سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 147
Sunan Ibn Majah 147
کتاب #-: رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کے فضائل و مناقب
24: بَابُ : فَضْلِ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ
باب: عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کے مناقب و فضائل۔
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، حَدَّثَنَا عَثَّامُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنْ هَانِئِ بْنِ هَانِئٍ ، قَالَ: دَخَلَ عَمَّارٌ عَلَى عَلِيٍّ فَقَالَ: مَرْحَبًا بِالطَّيِّبِ الْمُطَيَّبِ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مُلِئَ عَمَّارٌ إِيمَانًا إِلَى مُشَاشِهِ".
ہانی بن ہانی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ عمار رضی اللہ عنہ علی رضی اللہ عنہ کے پاس گئے تو علی رضی اللہ عنہ نے کہا : «طیب و مطیب» ” پاک و پاکیزہ “ کو خوش آمدید ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : ” عمار ایمان سے بھرے ہوئے ہیں ، ایمان ان کے جوڑوں تک پہنچ گیا “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 147]
💡 وضاحت:
۱؎: «مشاش» : ہڈیوں کے جوڑ کو کہتے ہیں، جیسے کہنی یا گھٹنے یا کندھے کا جوڑ، مراد یہ ہے کہ عمار رضی اللہ عنہ کے دل میں ایمان گھر کر گیا ہے، اور وہاں سے ان کے سارے جسم میں ایمان کے انوار و برکات پھیل گئے ہیں، اور رگوں اور ہڈیوں میں سما گئے ہیں، یہاں تک کہ جوڑوں میں بھی اس کا اثر پہنچ گیا ہے، اور اس میں عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کے کمال ایمان کی شہادت ہے جو عظیم فضیلت ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف ¤ أبو إسحاق السبيعي و الأعمش مدلسان وعنعنا ¤ وللحديث شواھد ضعيفة عند النسائي (5010) والحاكم (392/3،393) وغيرهما۔ ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 380
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 10303، ومصباح الزجاجة: 56) (صحیح)