، اس حدیث سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد علی رضی اللہ عنہ کی خلافت پر استدلال صحیح نہیں کیونکہ ہارون موسیٰ علیہ السلام کے بعد موسیٰ کے خلیفہ نہیں تھے بلکہ وہ موسیٰ علیہ السلام کی زندگی ہی میں انتقال کر گئے تھے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
بخاري ومسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/المناقب 9 (3706)، صحیح مسلم/فضائل الصحابة 4 (2404)، (تحفة الأشراف: 3840)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/المناقب 21 (3731)، مسند احمد (1/170، 177، 3/32) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ ، أَخْبَرَنِي حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، قَالَ: أَقْبَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّتِهِ الَّتِي حَجَّ، فَنَزَلَ فِي بَعْضِ الطَّرِيقِ فَأَمَرَ الصَّلَاةَ جَامِعَةً، فَأَخَذَ بِيَدِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَ: " أَلَسْتُ أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ؟" قَالُوا: بَلَى، قَالَ: " أَلَسْتُ أَوْلَى بِكُلِّ مُؤْمِنٍ مِنْ نَفْسِهِ؟" قَالُوا: بَلَى، قَالَ: " فَهَذَا وَلِيُّ مَنْ أَنَا مَوْلَاهُ، اللَّهُمَّ وَالِ مَنْ وَالَاهُ، اللَّهُمَّ عَادِ مَنْ عَادَاهُ".
براء بن عازب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حجۃ الوداع کے موقع پر آئے ، آپ نے راستے میں ایک جگہ نزول فرمایا اور عرض کیا : «الصلاة جامعة» ، یعنی سب کو اکٹھا ہونے کا حکم دیا ، پھر علی رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑا اور فرمایا : ” کیا میں مومنوں کی جانوں کا مومنوں سے زیادہ حقدار نہیں ہوں ؟ “ ، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا : کیوں نہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا میں ہر مومن کا اس کی جان سے زیادہ حقدار نہیں ہوں ؟ “ ، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا : کیوں نہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ ( علی ) دوست ہیں اس کے جس کا میں دوست ہوں ، اے اللہ ! جو علی سے محبت رکھے تو اس سے محبت رکھ ، جو علی سے عداوت رکھے تو اس سے عداوت رکھ “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 116]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ حدیث نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع سے لوٹتے وقت غدیرخم میں بیان فرمائی، یہ مکہ اور مدینہ کے بیچ جحفہ میں ایک مقام کا نام ہے، اس حدیث سے علی رضی اللہ عنہ کی خلافت بلافصل پر استدلال درست نہیں: ۱۔ کیونکہ اس کے لئے شیعہ مذہب میں حدیث متواتر چاہیے، اور یہ متواتر نہیں ہے ۲۔ ولی اور مولیٰ مشترک المعنی لفظ ہیں، اس لئے کوئی خاص معنی متعین ہو یہ ممنوع ہے، ۳۔ امام معہود و معلوم کے لئے مولیٰ کا اطلاق اہل زبان کے یہاں مسلم نہیں، ۴۔ خلفاء ثلاثہ (ابوبکر، عمر، عثمان رضی اللہ عنہم) کی تقدیم اجماعی مسئلہ ہے، اور اس اجماع میں خود علی رضی اللہ عنہ شامل ہیں، ۵۔ اگر اس سے خلافت بلافصل مراد ہوتی تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ہرگز اس سے عدول نہ کرتے، وہ اہل زبان اور منشاء نبوی کو ہم سے بہتر جاننے والے تھے، ۶۔ اس حدیث میں اس بات پر تنبیہ ہے کہ علی رضی اللہ عنہ سے محبت کی جائے اور ان کے بغض سے اجتناب کیا جائے، اور یہ اہل سنت و الجماعت کا اجماعی عقیدہ ہے کہ سارے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بالخصوص امہات المومنین اور آل رسول سے محبت کی جائے، اور ان سے بغض و عداوت کا معاملہ نہ رکھا جائے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ علي بن زيد بن جدعان: ضعيف وأصل الحديث ((من كنت مولاه فعلي مولاه)) صحيح متواتر ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 379
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 1797، ومصباح الزجاجة: 48)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/281) (صحیح) (لیکن یہ سند ضعیف ہے، اس میں علی بن زید بن جدعان ضعیف ہیں، اور عدی بن ثابت ثقہ ہیں، لیکن تشیع سے مطعون ہیں، لیکن اصل حدیث شواہد کی وجہ صحیح ہے، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: 1750)
|
|
|
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي لَيْلَى حَدَّثَنَا الْحَكَمُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، قَالَ: كَانَ أَبُو لَيْلَى يَسْمُرُ مَعَ عَلِيٍّ ، فَكَانَ يَلْبَسُ ثِيَابَ الصَّيْفِ فِي الشِّتَاءِ، وَثِيَابَ الشِّتَاءِ فِي الصَّيْفِ، فَقُلْنَا: لَوْ سَأَلْتَهُ، فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ إِلَيَّ وَأَنَا أَرْمَدُ الْعَيْنِ يَوْمَ خَيْبَرَ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَرْمَدُ الْعَيْنِ، فَتَفَلَ فِي عَيْنِي ثُمَّ قَالَ: " اللَّهُمَّ أَذْهِبْ عَنْهُ الْحَرَّ وَالْبَرْدَ"، قَالَ: فَمَا وَجَدْتُ حَرًّا وَلَا بَرْدًا بَعْدَ يَوْمِئِذٍ، وَقَالَ: " لَأَبْعَثَنَّ رَجُلًا يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ، وَيُحِبُّهُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ، لَيْسَ بِفَرَّارٍ فَتَشَوَّفَ لَهَا النَّاسُ"، فَبَعَثَ إِلَى عَلِيٍّ فَأَعْطَاهَا إِيَّاهُ.
عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ کہتے ہیں : ابولیلیٰ رات میں علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ بات چیت کیا کرتے تھے ، اور علی رضی اللہ عنہ گرمی کے کپڑے جاڑے میں اور جاڑے کے کپڑے گرمی میں پہنا کرتے تھے ، ہم نے ابولیلیٰ سے کہا : کاش آپ ان سے اس کا سبب پوچھتے تو بہتر ہوتا ، پوچھنے پر علی رضی اللہ عنہ نے ( جواباً ) کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے غزوہ خیبر کے موقع پر اپنے پاس بلا بھیجا ، اس وقت میری آنکھ دکھ رہی تھی ، اور ( حاضر خدمت ہو کر ) میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میری آنکھیں آئی ہوئی ہیں ، میں مبتلا ہوں ، آپ نے میری آنکھوں میں لعاب دہن لگایا ، پھر دعا فرمائی : ” اے اللہ اس سے سردی اور گرمی کو دور رکھ “ ۔ علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : اس دن کے بعد سے آج تک میں نے سردی اور گرمی کو محسوس ہی نہیں کیا ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں ایسے آدمی کو ( جہاد کا قائد بنا کر ) بھیجوں گا جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے ، اور اللہ اور اس کے رسول اس سے محبت کرتے ہیں ، اور وہ میدان جنگ سے بھاگنے والا نہیں ہے “ ۔ لوگ ایسے شخص کو دیکھنے کے لیے گردنیں اونچی کرنے لگے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے علی رضی اللہ عنہ کو بلایا ، اور جنگ کا جھنڈا ان کے ہاتھ میں دے دیا ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 117]
💡 وضاحت:
۱ ؎: غزوہ خیبر ۷ ھ میں ہوا، اور خیبر مدینہ سے شمال میں شام کی طرف واقع ہے، یہ حدیث بھی مؤید ہے کہ اوپر والی حدیث میں مولیٰ سے دوستی اور محبت مراد ہے، اس میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے محبت کی تصریح فرمائی ہے۔
قال الشيخ الألباني:
حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ محمد بن أبي ليلي: ضعيف وضعفه الجمھور كما قال البوصيري (854) ¤ ولحديثه شواھد ضعيفة ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 379
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 10213، ومصباح الزجاجة: 49)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/99، 133) (حسن) (اس کی سند میں محمد بن عبد الرحمن بن أبی لیلیٰ شدید سيء الحفظ ہیں، لیکن حدیث طبرانی میں موجود شواہد کی بناء پر حسن ہے، بعض ٹکڑے صحیحین میں بھی ہیں، ملاحظہ ہو: ا لا ٔوسط للطبرانی: 1/127/1، 222/2)
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى الْوَاسِطِيُّ ، حَدَّثَنَا الْمُعَلَّى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ سَيِّدَا شَبَابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ وَأَبُوهُمَا خَيْرٌ مِنْهُمَا".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” حسن و حسین جنت کے نوجوانوں کے سردار ہیں ، اور ان کے والد ان سے بہتر ہیں “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 118]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 8434، ومصباح الزجاجة: 50) (صحیح) (اس کی سند میں معلی بن عبدالرحمن ضعیف اور ذاھب الحدیث ہیں، لیکن شواہد کی بناء پر یہ حدیث صحیح ہے، جیسا کہ ترمذی اور نسائی نے حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: 797)
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَة ، وَسُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَإِسْمَاعِيل بْنُ مُوسَى ، قَالُوا: حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنْ حُبْشِيِّ بْنِ جُنَادَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " عَلِيٌّ مِنِّي وَأَنَا مِنْهُ وَلَا يُؤَدِّي عَنِّي إِلَّا عَلِيٌّ".
حبشی بن جنادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : ” علی مجھ سے ہیں ، اور میں ان سے ہوں ، اور میری طرف سے اس پیغام کو سوائے علی کے کوئی اور پہنچا نہیں سکتا “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 119]
💡 وضاحت:
۱؎: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ الفاظ ابوبکر رضی اللہ عنہ کے لئے بطور عذر، اور علی رضی اللہ عنہ کی تکریم کے لئے اس وقت فرمائے جب ابوبکر رضی اللہ عنہ امیر حج تھے، اور سورۃ براءت میں مشرکین سے کئے گئے معاہدہ کے توڑنے کے اعلان کی ضرورت پڑی، چونکہ دستور عرب کے مطابق سردار یا سردار کا قریبی رشتہ دار ہی یہ اعلان کر سکتا تھا، لہذا علی رضی اللہ عنہ کو یہ ذمہ داری سونپی گئی، رضی اللہ عنہم۔
قال الشيخ الألباني:
حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
سنن الترمذی/المنا قب 21 (3719)، (تحفة الأشراف: 3290)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/164، 165) (حسن) (تراجع الا ٔلبانی، رقم: 378، وسلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: 1980، وظلال الجنة: 1189)
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل الرَّازِيُّ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، أَنْبَأَنَا الْعَلَاءُ بْنُ صَالِحٍ ، عَنْ الْمِنْهَالِ ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ، قَالَ عَلِيٌّ: " أَنَا عَبْدُ اللَّهِ، وَأَخُو رَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَنَا الصِّدِّيقُ الأَكْبَرُ لا يَقُولُهَا بَعْدِي إِلا كَذَّابٌ، صَلَّيْتُ قَبْلَ النَّاسِ بِسَبْعِ سِنِينَ".
عباد بن عبداللہ کہتے ہیں کہ علی رضی اللہ عنہ نے کہا : میں اللہ کا بندہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا بھائی ہوں ، اور میں صدیق اکبر ہوں ، میرے بعد اس فضیلت کا دعویٰ جھوٹا شخص ہی کرے گا ، میں نے سب لوگوں سے سات برس پہلے نماز پڑھی ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 120]
قال الشيخ الألباني:
باطل
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف ¤ إسناده ضعيف جدًا ¤ عباد بن عبد اللّٰه: ضعيف (تقريب: 3136) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 379
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 10157، ومصباح الزجاجة: 51) (باطل) (سند میں عباد بن عبداللہ ضعیف اور متروک ر1وی ہے، اور اس کے بارے میں امام بخاری نے فرمایا: فيه نظر اور وہی حدیث کے بطلان کا سبب ہے، امام ذہبی نے فرمایا: یہ حدیث علی رضی اللہ عنہ پر جھوٹ ہے، ملاحظہ ہو: الموضوعات لابن الجوزی: 1/341، وتلخیص المستدرک للذہبی، وتنزیہ الشریعة: 1/386، وشیخ الاسلام ابن تیمیہ وجہودہ فی الحدیث وعلومہ: 310، للدکتور عبد الرحمن الفریوائی)
|
|
|
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنِ ابْنِ سَابِطٍ وَهُوَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، قَالَ: قَدِمَ مُعَاوِيَةُ فِي بَعْضِ حَجَّاتِهِ، فَدَخَلَ عَلَيْهِ سَعْدٌ فَذَكَرُوا عَلِيًّا فَنَالَ مِنْهُ، فَغَضِبَ سَعْدٌ، وَقَالَ: تَقُولُ هَذَا لِرَجُلٍ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ"، وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: " أَنْتَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى، إِلَّا أَنَّهُ لَا نَبِيَّ بَعْدِي"، وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: " لَأُعْطِيَنَّ الرَّايَةَ الْيَوْمَ رَجُلًا يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ".
سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ معاویہ رضی اللہ عنہ اپنے ایک سفر حج میں آئے تو سعد رضی اللہ عنہ ان کے پاس ملنے آئے ، لوگوں نے علی رضی اللہ عنہ کا تذکرہ کیا تو معاویہ رضی اللہ عنہ نے علی رضی اللہ عنہ کو نامناسب الفاظ سے یاد کیا ، اس پر سعد رضی اللہ عنہ ناراض ہو گئے اور بولے : آپ ایسا اس شخص کی شان میں کہتے ہیں جس کے بارے میں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے : ” جس کا مولیٰ میں ہوں ، علی اس کے مولیٰ ہیں “ ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے یہ بھی سنا : ” تم ( یعنی علی ) میرے لیے ویسے ہی ہو جیسے ہارون موسیٰ کے لیے ، مگر یہ کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں “ ، نیز میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : ” آج میں لڑائی کا جھنڈا ایسے شخص کو دوں گا جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 121]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ عبد الرحمٰن بن سابط لم يسمع من سعد رضي اللّٰه عنه (انظر تحفة التحصيل ص 197) ¤ و حديث البخاري (3706،4416) و مسلم (2404) يغني عنه ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 379
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 3901)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/فضائل الصحابة 9 (3706)، صحیح مسلم/فضائل الصحابة 4 (2404)، سنن الترمذی/المناقب 21 (3724)، مسند احمد (1/84، 118) (صحیح)
|
|
|
16: بَابُ : فَضْلِ الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
باب: زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کے مناقب و فضائل۔
|
|
|
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ قُرَيْظَةَ: " مَنْ يَأْتِينَا بِخَبَرِ الْقَوْمِ"، فَقَالَ الزُّبَيْرُ: أَنَا، فَقَالَ: " مَنْ يَأْتِينَا بِخَبَرِ الْقَوْمِ"، فَقَالَ الزُّبَيْرُ: أَنَا ثَلَاثًا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ لِكُلِّ نَبِيٍّ حَوَارِيٌّ وَإِنَّ حَوَارِيَّ الزُّبَيْرُ".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ قریظہ پر حملے کے دن فرمایا : ” کون ہے جو میرے پاس قوم ( یعنی یہود بنی قریظہ ) کی خبر لائے ؟ ، زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا : میں ہوں ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کون ہے جو میرے پاس قوم کی خبر لائے ؟ “ ، زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا : میں ، یہ سوال و جواب تین بار ہوا ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہر نبی کے حواری ( خاص مددگار ) ہوتے ہیں ، اور میرے حواری ( خاص مددگار ) زبیر ہیں “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 122]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ واقعہ غزوہ احزاب کا ہے جو سن (۵) ہجری میں واقع ہوا، جب کفار قریش قبائل عرب اور خیبر کے یہودی سرداروں کے ساتھ دس ہزار کی تعداد میں مدینہ پر چڑھ آئے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کے مشورہ سے خندق کھدوائی، اس لئے اس غزوہ کو غزوہ خندق بھی کہا جاتا ہے، مسلمان بڑی کس مپرسی کے عالم میں تھے، اور یہود بنی قریظہ نے بھی معاہدہ توڑ کر کفار مکہ کا ساتھ دیا، ایک دن بہت سردی تھی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ سے یہ چاہا کہ کوئی اس متحدہ فوج کی خبر لائے جن میں بنی قریظہ بھی شریک تھے، لیکن سب خاموش رہے، اور اس مہم پر زبیر رضی اللہ عنہ گئے، اور ان کو سردی بھی نہ لگی، اور خبر لائے کہ اللہ تعالیٰ نے ان حملہ آوروں پر بارش اور ٹھنڈی ہوا بھیج دی ہے جس سے ان کے خیمے اکھڑ گئے، ہانڈیاں الٹ گئیں، اور لوگ میدان چھوڑ کر بھاگ گئے ہیں، زبیر رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پھوپھی صفیہ رضی اللہ عنہا کے بیٹے تھے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
بخاري ومسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الجہاد 41 (2846)، صحیح مسلم/فضائل الصحابہ 6 (2415)، سنن الترمذی/المنا قب 25 (3845)، (تحفة الأشراف: 3020)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/89، 102، 3/307) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ الزُّبَيْرِ ، قَالَ: " لَقَدْ جَمَعَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَوَيْهِ يَوْمَ أُحُدٍ".
زبیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ احد ۱؎ کے دن میرے لیے اپنے ماں باپ دونوں کو جمع کیا ۲؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 123]
💡 وضاحت:
۱؎: تخریج میں مذکورہ مراجع میں یہ ہے کہ واقعہ غزوہ احزاب ”خندق“ کا ہے، اس لئے ”احد“ کا ذکر یہاں خطا اور وہم کے قبیل سے ہے۔ ۲؎: یعنی کہا: ”میرے ماں باپ تم پر فدا ہوں“، یہ زبیر رضی اللہ عنہ کے حق میں بہت بڑا اعزاز ہے، آگے حدیث میں یہ فضیلت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو بھی حاصل ہے، لیکن وہاں پر علی رضی اللہ عنہ نے اس فضیلت کو صرف سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے ساتھ خاص کر دیا ہے، اس میں تطبیق کی صورت اس طرح ہے کہ یہ علی رضی اللہ عنہ کے علم کے مطابق تھا، ورنہ صحیح احادیث میں یہ فضیلت دونوں کو حاصل ہے، واضح رہے کہ ابن ماجہ میں زبیر رضی اللہ عنہ کی یہ بات غزوہ احد کے موقع پر منقول ہوئی ہے، جب کہ دوسرے مراجع میں یہ غزوہ احزاب کی مناسبت سے ہے، اور آگے آ رہا ہے کہ سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ غزوہ احد کے موقع پر فرمایا تھا۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
بخاري ومسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/فضائل الصحابة 13 (3720)، صحیح مسلم/فضائل الصحابة 6 (2416)، سنن الترمذی/المناقب 23 (3743)، (تحفة الأشراف: 3622)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/164، 166) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، وَهَدِيَّةُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ: " يَا عُرْوَةُ كَانَ أَبَوَاكَ مِنْ الَّذِينَ اسْتَجَابُوا لِلَّهِ وَالرَّسُولِ مِنْ بَعْدِ مَا أَصَابَهُمُ الْقَرْحُ سورة آل عمران آية 172: أَبُو بَكْرٍ وَالزُّبَيْرُ".
عروہ کہتے ہیں کہ مجھ سے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا : عروہ ! تمہارے نانا ( ابوبکر ) اور والد ( زبیر ) ان لوگوں میں سے ہیں جن کے بارے میں یہ آیت کریمہ نازل ہوئی : «الذين استجابوا لله والرسول من بعد ما أصابهم القرح» ” جن لوگوں نے زخمی ہونے کے باوجود اللہ اور اس کے رسول کی پکار پر لبیک کہا ” ( سورة آل عمران : 172 ) ، یعنی ابوبکر اور زبیر بن عوام رضی اللہ عنہما ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 124]
💡 وضاحت:
۱؎: پوری آیت یوں ہے: «الذين استجابوا لله والرسول من بعد مآ أصابهم القرح للذين أحسنوا منهم واتقوا أجر عظيم» یعنی: ”جن لوگوں نے زخمی ہونے کے بعد اللہ اور رسول کا کہنا مانا، جو لوگ ان میں نیک و صالح اور پرہیز گار ہوئے ان کو بڑا ثواب ہے“ (سورة آل عمران: 172)۔ اس آیت کا شان نزول امام بغوی نے یوں ذکر کیا ہے کہ جب ابو سفیان اور کفار مکہ جنگ احد سے واپس لوٹے، اور مقام روحا میں پہنچے تو اپنے لوٹنے پر نادم و شرمندہ ہوئے اور ملامت کی، اور کہنے لگے کہ ہم نے محمد کو نہ قتل کیا، نہ ان کی عورتوں کو قید کیا، پھر ان لوگوں نے یہ طے کیا کہ دوبارہ واپس چل کر مسلمانوں کا کام تمام کر دیا جائے، جب یہ خبر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی طاقت کے اظہار کے لئے صحابہ کرام کی ایک جماعت اکٹھا کی، اور ابوسفیان اور کفار مکہ کے تعاقب میں روانہ ہونا چاہا، اور اعلان کر دیا کہ ہمارے ساتھ غزوہ احد کے شرکاء کے علاوہ اور کوئی نہ نکلے، جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے اجازت طلب کی تو آپ نے ان کو ساتھ چلنے کی اجازت دے دی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ، ابوبکر، عثمان، علی، طلحہ، زبیر، سعد، سعید، عبدالرحمن بن عوف، عبداللہ بن مسعود، حذیفہ بن الیمان، اور ابوعبیدہ بن جراح وغیرہم کی معیت میں ستر آدمیوں کو لے کر روانہ ہوئے، اور حمراء الأسد (مدینہ سے بارہ میل (۱۹ کلومیٹر) کے فاصلے پر ایک مقام) پر پہنچے، اس کے بعد بغوی رحمہ اللہ نے یہی روایت ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل کی ہے، غرض وہاں معبد خزاعی نامی ایک آدمی تھا جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت رکھتا تھا، اور وہاں کے بعض لوگ ایمان لا چکے تھے تو معبد نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ ہم کو آپ کے اصحاب کے زخمی ہونے کا بہت رنج ہوا،غرض وہ وہاں سے ابوسفیان کے پاس آیا، اور ان کو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی شجاعت کی خبر دی، ابوسفیان اور ان کے ساتھی اس خبر کو سن کر ٹھنڈے ہو گئے، اور مکہ واپس لوٹ گئے، غرض اللہ تعالیٰ نے صحابہ کرام کی فضیلت میں یہ آیت نازل فرمائی۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 16939)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/المغازي 16 (4077)، صحیح مسلم/فضائل الصحابة 6 (2418)، مسند احمد (1/164، 166) (صحیح)
|
|
|
17: بَابُ : فَضْلِ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
باب: طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ کے مناقب و فضائل۔
|
|
|
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَعَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَوْدِيُّ ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الصَّلْتُ الْأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو نَضْرَةَ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّ طَلْحَةَ مَرَّ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " شَهِيدٌ يَمْشِي عَلَى وَجْهِ الْأَرْضِ".
جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ طلحہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ شہید ہیں جو روئے زمین پر چل رہے ہیں “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 125]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف ¤ ضعيف ¤ سنن الترمذي (3739) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 380
تخریج دارالدعوہ:
سنن الترمذی/المناقب 22 (3739)، (تحفة الأشراف: 3103) (صحیح) (ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: 126)
|
|
|
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْأَزْهَرِ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنِي إِسْحَاق بْنُ يَحْيَى بْنِ طَلْحَةَ ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ ، قَالَ: نَظَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى طَلْحَةَ، فَقَالَ: " هَذَا مِمَّنْ قَضَى نَحْبَهُ".
معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے طلحہ رضی اللہ عنہ کو دیکھا تو فرمایا : ” یہ ان لوگوں میں سے ہیں جنہوں نے اپنے کئے ہوئے عہد کو پورا کر دیا “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 126]
قال الشيخ الألباني:
حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف ¤ [126۔127] إسناده ضعيف ¤ ترمذي (3202) ¤ قلت: و حديث الترمذي (الأصل: 3203 وسنده حسن) يغني عنه ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 380
تخریج دارالدعوہ:
سنن الترمذی/تفسیر القرآن 34 (3202)، المناقب 22 (3740)، (تحفة الأشراف: 11445) (حسن)
|
|
|
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَنْبَأَنَا إِسْحَاق ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ مُعَاوِيَةَ ، فَقَالَ: أَشْهَدُ لَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " طَلْحَةُ مِمَّنْ قَضَى نَحْبَهُ".
موسیٰ بن طلحہ کہتے ہیں کہ ہم معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس تھے تو انہوں نے کہا : میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : ” طلحہ ان لوگوں میں سے ہیں جنہوں نے اپنے کئے ہوئے عہد کو سچ کر دکھایا “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 127]
💡 وضاحت:
۱؎: پوری آیت یوں ہے: «من المؤمنين رجال صدقوا ما عاهدوا الله عليه فمنهم من قضى نحبه ومنهم من ينتظر وما بدلوا تبديلا» یعنی ”مومنوں میں سے ایسے لوگ بھی ہیں جنہوں نے اس وعدے کو جو انہوں نے اللہ سے کیا تھا سچ کر دکھایا، بعض نے تو اپنا عہد پورا کر دیا، اور بعض (موقعہ کے) منتظر ہیں، اور انہوں نے کوئی تبدیلی نہیں کی“ (سورة الأحزاب: 23)۔
قال الشيخ الألباني:
حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف ¤ ۔127] إسناده ضعيف ¤ ترمذي (3202) ¤ قلت: و حديث الترمذي (الأصل: 3203 وسنده حسن) يغني عنه ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 380
تخریج دارالدعوہ:
انظر ماقبلہ (حسن)
|
|
|
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ إِسْمَاعِيل ، عَنْ قَيْسٍ ، قَالَ: " رَأَيْتُ يَدَ طَلْحَةَ شَلَّاءَ وَقَى بِهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ".
قیس بن ابی حازم کہتے ہیں کہ میں نے طلحہ رضی اللہ عنہ کا وہ ہاتھ دیکھا جو شل ( بیکار ) ہو گیا تھا ، جنگ احد میں انہوں نے اس کو ڈھال بنا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت کی تھی ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 128]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/ فضائل أصحاب 14 (3724)، المغازي 18 (4063)، (تحفة الأشراف: 5007)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/161) (صحیح)
|
|
|
18: بَابُ : فَضْلِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
باب: سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے مناقب و فضائل۔
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ: مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَمَعَ أَبَوَيْهِ لِأَحَدٍ غَيْرَ سَعْدِ بْنِ مَالِكٍ، فَإِنَّهُ قَالَ لَهُ يَوْمَ أُحُدٍ: " ارْمِ سَعْدُ فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي".
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں دیکھا کہ آپ نے سعد بن مالک ( سعد بن ابی وقاص ) رضی اللہ عنہ کے علاوہ کسی کے لیے اپنے والدین کو جمع کیا ہو ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ احد کے دن سعد رضی اللہ عنہ سے کہا : ” اے سعد ! تم تیر چلاؤ ، میرے ماں اور باپ تم پر فدا ہوں “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 129]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ فضیلت غزوہ احزاب کے موقع پر زبیر رضی اللہ عنہ کو بھی حاصل ہے، اور حدیث میں علی رضی اللہ عنہ نے جو بیان کی وہ ان کے اپنے علم کے مطابق ہے، ملاحظہ ہو: حدیث نمبر (۱۲۳)
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
بخاري ومسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الجہاد 80 (2905)، الأدب 103 (6184)، المغازي 18 (4058، 4059)، صحیح مسلم/فضائل الصحابة 5 (2411)، سنن الترمذی/المناقب 27 (3755)، (تحفة الأشراف: 10190)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/92، 124، 137، 158) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ . ح وحَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيل ، وَإِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ ، يَقُولُ: لَقَدْ جَمَعَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ أَبَوَيْهِ، فَقَالَ: " ارْمِ سَعْدُ فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي".
سعید بن مسیب کہتے ہیں کہ میں نے سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لیے غزوہ احد کے دن اپنے والدین کو جمع کیا ، اور فرمایا : ” اے سعد ! تیر چلاؤ ، میرے ماں باپ تم پر قربان ہوں “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 130]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/فضائل أصحاب النبي ﷺ 15 (3725)، المغازي 18 (4055، 4056، 4057)، صحیح مسلم/فضائل الصحابة 5 (2411، 2412)، سنن الترمذی/الأدب 61 (2830)، المناقب 27 (3754)، (تحفة الأشراف: 3857)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/174، 180) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، وَخَالِي يَعْلَى ، وَوَكِيعٌ ، عَنْ إِسْمَاعِيل ، عَنْ قَيْسٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ ، يَقُولُ: " إِنِّي لَأَوَّلُ الْعَرَبِ رَمَى بِسَهْمٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ".
قیس بن ابی حازم کہتے ہیں کہ میں نے سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا : میں پہلا عربی شخص ہوں جس نے اللہ کی راہ میں تیر چلایا ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 131]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
بخاري ومسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/فضائل الصحابة 15 (3728)، الرقاق 17 (6453)، صحیح مسلم/الزھد 12 (2966)، سنن الترمذی/الزھد 39 (2365)، (تحفة الأشراف: 3913)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/174، 181، 186)، سنن الدارمی/الفرائض 2 (2902) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا مَسْرُوقُ بْنُ الْمَرْزُبَانِ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، عَنْ هَاشِمِ بْنِ هَاشِمٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ ، يَقُولَ، قَالَ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ : " مَا أَسْلَمَ أَحَدٌ فِي الْيَوْمِ الَّذِي أَسْلَمْتُ فِيهِ، وَلَقَدْ مَكَثْتُ سَبْعَةَ أَيَّامٍ، وَإِنِّي لَثُلُثُ الْإِسْلَامِ".
سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جس دن میں نے اسلام قبول کیا اس دن کسی نے اسلام نہ قبول کیا تھا ، اور میں ( ابتدائی عہد میں ) سات دن تک مسلمانوں کا تیسرا شخص تھا ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 132]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی سات دن تک کوئی اور مسلمان نہ ہوا، یعنی میں ان لوگوں میں سے ہوں جنہوں نے اسلام لانے میں پہل کی، یہ بات ان کے اپنے علم کی بنیاد پر ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
|
|
|
19: بَابُ : فَضَائِلِ الْعَشَرَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ
باب: عشرہ مبشرہ رضی اللہ عنہم کے فضائل و مناقب۔
|
|
|
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ الْمُثَنَّى أَبُو الْمُثَنَّى النَّخَعِيُّ ، عَنْ جَدِّهِ رِيَاحِ بْنِ الْحَارِثِ ، سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ زَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَيْل ، يَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَاشِرَ عَشَرَةٍ، فَقَالَ: " أَبُو بَكْرٍ فِي الْجَنَّةِ، وَعُمَرُ فِي الْجَنَّةِ، وَعُثْمَانُ فِي الْجَنَّةِ، وَعَلِيٌّ فِي الْجَنَّةِ، وَطَلْحَةُ فِي الْجَنَّةِ، وَالزُّبَيْرُ فِي الْجَنَّةِ، وَسَعْدٌ فِي الْجَنَّةِ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ فِي الْجَنَّةِ"، فَقِيلَ لَهُ: مَنِ التَّاسِعُ؟ قَالَ: " أَنَا".
سعید بن زید بن عمرو بن نفیل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دسویں شخص تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ابوبکر جنت میں ہیں ، عمر جنت میں ہیں ، عثمان جنت میں ہیں ، علی جنت میں ہیں ، طلحہ جنت میں ہیں ، زبیر جنت میں ہیں ، سعد جنت میں ہیں ، عبدالرحمٰن جنت میں ہیں “ ، سعید رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا : نواں کون تھا ؟ بولے : ” میں “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 133]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث میں اور آگے کی حدیث (جس میں مذکور ہے کہ دسویں آدمی ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ ہیں) میں کوئی تعارض نہیں، اس لئے کہ یہ دونوں الگ الگ مجلس کی حدیثیں ہیں۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/السنة 9 (4650)، (تحفة الأشراف: 4455)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/المنا قب 26 (3748)، 28 (3757)، مسند احمد (1/ 187) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ حُصَيْنٍ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ظَالِمٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ ، قَالَ: أَشْهَدُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنِّي سَمِعْتُهُ يَقُولُ: " اثْبُتْ حِرَاءُ فَمَا عَلَيْكَ إِلَّا نَبِيٌّ، أَوْ صِدِّيقٌ، أَوْ شَهِيدٌ، وَعَدَّهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ، وَعُثْمَانُ، وَعَلِيٌّ، وَطَلْحَةُ، وَالزُّبَيْرُ، وَسَعْدٌ، وَابْنُ عَوْفٍ، وَسَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ".
سعید بن زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : ” ٹھہر ، اے حرا ! ۱؎ ( وہ لرزنے لگا تھا ) تیرے اوپر سوائے نبی ، صدیق اور شہید کے کوئی اور نہیں ہے “ ، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے نام گنوائے : ” ابوبکر ، عمر ، عثمان ، علی ، طلحہ ، زبیر ، سعد ، عبدالرحمٰن بن عوف اور سعید بن زید “ رضی اللہ عنہم ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 134]
💡 وضاحت:
۱؎: «حرا» مکہ میں ا یک پہاڑ کانام ہے، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کی خوشی میں جھومنے لگا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا، اور جو فرمایا وہ ہو کر رہا، سوائے سعد رضی اللہ عنہ کے جن کا انتقال اپنے قصر میں ہوا، یا یہ کہ ان کا انتقال کسی ایسے مرض میں ہوا جس سے وہ شہادت کا درجہ پا گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تغلیبا سب کو شہید کہا۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/السنة 9 (4648)، سنن الترمذی/المناقب 26 (3747)، 28 (3757)، (تحفة الأشراف: 4458)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/ 188، 189) (صحیح)
|
|
|
20: بَابُ : فَضْلِ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ الْجَرَّاحِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
باب: ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کے مناقب و فضائل۔
|
|
|
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، جَمِيعًا، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنْ صِلَةَ بْنِ زُفَرَ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِأَهْلِ نَجْرَانَ: " سَأَبْعَثُ مَعَكُمْ رَجُلًا أَمِينًا حَقَّ أَمِينٍ"، قَالَ: فَتَشَوَّفَ لَهَا النَّاسُ، " فَبَعَثَ أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ الْجَرَّاحِ".
حذیفہ بن الیمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل نجران سے فرمایا : ” میں تمہارے ساتھ ایک ایسے امانت دار آدمی کو بھیجوں گا جو انتہائی درجہ امانت دار ہے “ ، حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا : لوگ اس امین شخص کی جانب گردنیں اٹھا کر دیکھنے لگے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوعبیدہ بن جراح کو بھیجا ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 135]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
بخاري ومسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/فضائل الصحابة 21 (3745)، المغازي 73 (4380)، أخبار الأحاد 1 (7254)، صحیح مسلم/فضائل الصحابة 7 (2420)، سنن الترمذی/المناقب 33 (3796)، (تحفة الأشراف: 3350)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/414، 4/90، 5/ 385، 398، 440، 401) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنْ صِلَةَ بْنِ زُفَرَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِأَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ الْجَرَّاحِ: " هَذَا أَمِينُ هَذِهِ الْأُمَّةِ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کے متعلق فرمایا : ” یہ اس امت کے امین ہیں “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 136]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 9316)، مسند احمد (1/18، 414، 2/125، وانظر ما قبلہ) (صحیح)
|
|
|
21: بَابُ : فَضْلِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
باب: عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے مناقب و فضائل۔
|
|
|
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنْ الْحَارِثِ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَوْ كُنْتُ مُسْتَخْلِفًا أَحَدًا عَنْ غَيْرِ مَشُورَةٍ لَاسْتَخْلَفْتُ ابْنَ أُمِّ عَبْدٍ".
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اگر میں بغیر مشورہ کے کسی کو خلیفہ مقرر کرتا تو ام عبد کے بیٹے ( عبداللہ بن مسعود ) کو مقرر کرتا “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 137]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ ترمذي (3808،3809) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 380
تخریج دارالدعوہ:
سنن الترمذی/المناقب 38 (3808، 3809)، (تحفة الأشراف: 10045)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/76، 95، 107، 108) (ضعیف) (حارث ضعیف اور متہم بالرفض ہے، اس لئے یہ حدیث ضعیف ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: 2327)
|
|
|
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ زِرٍّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ ، وَعُمَرَ بَشَّرَاهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ أَحَبَّ أَنْ يَقْرَأَ الْقُرْآنَ غَضًّا كَمَا أُنْزِلَ، فَلْيَقْرَأْهُ عَلَى قِرَاءَةِ ابْنِ أُمِّ عَبْدٍ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ابوبکرو عمر رضی اللہ عنہما نے انہیں بشارت سنائی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے : ” جو شخص چاہتا ہو کہ قرآن کو بغیر کسی تبدیلی اور تغیر کے ویسے ہی پڑھے جیسے نازل ہوا ہے تو ام عبد کے بیٹے ( عبداللہ بن مسعود ) کی قراءت کے مطابق پڑھے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 138]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی قراءت کی فضیلت معلوم ہوئی، اور ان کا طرز قراءت بھی معلوم ہوا۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 9209)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/7، 26، 38) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، عَنْ الْحَسَنِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سُوَيْدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذْنُكَ عَلَيَّ أَنْ تَرْفَعَ الْحِجَابَ، وَأَنْ تَسْمَعَ سِوَادِي حَتَّى أَنْهَاكَ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تمہیں میرے گھر آنے کی اجازت یہی ہے کہ تم پردہ اٹھاؤ ، اور یہ کہ میری آواز سن لو ، الا یہ کہ میں تمہیں خود منع کر دوں “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 139]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی فضیلت ظاہر ہے، چونکہ وہ خادم خاص تھے، اور برابر شریک مجلس رہا کرتے تھے، بار بار اجازت طلب کرنے میں حرج تھا، اس لئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو یہ مخصوص اجازت عطا فرمائی۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/السلام 6 (2169)، (تحفة الأشراف: 9388)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/388، 394، 404) (صحیح)
|
|
|
22: بَابُ : فَضْلِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
باب: عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کے مناقب و فضائل۔
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَرِيفٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي سَبْرَةَ النَّخَعِيِّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ ، عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، قَالَ: كُنَّا نَلْقَى النَّفَرَ مِنْ قُرَيْشٍ وَهُمْ يَتَحَدَّثُونَ فَيَقْطَعُونَ حَدِيثَهُمْ، فَذَكَرْنَا ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " مَا بَالُ أَقْوَامٍ يَتَحَدَّثُونَ، فَإِذَا رَأَوْا الرَّجُلَ مِنْ أَهْلِ بَيْتِي قَطَعُوا حَدِيثَهُمْ، وَاللَّهِ لَا يَدْخُلُ قَلْبَ رَجُلٍ الْإِيمَانُ حَتَّى يُحِبَّهُمْ لِلَّهِ، وَلِقَرَابَتِهِمْ مِنِّي".
عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ قریش کے ( کچھ لوگوں کا حال یہ تھا ) جب ہم ان سے ملتے اور وہ باتیں کر رہے ہوتے تو ہمیں دیکھ کر وہ اپنی بات بند کر دیتے ، ہم نے اس کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” لوگوں کو کیا ہوا ہے کہ وہ باتیں کر رہے ہوتے ہیں اور جب میرے اہل بیت میں سے کسی کو دیکھتے ہیں تو چپ ہو جاتے ہیں ، اللہ کی قسم ! کسی شخص کے دل میں ایمان اس وقت تک گھر نہیں کر سکتا جب تک کہ وہ میرے اہل بیت سے اللہ کے واسطے اور ان کے ساتھ میری قرابت کی بناء پر محبت نہ کرے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 140]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اہل بیت کی محبت ایمان کی نشانی ہے، اور محبت ان کی یہی ہے کہ ایمان و عمل میں ان کی روش پر چلا جائے، اور ان کا طریقہ اختیار کیا جائے، رضی اللہ عنہم۔
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ محمد بن كعب عن عباس رضي اللّٰه عنه،يقال: مرسل (تهذيب الكمال 17 / 179) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 380
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 5137، مصباح الزجاجة: 52)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/165) (ضعیف) (اس سند میں اعمش مدلس ہیں، اور عنعنہ سے روایت ہے، ابوسبرہ نخعی لین الحدیث نیز محمد بن کعب قرظی کی عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کے بارے میں انقطاع و ارسال کی بات بھی کہی گی ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: 4430)
|
|
|
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ الضَّحَّاكِ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ الْحَضْرَمِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ اللَّهَ اتَّخَذَنِي خَلِيلًا كَمَا اتَّخَذَ إِبْرَاهِيمَ خَلِيلًا، فَمَنْزِلِي وَمَنْزِلُ إِبْرَاهِيمَ فِي الْجَنَّةِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ تُجَاهَيْنِ، وَالْعَبَّاسُ بَيْنَنَا مُؤْمِنٌ بَيْنَ خَلِيلَيْنِ".
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنا خلیل ( گہرا دوست ) بنایا ہے ، جیسا کہ ابراہیم علیہ السلام کو اپنا خلیل ( گہرا دوست ) بنایا ، چنانچہ میرا اور ابراہیم کا گھر جنت میں قیامت کے دن آمنے سامنے ہو گا ، اور عباس ہم دو خلیلوں کے مابین ایک مومن ہوں گے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 141]
قال الشيخ الألباني:
موضوع
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف ¤ إسناده موضوع ¤ عبد الوهاب بن الضحاك بن أبان: متروك،كذبه أبو حاتم (تقريب: 4257) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 380
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 8914، ومصباح الزجاجة: 53)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/158، 225) (موضوع) (سند میں مذکور عبدالوہاب بن ضحاک متہم بالوضع راوی ہے، اس لئے یہ حدیث موضوع ہے، لیکن حدیث کا یہ ٹکڑا إن الله اتخذني صحیح ہے، جیسا کہ حدیث نمبر (93) میں مذکور ہے، نیز تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: 3034)
|
|
|
23: بَابُ : فَضْلِ الْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ ابْنَيْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ
باب: علی رضی اللہ عنہ کے بیٹوں حسن و حسین رضی اللہ عنہما کے مناقب و فضائل۔
|
|
|
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ، نَبَّأَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِلْحَسَنِ: " اللَّهُمَّ إِنِّي أُحِبُّهُ فَأَحِبَّهُ وَأَحِبَّ مَنْ يُحِبُّهُ"، قَالَ: " وَضَمَّهُ إِلَى صَدْرِهِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حسن رضی اللہ عنہ کے بارے میں فرمایا : ” اے اللہ ! میں اس سے محبت کرتا ہوں تو بھی اس سے محبت کر ، اور اس سے بھی محبت کر جو اس سے محبت کرے “ ۱؎ ۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ یہ فرما کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اپنے سینے سے لگا لیا ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 142]
💡 وضاحت:
۱؎: حسن رضی اللہ عنہ سے محبت اور دوستی کا تقاضہ یہ ہے کہ ایک مسلمان نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر جان دے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
بخاري ومسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/البیوع 49 (2122)، اللباس 60 (5884)، صحیح مسلم/فضائل الصحابة 8 (2421)، (تحفة الأشراف: 14634)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/249، 331) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي عَوْفٍ أَبِي الْحَجَّافِ وَكَانَ مَرْضِيًّا، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ أَحَبَّ الْحَسَنَ وَالْحُسَيْنَ فَقَدْ أَحَبَّنِي، وَمَنْ أَبْغَضَهُمَا فَقَدْ أَبْغَضَنِي".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے حسن و حسین سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی ، اور جس نے ان دونوں سے دشمنی کی اس نے مجھ سے دشمنی کی “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 143]
💡 وضاحت:
۱؎: محبت ان حضرات کی یہی ہے کہ ان کے احترام کے ساتھ ان کے نقش قدم پر چلا جائے۔
قال الشيخ الألباني:
حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 13396، ومصباح الزجاجة: 54)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/288، 440، 531) (حسن)
|
|
|
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، مِثْلَهُ.
یعلیٰ بن مرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھانے کی ایک دعوت میں نکلے ، دیکھا تو حسین رضی اللہ عنہ ) گلی میں کھیل رہے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں سے آگے نکل گئے ، اور اپنے دونوں ہاتھ پھیلا لیے ، حسین رضی اللہ عنہ بچے تھے ، ادھر ادھر بھاگنے لگے ، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کو ہنسانے لگے ، یہاں تک کہ ان کو پکڑ لیا ، اور اپنا ایک ہاتھ ان کی ٹھوڑی کے نیچے اور دوسرا سر پر رکھ کر بوسہ لیا ، اور فرمایا : ” حسین مجھ سے ہیں اور میں حسین سے ہوں ، اللہ اس سے محبت رکھے جو حسین سے محبت رکھے ، اور حسین نواسوں میں سے ایک نواسہ ہیں “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 144]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ حدیث حسین بن علی رضی اللہ عنہما کی فضیلت پر دلالت کرتی ہے، نیز کھانے کی دعوت میں جانا، چھوٹے بچوں کا گلی میں کھیلنا، نیز چھوٹے بچوں کو پیار میں ہنسانا مسنون و مستحب ہے۔
قال الشيخ الألباني:
حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ:
t
|
|
|
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، مِثْلَهُ.
یہ حدیث علی بن محمد سے «وکیع عن سفیان» کے واسطے سے بھی اسی طرح مروی ہے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 144M]
قال الشيخ الألباني:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
t
|
|
|
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ ، وَعَلِيُّ بْنُ الْمُنْذِرِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ ، حَدَّثَنَا أَسْبَاطُ بْنُ نَصْرٍ ، عَنْ السُّدِّيِّ ، عَنْ صُبَيْحٍ مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ ، قَالَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَعَلِيٍّ وَفَاطِمَةَ وَالْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ أَنَا سِلْمٌ لِمَنْ سَالَمْتُمْ وَحَرْبٌ لِمَنْ حَارَبْتُمْ".
زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے علی ، فاطمہ ، حسن اور حسین ( رضی اللہ عنہم ) سے فرمایا : ” میں اس شخص کے لیے سراپا صلح ہوں جس سے تم لوگوں نے صلح کی ، اور سراپا جنگ ہوں اس کے لیے جس سے تم لوگوں نے جنگ کی “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 145]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ ترمذي (3870) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 380
تخریج دارالدعوہ:
سنن الترمذی/المناقب 61 (3870)، (تحفة الأشراف: 3662)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/442) (ضعیف) (اس سند میں علی بن المنذر میں تشیع ہے، اسباط بن نصر صددق لیکن کثیر الخطا ٔ ہیں، اور غرائب بیان کرتے ہیں، سدی پر تشیع کا الزام ہے، اور ان کی حدیث میں ضعف ہے، نیز صبیح لین الحدیث ہیں، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: 6028)
|
|
|
24: بَابُ : فَضْلِ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ
باب: عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کے مناقب و فضائل۔
|
|
|
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنْ هَانِئِ بْنِ هَانِئٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَأْذَنَ عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ائْذَنُوا لَهُ مَرْحَبًا بِالطَّيِّبِ الْمُطَيَّبِ".
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا ، عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما نے اندر آنے کی اجازت چاہی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” انہیں آنے کی اجازت دو ، «طیب و مطیب» ” پاک و پاکیزہ شخص “ کو خوش آمدید “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 146]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
سنن الترمذی/المناقب 35 (3798)، (تحفة الأشراف: 10300)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/99، 100، 123، 126، 130، 137) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، حَدَّثَنَا عَثَّامُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنْ هَانِئِ بْنِ هَانِئٍ ، قَالَ: دَخَلَ عَمَّارٌ عَلَى عَلِيٍّ فَقَالَ: مَرْحَبًا بِالطَّيِّبِ الْمُطَيَّبِ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مُلِئَ عَمَّارٌ إِيمَانًا إِلَى مُشَاشِهِ".
ہانی بن ہانی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ عمار رضی اللہ عنہ علی رضی اللہ عنہ کے پاس گئے تو علی رضی اللہ عنہ نے کہا : «طیب و مطیب» ” پاک و پاکیزہ “ کو خوش آمدید ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : ” عمار ایمان سے بھرے ہوئے ہیں ، ایمان ان کے جوڑوں تک پہنچ گیا “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 147]
💡 وضاحت:
۱؎: «مشاش» : ہڈیوں کے جوڑ کو کہتے ہیں، جیسے کہنی یا گھٹنے یا کندھے کا جوڑ، مراد یہ ہے کہ عمار رضی اللہ عنہ کے دل میں ایمان گھر کر گیا ہے، اور وہاں سے ان کے سارے جسم میں ایمان کے انوار و برکات پھیل گئے ہیں، اور رگوں اور ہڈیوں میں سما گئے ہیں، یہاں تک کہ جوڑوں میں بھی اس کا اثر پہنچ گیا ہے، اور اس میں عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کے کمال ایمان کی شہادت ہے جو عظیم فضیلت ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ أبو إسحاق السبيعي و الأعمش مدلسان وعنعنا ¤ وللحديث شواھد ضعيفة عند النسائي (5010) والحاكم (392/3،393) وغيرهما۔ ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 380
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 10303، ومصباح الزجاجة: 56) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى . ح وحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَعَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَا جَمِيعًا، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ سِيَاهٍ ، عَنْ حَبيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " عَمَّارٌ مَا عُرِضَ عَلَيْهِ أَمْرَانِ إِلَّا اخْتَارَ الْأَرْشَدَ مِنْهُمَا".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” عمار پر جب بھی دو کام پیش کئے گئے تو انہوں نے ان میں سے بہترین کام کا انتخاب کیا “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 148]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف ¤ ضعيف ¤ ترمذي (3799) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 380
تخریج دارالدعوہ:
سنن الترمذی/المناقب 35 (3799)، سنن النسائی/الکبری، المناقب 37 (8276)، (تحفة الأشراف: 17397)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/113) (صحیح)
|
|
|
25: بَابُ : فَضْلِ سَلْمَانَ وَأَبِي ذَرٍّ وَالْمِقْدَادِ
باب: سلمان، ابوذر اور مقداد رضی اللہ عنہم کے مناقب و فضائل۔
|
|
|
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مُوسَى ، وَسُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ أَبِي رَبِيعَةَ الْإِيَادِيِّ ، عَنْ ابْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ اللَّهَ أَمَرَنِي بِحُبِّ أَرْبَعَةٍ، وَأَخْبَرَنِي أَنَّهُ يُحِبُّهُمْ"، قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ هُمْ؟ قَالَ: " عَلِيٌّ مِنْهُمْ"، يَقُولُ ذَلِكَ ثَلَاثًا: " وَأَبُو ذَرٍّ، وَسَلْمَانُ، وَالْمِقْدَادُ".
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ نے مجھے چار افراد سے محبت کرنے کا حکم دیا ہے ، اور مجھے بتایا ہے کہ وہ بھی ان سے محبت رکھتا ہے “ ، عرض کیا گیا : اللہ کے رسول ! وہ کون لوگ ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” علی انہیں لوگوں میں سے ہیں ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ تین بار فرمایا ) ، اور ابوذر ، سلمان اور مقداد ہیں “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 149]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
سنن الترمذی/المنا قب 21 (3718)، (تحفة الأشراف: 2008)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/351، 356) (ضعیف) (ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: 1549)
|
|
|
26: بَابُ : فَضَائِلِ بِلاَلٍ
باب: بلال رضی اللہ عنہ کے مناقب و فضائل۔
|
|
|
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ بْنُ قُدَامَةَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ: " كَانَ أَوَّلَ مَنْ أَظْهَرَ إِسْلَامَهُ سَبْعَةٌ، رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبُو بَكْرٍ، وَعَمَّارٌ، وَأُمُّهُ سُمَيَّةُ، وَصُهَيْبٌ، وَبِلَالٌ، وَالْمِقْدَادُ، فَأَمَّا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَنَعَهُ اللَّهُ بِعَمِّهِ أَبِي طَالِبٍ، وَأَمَّا أَبُو بَكْرٍ فَمَنَعَهُ اللَّهُ بِقَوْمِهِ، وَأَمَّا سَائِرُهُمْ فَأَخَذَهُمْ الْمُشْرِكُونَ، وَأَلْبَسُوهُمْ أَدْرَاعَ الْحَدِيدِ، وَصَهَرُوهُمْ فِي الشَّمْسِ، فَمَا مِنْهُمْ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا وَقَدْ وَاتَاهُمْ عَلَى مَا أَرَادُوا، إِلَّا بِلَالًا فَإِنَّهُ هَانَتْ عَلَيْهِ نَفْسُهُ فِي اللَّهِ، وَهَانَ عَلَى قَوْمِهِ فَأَخَذُوهُ فَأَعْطَوْهُ الْوِلْدَانَ، فَجَعَلُوا يَطُوفُونَ بِهِ فِي شِعَابِ مَكَّةَ وَهُوَ يَقُولُ: أَحَدٌ أَحَدٌ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ پہلے پہل جن لوگوں نے اپنا اسلام ظاہر کیا وہ سات افراد تھے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، ابوبکر ، عمار ، ان کی والدہ سمیہ ، صہیب ، بلال اور مقداد ( رضی اللہ عنہم ) ، رہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو اللہ تعالیٰ نے کفار کی ایذا رسانیوں سے آپ کے چچا ابوطالب کے ذریعہ آپ کو بچایا ، اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کو ان کی قوم کے سبب محفوظ رکھا ، رہے باقی لوگ تو ان کو مشرکین نے پکڑا اور لوہے کی زرہیں پہنا کر دھوپ میں ڈال دیا ، چنانچہ ان میں سے ہر ایک سے مشرکین نے جو کہلوایا بظاہر کہہ دیا ، سوائے بلال کے ، اللہ کی راہ میں انہوں نے اپنی جان کو حقیر سمجھا ، اور ان کی قوم نے بھی ان کو حقیر جانا ، چنانچہ انہوں نے بلال رضی اللہ عنہ کو پکڑ کر بچوں کے حوالہ کر دیا ، وہ ان کو مکہ کی گھاٹیوں میں گھسیٹتے پھرتے اور وہ «اَحَد ، اَحَد» کہتے ( یعنی اللہ ایک ہے ، اللہ ایک ہے ) ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 150]
💡 وضاحت:
۱؎: ان چھ سابق الایمان صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی استقامت اور دین کی خاطر ان کی عزیمت لائق اتباع ہے، ان میں بلال رضی اللہ عنہ کی عزیمت سب سے اعلی و ارفع ہے، جان کے خطرے کے وقت دین پر دلی اطمینان کی صورت میں کفر کا اظہار جائز ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «إلا من أكره وقلبه مطمئن بالإيمان» ”سوائے اس کے جس پر جبر کیا جائے اور اس کا دل ایمان پر برقرار ہو“ (النحل: 106) جس کی نظر میں اللہ کی عظمت و شان ہوتی ہے، اس کے دل میں موجودات عالم کی کوئی خاص اہمیت نہیں ہوتی حتی کہ اپنی جان بھی حقیر نظر آتی ہے، بلال رضی اللہ عنہ کی حالت یہی تھی رضی اللہ عنہم۔
قال الشيخ الألباني:
حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 9224، ومصباح الزجاجة: 57)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/404) (حسن)
|
|
|
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَقَدْ أُوذِيتُ فِي اللَّهِ، وَمَا يُؤْذَى أَحَدٌ، وَلَقَدْ أُخِفْتُ فِي اللَّهِ، وَمَا يُخَافُ أَحَدٌ، وَلَقَدْ أَتَتْ عَلَيَّ ثَالِثَةٌ، وَمَا لِي وَلِبِلَالٍ طَعَامٌ يَأْكُلُهُ ذُو كَبِدٍ إِلَّا مَا وَارَى إِبِطُ بِلَالٍ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ کی راہ میں مجھے ایسی تکلیفیں دی گئیں کہ اتنی کسی کو نہ دی گئیں ہوں گی ، اور میں اللہ کی راہ میں اس قدر ڈرایا گیا کہ اتنا کوئی نہیں ڈرایا گیا ہو گا ، اور مجھ پہ مسلسل تین ایام ایسے گزرے ہیں کہ میرے اور بلال کے لیے کوئی چیز کھانے کی نہ تھی جسے کوئی ذی روح کھاتا سوائے اس کے جو بلال کی بغل میں چھپا ہوا تھا “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 151]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
سنن الترمذی/صفة القیامة 34 (2472)، (تحفة الأشراف: 341)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/120، 286) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ حَمْزَةَ ، عَنْ سَالِمٍ : أَنَّ شَاعِرًا مَدَحَ بِلَالَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، فَقَالَ: بِلَالُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ خَيْرُ بِلَالٍ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: " كَذَبْتَ لَا، بَلْ بِلَالُ رَسُولِ اللَّهِ خَيْرُ بِلَالٍ".
سالم سے روایت ہے کہ ایک شاعر نے بلال بن عبداللہ کی مدح سرائی کی ، اور مصرعہ کہا : ” «بلال بن عبد الله خير بلال» بلال بن عبداللہ بلالوں میں سب سے بہتر ہیں “ ، تو ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا : تم غلط کہہ رہے ہو ، ایسا نہیں ہے ، بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بلال بلالوں میں سب سے افضل اور بہتر ہیں ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 152]
💡 وضاحت:
۱؎: بلال بن عبداللہ سے مراد عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے صاحبزادے بلال ہیں۔
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن ¤ مشكوة المصابيح: عمر بن حمزه: حسن الحديث وثقه الجمھور
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 6781، ومصباح الزجاجة: 59) (ضعیف) (عمر بن حمزہ ضعیف ہیں)
|
|
|
27: بَابُ : فَضَائِلِ خَبَّابٍ
باب: خباب رضی اللہ عنہ کے مناقب و فضائل۔
|
|
|
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَعَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنْ أَبِي لَيْلَى الْكِنْدِيِّ ، قَالَ: جَاءَ خَبَّابٌ إِلَى عُمَرَ ، فَقَالَ: " ادْنُ فَمَا أَحَدٌ أَحَقَّ بِهَذَا الْمَجْلِسِ مِنْكَ إِلَّا عَمَّارٌ، فَجَعَلَ خَبَّابٌ يُرِيهِ آثَارًا بِظَهْرِهِ مِمَّا عَذَّبَهُ الْمُشْرِكُونَ 2".
ابولیلیٰ کندی کہتے ہیں کہ خباب رضی اللہ عنہ عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے ، تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : میرے قریب بیٹھو ، تم سے بڑھ کر میرے قریب بیٹھنے کا کوئی مستحق نہیں سوائے عمار رضی اللہ عنہ کے ، پھر خباب رضی اللہ عنہ اپنی پیٹھ پر مشرکین کی مار پیٹ کے نشانات ان کو دکھانے لگے ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 153]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اصحاب فضل و کمال کو مجلس میں ممتاز مقام پر رکھنا چاہیے، عمر رضی اللہ عنہ افاضل صحابہ کو اپنے پاس جگہ دیتے تھے، عمار رضی اللہ عنہ نے بھی اللہ کی راہ میں بہت تکلیفیں اٹھائی تھیں اس لئے عمر رضی اللہ عنہ نے ان کو بھی یاد کیا، اور معلوم ہوا کہ کسی کی تعریف اس کے سامنے اگر اس سے خود پسندی اور عجب کا ڈر نہ ہو تو جائز ہے، اور اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا اظہار اس اعتبار سے جائز ہے کہ وہ اللہ کی نعمتیں ہیں، جیسے خباب رضی اللہ عنہ نے اپنے جسم کے نشان دکھائے کہ جو ایک نعمت الٰہی تھی، اور جو اللہ کے نزدیک بلندی درجات کا سبب ہوئی۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ أبو إسحاق عنعن وشيخه حسن الحديث ¤ وللحديث شواھد ضعيفة عند ابن سعد (3/ 165) وغيره ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 380
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 3523، ومصباح الزجاجة: 58) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ ّرَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أَرْحَمُ أُمَّتِي بِأُمَّتِي أَبُو بَكْرٍ، وَأَشَدُّهُمْ فِي دِينِ اللَّهِ عُمَرُ، وَأَصْدَقُهُمْ حَيَاءً عُثْمَانُ، وَأَقْضَاهُمْ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، وَأَقْرَؤُهُمْ لِكِتَابِ اللَّهِ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ، وَأَعْلَمُهُمْ بِالْحَلَالِ وَالْحَرَامِ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ، وَأَفْرَضُهُمْ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ، أَلَا وَإِنَّ لِكُلِّ أُمَّةٍ أَمِينًا، وَأَمِينُ هَذِهِ الْأُمَّةِ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ"،
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میری امت میں سب سے زیادہ میری امت پر رحم کرنے والے ابوبکر ہیں ، اللہ کے دین میں سب سے زیادہ سخت اور مضبوط عمر ہیں ، حیاء میں سب سے زیادہ حیاء والے عثمان ہیں ، سب سے بہتر قاضی علی بن ابی طالب ہیں ، سب سے بہتر قاری ابی بن کعب ہیں ، سب سے زیادہ حلال و حرام کے جاننے والے معاذ بن جبل ہیں ، اور سب سے زیادہ فرائض ( میراث تقسیم ) کے جاننے والے زید بن ثابت ہیں ، سنو ! ہر امت کا ایک امین ہوا کرتا ہے ، اور اس امت کے امین ابوعبیدہ بن جراح ہیں “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 154]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے ان آٹھوں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی فضیلت معلوم ہوئی، اور یہ بھی معلوم ہوا کہ ہر ایک میں قابل تعریف صفات موجود تھیں، مگر بعض کمالات ہر ایک میں بدرجہ أتم موجود تھے، اگرچہ وہ صفتیں اوروں میں بھی تھیں، اس لئے ہر ایک کو ایک صفت سے جو اس میں بدرجہ کمال موجود تھی یاد فرمایا۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ:
سنن الترمذی/المناقب 33 (3791)، (تحفة الأشراف: 952)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/المناقب 21 (3744)، صحیح مسلم/فضائل الصحابة 7 (2419)، مسند احمد (3/184، 281) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، مِثْلَهُ عِنْدَ ابْنِ قُدَامَةَ، غَيْرَ أَنَّهُ يَقُولُ فِي حَقِّ زَيْدٍ: " وَأَعْلَمُهُمْ بِالْفَرَائِضِ".
ابوقلابہ سے ابن قدامہ کے نزدیک اسی کے مثل مروی ہے مگر فرق یہ ہے کہ اس میں زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے حق میں : «أفرضهم» کے بجائے «أعلمهم بالفرائض» ہے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 155]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
انظر ما قبلہ (صحیح)
|
|
|
28: بَابُ : فَضْلِ أَبِي ذَرٍّ
باب: ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کے مناقب و فضائل۔
|
|
|
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ أَبِي حَرْبِ بْنِ أَبِي الْأَسْوَدِ الدِّيلِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَا أَقَلَّتِ الْغَبْرَاءُ، وَلَا أَظَلَّتِ الْخَضْرَاءُ مِنْ رَجُلٍ أَصْدَقَ لَهْجَةً مِنْ أَبِي ذَرٍّ".
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : ” زمین نے کسی ایسے شخص کو نہ اٹھایا ، اور نہ آسمان اس پر سایہ فگن ہوا جو ابوذر سے بڑھ کر سچی بات کہنے والا ہو “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 156]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
سنن الترمذی/المناقب 36 (3801)، (تحفة الأشراف: 8957)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/ 163، 175، 223) (صحیح)
|
|
|
29: بَابُ : فَضْلِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ
باب: سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے مناقب و فضائل۔
|
|
|
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، قَالَ: أُهْدِيَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَرَقَةٌ مِنْ حَرِيرٍ، فَجَعَلَ الْقَوْمُ يَتَدَاوَلُونَهَا بَيْنَهُمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَتَعْجَبُونَ مِنْ هَذَا؟ فَقَالُوا لَهُ: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ: " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَمَنَادِيلُ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ فِي الْجَنَّةِ خَيْرٌ مِنْ هَذَا".
براء بن عازب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ریشمی کپڑے کا ایک ٹکڑا تحفہ میں پیش کیا گیا ، لوگ اسے ہاتھوں ہاتھ لینے لگے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا یہ تمہارے لیے تعجب انگیز ہے ؟ “ ، لوگوں نے عرض کیا : جی ہاں ، اللہ کے رسول ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! جنت میں سعد بن معاذ کے رومال اس سے کہیں بہتر ہوں گے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 157]
💡 وضاحت:
۱؎: اس سے کئی باتیں ثابت ہوئیں: ۱۔ ہدیہ لینا سنت ہے چاہے ہدیہ دینے والا مشرک و کافر ہی کیوں نہ ہو، اس لئے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کفار و مشرکین کے ہدایا و تحائف قبول فرمائے۔ ۲۔ جنت میں رومال بھی ہوں گے۔ ۳۔ سعد رضی اللہ عنہ کے لیے جنت کی بشارت۔ ۴۔ جنت کی ادنیٰ چیز بھی دنیا کی اعلیٰ چیزوں سے بلکہ ساری دنیا سے افضل اور بہتر ہے، اور کیوں کر نہ ہو کہ وہ باقی رہنے والی ہے، اور دنیا کی یہ چیزیں فانی ہیں۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/بدء الخلق 8 (3249)، مناقب الأنصار 12 (3802)، اللباس 26 (5836) الأیمان والنذور 3 (6640)، (تحفة الأشراف: 1861)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/فضائل الصحابة 24 (2468)، سنن الترمذی/المناقب 51 (3847)، مسند احمد (2/257، 398) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اهْتَزَّ عَرْشُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ لِمَوْتِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” سعد بن معاذ کی موت کے وقت رحمن کا عرش جھوم اٹھا “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 158]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی جب ان کی پاکیزہ روح وہاں پہنچی تو خوشی کے سبب سے عرش حرکت میں آ گیا، یا اس سے کنایہ ہے رب العرش کے خوش ہونے کا، نیز اس حدیث سے معلوم ہوا کہ روحیں عرش تک جاتی ہیں، اس لئے کہ اللہ رب العزت کا دربار خاص وہیں لگتا ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
بخاري ومسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/المناقب 12 (3803)، صحیح مسلم/فضائل الصحابة 24 (2466)، (تحفة الأشراف: 2293)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/المناقب 51 (3848)، مسند احمد (3/234، 296، 316) (صحیح)
|
|
|
30: بَابُ : فَضْلِ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْبَجَلِيِّ
باب: جریر بن عبداللہ بجلی رضی اللہ عنہ کے مناقب و فضائل۔
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْبَجَلِيِّ ، قَالَ: مَا حَجَبَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُنْذُ أَسْلَمْتُ، وَلَا رَآنِي إِلَّا تَبَسَّمَ فِي وَجْهِي، وَلَقَدْ شَكَوْتُ إِلَيْهِ أَنِّي لَا أَثْبُتُ عَلَى الْخَيْلِ، فَضَرَبَ بِيَدِهِ فِي صَدْرِي، فَقَالَ: " اللَّهُمَّ ثَبِّتْهُ وَاجْعَلْهُ هَادِيًا مَهْدِيًّا".
جریر بن عبداللہ بجلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنے پاس آنے سے نہیں روکا ، اور جب بھی مجھے دیکھا میرے روبرو مسکرائے اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی کہ میں گھوڑے پر ٹک نہیں پاتا ( گر جاتا ہوں ) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ میرے سینے پہ مارا اور دعا فرمائی : ” اے اللہ ! اس کو ثابت رکھ اور اسے ہدایت کنندہ اور ہدایت یافتہ بنا دے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 159]
💡 وضاحت:
۱؎: جریر رضی اللہ عنہ دراز قد، خوبصورت اور حسین و جمیل تھے، عمر رضی اللہ عنہ ان کو اس امت کا یوسف کہا کرتے تھے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
بخاري ومسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الجہاد 154 (3035)، الأدب 68 (6089)، مناقب الأنصار 21 (3822)، صحیح مسلم/فضائل الصحابة 29 (2475)، سنن الترمذی/ المناقب 42 (3820)، (تحفة الأشراف: 3224)، مسند احمد (4/358، 359، 362، 365) (صحیح)
|
|
|
31: بَابُ : فَضْلِ أَهْلِ بَدْرٍ
باب: اہل بدر کے مناقب و فضائل۔
|
|
|
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ ، عَنْ جَدِّهِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، قَالَ: جَاءَ جِبْرِيلُ أَوْ مَلَكٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " مَا تَعُدُّونَ مَنْ شَهِدَ بَدْرًا فِيكُمْ"، قَالُوا: خِيَارَنَا، قَالَ: " كَذَلِكَ هُمْ عِنْدَنَا خِيَارُ الْمَلَائِكَةِ".
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جبرائیل علیہ السلام یا کوئی اور فرشتہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، اور عرض کیا : آپ اپنے میں شرکائے بدر کو کیسا سمجھتے ہیں ؟ لوگوں نے کہا : وہ ہم میں سب سے بہتر ہیں ، اس فرشتہ نے کہا : اسی طرح ہمارے نزدیک وہ ( شرکائے بدر ) سب سے بہتر ہیں ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 160]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے غزوہ بدر کی بڑی فضیلت ثابت ہوتی ہے، اس لئے کہ شرکاء بدر انسان ہی نہیں بلکہ فرشتوں میں بھی سب سے افضل اور بہتر لوگ ہیں۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 3565، ومصباح الزجاجة: 60)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/465) (صحیح) (اس حدیث کو امام بخاری نے (7/311) بطریق یحییٰ بن سعید عن معاذ بن رفاعہ عن أبیہ ذکر کیا ہے، یہ نقل کرنے کے بعد بوصیری کہتے ہیں کہ اگر یہ یعنی سند ابن ماجہ محفوظ ہے تو یہ جائز ہے کہ یحییٰ بن سعید کے اس حدیث میں دو شیخ ہیں، اور سب ثقہ ہیں)
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ . ح وحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ جَمِيعًا، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَسُبُّوا أَصْحَابِي، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ أَنَّ أَحَدَكُمْ أَنْفَقَ مِثْلَ أُحُدٍ ذَهَبًا مَا أَدْرَكَ مُدَّ أَحَدِهِمْ، وَلَا نَصِيفَهُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میرے صحابہ کو گالیاں نہ دو ، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ، اگر کوئی احد پہاڑ کے برابر سونا اللہ کی راہ میں صرف کر ڈالے تو ان میں کسی کے ایک مد یا آدھے مد کے برابر بھی ثواب نہ پائے گا “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 161]
💡 وضاحت:
۱؎: مُدّ : ایک معروف پیمانہ ہے جو اہل حجاز کے نزدیک ایک رطل اور تہائی رطل کا ہوتا ہے، یہ صاع نبوی کا چوتھا حصہ ہوتا ہے، مد کا وزن موجودہ مستعمل وزن سے تقریباً چھ سو پچیس (۶۲۵) گرام کے قریب ہوتا ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
بخاري ومسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/فضائل الصحابة 5 (3673)، صحیح مسلم/فضائل الصحابة 54 (2541)، سنن ابی داود/السنة 11 (4658)، سنن الترمذی/المناقب 59 (3861)، (تحفة الأشراف: 4001، 12536)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/11، 45، 55، 63) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَعَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ نُسَيْرِ بْنِ ذُعْلُوقٍ ، قَالَ: كَانَ ابْنُ عُمَرَ ، يَقُولُ: " لَا تَسُبُّوا أَصْحَابَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمُقَامُ أَحَدِهِمْ سَاعَةً خَيْرٌ مِنْ عَمَلِ أَحَدِكُمْ عُمْرَهُ".
نسیر بن ذعلوق کہتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے تھے : ” اصحاب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں نہ دو ، ان کا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں ایک لمحہ رہنا تمہارے ساری عمر کے عمل سے بہتر ہے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 162]
قال الشيخ الألباني:
حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح ¤ سفيان صرح بالسماع عند مسدد (المطالب العالية 8/ 481 ح 4155) وتوضيح المشتبة (1/ 539)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجة، (تحفة الأشراف: 8550، ومصباح الزجاجة: 61) (حسن)
|
|
|
32: بَابُ : فَضْلِ الأَنْصَارِ
باب: انصار رضی اللہ عنہم کے فضائل و مناقب۔
|
|
|
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَعَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ أَحَبَّ الْأَنْصَارَ أَحَبَّهُ اللَّهُ، وَمَنْ أَبْغَضَ الْأَنْصَارَ أَبْغَضَهُ اللَّهُ"، قَالَ شُعْبَةُ: قُلْتُ لِعَدِيٍّ: أَسَمِعْتَهُ مِنَ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ: إِيَّايَ حَدَّثَ.
براء بن عازب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس شخص نے انصار سے محبت کی اس سے اللہ نے محبت کی ، اور جس شخص نے انصار سے دشمنی کی اس سے اللہ نے دشمنی کی “ ۔ شعبہ کہتے ہیں کہ میں نے عدی سے پوچھا : کیا آپ نے یہ حدیث خود براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے سنی ہے ؟ تو انہوں نے کہا : مجھ ہی سے تو انہوں نے یہ حدیث بیان کی ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 163]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ غیر صحابہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے درجے کو نہیں پہنچ سکتے، اور صحبت رسول والے شرف کے برابر کوئی عمل نہیں ہو سکتا۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
بخاري ومسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/مناقب الأ نصار 4 (3783)، صحیح مسلم/ الإیمان 33 (75)، سنن الترمذی/المناقب 66 (3900) سنن النسائی/ الکبری (8334)، (تحفة الأشراف: 1792)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/ 283، 292) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ ، عَنْ عَبْدِ الْمُهَيْمِنِ بْنِ عَبَّاسِ بْنِ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنَّ ّرَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الْأَنْصَارُ شِعَارٌ، وَالنَّاسُ دِثَارٌ، وَلَوْ أَنَّ النَّاسَ اسْتَقْبَلُوا وَادِيًا، أَوْ شِعْبًا، وَاسْتَقْبَلَتِ الْأَنْصَارُ وَادِيًا لَسَلَكْتُ وَادِيَ الْأَنْصَارِ، وَلَوْلَا الْهِجْرَةُ لَكُنْتُ امْرَءًا مِنَ الْأَنْصَارِ".
سعد بن مالک انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” انصار «شعار» ہیں ۱؎ ، اور لوگ «دثار» ہیں ۲؎ ، اگر لوگ کسی وادی یا گھاٹی میں جائیں اور انصار کسی دوسری وادی میں جائیں تو میں انصار کی وادی میں جاؤں گا ، اگر ہجرت نہ ہوتی تو میں انصار کا ایک فرد ہوتا “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 164]
💡 وضاحت:
۱؎: «شعار» : بدن سے متصل کپڑا، یعنی میرے قریب تر اور نصرت دین میں خاص الخاص ہیں۔ ۲؎: «دثار» : اوپر پہنا جانے والا کپڑا یعنی ان کے مقابلہ میں دور، نیز اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ہجرت اللہ تعالیٰ کے نزدیک معظم اور قابل قدر عمل ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 4801، ومصباح الزجاجة: 62) (صحیح) (اس کی سند میں عبد المہیمن بن عباس ضعیف ہیں، لیکن دوسرے طرق وشواہد سے یہ حدیث صحیح ہے، ملاحظہ ہو: الصحیحة: 1768)
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، حَدَّثَنِي كَثِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " رَحِمَ اللَّهُ الْأَنْصَارَ، وَأَبْنَاءَ الْأَنْصَارِ، وَأَبْنَاءَ أَبْنَاءِ الْأَنْصَارِ".
عوف رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ انصار پر ، ان کے بیٹوں اور پوتوں پر رحم کرے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 165]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف جدا بهذا اللفظ صحيح بلفظ اللهم اغفر للأنصار وأبناء الأنصار. . ق
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف ¤ إسناده ضعيف جدًا ¤ كثير بن عبد اللّٰه العوفي: متروك ¤ وحديث مسلم (2605) يغني عنه ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 381
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 10780، ومصباح الزجاجة: 63)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/465) (ضعیف جدًا) (سند میں کثیر بن عبد اللہ سخت ضعیف اور منکر الحدیث راوی ہے، اسے امام شافعی نے کذاب بلکہ رکن کذب کہا ہے، اس لئے یہ حدیث ضعیف ہے، لیکن حدیث اللهم اغفر الأنصار وأبناء الأنصار کے لفظ سے صحیح ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: 3640)
|
|
|
33: بَابُ : فَضْلِ ابْنِ عَبَّاسٍ
باب: عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے مناقب و فضائل۔
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ الْبَاهِلِيُّ ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: ضَمَّنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهِ، وَقَالَ: " اللَّهُمَّ عَلِّمْهُ الْحِكْمَةَ وَتَأْوِيلَ الْكِتَابِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنے سینہ سے لگایا ، اور یہ دعا فرمائی : «اللهم علمه الحكمة وتأويل الكتاب» ” اے اللہ ! اس کو میری سنت اور قرآن کی تفسیر کا علم عطاء فرما “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 166]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/العلم 17 (75مختصرًا) فضائل الصحابة 24 (3756)، الاعتصام (7270)، سنن الترمذی/المناقب 43 (3824)، (تحفة الأشراف: 6049)، سنن النسائی/الکبری (8179)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/266، 269، 359) (صحیح)
|
|