سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 129
Sunan Ibn Majah 129
کتاب #-: رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کے فضائل و مناقب
18: بَابُ : فَضْلِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
باب: سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے مناقب و فضائل۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ: مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَمَعَ أَبَوَيْهِ لِأَحَدٍ غَيْرَ سَعْدِ بْنِ مَالِكٍ، فَإِنَّهُ قَالَ لَهُ يَوْمَ أُحُدٍ: " ارْمِ سَعْدُ فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي".
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں دیکھا کہ آپ نے سعد بن مالک ( سعد بن ابی وقاص ) رضی اللہ عنہ کے علاوہ کسی کے لیے اپنے والدین کو جمع کیا ہو ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ احد کے دن سعد رضی اللہ عنہ سے کہا : ” اے سعد ! تم تیر چلاؤ ، میرے ماں اور باپ تم پر فدا ہوں “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 129]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ فضیلت غزوہ احزاب کے موقع پر زبیر رضی اللہ عنہ کو بھی حاصل ہے، اور حدیث میں علی رضی اللہ عنہ نے جو بیان کی وہ ان کے اپنے علم کے مطابق ہے، ملاحظہ ہو: حدیث نمبر (۱۲۳)
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
بخاري ومسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الجہاد 80 (2905)، الأدب 103 (6184)، المغازي 18 (4058، 4059)، صحیح مسلم/فضائل الصحابة 5 (2411)، سنن الترمذی/المناقب 27 (3755)، (تحفة الأشراف: 10190)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/92، 124، 137، 158) (صحیح)