سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 145
Sunan Ibn Majah 145
کتاب #-: رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کے فضائل و مناقب
23: بَابُ : فَضْلِ الْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ ابْنَيْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ
باب: علی رضی اللہ عنہ کے بیٹوں حسن و حسین رضی اللہ عنہما کے مناقب و فضائل۔
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ ، وَعَلِيُّ بْنُ الْمُنْذِرِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ ، حَدَّثَنَا أَسْبَاطُ بْنُ نَصْرٍ ، عَنْ السُّدِّيِّ ، عَنْ صُبَيْحٍ مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ ، قَالَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَعَلِيٍّ وَفَاطِمَةَ وَالْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ أَنَا سِلْمٌ لِمَنْ سَالَمْتُمْ وَحَرْبٌ لِمَنْ حَارَبْتُمْ".
زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے علی ، فاطمہ ، حسن اور حسین ( رضی اللہ عنہم ) سے فرمایا : ” میں اس شخص کے لیے سراپا صلح ہوں جس سے تم لوگوں نے صلح کی ، اور سراپا جنگ ہوں اس کے لیے جس سے تم لوگوں نے جنگ کی “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 145]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف ¤ ترمذي (3870) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 380
تخریج دارالدعوہ:
سنن الترمذی/المناقب 61 (3870)، (تحفة الأشراف: 3662)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/442) (ضعیف) (اس سند میں علی بن المنذر میں تشیع ہے، اسباط بن نصر صددق لیکن کثیر الخطا ٔ ہیں، اور غرائب بیان کرتے ہیں، سدی پر تشیع کا الزام ہے، اور ان کی حدیث میں ضعف ہے، نیز صبیح لین الحدیث ہیں، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: 6028)