(أبواب كتاب السنة)
(ابواب کتاب: سنت کی اہمیت و فضیلت)
کتاب #3 • کل احادیث: 111
|
34: بَابٌ في ذِكْرِ الْخَوَارِجِ
باب: خوارج کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل ابْنُ عُلَيَّة ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ عَبِيدَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، قَالَ: وَذَكَرَ الْخَوَارِجَ، فَقَالَ: " فِيهِمْ رَجُلٌ مُخْدَجُ الْيَدِ، أَوْ مُودَنُ الْيَدِ، أَوْ مَثْدَنُ الْيَدِ، وَلَوْلَا أَنْ تَبْطَرُوا لَحَدَّثْتُكُمْ بِمَا وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ يَقْتُلُونَهُمْ عَلَى لِسَانِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" قُلْتُ: أَنْتَ سَمِعْتَهُ مِنْ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِي، وَرَبِّ الْكَعْبَةِ ثَلاثَ مَرَّاتٍ.
عبیدہ فرماتے ہیں کہ علی رضی اللہ عنہ نے خوارج کا ذکر کیا ، اور ذکر کرتے ہوئے کہا : ان میں ایک آدمی ناقص ہاتھ کا ہے ۱؎ ، اور اگر مجھے ڈر نہ ہوتا کہ تم خوشی سے اترانے لگو گے تو میں تمہیں ضرور بتاتا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کی زبان سے ان کے قاتلین کے لیے کس ثواب اور انعام و اکرام کا وعدہ فرمایا ہے ، میں نے کہا : کیا آپ نے یہ بات محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے ؟ کہا : ہاں ، کعبہ کے رب کی قسم ! ( ضرور سنی ہے ) ، اسے تین مرتبہ کہا ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 167]
💡 وضاحت:
۱؎: راوی کو شک ہے کہ «مخدج اليد أو مودن اليد أو مثدون اليد» میں سے کون سا لفظ استعمال کیا ہے، جب کہ ان سب کے معنی تقریباً برابر ہیں، یعنی ناقص ہاتھ۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الزکاة 48 (1066)، سنن ابی داود/السنة 31 (4763)، (تحفة الأشراف: 10233)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/ 13، 65، 83، 95، 113، 122 144 145) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرِ بْنِ زُرَارَةَ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ زِرٍّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَخْرُجُ فِي آخِرِ الزَّمَانِ قَوْمٌ أَحْدَاثُ الْأَسْنَانِ، سُفَهَاءُ الْأَحْلَامِ، يَقُولُونَ مِنْ خَيْرِ قَوْلِ النَّاسِ، يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ، لَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ، يَمْرُقُونَ مِنَ الْإِسْلَامِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ، فَمَنْ لَقِيَهُمْ فَلْيَقْتُلْهُمْ فَإِنَّ قَتْلَهُمْ أَجْرٌ عِنْدَ اللَّهِ لِمَنْ قَتَلَهُمْ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اخیر زمانہ میں کچھ نوعمر ، بیوقوف اور کم عقل لوگ ظہور پذیر ہوں گے ، لوگوں کی سب سے اچھی ( دین کی ) باتوں کو کہیں گے ، قرآن پڑھیں گے ، لیکن ان کے حلق سے نہ اترے گا ، وہ اسلام سے ویسے ہی نکل جائیں گے جس طرح تیر شکار سے نکل جاتا ہے ، تو جو انہیں پائے قتل کر دے ، اس لیے کہ ان کا قتل قاتل کے لیے اللہ تعالیٰ کے نزدیک باعث اجر و ثواب ہے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 168]
💡 وضاحت:
۱؎: اخیر زمانہ سے مراد خلافت راشدہ کا آخری زمانہ ہے اس لئے کہ خوارج کا ظہور اسی وقت ہوا، اور نہروان کا واقعہ علی رضی اللہ عنہ کی خلافت میں ۳۳ ھ میں ہوا، اس وقت خلافت راشدہ کو اٹھائیس برس گزرے تھے، خلافت کے تیس سال کی مدت مکمل ہونے میں صرف دو سال باقی تھے۔ ۲؎: اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ وہ لوگ نوعمر اور نوجوان ہوں گے، کم عمری کی وجہ سے سوج بوجھ میں پختگی نہ ہوگی، بظاہر وہ اچھی باتیں کریں گے، اور ان کی باتیں موافق شرع معلوم ہوں گی، مگر حقیقت میں خلاف شرع ہوں گی۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
سنن الترمذی/الفتن 24 (2188)، (تحفة الأشراف: 9210)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/81، 113) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، قَالَ: قُلْتُ لِأَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، هَلْ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُ فِي الْحَرُورِيَّةِ شَيْئًا؟، فَقَالَ: سَمِعْتُهُ يَذْكُرُ" قَوْمًا يَتَعَبَّدُونَ، يَحْقِرُ أَحَدُكُمْ صَلَاتَهُ مَعَ صَلَاتِهِمْ، وَصَوْمَهُ مَعَ صَوْمِهِمْ، يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ، أَخَذَ سَهْمَهُ فَنَظَرَ فِي نَصْلِهِ فَلَمْ يَرَ شَيْئًا، فَنَظَرَ فِي رِصَافِهِ فَلَمْ يَرَ شَيْئًا، فَنَظَرَ فِي قِدْحِهِ فَلَمْ يَرَ شَيْئًا، فَنَظَرَ فِي الْقُذَذِ فَتَمَارَى، هَلْ يَرَى شَيْئًا أَمْ لَا؟".
ابوسلمہ کہتے ہیں کہ میں نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے کہا : کیا آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو حروریہ ۱؎ ( خوارج ) کے بارے میں کچھ ذکر کرتے ہوئے سنا ہے ؟ انہوں نے کہا : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک ایسی قوم کا ذکر کرتے ہوئے سنا ہے جو بڑی عبادت گزار ہو گی ، اس کی نماز کے مقابلہ میں تم میں سے ہر ایک شخص اپنی نماز کو کمتر اور حقیر سمجھے گا ۲؎ ، وہ دین سے ایسے ہی نکل جائیں گے جس طرح تیر شکار کے جسم سے نکل جاتا ہے کہ تیر انداز اپنا تیر لے کر اس کا پھل دیکھتا ہے ، تو اسے ( خون وغیرہ ) کچھ بھی نظر نہیں آتا ، پھر اس کے پھل کو دیکھتا ہے تو بھی کچھ نظر نہیں آتا ، پھر اپنے تیر کی لکڑی کو دیکھتا ہے تو بھی کچھ نظر نہیں آتا ، پھر وہ تیر کے پر کو دیکھتا ہے تو شک میں مبتلا ہوتا ہے کہ آیا اسے کچھ اثر دکھایا نہیں ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 169]
💡 وضاحت:
۱؎: «حروریہ» : حروراء کی طرف نسبت ہے جو کوفہ کے قریب ایک بستی کا نام ہے اس سے مراد خوارج ہیں، انہیں «حروریہ» اس لئے کہا جاتا ہے کہ انہوں نے اسی بستی سے خروج کیا تھا۔ ۲؎: ظاہری عبادت و ریاضت اگر عقیدہ اسلام سے الگ ہو کر کی جا رہی ہے تو وہ بیکار محض ہے، یہ بھی پتہ چلا کہ بدعت کی نحوست سے نماز و روزہ جیسی اہم عبادتیں بھی مقبول نہیں ہوتیں، تیر شکار سے پار نکل جانے میں جس قدر سرعت رکھتا ہے، اہل بدعت خصوصاً خوارج دین سے خارج ہونے میں سریع تر ہیں۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الأنبیاء 6 (3344)، المناقب 25 (3610)، المغازي 62 (4351)، تفسیر التوبہ 10 (4667)، فضائل القرآن 36 (5058)، الأدب 95 (6163)، الاستتابة 7 (6933)، التوحید 23 (7432)، صحیح مسلم/الزکاة 47 (1064)، (تحفة الأشراف: 4421)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/السنة 31 (4764)، سنن النسائی/الزکاة 79 (2579)، التحریم 22 (4106)، موطا امام مالک/القرآن 4 (10)، مسند احمد (3/ 56، 60، 65، 68، 72، 73) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ بَعْدِي مِنْ أُمَّتِي، أَوْ سَيَكُونُ بَعْدِي مِنْ أُمَّتِي قَوْمٌ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ حُلُوقَهُمْ، يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ، ثُمَّ لَا يَعُودُونَ فِيهِ، هُمْ شِرَارُ الْخَلْقِ وَالْخَلِيقَةِ"، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الصَّامِتِ: فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِرَافِعِ بْنِ عَمْرٍو ، أَخِي الْحَكَمِ بْنِ عَمْرٍو الْغِفَارِيِّ، فَقَالَ: وَأَنَا أَيْضًا قَدْ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میرے بعد میری امت میں سے کچھ لوگ ہوں گے جو قرآن پڑھیں گے ، لیکن وہ ان کی حلق سے نہ اترے گا ، وہ دین سے ایسے ہی نکل جائیں گے جس طرح تیر شکار کے جسم سے نکل جاتا ہے ، پھر وہ دین کی طرف واپس لوٹ کر نہ آئیں گے ، انسانوں اور حیوانوں میں بدترین لوگ ہیں “ ۱؎ ۔ عبداللہ بن صامت کہتے ہیں : میں نے اس کا ذکر حکم بن عمرو غفاری کے بھائی رافع بن عمرو رضی اللہ عنہما سے کیا تو انہوں نے کہا : میں نے بھی اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 170]
💡 وضاحت:
۱؎: «خلق» سے مراد لوگ، اور «خلیقۃ» سے چوپائے اور جانور ہیں، اس حدیث سے پتہ چلا کہ اہل بدعت جانوروں سے بھی بدتر ہیں، کیونکہ خوارج اہل بدعت ہی کا ایک فرقہ ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الزکاة 47 (1067)، (تحفة الأشراف: 3596)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/5، 5/31، 61)، سنن الدارمی/الجہاد 40 (2439) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَسُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَيَقْرَأَنَّ الْقُرْآنَ نَاسٌ مِنْ أُمَّتِي يَمْرُقُونَ مِنَ الْإِسْلَامِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میری امت کے کچھ لوگ قرآن تو ضرور پڑھیں گے ، مگر وہ اسلام سے نکل جائیں گے جس طرح تیر شکار سے نکل جاتا ہے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 171]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 6125، ومصباح الزجاجة: 64)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/256) (صحیح) (سند میں سماک ضعیف ہیں، اوران کی عکرمہ سے روایت میں اضطراب ہے، لیکن یہ حدیث دوسرے شواہد سے صحیح ہے، سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: 2221)
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْجِعْرَانَةِ وَهُوَ يَقْسِمُ التِّبْرَ وَالْغَنَائِمَ، وَهُوَ فِي حِجْرِ بِلَالٍ، فَقَالَ رَجُلٌ: اعْدِلْ يَا مُحَمَّدُ فَإِنَّكَ لَمْ تَعْدِلْ، فَقَالَ: " وَيْلَكَ وَمَنْ يَعْدِلُ بَعْدِي إِذَا لَمْ أَعْدِلْ"، فَقَالَ عُمَرُ: دَعْنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ حَتَّى أَضْرِبَ عُنُقَ هَذَا الْمُنَافِقِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ هَذَا فِي أَصْحَابٍ، أَوْ أُصَيْحَابٍ لَهُ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ، يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مقام جعرانہ میں تشریف فرما تھے ، اور آپ بلال رضی اللہ عنہ کی گود میں سے سونا ، چاندی اور اموال غنیمت ( لوگوں میں ) تقسیم فرما رہے تھے ، تو ایک شخص نے کہا : اے محمد ! عدل و انصاف کیجئیے ، آپ نے عدل سے کام نہیں لیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تیرا برا ہو ، اگر میں عدل و انصاف نہ کروں گا تو میرے بعد کون عدل کرے گا ؟ “ ، عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : اللہ کے رسول ! مجھے اجازت دیجئیے ، میں اس منافق کی گردن اڑا دوں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس کے اور بھی ساتھی ہیں جو قرآن کو پڑھتے ہیں ، لیکن وہ ان کی حلق سے نیچے نہیں اترتا ہے ، وہ دین سے ایسے ہی نکل جائیں گے جس طرح تیر شکار سے نکل جاتا ہے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 172]
💡 وضاحت:
۱؎: «جعرانہ» : مکہ سے آٹھ نو میل پر ایک مقام کا نام ہے، جہاں پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ حنین کے غنائم تقسیم کئے تھے، اس وقت جس شخص نے اعتراض کیا تھا وہ ذوالخویصرہ تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ازراہ مصلحت اس کی گردن مارنے کی اجازت نہ دی، ایسا نہ ہو کہ کہیں مشرکین میں یہ مشہور ہو جائے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھیوں کوبھی قتل کرتے ہیں۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 2772، ومصباح الزجاجة: 65)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/فرض الخمس 15 (3138)، صحیح مسلم/الزکاة 47 (1063)، مسند احمد (3/353) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاق الْأَزْرَقُ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ ابْنِ أَبِي أَوْفَى ، قَالَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْخَوَارِجُ كِلَابُ النَّارِ".
ابن ابی اوفی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” خوارج جہنم کے کتے ہیں “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 173]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 5169، ومصباح الزجاجة: 66)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/355) (صحیح) (اعمش کا سماع ابن أبی أوفی سے ثابت نہیں ہے، اس لئے سند میں انقطاع ہے، لیکن دوسرے طرق اور شواہد کی بناء پر حدیث صحیح ہے، ملاحظہ ہو: المشکاة: 3554)
|
|
|
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " يَنْشَأُ نَشْءٌ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ، كُلَّمَا خَرَجَ قَرْنٌ قُطِعَ"، قَالَ ابْنُ عُمَرَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " كُلَّمَا خَرَجَ قَرْنٌ قُطِعَ" أَكْثَرَ مِنْ عِشْرِينَ مَرَّةً، " حَتَّى يَخْرُجَ فِي عِرَاضِهِمُ الدَّجَّالُ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ایک ایسی قوم پیدا ہو گی جو قرآن پڑھے گی لیکن قرآن اس کے حلق سے نیچے نہ اترے گا ، جب بھی ان کا کوئی گروہ پیدا ہو گا ختم کر دیا جائے گا “ ، ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں : میں نے بیسیوں بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : ” جب بھی ان کا کوئی گروہ نکلے گا ختم کر دیا جائے گا ، یہاں تک کہ انہیں میں سے دجال نکلے گا “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 174]
💡 وضاحت:
۱؎: ختم کر دیا جائے گا، یعنی اس کا مستحق ہو گا کہ اس کا خاتمہ اور صفایا کر دیا جائے، اس حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ اہل بدعت ہی سے دجال کا خروج ہو گا۔
قال الشيخ الألباني:
حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ:
تفر د بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 7758، ومصباح الزجاجة: 67) (حسن)
|
|
|
حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ أَبُو بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَخْرُجُ قَوْمٌ فِي آخِرِ الزَّمَانِ، أَوْ فِي هَذِهِ الْأُمَّةِ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ أَوْ حُلْقُومَهُمْ، سِيمَاهُمُ التَّحْلِيقُ إِذَا رَأَيْتُمُوهُمْ، أَوْ إِذَا لَقِيتُمُوهُمْ فَاقْتُلُوهُمْ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” آخری زمانہ ( خلافت راشدہ کے اخیر ) میں یا اس امت میں سے ایک ایسی قوم نکلے گی جو قرآن پڑھے گی لیکن وہ ان کے نرخرے یا حلق سے نیچے نہ اترے گا ، ان کی نشانی سر منڈانا ہے ، جب تم انہیں دیکھو یا ان سے ملو تو انہیں قتل کر دو “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 175]
💡 وضاحت:
۱؎: اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کا نشان سر منڈانا ہے، اور اس سے بعض لوگوں نے استدلال کیا ہے کہ بال منڈانا مکروہ ہے، لیکن یہ صحیح نہیں، بعض اوقات سر منڈانا عبادت ہے، جیسا کہ حج اور عمرہ میں، اور پیدائش کے ساتویں روز بچے کا سر منڈانا سنت ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ سنن أبي داود (4766) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 381
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/السنة 31 (4766)، (تحفة الأشراف: 1337)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/197) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ أَبِي سَهْلٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ أَبِي غَالِبٍ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ ، يَقُولُ: " شَرُّ قَتْلَى قُتِلُوا تَحْتَ أَدِيمِ السَّمَاءِ، وَخَيْرُ قَتْلَى مَنْ قَتَلُوا كِلَابُ أَهْلِ النَّارِ، قَدْ كَانَ هَؤُلَاءِ مُسْلِمِينَ فَصَارُوا كُفَّارًا"، قُلْتُ يَا أَبَا أُمَامَةَ: هَذَا شَيْءٌ تَقُولُهُ، قَالَ: بَلْ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ” یہ خوارج سب سے بدترین مقتول ہیں جو آسمان کے سایہ تلے قتل کیے گئے ، اور سب سے بہتر مقتول وہ ہیں جن کو جہنم کے کتوں ( خوارج ) نے قتل کر دیا ، یہ خوارج مسلمان تھے ، پھر کافر ہو گئے “ ۱؎ ۔ ابوغالب کہتے ہیں کہ میں نے ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ آپ یہ بات خود اپنی جانب سے کہہ رہے ہیں ؟ تو ابوامامہ رضی اللہ عنہ نے کہا : نہیں ، بلکہ اسے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 176]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی اس قتل و غارت گری میں زمانہ جاہلیت کے کفار کی طرح ہوگئے، جب کہ دوسری حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «لا ترجعوا بعدي كفارا يضرب بعضكم رقاب بعض» ”اے مسلمانو! میرے بعد کافر نہ ہو جانا کہ تم ایک دوسرے کی گردن مارنے لگو“، زمانہ جاہلیت میں عربوں میں قبائلی نظام کے تحت چھوٹے چھوٹے مسائل کے تحت آئے دن آپس میں خونریزی اور قتل و غارت گری کے واقعات پیش آتے تھے، انسانی جان کی کوئی قیمت نہ تھی، اسلام نے انسانی جانوں کا بڑا احترام کیا، اور بلا کسی واقعی سبب کے خونریزی کو بہت بڑا گناہ اور جرم قرار دیا، اب نو مسلم معاشرہ ایک نظم و ضبط میں بندھ گیا تھا، جرائم پر حدود قصاص اور دیت کا ایک مستقل نظام تھا، اس لئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو عہد جاہلیت کے غلط طریقے پر اس حدیث میں تنبیہ فرمائی، اور ایسے اسلوب میں خطاب کیا کہ حقیقی معنوں میں لوگ ہنگامہ آرائی اور قتل و غارت گری اور خونریزی سے اپنے آپ کو دور رکھیں، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح تربیت فرمائی تھی کہ دوبارہ وہ عہد جاہلیت کے کاموں سے اپنے آپ کو دور رکھنے میں غایت درجہ کا لحاظ رکھتے تھے، تاکہ ان کے اعمال اکارت اور بے کار نہ جائیں۔
قال الشيخ الألباني:
حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ:
سنن الترمذی/تفسیر القرآن 4 (3000)، (تحفة الأشراف: 4935)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/ 253، 256) (حسن صحیح)
|
|
|
35: بَابُ : فِيمَا أَنْكَرَتِ الْجَهْمِيَّةُ
باب: جہمیہ کا انکار صفات باری تعالیٰ۔
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، وَوَكِيعٌ . ح وحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا خَالِي يَعْلَى ، وَوَكِيعٌ ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَظَرَ إِلَى الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ، فَقَالَ: " إِنَّكُمْ سَتَرَوْنَ رَبَّكُمْ كَمَا تَرَوْنَ هَذَا الْقَمَرَ، لَا تَضَامُّونَ فِي رُؤْيَتِهِ، فَإِنِ اسْتَطَعْتُمْ أَنْ لَا تُغْلَبُوا عَلَى صَلَاةٍ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ غُرُوبِهَا فَافْعَلُوا" ثُمَّ قَرَأَ وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ الْغُرُوبِ سورة ق آية 39.
جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے ، آپ نے چودہویں کے چاند کی طرف دیکھا ، اور فرمایا : ” عنقریب تم لوگ اپنے رب کو دیکھو گے جس طرح اس چاند کو دیکھ رہے ہو کہ اس کے دیکھنے میں تمہیں کوئی پریشانی لاحق نہیں ہو رہی ہے ، لہٰذا اگر تم طاقت رکھتے ہو کہ سورج کے نکلنے اور ڈوبنے سے پہلے نماز سے پیچھے نہ رہو تو ایسا کرو “ ۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت کریمہ تلاوت فرمائی : «وسبح بحمد ربك قبل طلوع الشمس وقبل الغروب» ” اپنے رب کی تسبیح و تحمید بیان کیجئے سورج کے نکلنے اور ڈوبنے سے پہلے “ ( سورة ق : 39 ) ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 177]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے اہل ایمان کے لئے جنت میں اللہ تعالیٰ کی رویت ثابت ہوتی ہے، نیز اللہ رب العزت کے لئے علو اور بلندی کی صفت کہ وہ سب سے اوپر آسمان کے اوپر ہے، نیز اس حدیث سے فجر اور عصر کی فضیلت ثابت ہوتی ہے، آیت کریمہ میں تسبیح سے مراد صلاۃ (نماز) ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
بخاري ومسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/المواقیت 16 (554)، وتفسیر ق 2 (4851)، والتوحید 24 (7434)، صحیح مسلم/المساجد 37 (633)، سنن ابی داود/السنة 20 (4729)، سنن الترمذی/صفة الجنة 16 (2551)، سنن النسائی/الکبری/الصلاة 57 (460)، (تحفة الأشراف: 3223)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/360، 362، 365) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عِيسَى الرَّمْلِيُّ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تَضَامُّونَ فِي رُؤْيَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ"، قَالُوا: لَا، قَالَ: " فَكَذَلِكَ لَا تَضَامُّونَ فِي رُؤْيَةِ رَبِّكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا تمہیں چودھویں رات کو چاند دیکھنے میں مشقت ہوتی ہے “ ؟ صحابہ نے کہا : جی نہیں ، فرمایا : ” اسی طرح قیامت کے دن تمہیں اپنے رب کی زیارت میں کوئی مشکل نہیں ہو گی “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 178]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 12480)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الاذان 129 (806)، الرقاق 52 (6573)، التوحید 24 (4737)، صحیح مسلم/الإیمان 81 (183) الزھد 1 (2968)، سنن ابی داود/السنة 20 (4729)، سنن الترمذی/صفة الجنة 16 (2554)، سنن الدارمی/الرقاق 81 (2843) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ: قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنَرَى رَبَّنَا؟ قَالَ: " تَضَامُّونَ فِي رُؤْيَةِ الشَّمْسِ فِي الظَّهِيرَةِ فِي غَيْرِ سَحَابٍ"، قُلْنَا: لَا، قَالَ: " فَتَضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ فِي غَيْرِ سَحَابٍ"، قَالُوا: لَا، قَالَ: " إِنَّكُمْ لَا تَضَارُّونَ فِي رُؤْيَتِهِ إِلَّا كَمَا تَضَارُّونَ فِي رُؤْيَتِهِمَا".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے کہا : اللہ کے رسول ! کیا ہم اپنے رب کو دیکھیں گے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا تم ٹھیک دوپہر میں سورج دیکھنے میں کوئی دقت اور پریشانی محسوس کرتے ہو جبکہ کوئی بدلی نہ ہو ؟ “ ، ہم نے کہا : نہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا تم چودہویں رات کا چاند دیکھنے میں کوئی رکاوٹ محسوس کرتے ہو جبکہ کوئی بدلی نہ ہو ؟ “ ، ہم نے کہا : نہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” سورج و چاند کو دیکھنے کی طرح تم اپنے رب کے دیدار میں بھی ایک دوسرے سے مزاحمت نہیں کرو گے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 179]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے بھی اللہ تعالیٰ کے لئے صفت علو اور مومنین کے لئے اس کی رؤیت ثابت ہوتی ہے، اور اس میں جہمیہ اور معتزلہ دونوں کا ردو ابطال ہوا، جو اہل ایمان کے لئے اللہ تعالی کی رؤیت نیز اللہ تعالیٰ کے لئے علو اور بلندی کی صفت کے منکر ہیں۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 4019)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/16) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَنْبَأَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ ، عَنْ وَكِيعِ بْنِ حُدُسٍ ، عَنْ عَمِّهِ أَبِي رَزِينٍ ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَكُلُّنَا يَرَى للَّهَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ؟ وَمَا آيَةُ ذَلِكَ فِي خَلْقِهِ؟ قَالَ: " يَا أَبَا رَزِينٍ أَلَيْسَ كُلُّكُمْ يَرَى الْقَمَرَ مُخْلِيًا بِهِ"؟ قَالَ: قُلْتُ: بَلَى، قَالَ: " فَاللَّهُ أَعْظَمُ وَذَلِكَ آيَتُهُ فِي خَلْقِهِ".
ابورزین رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! کیا ہم اللہ تعالیٰ کو قیامت کے دن دیکھیں گے ؟ اور اس کی اس کے مخلوق میں کیا نشانی ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ابورزین ! کیا تم میں سے ہر ایک چاند کو اکیلا بلا کسی روک ٹوک کے نہیں دیکھ لیتا ہے ؟ “ ، میں نے کہا : کیوں نہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ اس سے زیادہ عظیم ہے ، اور اس کی مخلوق میں یہ ( چاند ) اس کے دیدار کی ایک نشانی ہے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 180]
قال الشيخ الألباني:
حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/السنة 20 (4731)، (تحفة الأشراف: 11175)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/11، 12) (حسن) (وکیع بن حدس مقبول عند المتابعہ ہیں، او ران کی متابعت موجود ہے، ملاحظہ ہو: السنة لابن أبی عاصم (468)، شیخ الاسلام ابن تیمیة وجھودہ فی الحدیث وعلومہ (38) للدکتور عبد الرحمن الفریوائی)
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَنْبَأَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ ، عَنْ وَكِيعِ بْنِ حُدُسٍ ، عَنْ عَمِّهِ أَبِي رَزِينٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ضَحِكَ رَبُّنَا مِنْ قُنُوطِ عِبَادِهِ وَقُرْبِ غِيَرِهِ"، قَالَ: قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَوَ يَضْحَكُ الرَّبُّ؟، قَالَ: " نَعَمْ" قُلْتُ: لَنْ نَعْدِمَ مِنْ رَبٍّ يَضْحَكُ خَيْرًا.
ابورزین رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہمارا رب اپنے بندوں کے مایوس ہونے سے ہنستا ہے جب کہ اللہ کی طرف سے ان کی حالت بدلنے کا وقت قریب ہوتا ہے “ ، وہ کہتے ہیں : میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! کیا رب ہنستا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہاں “ ، تو میں نے عرض کیا : تب تو ہم ایسے رب کے خیر سے ہرگز محروم نہ رہیں گے جو ہنستا ہے ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 181]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے اللہ تعالیٰ کی صفت ضحک کا اثبات ہوتا ہے، اور اس کا ہنسنا ایسا ہے جیسا اس کی شان کے لائق ہے۔
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 11180، ومصباح الزجاجة: 68)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/11، 12) (حسن) (ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: 2810)
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَنْبَأَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ ، عَنْ وَكِيعِ بْنِ حُدُسٍ ، عَنْ عَمِّهِ أَبِي رَزِينٍ ، قَالَ: قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيْنَ كَانَ رَبُّنَا قَبْلَ أَنْ يَخْلُقَ خَلْقَهُ؟ قَالَ: " كَانَ فِي عَمَاءٍ مَا تَحْتَهُ هَوَاءٌ، وَمَا فَوْقَهُ هَوَاءٌ، ثَمَّ خَلْقٌ الْعَرْشَ عَلَى الْمَاءِ".
ابورزین رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! ہمارا رب اپنی مخلوق کے پیدا کرنے سے پہلے کہاں تھا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بادل میں تھا ، نہ تو اس کے نیچے ہوا تھی نہ اوپر ہوا تھی ، اور نہ ہی وہاں کوئی مخلوق تھی ، ( پھر پانی پیدا کیا ) اور اس کا عرش پانی پہ تھا “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 182]
💡 وضاحت:
۱؎: حدیث میں «عماء» کا لفظ آیا ہے جس کے معنی اگر «بالمد» ہو تو «سحاب رقیق» (بدلی) کے ہوتے ہیں، اور «بالقصر» ہو تو اس کے معنی «لاشیء» کے ہوتے ہیں، بعض اہل لغت نے «العماء» بالقصر کے معنی ایسے امر کے کئے ہیں جو عقل اور ادراک سے ماوراء ہو، حدیث سے اللہ تعالیٰ کے لئے صفت فوقیت و علو ثابت ہوئی، کیفیت مجہول ہے۔
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ:
سنن الترمذی/تفسیر القرآن 12 (3109)، (تحفة الأشراف: 11176)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/11، 12) (ضعیف) (حدیث کی سند میں مذکور راوی وکیع بن حدس مجہول الحال ہیں، نیزملاحظہ ہو: ظلال الجنة: 612)
|
|
|
حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ مُحْرِزٍ الْمَازِنِيِّ ، قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، وَهُوَ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ إِذْ عَرَضَ لَهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا ابْنَ عُمَرَ كَيْفَ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُ فِي النَّجْوَى؟ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " يُدْنَى الْمُؤْمِنُ مِنْ رَبِّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَتَّى يَضَعَ عَلَيْهِ كَنَفَهُ ثُمَّ يُقَرِّرُهُ بِذُنُوبِهِ، فَيَقُولُ: " هَلْ تَعْرِفُ"، فَيَقُولُ: يَا رَبِّ أَعْرِفُ، حَتَّى إِذَا بَلَغَ مِنْهُ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَبْلُغَ، قَالَ: " إِنِّي سَتَرْتُهَا عَلَيْكَ فِي الدُّنْيَا وَأَنَا أَغْفِرُهَا لَكَ الْيَوْمَ"، قَالَ: " ثُمَّ يُعْطَى صَحِيفَةَ حَسَنَاتِهِ، أَوْ كِتَابَهُ بِيَمِينِهِ"، قَالَ: " وَأَمَّا الْكَافِرُ، أَوِ الْمُنَافِقُ فَيُنَادَى عَلَى رُءُوسِ الْأَشْهَادِ"، قَالَ خَالِدٌ: فِي الْأَشْهَادِ شَيْءٌ مِنَ انْقِطَاعٍ هَؤُلاءِ الَّذِينَ كَذَبُوا عَلَى رَبِّهِمْ أَلا لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الظَّالِمِينَ سورة هود آية 18.
صفوان بن محرز مازنی کہتے ہیں : اس اثناء میں کہ ہم عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے ہمراہ تھے ، اور وہ خانہ کعبہ کا طواف کر رہے تھے ، اچانک ایک شخص سامنے آیا ، اور اس نے کہا : ابن عمر ! آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے «نجویٰ» ( یعنی اللہ کا اپنے بندے سے قیامت کے دن سرگوشی کرنے ) کے بارے میں کیا سنا ہے ؟ انہوں نے کہا : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : ” مومن اپنے رب سے قیامت کے دن قریب کیا جائے گا ، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اس پر اپنا پردہ ڈال دے گا ، ( تاکہ اس سرگوشی سے دوسرے باخبر نہ ہو سکیں ) ، پھر اس سے اس کے گناہوں کا اقرار کرائے گا ، اور فرمائے گا : کیا تم ( اس گناہ کو ) جانتے ہو ؟ وہ بندہ کہے گا : اے رب ! میں جانتا ہوں ، یہاں تک کہ جب مومن اپنے جملہ گناہوں کا اقرار کر لے گا تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا : میں نے دنیا میں ان گناہوں کی پردہ پوشی کی اور آج میں ان کو بخشتا ہوں “ ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” پھر اسے اس کی نیکیوں کا صحیفہ یا نامہ اعمال اس کے دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا “ ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” رہے کافر و منافق تو ان کو حاضرین کے سامنے پکارا جائے گا ( راوی خالد کہتے ہیں کہ «الأشهاد» میں کچھ انقطاع ہے ) : یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے رب پر جھوٹ باندھا ، سن لو ! اللہ کی لعنت ہے ظالموں پر ( سورۃ ہود : ۱۸ ) “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 183]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ حدیث جہمیہ وغیرہ کی تردید کرتی ہے جو اللہ تعالیٰ کے کلام اور اس کے حروف و اصوات پر مشتمل ہونے کے منکر ہیں۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/ المظالم 2 (2441)، التفسیر 4 (4685)، الأدب 70 (6070)، التوحید 36 (7514)، صحیح مسلم/التوبة 8 (2768)، سنن النسائی/الکبری (11242)، (تحفة الأشراف: 7096)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/74، 105) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ الْعَبَّادَانِيُّ ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ الرَّقَاشِيُّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: بَيْنَا أَهْلُ الْجَنَّةِ فِي نَعِيمِهِمْ إِذْ سَطَعَ لَهُمْ نُورٌ فَرَفَعُوا رُءُوسَهُمْ، فَإِذَا الرَّبُّ قَدْ أَشْرَفَ عَلَيْهِمْ مِنْ فَوْقِهِمْ، فَقَالَ: " السَّلَامُ عَلَيْكُمْ يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ، قَالَ: وَذَلِكَ قَوْلُ اللَّهِ سَلامٌ قَوْلا مِنْ رَبٍّ رَحِيمٍ سورة يس آية 58 قَالَ: فَيَنْظُرُ إِلَيْهِمْ وَيَنْظُرُونَ إِلَيْهِ، فَلَا يَلْتَفِتُونَ إِلَى شَيْءٍ مِنَ النَّعِيمِ مَا دَامُوا يَنْظُرُونَ إِلَيْهِ حَتَّى يَحْتَجِبَ عَنْهُمْ وَيَبْقَى نُورُهُ وَبَرَكَتُهُ عَلَيْهِمْ فِي دِيَارِهِمْ".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس درمیان کہ اہل جنت اپنی نعمتوں میں ہوں گے ، اچانک ان پر ایک نور چمکے گا ، وہ اپنے سر اوپر اٹھائیں گے تو دیکھیں گے کہ ان کا رب ان کے اوپر سے جھانک رہا ہے ، اور فرما رہا ہے : ” اے جنت والو ! تم پر سلام ہو “ ، اور یہی مطلب ہے اللہ تعالیٰ کے قول : «سلام قولا من رب رحيم» ( سورة يس : 58 ) کا ” رحيم ( مہربان ) رب کی طرف سے ( اہل جنت کو ) سلام کہا جائے گا “ ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تک باری تعالیٰ کے دیدار کی نعمت ان کو ملتی رہے گی وہ کسی بھی دوسری نعمت کی طرف مطلقاً نظر نہیں اٹھائیں گے ، پھر وہ ان سے چھپ جائے گا ، لیکن ان کے گھروں میں ہمیشہ کے لیے اس کا نور اور برکت باقی رہ جائے گی “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 184]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث میں کئی طرح سے ثابت ہوا کہ اللہ تعالیٰ جہت علو میں ہے، نیز کلام اللہ کا حروف و اصوات پر مشتمل ہونا، اور قابل سماع ہونا بھی ثابت ہوا کہ جنتی جنت میں اللہ تعالیٰ کو دیکھیں گے، جہمیہ اللہ رب العزت کی رؤیت کے منکر ہیں، ان کا مذہب باطل ہے۔
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ الفضل الرقاشي: منكر الحديث ورمي بالقدر (تقريب: 5413) وقال أيوب السختياني رحمه اللّٰه: ”لو ولد أخرس،كان خيرًا له“ (كتاب الضعفاء للبخاري بتحقيقي: 306 وسنده صحيح) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 381
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 3067، ومصباح الزجاجة: 69) (ضعیف) (ابوعاصم العبادانی منکر الحدیث اور الفضل بن عیسیٰ بن ابان الرقاشی ضعیف ہیں، نیزملاحظہ ہو: المشکاة: 5664)
|
|
|
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ خَيْثَمَةَ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا سَيُكَلِّمُهُ رَبُّهُ لَيْسَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ تَرْجُمَانٌ، فَيَنْظُرُ عَنْ أَيْمَنَ مِنْهُ فَلَا يَرَى إِلَّا شَيْئًا قَدَّمَهُ، ثُمَّ يَنْظُرُ عَنْ أَيْسَرَ مِنْهُ فَلَا يَرَى إِلَّا شَيْئًا قَدَّمَهُ، ثُمَّ يَنْظُرُ أَمَامَهُ فَتَسْتَقْبِلُهُ النَّارُ فَمَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ أَنْ يَتَّقِيَ النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ فَلْيَفْعَلْ".
عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم میں سے ہر شخص سے اللہ تعالیٰ ( قیامت کے دن ) بغیر کسی ترجمان کے ہم کلام ہو گا ۱؎ ، بندہ اپنی دائیں جانب نگاہ ڈالے گا تو اپنے ان اعمال کے سوا جن کو اپنے آگے بھیج چکا تھا کچھ بھی نہ دیکھے گا ، پھر بائیں جانب نگاہ ڈالے گا تو اپنے ان اعمال کے سوا جن کو آگے بھیج چکا تھا کچھ بھی نہ دیکھے گا ، پھر اپنے آگے دیکھے گا تو جہنم اس کے سامنے ہو گی پس جو جہنم سے بچ سکتا ہو چاہے کھجور کے ایک ٹکڑے کو اللہ کی راہ میں دے کر تو اس کو ضرور ایسا کرنا چاہیئے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 185]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے مراد یہ ہے کہ جب جنت میں لوگ داخل ہوں گے تو اللہ تعالیٰ اور ان کے درمیان کوئی حجاب (پردہ) نہ ہو گا، اس کی طرف نظر کرنے سے صرف اس ذات مقدس کی عظمت و کبریائی اور جلال و ہیبت ہی مانع ہو گا، پھر جب اللہ عزوجل ان پر اپنی رافت اور رحمت اور فضل و امتنان کا اظہار کرے گا تو وہ رکاوٹ دور ہو جائے گی، اور اہل ایمان اللہ تعالیٰ کی رؤیت کا شرف حاصل کر لیں گے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
بخاري ومسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الزکاة 9 (1413)، 10 (1417)، المناقب 25 (3595)، الأدب 34 (6023)، الرقاق 49 (6539)، 51 (6563) التوحید 36 (7512)، صحیح مسلم/الزکاة 20 (1016)، سنن الترمذی/صفة القیامة 1 (2415)، (تحفة الأشراف: 9852)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الزکاة 63 (2554)، مسند احمد (4/256، 258، 259، 377) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الصَّمَدِ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسٍ الْأَشْعَرِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " جَنَّتَانِ مِنْ فِضَّةٍ آنِيَتُهُمَا وَمَا فِيهِمَا، وَجَنَّتَانِ مِنْ ذَهَبٍ آنِيَتُهُمَا وَمَا فِيهِمَا، وَمَا بَيْنَ الْقَوْمِ وَبَيْنَ أَنْ يَنْظُرُوا إِلَى رَبِّهِمْ تَبَارَكَ وَتَعَالَى إِلَّا رِدَاءُ الْكِبْرِيَاءِ عَلَى وَجْهِهِ فِي جَنَّةِ عَدْنٍ".
ابوموسیٰ اشعری ( عبداللہ بن قیس ) رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” دو جنتیں ایسی ہیں کہ ان کے برتن اور ساری چیزیں چاندی کی ہیں ، اور دو جنتیں ایسی ہیں کہ ان کے برتن اور ان کی ساری چیزیں سونے کی ہیں ، جنت عدن میں لوگوں کے اور ان کے رب کے دیدار کے درمیان صرف اس کے چہرے پہ پڑی کبریائی کی چادر ہو گی جو دیدار سے مانع ہو گی “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 186]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث کا مقصد بھی یہ ہے کہ اللہ تبارک تعالیٰ کی رؤیت میں رکاوٹ اس کی عظمت و کبریائی اور اس کی ہیبت اور اس کا جلال ہو گا، جس کے سبب کسی کو اس کی طرف نظر اٹھانے کی ہمت نہ ہو گی، لیکن جب اس کی رحمت و رأفت اور اس کے فضل و کرم کا ظہور ہو گا تو یہ رکاوٹ دور ہو جائے گی، اور اہل ایمان اس کی رؤیت کی نعمت سے سرفراز ہو جائیں گے، اس حدیث میں فرقۂ جہمیہ کا بڑا واضح اور بلیغ رد ہے جو رؤیت باری تعالیٰ کے منکر ہیں۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
بخاري ومسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/تفسیر الرحمن 1 (4878)، التوحید 24 (7444)، صحیح مسلم/الإیمان 80 (180)، سنن الترمذی/صفة الجنة 3 (2528)، سنن النسائی/الکبری (7765)، (تحفة الأشراف: 9135)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/411، 416)، سنن الدارمی/الرقاق 101 (2825) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْقُدُّوسِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ صُهَيْبٍ ، قَالَ: تَلَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذِهِ الْآيَةَ لِلَّذِينَ أَحْسَنُوا الْحُسْنَى وَزِيَادَةٌ سورة يونس آية 26، وَقَالَ: " إِذَا دَخَلَ أَهْلُ الْجَنَّةِ الْجَنَّةَ، وَأَهْلُ النَّارِ النَّارَ، نَادَى مُنَادٍ يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ إِنَّ لَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ مَوْعِدًا يُرِيدُ أَنْ يُنْجِزَكُمُوهُ، فَيَقُولُونَ: وَمَا هُوَ أَلَمْ يُثَقِّلِ اللَّهُ مَوَازِينَنَا، وَيُبَيِّضْ وُجُوهَنَا، وَيُدْخِلْنَا الْجَنَّةَ، وَيُنْجِنَا مِنَ النَّارِ، قَالَ: " فَيَكْشِفُ الْحِجَابَ فَيَنْظُرُونَ إِلَيْهِ، فَوَاللَّهِ مَا أَعَطَاهُمُ اللَّهُ شَيْئًا أَحَبَّ إِلَيْهِمْ مِنَ النَّظَرِ إِلَيْهِ، وَلَا أَقَرَّ لِأَعْيُنِهِمْ".
صہیب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت : «للذين أحسنوا الحسنى وزيادة» ” جن لوگوں نے نیکی کی ان کے لیے نیکی ہے اور اس سے زیادہ بھی ہے “ ( سورة يونس : 26 ) کی تلاوت فرمائی ، اور اس کی تفسیر میں فرمایا : ” جب جنت والے جنت میں اور جہنم والے جہنم میں داخل ہو جائیں گے تو منادی پکارے گا : جنت والو ! اللہ کے پاس تمہارا ایک وعدہ ہے وہ اسے پورا کرنا چاہتا ہے ، جنتی کہیں گے : وہ کیا وعدہ ہے ؟ کیا اللہ نے ہمارے نیک اعمال کو وزنی نہیں کیا ؟ ہمارے چہروں کو روشن اور تابناک نہیں کیا ؟ ہمیں جنت میں داخل نہیں کیا ؟ اور ہمیں جہنم سے نجات نہیں دی ؟ “ ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” پھر اللہ تعالیٰ اپنے چہرے سے پردہ ہٹا دے گا ، لوگ اس کا دیدار کریں گے ، اللہ کی قسم ! اللہ کے عطیات میں سے کوئی بھی چیز ان کے نزدیک اس کے دیدار سے زیادہ محبوب اور ان کی نگاہ کو ٹھنڈی کرنے والی نہ ہو گی “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 187]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الإیمان 80 (181)، سنن الترمذی/صفة الجنة 52 (2552)، تفسیر القرآن 11 (3105)، سنن النسائی/ الکبری (7766)، (تحفة الأشراف: 4968)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/332، 333، 6/ 15) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ تَمِيمِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي وَسِعَ سَمْعُهُ الْأَصْوَاتَ، لَقَدْ جَاءَتِ الْمُجَادِلَةُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا فِي نَاحِيَةِ الْبَيْتِ تَشْكُو زَوْجَهَا"، وَمَا أَسْمَعُ مَا تَقُولُ فَأَنْزَلَ اللَّهُ: قَدْ سَمِعَ اللَّهُ قَوْلَ الَّتِي تُجَادِلُكَ فِي زَوْجِهَا سورة المجادلة آية 1.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس کی سماعت تمام آوازوں کا احاطہٰ کئے ہوئے ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک عورت آئی اور اپنے شوہر کی شکایت کرنے لگی ، میں گھر کے ایک گوشہ میں تھی اور اس کی باتوں کو سن نہیں پا رہی تھی کہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت کریمہ نازل فرمائی : «قد سمع الله قول التي تجادلك في زوجها» ” بیشک اللہ نے اس عورت کی بات سن لی جو اپنے شوہر کے بارے میں آپ سے جھگڑ رہی تھی “ ( سورة المجادلة : ۱ ) ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 188]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ آیت اوس بن صامت کی بیوی خولہ بنت ثعلبہ رضی اللہ عنہا کے حق میں نازل ہوئی، ایک بار ان کے شوہر نے ان کو بلایا تو انہوں نے عذر کیا، اس پر اوس رضی اللہ عنہ نے خفا ہو کر کہا: تم میرے اوپر ایسی ہو جیسی میری ماں کی پیٹھ، اسے شرعی اصطلاح (زبان) میں ظہار کہتے ہیں، پھر وہ نادم ہوئے، ظہار و ایلاء جاہلیت کا طلاق تھا، غرض خولہ کے شوہر نے کہا کہ تم مجھ پر حرام ہو، تو وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں، اس وقت ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سر مبارک دھو رہی تھیں، خولہ نے کہا: اللہ کے رسول میرے شوہر اوس بن صامت نے جب مجھ سے شادی کی تھی تو میں جوان اور مالدار تھی، پھر جب انہوں نے میرا مال کھا لیا، اور میری جوانی مٹ گئی، اور میرے عزیز و اقارب چھوٹ گئے، اور میں بوڑھی ہو گئی تو مجھ سے ظہار کیا، اور وہ اب اپنے اس اقدام پر نادم ہیں، تو کیا اب کوئی صورت ایسی ہے کہ میں اور وہ مل جائیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اس پر حرام ہو گئی“، پھر انہوں نے کہا کہ میں اپنے اللہ کے سامنے اپنے فقر و فاقہ اور تنہائی کو رکھتی ہوں، ایک مدت دراز تک میں ان کے پاس رہی اور ان سے میرے بچے ہیں جن سے مجھے پیار ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا: ”تم اس پر حرام ہو، اور مجھے تمہارے بارے میں کوئی حکم نہیں ہوا“، پھر خولہ نے بار بار نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے احوال و مشکلات کا اظہار کیا، اور جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے کہ تم اس پر حرام ہو گئی تو وہ فریادیں کرتیں اور کہتیں کہ میں اللہ کے سامنے اپنے فقر و فاقہ اور شدت حال کو رکھتی ہوں، میرے چھوٹے بچے ہیں، اگر میں ان کو شوہر کے سپرد کر دوں تو وہ برباد ہوں گے، اور اگر اپنے پاس رکھوں تو بھوکے مریں گے، اور بار بار آسمان کی طرف اپنا سر اٹھاتی تھیں کہ یااللہ میں تجھ سے فریاد کرتی ہوں، یااللہ تو اپنا کوئی حکم اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان پر اتار دے کہ جس سے میری مصیبت دور ہو، اسلام میں ظہار کا یہ پہلا واقعہ تھا، اور دوسری طرف ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا سر دھونے میں مشغول تھیں، تو خولہ رضی اللہ عنہا کو یہ کہتے سنا کہ اللہ کے نبی میرے لئے کچھ غور کریں، اللہ مجھے آپ پر فدا کرے، ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ذرا تم خاموش رہو، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک دیکھتی نہیں ہو، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حالت یہ ہوتی تھی کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہوتی تو آپ پر اونگھ طاری ہو جاتی، پھر جب وحی اتر چکی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خولہ نے اپنے شوہر کا شکوہ کیا“، پھر یہ آیت تلاوت فرمائی: «قد سمع الله قول التي تجادلك في زوجها» ”بیشک اللہ نے اس عورت کی بات سن لی جو اپنے شوہر کے بارے میں آپ سے جھگڑ رہی تھی“ (سورة المجادلة: 1)۔ اس قصہ سے بڑے عمدہ فوائد معلوم ہوئے: (۱) آیت کا شان نزول کہ یہ آیت حکم ظہار پر مشتمل ہے، اور اس کی تفصیل اپنے مقام پر آئے گی، ان شاء اللہ تعالیٰ۔ (۲) صحابہ رضی اللہ عنہم کی عادت تھی کہ جب کوئی حادثہ پیش آتا تو وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوتے، اور یہی حکم ہے ساری امت کے لئے کہ مشکلات و مسائل میں کتاب و سنت کی طرف رجوع کریں، اگرچہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دنیا سے تشریف لے جا چکے ہیں مگر آپ کی سنت (احادیث شریفہ) اور کتاب (قرآن مجید) ہمارے درمیان ہے، اور دنیا میں یہی دونوں چیزیں اہل اسلام کے لیے ترکہ اور میراث ہیں، «فمن أخذه أخذ بحظ وافر» ۔ (۳) انبیاء کی بشریت اور مجبوری کہ وہ بھی تمام امور میں اللہ کے حکم کے منتظر رہتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خولہ رضی اللہ عنہا کو کچھ جواب نہ دیا جب تک کہ رب السماوات نے حکم نہ اتارا۔ (۴) سابقہ شرائع پر ہمارے لئے عمل واجب ہے جب تک کہ اس کے نسخ کا علم ہم تک نہ پہنچے، اور اسی کے موافق نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ تم ان پر ہمیشہ کے لیے حرام ہو گئی، پھر جب اللہ تعالیٰ نے اس کا نسخ اتارا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ناسخ کے موافق حکم دیا۔ (۵) صراحت کے ساتھ اور محسوس اشارے کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے لئے علو اور فوقیت کا ثبوت کہ خولہ رضی اللہ عنہا بار بار اپنا سر آسمان کی طرف اٹھاتی تھیں اور کہتی تھیں کہ میں اللہ تعالیٰ سے اپنی حالت بیان کرتی ہوں، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے اس امر کی تقریر و تصویب فرمائی اور کوئی اعتراض نہ کیا، اور اللہ تعالیٰ کے لئے کوئی جانب و جہت خاص نہ ہو، اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کوئی اللہ تعالیٰ کے لئے جہت کو خاص کرے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر خاموش رہیں، اور اللہ تعالیٰ کی معرفت میں جو اسلام کی اساس اور ایمان کی بنیاد ہے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی جہالت اور بدعقیدگی کو گوارہ کریں یہ محال بات ہے، اور اس سے بھی محال اور بعید یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس علو اور فوقیت کے عقیدہ کو ناپسند کرے، اور اس پر تنبیہ نہ کر کے ظہار کے بارے میں اپنے احکام اتارے اور صحیح عقیدہ کی تعلیم نہ دے، خلاصہ یہ ہے کہ اس قصے میں اللہ تعالیٰ کے لیے علو اور بلندی کی بات پورے طورپر واضح ہے، اور سلف صالحین اور ائمہ اسلام کے یہاں یہ مسئلہ اجماعی ہے۔ (۶) اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ صحابہ و صحابیات کو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کتنی محبت تھی، اور وہ کس ادب و احترام کے ساتھ آپ سے مخاطب ہوتے تھے، اور بات بات میں اپنے آپ کو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر فدا کرتے تھے، اور یہی نسبت ضروری ہے ہر مسلمان کو آپ کی سنت شریفہ سے کہ دل و جان سے اس پر عمل کرے۔ (۷) اس آیت سے اللہ تعالیٰ کے لئے «سمع و بصر» (سننے اور دیکھنے) کی صفات ثابت ہوئیں، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: «إن الله سميع بصير» ”یقینا اللہ تعالیٰ سننے اور دیکھنے والا ہے“ (سورة المجادلة: 1) اور فرمایا: «قال لا تخافا إنني معكما أسمع وأرى» ”اللہ نے (موسیٰ و ہارون) سے کہا تم بالکل نہ ڈرو میں تمہارے ساتھ ہوں، اور سنتا اور دیکھتا رہوں گا“ (سورة طه: 46)۔ اور ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ سے صحیح بخاری میں مروی ہے کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر میں تھے۔ جب بلندی پر چڑھتے تو «اللہ اکبر» کہتے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنی جانوں پر نرمی کرو، اس لئے کہ تم کسی بہرے اور غائب کو نہیں پکارتے، بلکہ «سمیع و بصیر» (سننے والے دیکھنے والے) کو پکارتے ہو“۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/التوحید 9 (7385)، (تعلیقاً)، سنن النسائی/ الطلاق 33 (3490)، (تحفة الأشراف: 16332)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/ 46)، (یہ حدیث مکرر ہے، دیکھئے: 2063) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كَتَبَ رَبُّكُمْ عَلَى نَفْسِهِ بِيَدِهِ قَبْلَ أَنْ يَخْلُقَ الْخَلْقَ رَحْمَتِي سَبَقَتْ غَضَبِي".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مخلوقات کے پیدا کرنے سے پہلے ہی اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے اپنے ذمہ لکھ لیا کہ میری رحمت میرے غضب سے بڑھی ہوئی ہے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 189]
💡 وضاحت:
۱؎: قرآن و حدیث میں اللہ تعالیٰ کے پیر، ہاتھ اور انگلیوں کا ذکر ہے، اس سلسلے میں سلف صالحین کا مسلک یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے پیر بھی ہیں، ہاتھ بھی ہیں، انگلیاں بھی ہیں، ان کے ہونے پر ہمارا کامل ایمان اور یقین بھی ہے، لیکن وہ کیسے ہیں؟ ان کی کیفیت کیا ہے؟ ہمیں معلوم نہیں اور نہ ہمیں ان کی کیفیت سے کوئی غرض ہے، بس اتنی سی بات کافی ہے کہ اس کی عظمت و جلالت کے مطابق اس کی انگلیاں ہوں گی، نہ تو اسے کسی مخلوق کے ساتھ تشبیہ اور تمثیل دی جا سکتی ہے، اور نہ اللہ کے ہاتھ پاؤں اور اس کی انگلیوں کے لئے جو الفاظ مستعمل ہوئے ہیں انہیں اپنے اصلی اور حقیقی معنی سے ہٹایا جا سکتا ہے، اللہ تعالیٰ کی انگلیوں سے مراد اللہ کی رحمتیں ہیں، ایسا کہنا مناسب نہیں، بلکہ صحیح بات یہ ہے کہ «ید» (ہاتھ) «کف» (ہتھیلی) اور «انامل» (انگلیاں) جس معنی کے لئے موضوع ہیں بعینہ وہی معنی مراد لینا چاہئے، اس حدیث میں بھی صفات کے منکر فرقہ جہمیہ کا رد و ابطال ہے جو اللہ تعالیٰ کے لئے «ید» (ہاتھ) رحمت اور غضب کی صفات کا انکار کرتے ہیں جب کہ اس حدیث میں یہ صفات اللہ تعالیٰ کے لئے ثابت ہیں۔
قال الشيخ الألباني:
حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
سنن الترمذی/الدعوات 100 (3543)، (تحفة الأشراف: 14139)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/بدء الخلق 1 (3194)، صحیح مسلم/التوبة 4 (2751)، مسند احمد (2/433)، (یہ حدیث مکرر ہے دیکھئے: 4295) (حسن صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ ، وَيَحْيَى بْنُ حَبِيبِ بْنِ عَرَبِيٍّ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ كَثِيرٍ الْأَنْصَارِيُّ الْحَرَامِيُّ ، قَالَ: سَمِعْتُ طَلْحَةَ بْنَ خِرَاشٍ ، قَال: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: لَمَّا قُتِلَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ حَرَامٍ يَوْمَ أُحُدٍ، لَقِيَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " يَا جَابِرُ أَلَا أُخْبِرُكَ مَا قَالَ اللَّهُ لِأَبِيكَ؟" وَقَالَ يَحْيَى فِي حَدِيثِهِ، فَقَالَ: " يَا جَابِرُ مَا لِي أَرَاكَ مُنْكَسِرًا؟" قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ اسْتُشْهِدَ أَبِي وَتَرَكَ عِيَالًا وَدَيْنًا، قَالَ: " أَفَلَا أُبَشِّرُكَ بِمَا لَقِيَ اللَّهُ بِهِ أَبَاكَ"؟ قَالَ: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: " مَا كَلَّمَ اللَّهُ أَحَدًا قَطُّ إِلَّا مِنْ وَرَاءِ حِجَابٍ، وَكَلَّمَ أَبَاكَ كِفَاحًا، فَقَالَ: يَا" عَبْدِي تَمَنَّ عَلَيَّ أُعْطِكَ"، قَالَ: يَا رَبِّ تُحْيِينِي فَأُقْتَلُ فِيكَ ثَانِيَةً، فَقَالَ الرَّبُّ سُبْحَانَهُ: " إِنَّهُ سَبَقَ مِنِّي أَنَّهُمْ إِلَيْهَا لَا يَرْجِعُونَ"، قَالَ: يَا رَبِّ فَأَبْلِغْ مَنْ وَرَائِي، قَالَ: فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى وَلا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا بَلْ أَحْيَاءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ سورة آل عمران آية 169.
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جب عبداللہ بن عمرو بن حرام غزوہ احد کے دن قتل کر دئیے گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے ملے اور فرمایا : ” جابر ! کیا میں تمہیں نہ بتاؤں کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے والد سے کیا کہا ہے ؟ “ ، ( اور یحییٰ بن حبیب راوی نے اپنی حدیث میں کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جابر ! میں تمہیں کیوں شکستہ دل دیکھتا ہوں ؟ “ ) ، جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں نے کہا : اللہ کے رسول ! میرے والد اللہ کی راہ میں قتل کر دئیے گئے ، اور اہل و عیال اور قرض چھوڑ گئے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا میں تمہیں اس چیز کی بشارت نہ دوں جسے اللہ تعالیٰ نے تمہارے والد سے ملاقات کے وقت کہا ؟ “ ، جابر رضی اللہ عنہ نے کہا : جی ہاں ضرور بتائیے اللہ کے رسول ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ نے کبھی بھی کسی سے بغیر حجاب کے کلام نہیں کیا ، لیکن تمہارے والد سے بغیر حجاب کے کلام کیا ، اور فرمایا : میرے بندے ! مجھ سے آرزو کر میں تجھے عطا کروں گا ، اس پر انہوں نے کہا : میرے رب ! میری آرزو یہ ہے کہ تو مجھے زندہ کر دے ، اور میں تیری راہ میں دوبارہ قتل کیا جاؤں ، تو اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے فرمایا : یہ بات تو پہلے ہی ہماری جانب سے لکھی جا چکی ہے کہ لوگ دنیا میں دوبارہ واپس نہیں لوٹائے جائیں گے ۱؎ ، انہوں نے کہا : میرے رب ! ان لوگوں کو جو دنیا میں ہیں میرے احوال کی خبر دیدے “ ، انہوں نے کہا : اس وقت اللہ تعالیٰ نے آیت کریمہ نازل فرمائی : «ولا تحسبن الذين قتلوا في سبيل الله أمواتا بل أحياء عند ربهم يرزقون» ” جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل کیے گئے تم ان کو مردہ نہ سمجھو ، بلکہ وہ زندہ ہیں ، اپنے رب کے پاس روزی پاتے ہیں “ ( سورة آل عمران : ۱۶۹ ) ۲؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 190]
💡 وضاحت:
۱؎: اور جب شہیدوں کو دوبارہ دنیا میں نہیں لوٹایا جاتا تو دوسرے کس کو لوٹنے کی اجازت ہو گی، پتہ چلا کہ جو لوگ انتقال کر گئے وہ دوبارہ دنیا میں نہیں آئیں گے۔ ۲؎: اس سے پتہ چلا کہ جو لوگ شہید ہو گئے ان کی زندگی دنیاوی زندگی نہیں ہے، اور نہ وہ دنیا میں زندہ ہیں۔
قال الشيخ الألباني:
حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 2287، ومصباح الزجاجة: 70)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/تفسیر القرآن 4 (3010) (یہ حدیث مکرر ہے، دیکھئے: 2800) (حسن) (ملاحظہ ہو: السنة لابن أبی عاصم: 615، 616)
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ اللَّهَ يَضْحَكُ إِلَى رَجُلَيْنِ يَقْتُلُ أَحَدُهُمَا الْآخَرَ كِلَاهُمَا دَخَلَ الْجَنَّةَ، يُقَاتِلُ هَذَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَيُسْتَشْهَدُ، ثُمَّ يَتُوبُ اللَّهُ عَلَى قَاتِلِهِ، فَيُسْلِمُ فَيُقَاتِلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَيُسْتَشْهَدُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ ان دو افراد کے حال پر ہنستا ہے جن میں سے ایک دوسرے کو قتل کرتا ہے ، اور دونوں جنت میں داخل ہوتے ہیں ، ایک اللہ تعالیٰ کی راہ میں قتال کرتا ہے اور شہید کر دیا جاتا ہے ، پھر اس کے قاتل کو اللہ تعالیٰ توبہ کی توفیق دیتا ہے ، اور وہ اسلام قبول کر لیتا ہے ، پھر اللہ کی راہ میں لڑائی کرتا ہے اور شہید کر دیا جاتا ہے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 191]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے اہل سنت نے اللہ تعالیٰ کے لئے صفت «ضحک» (ہنسنے) پر استدلال کیا ہے، اور یہ صفت رضا اور خوشی پر دلالت کرتی ہے، اور اللہ تعالیٰ کی دوسری صفات کی طرح اس پر بھی ہم ایمان رکھتے ہیں، جیسا کہ اس ذات باری تعالیٰ کے لئے لائق و سزاوار ہے، اور اس کو ہم مخلوقات سے کسی طرح کی مشابہت نہیں دیتے، اور نہ اس صفت کے معنی کو معطل کرتے ہیں، اور نہ اس کا انکار کرتے ہیں۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الإمارة 35 (1890)، (تحفة الأشراف: 13663)، قد أخرجہ: صحیح البخاری/الجہاد 28 (2826)، سنن النسائی/الجہاد 37 (3167)، 38 (3168)، موطا امام مالک/الجہاد 14 (28)، مسند احمد (2/318، 464) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، وَيُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ كَانَ يَقُول: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَقْبِضُ اللَّهُ الْأَرْضَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَيَطْوِي السَّمَاءَ بِيَمِينِهِ، ثُمَّ يَقُولُ: أَنَا الْمَلِكُ أَيْنَ مُلُوكُ الْأَرْضِ؟".
سعید بن مسیب بیان کرتے ہیں کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ قیامت کے دن زمین کو اپنی مٹھی میں لے لے گا ، اور آسمان کو اپنے دائیں ہاتھ میں لپیٹ لے گا ، پھر فرمائے گا : اصل بادشاہ میں ہوں ، زمین کے بادشاہ کہاں ہیں ؟ “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 192]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے اللہ تعالیٰ کے لئے «ید» و «قبض» و «طی» کا اثبات ہوتا ہے، اہل سنت اس پر ایمان رکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے دو ہاتھ ہیں جو قبض و بسط و انفاق جیسی صفات رکھتے ہیں، اس کے دونوں ہاتھ «یمین» ہیں، اور اس کے ہاتھ ایسے ہیں جیسے اس کی شان کے لائق ہیں۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
بخاري ومسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/تفسیر سورة الزمر 3 (4812)، التوحید 6 (7382)، صحیح مسلم/صفة القیامة 1 (2787)، (تحفة الأشراف: 13322)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2 /374)، سنن الدارمی/الرقاق 80 (2841) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ أَبِي ثَوْرٍ الْهَمْدَانِيُّ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمِيرَةَ ، عَنِ الْأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، قَالَ: كُنْتُ بِالْبَطْحَاءِ فِي عِصَابَةٍ وَفِيهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَرَّتْ بِهِ سَحَابَةٌ فَنَظَرَ إِلَيْهَا، فَقَالَ: " مَا تُسَمُّونَ هَذِهِ؟"، قَالُوا: السَّحَابُ، قَالَ: " وَالْمُزْنُ"، قَالُوا: وَالْمُزْنُ، قَالَ: " وَالْعَنَانُ"، قَال أَبُو بَكْرٍ: قَالُوا: وَالْعَنَانُ، قَالَ: " كَمْ تَرَوْنَ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ السَّمَاءِ؟"، قَالُوا: لَا نَدْرِي، قَالَ: " فَإِنَّ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهَا إِمَّا وَاحِدًا، أَوِ اثْنَيْنِ، أَوْ ثَلَاثًا وَسَبْعِينَ سَنَةً، وَالسَّمَاءُ فَوْقَهَا كَذَلِكَ حَتَّى عَدَّ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ، ثُمَّ فَوْقَ السَّمَاءِ السَّابِعَةِ بَحْرٌ بَيْنَ أَعْلَاهُ وَأَسْفَلِهِ كَمَا بَيْنَ سَمَاءٍ إِلَى سَمَاءٍ، ثُمَّ فَوْقَ ذَلِكَ ثَمَانِيَةُ أَوْعَالٍ بَيْنَ أَظْلَافِهِنَّ وَرُكَبِهِنَّ كَمَا بَيْنَ سَمَاءٍ إِلَى سَمَاءٍ، ثُمَّ عَلَى ظُهُورِهِنَّ الْعَرْشُ بَيْنَ أَعْلَاهُ وَأَسْفَلِهِ كَمَا بَيْنَ سَمَاءٍ إِلَى سَمَاءٍ، ثُمَّ اللَّهُ فَوْقَ ذَلِكَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى".
عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں ایک جماعت کے ہمراہ مقام بطحاء میں تھا ، اور ان میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی موجود تھے کہ بادل کا ایک ٹکڑا گزرا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف دیکھا اور فرمایا : ” تم لوگ اس کو کیا کہتے ہو ؟ “ ، لوگوں نے کہا : «سحاب» ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” «مزن» بھی ؟ “ ، انہوں نے کہا : جی ہاں ، «مزن» بھی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” «عنان» بھی ؟ “ ، لوگوں نے کہا : «عنان» بھی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم اپنے اور آسمان کے درمیان کتنا فاصلہ جانتے ہو ؟ “ ، لوگوں نے کہا : ہم نہیں جانتے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تمہارے اور اس کے درمیان اکہتر ( ۷۱ ) ، بہتر ( ۷۲ ) ، یا تہتر ( ۷۳ ) سال کی مسافت ہے ، پھر اس کے اوپر آسمان کی بھی اتنی ہی مسافت ہے “ ، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح سات آسمان شمار کیے ، پھر فرمایا : ” ساتویں آسمان پر ایک سمندر ہے ، اس کے نچلے اور اوپری حصہ کے درمیان اتنی ہی مسافت ہے جتنی کہ دو آسمانوں کے درمیان میں ہے ، پھر اس کے اوپر آٹھ فرشتے پہاڑی بکروں کی طرح ہیں ، ان کے کھروں اور گھٹنوں کے درمیان اتنی دوری ہے جتنی کہ دو آسمانوں کے درمیان ہے ، پھر ان کی پیٹھ پر عرش ہیں ، اس کے نچلے اور اوپری حصہ کے درمیان اتنی مسافت ہے جتنی کہ دو آسمانوں کے درمیان میں ہے ، پھر اس کے اوپر اللہ تعالیٰ ہے جو بڑی برکت والا ، بلند تر ہے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 193]
💡 وضاحت:
۱؎: اگرچہ اس حدیث کی سند میں کلام ہے، لیکن اس حدیث سے مصنف نے اللہ تعالیٰ کے لئے صفت علو ثابت کیا ہے، جب کہ یہ صفت کتاب و سنت کے بے شمار دلائل سے ثابت ہے اور ائمہ اسلام کا اس پر اجماع ہے، اس میں تاویل کی قطعاً گنجائش نہیں، یہاں پر علو سے مراد علو معنوی نہیں بلکہ حسی اور حقیقی علو ہے، اور یہ امر فطرت انسانی کے عین موافق ہے، لیکن معتزلہ و جہمیہ کی عقلیں ماری گئی ہیں کہ وہ اس کی تاویل کرتے اور اس کا انکار کرتے ہیں، اور جس بات کو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عقلاً، حسا، لفظاً اور معناً بیان فرما دیا ہے اس میں شک کرتے ہیں، ائمہ دین نے اس مسئلہ میں مستقل کتابیں تصنیف فرمائیں ہیں، جیسے ”كتاب العلو للعلي الغفار“ للامام الذہبی۔
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ سنن أبي داود (4723) ترمذي (3320) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 381
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/السنة 19 (4723)، سنن الترمذی/تفسیر القرآن 67 (3320)، (تحفة الأشراف: 5124)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/ 206، 207) (ضعیف) (حدیث کی سند میں مذکور راوی ''الولید بن أبی ثور الہمدانی'' ضعیف ہیں، ''عبد اللہ بن عمیرہ'' لین الحدیث، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: 1247)
|
|
|
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا قَضَى اللَّهُ أَمْرًا فِي السَّمَاءِ، ضَرَبَتِ الْمَلَائِكَةُ أَجْنِحَتَهَا خُضْعَانًا لِقَوْلِهِ كَأَنَّهُ سِلْسِلَةٌ عَلَى صَفْوَانٍ، فَإِذَا فُزِّعَ عَنْ قُلُوبِهِمْ، قَالُوا: مَاذَا قَالَ رَبُّكُمْ؟ قَالُوا: الْحَقَّ وَهُوَ الْعَلِيُّ الْكَبِيرُ سورة سبأ آية 23 قَالَ: فَيَسْمَعُهَا مُسْتَرِقُو السَّمْعِ بَعْضُهُمْ فَوْقَ بَعْضٍ، فَيَسْمَعُ الْكَلِمَةَ فَيُلْقِيهَا إِلَى مَنْ تَحْتَهُ فَرُبَّمَا أَدْرَكَهُ الشِّهَابُ قَبْلَ أَنْ يُلْقِيَهَا إِلَى الَّذِي تَحْتَهُ، فَيُلْقِيهَا عَلَى لِسَانِ الْكَاهِنِ أَوِ السَّاحِرِ، فَرُبَّمَا لَمْ يُدْرَكْ حَتَّى يُلْقِيَهَا، فَيَكْذِبُ مَعَهَا مِائَةَ كَذْبَةٍ، فَتَصْدُقُ تِلْكَ الْكَلِمَةُ الَّتِي سُمِعَتْ مِنَ السَّمَاءِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب اللہ تعالیٰ آسمان میں کوئی فیصلہ صادر فرماتا ہے تو فرشتے اس کے فرمان کی تابعداری میں بطور عاجزی اپنے بازو بچھا دیتے ہیں ، جس کی آواز کی کیفیت چکنے پتھر پر زنجیر مارنے کی سی ہوتی ہے ، پس جب ان کے دلوں سے خوف دور کر دیا جاتا ہے تو وہ باہم ایک دوسرے سے کہتے ہیں : تمہارے رب نے کیا فرمایا ؟ وہ جواب دیتے ہیں : اس نے حق فرمایا ، اور وہ بلند ذات والا اور بڑائی والا ہے “ ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” چوری سے باتیں سننے والے ( شیاطین ) جو اوپر تلے رہتے ہیں اس کو سنتے ہیں ، اوپر والا کوئی ایک بات سن لیتا ہے تو وہ اپنے نیچے والے کو پہنچا دیتا ہے ، بسا اوقات اس کو شعلہ اس سے پہلے ہی پا لیتا ہے کہ وہ اپنے نیچے والے تک پہنچائے ، اور وہ کاہن ( نجومی ) یا ساحر ( جادوگر ) کی زبان پر ڈال دے ، اور بسا اوقات وہ شعلہ اس تک نہیں پہنچتا یہاں تک کہ وہ نیچے والے تک پہنچا دیتا ہے ، پھر وہ اس میں سو جھوٹ ملاتا ہے تو وہی ایک بات سچ ہوتی ہے جو آسمان سے سنی گئی تھی “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 194]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے بھی واضح ہوا کہ اللہ تعالیٰ بلندی پر ہے، اس کے احکام اوپر ہی سے نازل ہوتے ہیں، پس احکم الحاکمین اوپر ہی ہے، اور نیچے والے فرشتے اوپر کے درجہ والوں سے پوچھتے ہیں: کیا حکم ہوا؟ وہ ان کو جواب دیتے ہیں کہ جو حکم اللہ تعالیٰ کا ہے وہ حق ہے، اس حدیث سے اللہ تعالیٰ کی بڑی عظمت اور ہیبت واضح ہوتی ہے، اور یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ فرشتے باوجود قرب، نورانیت اور معصومیت کے اس قدر اللہ تعالیٰ سے لرزاں و ترساں ہیں تو ہم کو بدرجہا اس سے زیادہ ڈرنا چاہئے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/تفسیر سورة الحجر 1 (4800) التوحید 32 (7481)، سنن ابی داود/الحروف والقراء ات 1 (3989)، سنن الترمذی/التفسیر 35 (3223)، (تحفة الأشراف: 14249) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ: قَامَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِخَمْسِ كَلِمَاتٍ فَقَالَ: " إِنَّ اللَّهَ لَا يَنَامُ، وَلَا يَنْبَغِي لَهُ أَنْ يَنَامَ، يَخْفِضُ الْقِسْطَ وَيَرْفَعُهُ، يُرْفَعُ إِلَيْهِ عَمَلُ اللَّيْلِ قَبْلَ عَمَلِ النَّهَارِ، وَعَمَلُ النَّهَارِ قَبْلَ عَمَلِ اللَّيْلِ، حِجَابُهُ النُّورُ لَوْ كَشَفَهُ لَأَحْرَقَتْ سُبُحَاتُ وَجْهِهِ مَا انْتَهَى إِلَيْهِ بَصَرُهُ مِنْ خَلْقِهِ".
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان کھڑے ہوئے اور پانچ باتیں بیان فرمائیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ سوتا نہیں اور اس کے لیے مناسب بھی نہیں کہ سوئے ، میزان کو اوپر نیچے کرتا ہے ، رات کا عمل دن کے عمل سے پہلے اور دن کا عمل رات کے عمل سے پہلے اس تک پہنچا دیا جاتا ہے ، اس کا حجاب نور ہے ، اگر اس کو ہٹا دے تو اس کے چہرے کی تجلیات ان ساری مخلوقات کو جہاں تک اس کی نظر پہنچے جلا دیں “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 195]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے اللہ تعالی کے لئے صفت «نور» اور «وجہ» (چہرہ) ثابت ہوا، لیکن اس کی کیفیت مجہول اور غیر معلوم ہے، اہل سنت یہی کہتے ہیں کہ رب عزوجل کے لئے صفت «وجہ» (چہرہ) ہے، مگر ایسا کہ جیسا اس کی شان کے لائق ہے، ساتھ ہی یہ بھی ثابت ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی تجلیات کی کوئی تاب نہیں لا سکتا۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الإیمان 79 (179)، (تحفة الأشراف: 9146)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/395، 400، 405) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ اللَّهَ لَا يَنَامُ، وَلَا يَنْبَغِي لَهُ أَنْ يَنَامَ يَخْفِضُ الْقِسْطَ وَيَرْفَعُهُ، حِجَابُهُ النُّورُ لَوْ كَشَفَهَا لَأَحْرَقَتْ سُبُحَاتُ وَجْهِهِ كُلَّ شَيْءٍ أَدْرَكَهُ بَصَرُهُ"، ثُمَّ قَرَأَ أَبُو عُبَيْدَةَ: أَنْ بُورِكَ مَنْ فِي النَّارِ وَمَنْ حَوْلَهَا وَسُبْحَانَ اللَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ سورة النمل آية 8.
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بیشک اللہ تعالیٰ سوتا نہیں اور اس کے لیے مناسب بھی نہیں کہ سوئے ، میزان کو جھکاتا اور بلند کرتا ہے ، اس کا حجاب نور ہے ، اگر وہ اس حجاب کو ہٹا دے تو اس کے چہرے کی تجلیاں ان تمام چیزوں کو جلا دیں جہاں تک اس کی نظر جائے “ ، پھر ابوعبیدہ نے آیت کریمہ کی تلاوت فرمائی : «أن بورك من في النار ومن حولها وسبحان الله رب العالمين» ” کہ بابرکت ہے وہ جو اس آگ میں ہے اور برکت دیا گیا ہے وہ جو اس کے آس پاس ہے اور اللہ جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے “ ( سورة النمل : 8 ) ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 196]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
انظر ماقبلہ (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاق ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " يَمِينُ اللَّهِ مَلْأَى لَا يَغِيضُهَا شَيْءٌ، سَحَّاءُ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ، وَبِيَدِهِ الْأُخْرَى الْمِيزَانُ يَرْفَعُ الْقِسْطَ وَيَخْفِضُ"، قَالَ: أَرَأَيْتَ مَا أَنْفَقَ مُنْذُ خَلَقَ اللَّهُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ؟ فَإِنَّهُ لَمْ يَنْقُصْ مِمَّا فِي يَدَيْهِ شَيْئًا".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ کا دایاں ہاتھ بھرا ہوا ہے ، رات دن خرچ کرتا رہتا ہے پھر بھی اس میں کوئی کمی نہیں ہوتی ہے ، اس کے دوسرے ہاتھ میں میزان ہے ، وہ اسے پست و بالا کرتا ہے “ ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ذرا غور کرو کہ آسمان و زمین کی تخلیق ( پیدائش ) سے لے کر اس نے اب تک کتنا خرچ کیا ہو گا ؟ لیکن جو کچھ اس کے دونوں ہاتھ میں ہے اس میں سے کچھ بھی نہ گھٹا “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 197]
💡 وضاحت:
۱؎: رات دن کی سخاوت کے باوجود اللہ عزوجل کے خزانے سے کچھ بھی کمی نہیں ہوئی، اسی کے پاس سارے خزانے ہیں، اس نے کسی کو نہیں سونپے، آسمان و زمین والوں کا رزق اللہ تبارک و تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے، وہی سب کو رزق دیتا ہے، حلال ہو یا حرام، اہل سنت کا یہی مذہب ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
سنن الترمذی/تفسیر القرآن 4 (3045)، (تحفة الأشراف: 13863)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/تفسیر ھود 2 (4684)، التوحید 19 (4711)، صحیح مسلم/الزکاة 11 (993)، مسند احمد (2/500) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مِقْسَمٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ يَقُولُ: يَأْخُذُ الْجَبَّارُ سَمَاوَاتِهِ وَأَرْضَهُ بِيَدِهِ، وَقَبَضَ بِيَدِهِ فَجَعَلَ يَقْبِضُهَا وَيَبْسُطُهَا، ثُمَّ يَقُولُ: " أَنَا الْجَبَّارُ أَيْنَ الْجَبَّارُونَ أَيْنَ الْمُتَكَبِّرُونَ؟"، قَالَ: وَيَتَمَيَّلُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ يَسَارِهِ، حَتَّى نَظَرْتُ إِلَى الْمِنْبَرِ يَتَحَرَّكُ مِنْ أَسْفَلِ شَيْءٍ مِنْهُ، حَتَّى إِنِّي أَقُولُ أَسَاقِطٌ هُوَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر فرماتے ہوئے سنا : ” «جبار» ( اللہ تعالیٰ ) آسمانوں اور زمین کو اپنے ہاتھ میں لے لے گا ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی مٹھی بند کی اور پھر اسے باربار بند کرنے اور کھولنے لگے ) اور فرمائے گا : میں «جبار» ہوں ، کہاں ہیں «جبار» اور کہاں ہیں تکبر ( گھمنڈ ) کرنے والے ؟ “ ، عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دائیں اور بائیں جھکنے لگے یہاں تک کہ میں نے منبر کو دیکھا کہ نیچے سے ہلتا تھا ، مجھے خطرہ محسوس ہوا کہ وہ کہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو لے کر گر نہ پڑے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 198]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے صاف ثابت ہوا کہ صفات باری تعالیٰ میں لفظ «ید» (ہاتھ) سے حقیقی «ید» ہی مراد ہے، اس کی تاویل قدرت و طاقت اور اقتدار سے کرنا گمراہی ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/صفات المنافقین 1 (2788)، (تحفة الأشراف: 7315)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/التوحید 19 (7412)، سنن ابی داود/السنة 21 (4732)، سنن النسائی/الکبری 18 (7689)، مسند احمد (2/72)، سنن الدارمی/الرقاق 80 (2841) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جَابِرٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ بُسْرَ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيَّ ، يَقُولُ: حَدَّثَنِي النَّوَّاسُ بْنُ سَمْعَانَ الْكِلَابِيُّ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَا مِنْ قَلْبٍ إِلَّا بَيْنَ إِصْبَعَيْنِ مِنْ أَصَابِعِ الرَّحْمَنِ إِنْ شَاءَ أَقَامَهُ، وَإِنْ شَاءَ أَزَاغَهُ"، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " يَا مُثَبِّتَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قُلُوبَنَا عَلَى دِينِكَ"، قَالَ: " وَالْمِيزَانُ بِيَدِ الرَّحْمَنِ يَرْفَعُ أَقْوَامًا، وَيَخْفِضُ آخَرِينَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ".
نواس بن سمعان کلابی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : ” ہر شخص کا دل اللہ تعالیٰ کی دونوں انگلیوں کے درمیان ہے ، اگر وہ چاہے تو اسے حق پر قائم رکھے اور چاہے تو اسے حق سے منحرف کر دے “ ، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دعا فرماتے تھے : ” اے دلوں کے ثابت رکھنے والے ! تو ہمارے دلوں کو اپنے دین پر ثابت رکھ “ ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا : ” اور ترازو رحمن کے ہاتھ میں ہے ، کچھ لوگوں کو بلند کرتا ہے اور کچھ کو پست ، قیامت تک ( ایسے ہی کرتا رہے گا ) “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 199]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 11715، ومصباح الزجاجة: 71)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/182) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِسْمَاعِيل ، عَنْ مُجَالِدٍ ، عَنْ أَبِي الْوَدَّاكِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ اللَّهَ لَيَضْحَكُ إِلَى ثَلَاثَةٍ لِلصَّفِّ فِي الصَّلَاةِ، وَلِلرَّجُلِ يُصَلِّي فِي جَوْفِ اللَّيْلِ، وَلِلرَّجُلِ يُقَاتِلُ" أُرَاهُ قَالَ: خَلْفَ الْكَتِيبَةِ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بیشک اللہ تعالیٰ تین طرح کے لوگوں کو دیکھ کر ہنستا ہے : ایک نماز میں نمازیوں کی صف ، دوسرا وہ شخص جو رات کے درمیانی حصہ میں اٹھ کر نماز پڑھتا ہے ، تیسرا وہ شخص جو جہاد کرتا ہے “ ۔ راوی کہتے ہیں : میرا خیال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” لشکر کے پیچھے “ ، یعنی ان کے بھاگ جانے کے بعد ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 200]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ مجالد: ضعيف (تقدم: 11) ¤ وعبد اللّٰه بن إسماعيل: مجهول (تقريب: 3212) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 381
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 3993، ومصباح الزجاجة: 72)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/80) (ضعیف) (سند میں عبداللہ بن اسماعیل مجہول اور مجالد ضعیف ہیں، اس لئے یہ حدیث ضعیف ہے، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: 2103)
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ عُثْمَانَ يَعْنِي ابْنَ الْمُغِيرَةِ الثَّقَفِيَّ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْرِضُ نَفْسَهُ عَلَى النَّاسِ فِي الْمَوْسِمِ، فَيَقُولُ: " أَلَا رَجُلٌ يَحْمِلُنِي إِلَى قَوْمِهِ فَإِنَّ قُرَيْشًا قَدْ مَنَعُونِي أَنْ أُبَلِّغَ كَلَامَ رَبِّي".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حج کے دنوں میں اپنے آپ کو لوگوں کے سامنے پیش کرتے اور فرماتے : ” کیا کوئی ایسا شخص نہیں ہے جو مجھے اپنی قوم میں لے جائے ؟ اس لیے کہ قریش نے مجھے اپنے رب کے کلام کی تبلیغ سے روک دیا ہے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 201]
💡 وضاحت:
۱؎: حدیث سے ثابت ہوا کہ قرآن اللہ تعالیٰ کا کلام ہے، ناکہ جبریل علیہ السلام کا، کلام اللہ کو مخلوق کا کلام کہنا گمراہوں کا کام ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/السنة 22 (4734)، سنن الترمذی/فضائل القرآن 24 (2925)، (تحفة الأشراف: 2241)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/322، 390)، سنن الدارمی/فضائل القرآن 5 (3397) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا الْوَزِيرُ بْنُ صَبِيحٍ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ حَلْبَسٍ ، عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِي شَأْنٍ سورة الرحمن آية 29 قَالَ: " مِنْ شَأْنِهِ أَنْ يَغْفِرَ ذَنْبًا، وَيُفَرِّجَ كَرْبًا، وَيَرْفَعَ قَوْمًا، وَيَخْفِضَ آخَرِينَ".
ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے فرمان : «كل يوم هو في شأن» ” وہ ذات باری تعالیٰ ہر روز ایک نئی شان میں ہے “ ( سورة الرحمن : 29 ) کے سلسلے میں بیان فرمایا : ” اس کی شان میں سے یہ ہے کہ وہ کسی کے گناہ کو بخش دیتا ہے ، کسی کی مصیبت کو دور کرتا ہے ، کسی قوم کو بلند اور کسی کو پست کرتا ہے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 202]
قال الشيخ الألباني:
حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 11005، ومصباح الزجاجة: 73) (حسن) (بخاری نے تعلیقاً تفسیر سورہ الرحمن میں ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کا قول نقل کیا ہے، صحیح بخاری مع فتح الباری: 8/620)
|
|
|
36: بَابُ : مَنْ سَنَّ سُنَّةً حَسَنَةً أَوْ سَيِّئَةً
باب: (دین میں) اچھے یا برے طریقہ کے موجد کا انجام۔
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ ، عَنْ الْمُنْذِرِ بْنِ جَرِيرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ سَنَّ سُنَّةً حَسَنَةً فَعُمِلَ بِهَا، كَانَ لَهُ أَجْرُهَا وَمِثْلُ أَجْرِ مَنْ عَمِلَ بِهَا لَا يَنْقُصُ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْئًا، وَمَنْ سَنَّ سُنَّةً سَيِّئَةً فَعُمِلَ بِهَا، كَانَ عَلَيْهِ وِزْرُهَا وَوِزْرُ مَنْ عَمِلَ بِهَا مِنْ بَعْدِهِ لَا يَنْقُصُ مِنْ أَوْزَارِهِمْ شَيْئًا".
جریر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے کوئی اچھا طریقہ ایجاد کیا اور اس پر لوگوں نے عمل کیا تو اسے اس کے ( عمل ) کا اجر و ثواب ملے گا ، اور اس پر جو لوگ عمل کریں ان کے اجر کے برابر بھی اسے اجر ملتا رہے گا ، اس سے ان عمل کرنے والوں کے ثواب میں کوئی کمی نہ ہو گی ، اور جس نے کوئی برا طریقہ ایجاد کیا اس پر اور لوگوں نے عمل کیا تو اس کے اوپر اس کا گناہ ہو گا ، اور اس پر عمل کرنے والوں کا گناہ بھی اسی پر ہو گا ، اور ان کے گناہوں میں کوئی کمی نہیں ہو گی “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 203]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ حدیث یہاں مختصر ہے، پوری حدیث صحیح مسلم کتاب الزکاۃ میں ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ «من سن في الإسلام» کے معنی یہ نہیں کہ دین میں نئی نئی بدعتیں نکالی جائیں، اور ان کا نام بدعت حسنہ رکھ دیا جائے، شریعت میں کوئی بدعت سنت حسنہ نہیں ہوتی، حدیث کا معنی یہ ہے کہ جو چیز اصول اسلام سے ثابت ہو، اور کسی وجہ سے اس کی طرف لوگوں کی توجہ نہ ہو، اور کوئی شخص اس کو جاری کرے تو جو لوگ اس کو دیکھ کر اس سنت پر عمل کریں گے ان کے ثواب میں کمی کیے بغیر ان کے برابر اس کو ثواب ملے گا، کیونکہ حدیث میں مذکور ہے کہ ایک شخص ایک تھیلا بھر کر امداد میں سامان لایا، جن کو دیکھ کر دوسرے لوگوں کو بھی رغبت ہوئی، اور وہ بھی زیادہ سے زیادہ امداد لے کر آئے، تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الزکاة 20 (1017)، العلم 6 (2673)، سنن النسائی/الزکاة 64 (2555)، (تحفة الأشراف: 3232)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/العلم 15 (2675)، مسند احمد (4/357، 358، 359، 362)، سنن الدارمی/المقدمة 44 (529) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ بْنِ عَبْدِ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنِي أَبِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَثَّ عَلَيْهِ، فَقَالَ: رَجُلٌ عِنْدِي كَذَا وَكَذَا، قَالَ: فَمَا بَقِيَ فِي الْمَجْلِسِ رَجُلٌ إِلَّا تَصَدَّقَ عَلَيْهِ بِمَا قَلَّ أَوْ كَثُرَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنِ اسْتَنَّ خَيْرًا فَاسْتُنَّ بِهِ كَانَ لَهُ أَجْرُهُ كَامِلًا، وَمِنْ أُجُورِ مَنِ اسْتَنَّ بِهِ، وَلَا يَنْقُصُ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْئًا، وَمَنِ اسْتَنَّ سُنَّةً سَيِّئَةً فَاسْتُنَّ بِهِ فَعَلَيْهِ وِزْرُهُ كَامِلًا، وَمِنْ أَوْزَارِ الَّذِينَ اسْتَنَّ بِهِ، وَلَا يَنْقُصُ مِنْ أَوْزَارِهِمْ شَيْئًا".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، آپ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو اس پر صدقہ و خیرات کرنے کی ترغیب دلائی ، ایک صحابی نے کہا : میرے پاس اتنا اتنا مال ہے ، راوی کہتے ہیں : اس مجلس میں جو بھی تھا اس نے تھوڑا یا زیادہ ضرور اس پر صدقہ کیا ، تو اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس شخص نے کوئی اچھی سنت جاری کی اور لوگوں نے اس پر عمل کیا تو اسے اس کے عمل کا پورا ثواب ملے گا ، اور ان لوگوں کا ثواب بھی اس کو ملے گا جو اس سنت پر چلے ، ان کے ثوابوں میں کوئی کمی بھی نہ کی جائے گی ، اور جس نے کوئی غلط طریقہ جاری کیا ، اور لوگوں نے اس پر عمل کیا ، تو اس پر اس کا پورا گناہ ہو گا ، اور ان لوگوں کا گناہ بھی اس پر ہو گا جنہوں نے اس غلط طریقہ پر عمل کیا ، اور اس سے عمل کرنے والوں کے گناہوں میں کچھ بھی کمی نہ ہو گی “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 204]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 14443، ومصباح الزجاجة: 74)، مسند احمد (2/520) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ الْمِصْرِيُّ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ سِنَانٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " أَيُّمَا دَاعٍ دَعَا إِلَى ضَلَالَةٍ فَاتُّبِعَ، فَإِنَّ لَهُ مِثْلَ أَوْزَارِ مَنِ اتَّبَعَهُ، وَلَا يَنْقُصُ مِنْ أَوْزَارِهِمْ شَيْئًا، وَأَيُّمَا دَاعٍ دَعَا إِلَى هُدًى فَاتُّبِعَ، فَإِنَّ لَهُ مِثْلَ أُجُورِ مَنِ اتَّبَعَهُ، وَلَا يَنْقُصُ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْئًا".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے لوگوں کو کسی گمراہی کی طرف بلایا ، اور لوگ اس کے پیچھے ہو لیے تو اسے بھی اتنا ہی گناہ ہو گا جتنا اس کی پیروی کرنے والوں کو ہو گا ، اور اس سے ان کے گناہوں میں کوئی کمی نہ ہو گی ، اور جس نے ہدایت کی طرف بلایا اور لوگ اس کے ساتھ ہو گئے ، تو اسے بھی اتنا ہی ثواب ملے گا جتنا اس کی پیروی کرنے والے کو اور اس سے اس کے ثواب میں کوئی کمی نہ ہو گی “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 205]
💡 وضاحت:
۱؎: شرک و بدعت، شرع میں حرام و ناجائز چیزیں اور فسق و فجور کی ساری باتیں گمراہی میں داخل ہیں کہ اس کی طرف دعوت دینے والے پر اس کے متبعین کا بھی عذاب ہو گا، اور خود وہ اپنے گناہوں کی سزا بھی پائے گا، اور ہدایت میں توحید و اتباع سنت اور ساری سنن و واجبات و فرائض داخل ہیں، اس کی طرف دعوت دینے والے کو ان باتوں کے ماننے والوں کا ثواب ملے گا، اور خود اس کے اپنے اعمال حسنہ کا ثواب، اس لئے داعی الی اللہ کے لئے جہاں یہ اور اس طرح کی حدیث میں فضیلت ہے وہاں علمائے سوء اور دعاۃ باطل کے لئے سخت تنبیہ بھی۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح لغيره
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 851، ومصباح الزجاجة: 75)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/تفسیر القرآن 38 (3228)، سنن الدارمی/المقدمة 44 (530) (صحیح) (اس سند میں سعد بن سنان ضعیف ہیں، لیکن اگلی حدیث سے تقویت پاکر یہ صحیح ہے)
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو مَرْوَانَ مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعُثْمَانِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ دَعَا إِلَى هُدًى كَانَ لَهُ مِنَ الْأَجْرِ مِثْلُ أُجُورِ مَنِ اتَّبَعَهُ، لَا يَنْقُصُ ذَلِكَ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْئًا، وَمَنْ دَعَا إِلَى ضَلَالَةٍ فَعَلَيْهِ مِنَ الْإِثْمِ مِثْلُ آثَامِ مَنِ اتَّبَعَهُ، لَا يَنْقُصُ ذَلِكَ مِنَ آثَامِهِمْ شَيْئًا".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو کسی ہدایت کی طرف بلائے تو اسے بھی اتنا ہی ثواب ملے گا جتنا اس شخص کو ملے گا جس نے اس کی اتباع کی ، اور اس سے ان کے ثواب میں کوئی کمی نہ ہو گی ، اور جو کسی گمراہی کی طرف بلائے تو اسے بھی اتنا ہی گناہ ہو گا جتنا اس کی اتباع کرنے والوں کو ہو گا ، اور اس سے ان کے گناہوں میں کوئی کمی نہ ہو گی “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 206]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 14039)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/العلم 6 (2674)، سنن ابی داود/السنة 7 (4609)، سنن الترمذی/العلم 15 (2675)، سنن الدارمی/المقدمة 44 (2674)، مسند احمد (2/397) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ سَنَّ سُنَّةً حَسَنَةً فَعُمِلَ بِهَا بَعْدَهُ، كَانَ لَهُ أَجْرُهَا، وَمِثْلُ أُجُورِهِمْ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَنْقُصَ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْئًا، وَمَنْ سَنَّ سُنَّةً سَيِّئَةً فَعُمِلَ بِهَا بَعْدَهُ، كَانَ عَلَيْهِ وِزْرُهُ، وَمِثْلُ أَوْزَارِهِمْ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَنْقُصَ مِنْ أَوْزَارِهِمْ شَيْئًا".
ابوجحیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس شخص نے کوئی اچھی سنت جاری کی اور اس کے بعد لوگوں نے اس پر عمل کیا تو اسے اس کا اجر ملے گا ، اور عمل کرنے والوں کے برابر بھی اجر ملے گا ، اور عمل کرنے والوں کے ثواب سے کچھ بھی کمی نہ ہو گی ، اور جس نے کوئی غلط طریقہ جاری کیا ، اور اس کے بعد اس پر لوگوں نے عمل کیا تو اس پر اس کا گناہ ہو گا ، اور عمل کرنے والوں کے مثل بھی گناہ ہو گا ، اس سے عمل کرنے والوں کے گناہوں میں کچھ بھی کمی نہ ہو گی “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 207]
قال الشيخ الألباني:
حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 11800، ومصباح الزجاجة: 76) (حسن صحیح) (سند میں اسماعیل بن خلیفہ ابو اسرائیل الملائی ضعیف ہیں، لیکن شواہد کی بناء پر یہ حدیث صحیح ہے، انہیں شواہد میں سے جریر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما کی صحیح مسلم کی حدیث ہے، ملاحظہ ہو: 4/2059)
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ لَيْثٍ ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا مِنْ دَاعٍ يَدْعُو إِلَى شَيْءٍ، إِلَّا وُقِفَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَازِمًا لِدَعْوَتِهِ مَا دَعَا إِلَيْهِ، وَإِنْ دَعَا رَجُلٌ رَجُلًا".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو کوئی بھی کسی چیز کی طرف بلاتا ہے ، قیامت کے دن اس حال میں کھڑا کیا جائے گا کہ وہ اپنی دعوت کو لازم پکڑے ہو گا ، چاہے کسی ایک شخص نے ایک ہی شخص کو بلایا ہو “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 208]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ قال البوصيري: ”ھذا إسناد ضعيف،ليث ھو ابن أبي سليم: ضعفه الجمهور“ وھو ضعيف مدلس ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 381
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 12221، ومصباح الزجاجة: 77) (ضعیف) (سند میں لیث بن أبی سلیم ضعیف راوی ہیں)
|
|
|
37: بَابُ : مَنْ أَحْيَا سُنَّةً قَدْ أُمِيتَتْ
باب: مردہ سنت کو زندہ کرنے والے کا ثواب۔
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ الْمُزَنِيُّ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ جَدِّي ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ أَحْيَا سُنَّةً مِنْ سُنَّتِي فَعَمِلَ بِهَا النَّاسُ، كَانَ لَهُ مِثْلُ أَجْرِ مَنْ عَمِلَ بِهَا، لَا يَنْقُصُ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْئًا، وَمَنِ ابْتَدَعَ بِدْعَةً فَعُمِلَ بِهَا، كَانَ عَلَيْهِ أَوْزَارُ مَنْ عَمِلَ بِهَا، لَا يَنْقُصُ مِنْ أَوْزَارِ مَنْ عَمِلَ بِهَا شَيْئًا".
عوف مزنی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے میری سنتوں میں سے کسی سنت کو زندہ کیا ، اور لوگوں نے اس پر عمل کیا تو اسے اتنا ثواب ملے گا جتنا اس پر عمل کرنے والوں کو ملے گا ، اور اس سے عمل کرنے والوں کے ثواب میں سے کچھ بھی کمی نہ ہو گی ، اور جس کسی نے کوئی بدعت ایجاد کی اور لوگوں نے اس پر عمل کیا تو اسے بھی اتنا ہی گناہ ملے گا جتنا اس پر عمل کرنے والوں کو ہو گا ، اور اس پر عمل کرنے والوں کے گناہوں میں سے کچھ بھی کمی نہ ہو گی “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 209]
💡 وضاحت:
۱؎: بدعت ایجاد کرنے والوں اور اس کی تبلیغ و ترویج کرنے والوں کو اللہ کے عذاب سے ڈرنا چاہئے، جتنے لوگ ان کے بہکانے سے راہِ حق سے گمراہ ہوں گے ان کا وبال ان ہی کے سر ہو گا، «والعیاذ باللہ» ۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح لغيره
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف ¤ إسناده ضعيف جدًا ¤ ترمذي (2677) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 381
تخریج دارالدعوہ:
سنن الترمذی/العلم 16 (2677)، (تحفة الأشراف: 10776) (صحیح) (اس حدیث کی سند میں کثیر بن عبد اللہ بن عمرو بن عوف المزنی سخت ضعیف راوی ہے، اس لئے یہ حدیث ضعیف ہے، لیکن یہ متن ابو جحیفہ رضی اللہ عنہ سے ثابت ہے، کما تقدم (207) اس لئے البانی صاحب نے اس کے متن کی تصحیح کر دی ہے، ملاحظہ ہو: السنة لابن أبی عاصم: 42)
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ ، حَدَّثَنِي كَثِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ أَحْيَا سُنَّةً مِنْ سُنَّتِي قَدْ أُمِيتَتْ بَعْدِي، فَإِنَّ لَهُ مِنَ الْأَجْرِ مِثْلَ أَجْرِ مَنْ عَمِلَ بِهَا مِنَ النَّاسِ، لَا يَنْقُصُ مِنْ أُجُورِ النَّاسِ شَيْئًا، وَمَنِ ابْتَدَعَ بِدْعَةً لَا يَرْضَاهَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ، فَإِنَّ عَلَيْهِ مِثْلَ إِثْمِ مَنْ عَمِلَ بِهَا مِنَ النَّاسِ، لَا يَنْقُصُ مِنْ آثَامِ النَّاسِ شَيْئًا".
عوف مزنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : ” جس شخص نے میری سنتوں میں سے کسی ایسی سنت کو زندہ کیا جو میرے بعد مردہ ہو چکی تھی تو اسے اتنا ثواب ملے گا جتنا اس پر عمل کرنے والوں کو ملے گا ، اور ان کے ثوابوں میں کچھ کمی نہ ہو گی ، اور جس نے کوئی ایسی بدعت ایجاد کی جسے اللہ اور اس کے رسول پسند نہیں کرتے ہیں تو اسے اتنا گناہ ہو گا جتنا اس پر عمل کرنے والوں کو ہو گا ، اس سے ان کے گناہوں میں کوئی کمی نہ ہو گی “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 210]
💡 وضاحت:
۱؎: مردہ یعنی متروک سنتوں کو زندہ کرنے کا ثواب بہت ہے، اس حدیث میں مردہ سنتوں کے زندہ کرنے والوں کے لئے بشارت ہے، ساتھ ہی بدعات کو رواج دینے والوں اور ان پر عمل کرنے والوں کو جو وبال ہو گا اس کا بھی بیان ہے، اللہ تعالیٰ ہم سب کو بدعتوں اور بدعتیوں سے محفوظ رکھے، آمین۔
قال الشيخ الألباني:
ضعيف جدا
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف ¤ إسناده ضعيف جدًا ¤ كثير العوفي: متروك ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 382
تخریج دارالدعوہ:
انظر ما قبلہ (صحیح) (سند میں کثیر بن عبد اللہ ضعیف راوی ہیں، لیکن کثرت طرق سے یہ صحیح ہے کماتقدم)
|
|
|
38: بَابُ : فَضْلِ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ
باب: قرآن سیکھنے اور سکھانے والوں کے فضائل و مناقب۔
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، وَسُفْيَانُ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَالَ شُعْبَة: " خَيْرُكُمْ"، وَقَالَ سُفْيَانُ: " أَفْضَلُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ".
عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ( شعبہ کہتے ہیں : ) تم میں سب سے بہتر ( کہا ) ، ( اور سفیان نے کہا : ) تم میں سب سے افضل ( کہا ) وہ ہے جو قرآن سیکھے اور سکھائے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 211]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی کلام اللہ چونکہ سب کلاموں سے افضل ہے، اس لئے اس کا سیکھنے والا اور سکھانے والا بھی افضل ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/فضائل القرآن 21 (5027)، سنن ابی داود/الصلاة 349 (1452)، سنن الترمذی/فضائل القرآن 15 (2907)، (تحفة الأشراف: 9813)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/ 57، 58، 69)، سنن الدارمی/فضائل القرآن 2 (3341) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَفْضَلُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ".
عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم میں سب سے افضل وہ ہے جو قرآن سیکھے اور سکھائے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 212]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
انظر ماقبلہ (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا أَزْهَرُ بْنُ مَرْوَانَ ، حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ نَبْهَانَ ، حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ بَهْدَلَةَ ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خِيَارُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ"، قَالَ: وَأَخَذَ بِيَدِي فَأَقْعَدَنِي مَقْعَدِي هَذَا أُقْرِئُ.
سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم میں سب سے بہتر وہ لوگ ہیں جو قرآن سیکھیں اور سکھائیں “ ۔ عاصم کہتے ہیں : مصعب نے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے میری اس جگہ پر بٹھایا تاکہ میں قرآن پڑھاؤں ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 213]
💡 وضاحت:
۱؎: عاصم بن بہدلہ: یہ عاصم بن ابی النجود ہیں، جو امام القراء ہیں، اور ان کی قراءت معتمد اور حجت مانی گئی ہے، اس وقت عاصم کی قراءت ہی عام اور مشہور قراءت ہے۔
قال الشيخ الألباني:
حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف ¤ إسناده ضعيف جدًا ¤ قال البوصيري: ”ھذا إسناد ضعيف لضعف الحارث بن نبھان“ وھو متروك ¤ والحديث السابق (الأصل: 211) يغني عن حديثه ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 382
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 3944، ومصباح الزجاجة: 78)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/فضائل القرآن 2 (3382) (حسن صحیح) (اس حدیث کی سند میں مذکور راوی ''الحارث بن نبہان'' ضعیف ہے، لیکن متابعات وشواہد کی بناء پر یہ حدیث صحیح ہے، ملاحظہ ہو سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: 1172)
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَثَلُ الْمُؤْمِنِ الَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ كَمَثَلِ الْأُتْرُجَّةِ طَعْمُهَا طَيِّبٌ وَرِيحُهَا طَيِّبٌ، وَمَثَلُ الْمُؤْمِنِ الَّذِي لَا يَقْرَأُ الْقُرْآنَ كَمَثَلِ التَّمْرَةِ طَعْمُهَا طَيِّبٌ وَلَا رِيحَ لَهَا، وَمَثَلُ الْمُنَافِقِ الَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ كَمَثَلِ الرَّيْحَانَةِ رِيحُهَا طَيِّبٌ وَطَعْمُهَا مُرٌّ، وَمَثَلُ الْمُنَافِقِ الَّذِي لَا يَقْرَأُ الْقُرْآنَ كَمَثَلِ الْحَنْظَلَةِ طَعْمُهَا مُرٌّ وَلَا رِيحَ لَهَا".
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” قرآن پڑھنے والے مومن کی مثال سنترے کی سی ہے کہ اس کا مزہ بھی اچھا ہے اور بو بھی اچھی ہے ، اور قرآن نہ پڑھنے والے مومن کی مثال کھجور کی سی ہے کہ اس کا مزہ اچھا ہے لیکن کوئی بو نہیں ہے ، اور قرآن پڑھنے والے منافق کی مثال ریحانہ ( خوشبودار گھاس وغیرہ ) کی سی ہے کہ اس کی بو اچھی ہے لیکن مزہ کڑوا ہے ، اور قرآن نہ پڑھنے والے منافق کی مثال تھوہڑ ( اندرائن ) جیسی ہے کہ اس کا مزہ کڑوا ہے ، اور اس میں کوئی خوشبو بھی نہیں “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 214]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/فضائل القرآن 17 (5020)، 36 (5059)، الأطعمة 30 (5427)، التوحید 57 (7560)، صحیح مسلم/المسافرین 37 (797)، سنن ابی داود/الأدب 19 (4830)، سنن الترمذی/الأمثال 4 (2865)، سنن النسائی/الإیمان 32 (5041)، (تحفة الأشراف: 8981)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/ 397، 404، 408)، سنن الدارمی/فضائل القرآن 8 (3366) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ أَبُو بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بُدَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ لِلَّهِ أَهْلِينَ مِنَ النَّاسِ"، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ هُمْ؟ قَالَ: " هُمْ أَهْلُ الْقُرْآنِ أَهْلُ اللَّهِ وَخَاصَّتُهُ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” لوگوں میں سے کچھ اللہ والے ہیں “ ، لوگوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! وہ کون لوگ ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” وہ قرآن پڑھنے پڑھانے والے ہیں ، جو اللہ والے اور اس کے نزدیک خاص لوگ ہیں “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 215]
💡 وضاحت:
۱ ؎: قرآن والے یعنی خشوع و خضوع اور آداب کے ساتھ اس کی تلاوت کرنے والے، اور اس کے وعدہ اور وعید پر ایمان لانے والے، اور اس کے احکام پر چلنے والے اللہ تعالیٰ کے خاص لوگ ہیں۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 241، ومصباح الزجاجة: 79)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الکبری 26 (8031)، مسند احمد (3 /127، 128، 242)، سنن الدارمی/فضائل القرآن 1 (3329) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ كَثِيرِ بْنِ دِينَارٍ الْحِمْصِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ ، عَنْ أَبِي عُمَرَ ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ زَاذَانَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، قَالَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ قَرَأَ الْقُرْآنَ، وَحَفِظَهُ أَدْخَلَهُ اللَّهُ الْجَنَّةَ، وَشَفَّعَهُ فِي عَشَرَةٍ مِنْ أَهْلِ بَيْتِهِ كُلُّهُمْ قَدِ اسْتَوْجَبُوا النَّارَ".
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے قرآن پڑھا اور اسے یاد کیا ، اللہ تعالیٰ اسے جنت میں داخل کرے گا ، اور اس کے اہل خانہ میں سے دس ایسے افراد کے سلسلے میں اس کی شفاعت قبول کرے گا جن پر جہنم واجب ہو چکی ہو گی “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 216]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف جدا
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف ¤ إسناده ضعيف جدًا ¤ ترمذي (2905) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 382
تخریج دارالدعوہ:
سنن الترمذی/فضائل القرآن 13 (2905)، (تحفة الأشراف: 10146)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/148، 149) (ضعیف جدًا) (سند میں ابو عمر حفص بن سلیمان متروک، اور کثیر بن زا ذان مجہول راوی ہیں)
|
|
|
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَوْدِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ ، عَنْ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ عَطَاءٍ مَوْلَى أَبِي أَحْمَدَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تَعَلَّمُوا الْقُرْآنَ، وَاقْرَءُوهُ، وَارْقُدُوا، فَإِنَّ مَثَلَ الْقُرْآنِ وَمَنْ تَعَلَّمَهُ فَقَامَ بِهِ، كَمَثَلِ جِرَابٍ مَحْشُوٍّ مِسْكًا يَفُوحُ رِيحُهُ كُلَّ مَكَانٍ، وَمَثَلُ مَنْ تَعَلَّمَهُ فَرَقَدَ وَهُوَ فِي جَوْفِهِ، كَمَثَلِ جِرَابٍ أُوكِيَ عَلَى مِسْكٍ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” قرآن سیکھو اور اس کی تلاوت کرو ، تب سوؤ کیونکہ قرآن اور اس کے سیکھنے والے اور رات کو قیام ( نماز تہجد ) میں قرآن پڑھنے والے کی مثال خوشبو بھری ہوئی تھیلی کی ہے جس کی خوشبو ہر طرف پھیل رہی ہو ، اور اس شخص کی مثال جس نے قرآن سیکھا ، مگر رات کو پڑھا نہیں ایسی خوشبو بھری تھیلی کی ہے جس کا منہ بندھا ہوا ہے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 217]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ:
سنن الترمذی/فضائل القرآن 2 (2876)، (تحفة الأشراف: 14242) (ضعیف) (حدیث کی ترمذی نے تحسین کی ہے، لیکن عطاء مولی أبی احمد ضعیف ہے، اس لئے یہ اس سند سے ضعیف ہے)
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو مَرْوَانَ مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعُثْمَانِيُّ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ وَاثِلَةَ أَبِي الطُّفَيْلِ ، أَنَّ نَافِعَ بْنَ عَبْدِ الْحَارِثِ ، لَقِيَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ بِعُسْفَانَ، وَكَانَ عُمَرُ اسْتَعْمَلَهُ عَلَى مَكَّةَ، فَقَالَ عُمَرُ: مَنِ اسْتَخْلَفْتَ عَلَى أَهْلِ الْوَادِي؟ قَالَ: اسْتَخْلَفْتُ عَلَيْهِمُ ابْنَ أَبْزَى، قَالَ: وَمَنْ ابْنُ أَبْزَى؟ قَالَ: رَجُلٌ مِنْ مَوَالِينَا، قَالَ عُمَرُ: فَاسْتَخْلَفْتَ عَلَيْهِمْ مَوْلًى، قَالَ: إِنَّهُ قَارِئٌ لِكِتَابِ اللَّهِ تَعَالَى، عَالِمٌ بِالْفَرَائِضِ، قَاضٍ، قَالَ عُمَرُ : أَمَا إِنَّ نَبِيَّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَال: " إِنَّ اللَّهَ يَرْفَعُ بِهَذَا الْكِتَابِ أَقْوَامًا وَيَضَعُ بِهِ آخَرِينَ".
عامر بن واثلہ ابوالطفیل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نافع بن عبدالحارث کی ملاقات عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ سے مقام عسفان میں ہوئی ، عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ نے ان کو مکہ کا عامل بنا رکھا تھا ، عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا : تم کس کو اہل وادی ( مکہ ) پر اپنا نائب بنا کر آئے ہو ؟ نافع نے کہا : میں نے ان پر اپنا نائب ابن ابزیٰ کو مقرر کیا ہے ، عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا : ابن ابزیٰ کون ہے ؟ نافع نے کہا : ہمارے غلاموں میں سے ایک ہیں ۱؎ ، عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : تم نے ان پہ ایک غلام کو اپنا نائب مقرر کر دیا ؟ نافع نے عرض کیا : ابن ابزیٰ کتاب اللہ ( قرآن ) کا قاری ، مسائل میراث کا عالم اور قاضی ہے ، عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : اگر بات یوں ہے تو تمہارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے : ” اللہ تعالیٰ اس کتاب ( قرآن ) کے ذریعہ بہت سی قوموں کو سربلند ، اور بہت سی قوموں کو پست کرتا ہے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 218]
💡 وضاحت:
۱؎: مولیٰ کے معنی رفیق، دوست، آزاد غلام، حلیف، عزیز اور قریب کے ہیں، اور ظاہر یہ ہے کہ یہاں آزاد غلام مراد ہے، اس لئے عمر رضی اللہ عنہ نے اس پر تعجب کیا۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/المسا فرین 47 (817)، (تحفة الأشراف: 10479)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/ 35)، سنن الدارمی/فضائل القرآن 9 (3368) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْوَاسِطِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ غَالِبٍ الْعَبَّادَانِيُّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زِيَادٍ الْبَحْرَانِيِّ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا أَبَا ذَرٍّ لَأَنْ تَغْدُوَ فَتَعَلَّمَ آيَةً مِنْ كِتَابِ اللَّهِ، خَيْرٌ لَكَ مِنْ أَنْ تُصَلِّيَ مِائَةَ رَكْعَةٍ، وَلَأَنْ تَغْدُوَ فَتَعَلَّمَ بَابًا مِنَ الْعِلْمِ عُمِلَ بِهِ أَوْ لَمْ يُعْمَلْ، خَيْرٌ لَكَ مِنْ أَنْ تُصَلِّيَ أَلْفَ رَكْعَةٍ".
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : ” ابوذر ! اگر تم صبح کو قرآن کی ایک آیت بھی سیکھ لو تو تمہارے لیے سو رکعت پڑھنے سے بہتر ہے ، اور اگر تم صبح علم کا ایک باب سیکھو خواہ اس پر عمل کیا جائے یا نہ کیا جائے تو یہ اس سے بہتر ہے کہ تم ایک ہزار رکعت پڑھو “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 219]
💡 وضاحت:
۱؎: اس سے معلوم ہوا کہ تفقہ قراءت سے افضل ہے، اور وہ دونوں ادائے نوافل سے افضل ہیں۔
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ علي بن زيد: ضعيف ¤ و عبد اللّٰه بن زياد البحراني وعبد اللّٰه بن غالب العباداني: مستوران (تقريب: 3328 3527) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 382
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 11918، ومصباح الزجاجة: 80) (ضعیف) (یہ سند ضعیف ہے، اس لئے کہ اس میں عبداللہ بن زیاد مجہول اور علی بن زید بن جدعان ضعیف ہیں)
|
|
|
39: بَابُ : فَضْلِ الْعُلَمَاءِ وَالْحَثِّ عَلَى طَلَبِ الْعِلْمِ
باب: علماء کے فضائل و مناقب اور طلب علم کی ترغیب و تشویق۔
|
|
|
حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ أَبُو بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ يُرِدِ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهْهُ فِي الدِّينِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ جس کی بھلائی چاہتا ہے اسے دین میں فہم و بصیرت عنایت کر دیتا ہے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 220]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 13311، ومصباح الزجاجة: 81)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/234) (صحیح) (ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: 1194 - 1195)
|
|
|
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ جَنَاحٍ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ مَيْسَرَةَ بْنِ حَلْبَسٍ ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ، قَالَ: سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ يُحَدِّثُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " الْخَيْرُ عَادَةٌ، وَالشَّرُّ لَجَاجَةٌ، وَمَنْ يُرِدِ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهْهُ فِي الدِّينِ".
معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” خیر ( بھلائی ) انسان کی فطری عادت ہے ، اور شر ( برائی ) نفس کی خصومت ہے ، اللہ تعالیٰ جس کی بھلائی چاہتا ہے اسے دین میں بصیرت و تفقہ عطاء کرتا ہے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 221]
💡 وضاحت:
۱؎: انسان کے لئے ضروری ہے کہ وہ خیر اور بھلائی کی عادت ڈالے، اور شر و فساد سے اپنے آپ کو طاقت بھر دور رکھے، اور فقہ سے مراد کتاب و سنت کا فہم ہے، اختلافی مسائل میں دلائل کے ساتھ متعارض احادیث میں تطبیق دے، اور دلائل کی بناء پر راجح اور مرجوح کو الگ الگ کرے، اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو آرائے رجال، اور قیل و قال پر مقدم رکھے، اور مسئلہ میں دلائل شرعیہ کا تابع رہے، اور کتاب و سنت پر مکمل طور پر عمل کرے، محدثین سے مروی ہے «فقه الرجل بصيرته بالحديث» یعنی آدمی کی فقہ یہ ہے کہ حدیث میں بصیرت حاصل کرے، اور متعارف فقہ میں سے ہر مسئلہ کو کتاب و سنت پر پیش کرے، جو دین کے موافق ہو اسے قبول کرے، اور جو دین کے خلاف ہو اس کو دور کرے، یہی دین کا طریقہ ہے، لیکن سنت سے نابلد اور دینی بصیرت سے غافل لوگوں پر یہ بہت شاق گزرتا ہے۔
قال الشيخ الألباني:
حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 11453، ومصباح الزجاجة: 82) (حسن) (نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: 651)
|
|
|
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ جَنَاحٍ أَبُو سَعْدٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَقِيهٌ وَاحِدٌ أَشَدُّ عَلَى الشَّيْطَانِ مِنْ أَلْفِ عَابِدٍ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” شیطان پر ایک فقیہ ( عالم ) ہزار عابد سے بھاری ہے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 222]
قال الشيخ الألباني:
موضوع
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف ¤ إسناده ضعيف جدًا ¤ ترمذي (2681) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 382
تخریج دارالدعوہ:
سنن الترمذی/العلم 19 (2681)، (تحفة الأشراف: 6395) (موضوع) (سند میں روح بن جناح متہم بالوضع ہے، ابوسعید نقاش کہتے ہیں کہ یہ مجاہد سے موضوع احادیث روایت کرتا ہے، ملاحظہ ہو: المشکاة: 217)
|
|
|
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ رَجَاءِ بْنِ حَيْوَةَ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ جَمِيلٍ ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ قَيْسٍ ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ أَبِي الدَّرْدَاءِ فِي مَسْجِدِ دِمَشْقَ فَأَتَاهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا أَبَا الدَّرْدَاءِ أَتَيْتُكَ مِنَ الْمَدِينَةِ مَدِينَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لِحَدِيثٍ بَلَغَنِي أَنَّكَ تُحَدِّثُ بِهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَمَا جَاءَ بِكَ تِجَارَةٌ؟، قَالَ: لَا، قَالَ: وَلَا جَاءَ بِكَ غَيْرُهُ؟ قَالَ: لَا، قَالَ: فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ سَلَكَ طَرِيقًا يَلْتَمِسُ فِيهِ عِلْمًا، سَهَّلَ اللَّهُ لَهُ طَرِيقًا إِلَى الْجَنَّةِ، وَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ لَتَضَعُ أَجْنِحَتَهَا رِضًا لِطَالِبِ الْعِلْمِ، وَإِنَّ طَالِبَ الْعِلْمِ يَسْتَغْفِرُ لَهُ مَنْ فِي السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ حَتَّى الْحِيتَانِ فِي الْمَاءِ، وَإِنَّ فَضْلَ الْعَالِمِ عَلَى الْعَابِدِ كَفَضْلِ الْقَمَرِ عَلَى سَائِرِ الْكَوَاكِبِ، إِنَّ الْعُلَمَاءَ هُمْ وَرَثَةُ الْأَنْبِيَاءِ، إِنَّ الْأَنْبِيَاءَ لَمْ يُوَرِّثُوا دِينَارًا وَلَا دِرْهَمًا، إِنَّمَا وَرَّثُوا الْعِلْمَ فَمَنْ أَخَذَهُ أَخَذَ بِحَظٍّ وَافِرٍ".
کثیر بن قیس کہتے ہیں کہ میں ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کے پاس دمشق کی مسجد میں بیٹھا ہوا تھا کہ آپ کے پاس ایک آدمی آیا اور کہنے لگا : اے ابوالدرداء ! میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے شہر مدینہ سے ایک حدیث کے لیے آیا ہوں ، مجھے یہ خبر ملی ہے کہ آپ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے وہ حدیث روایت کرتے ہیں ؟ ! ابوالدرداء رضی اللہ عنہ نے پوچھا : آپ کی آمد کا سبب تجارت تو نہیں ؟ اس آدمی نے کہا : نہیں ، کہا : کوئی اور مقصد تو نہیں ؟ اس آدمی نے کہا : نہیں ، ابوالدرداء رضی اللہ عنہ نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : ” جو شخص علم دین کی تلاش میں کوئی راستہ چلے اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت کا راستہ آسان کر دیتا ہے ، اور فرشتے طالب علم سے خوش ہو کر اس کے لیے اپنے بازو بچھا دیتے ہیں ، آسمان و زمین کی ساری مخلوق یہاں تک کہ مچھلیاں بھی پانی میں طالب علم کے لیے مغفرت کی دعا کرتی ہیں ، اور عالم کی فضیلت عابد پر ایسی ہی ہے جیسے چاند کی فضیلت سارے ستاروں پر ، بیشک علماء ہی انبیاء کے وارث ہیں ، اور انبیاء نے کسی کو دینار و درہم کا وارث نہیں بنایا بلکہ انہوں نے علم کا وارث بنایا ہے ، لہٰذا جس نے اس علم کو حاصل کیا ، اس نے ( علم نبوی اور وراثت نبوی سے ) پورا پورا حصہ لیا “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 223]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ حدیث علم حدیث اور محدثین کی فضیلت پر زبردست دلیل ہے اس کے علاوہ اس سے مندرجہ باتیں اور معلوم ہوئیں: ۱۔ علماء سلف حدیث کی طلب میں دور دراز کے اسفار کرتے تھے۔ ۲۔ ایک حدیث کا حصول اس لائق ہے کہ دور دراز کا سفر کیا جائے۔ ۳۔ علم کی طلب میں اخلاص شرط ہے۔ ۴۔ دنیوی غرض کو طلب علم کے ساتھ نہ ملایا جائے۔ ۵۔ خلوص نیت کے ساتھ علم شرعی کی طلب سے جنت کا راستہ آسان ہو جاتا ہے۔ ۶۔ فرشتے اس کی خاطر داری کرتے ہیں۔ ۷۔ ساری مخلوق اس کے لیے مغفرت کی دعا کرتی ہے۔ ۸۔ طالب علم کو عابد پر فضیلت حاصل ہے۔ ۹۔ علماء حدیث نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حقیقی وارث ہیں۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ سنن أبي داود (3641) ترمذي (2682) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 382
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/العلم 97 (3641)، سنن الترمذی/العلم 19 (2682)، (تحفة الأشراف: 10958)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/196)، سنن الدارمی/ المقدمة 32 (354) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ شِنْظِيرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " طَلَبُ الْعِلْمِ فَرِيضَةٌ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ، وَوَاضِعُ الْعِلْمِ عِنْدَ غَيْرِ أَهْلِهِ كَمُقَلِّدِ الْخَنَازِيرِ الْجَوْهَرَ، وَاللُّؤْلُؤَ، وَالذَّهَبَ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” علم دین حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے ، اور نااہلوں و ناقدروں کو علم سکھانے والا سور کے گلے میں جواہر ، موتی اور سونے کا ہار پہنانے والے کی طرح ہے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 224]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث کا معنی یہ ہے کہ ہر مسلمان پر دین کے وہ مسائل سیکھنا فرض ہے جو ضروری ہیں، مثلا عقیدہ،نماز، روزہ کے مسائل یا اس سے مراد یہ ہے کہ جس مسلمان کو کوئی مسئلہ در پیش ہو تو ضروری ہے کہ اس کے بارے میں علماء سے پوچھے، ورنہ طلب علم فرض کفایہ ہے، اگر کچھ لوگ اس کو حاصل کر لیں تو باقی افراد عند اللہ ماخوذ نہ ہوں گے، اور اگر سبھی علم دین سیکھنا چھوڑ دیں تو سب گنہگار ہوں گے، امام بیہقی اپنی کتاب ”المدخل إلی السنن“ میں کہتے ہیں کہ شاید اس سے مراد یہ ہے کہ وہ علم سیکھنا فرض ہے جس کا جہل کسی بالغ کو درست نہیں، یا وہ علم مراد ہے جس کی ضرورت اس مسلمان کو ہو مثلاً تاجر کو خرید و فروخت کے احکام و مسائل کی، اور غازی کو جہاد کے احکام و مسائل کی یا یہ کہ ہر مسلمان پر علم حاصل کرنا فرض عین ہے، مگر جب کچھ لوگ جن کے علم سے سب کو کفایت ہو تحصیل علم میں مشغول ہوں تو باقی لوگ ترک طلب کے سبب ماخوذ نہ ہوں گے، پھر ابن مبارک کا یہ قول نقل کیا کہ ان سے اس حدیث کی تفسیر کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: اس سے مراد یہ ہے کہ جب کسی مسلمان کو کسی مسئلہ کی ضرورت پڑے تو کسی عالم سے پوچھ لینا ضروری ہے تاکہ اس کا علم حاصل ہو، اور اس کی طرف اشارہ آیت: «فاسألوا أهل الذكر» میں ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح دون قوله وواضع العلم الخ فإنه ضعيف جدا
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف ¤ إسناده ضعيف جدًا ¤ حفص القارئ: متروك ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 382
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 1470، ومصباح الزجاجة: 83) (ضعیف جدًا) (اس کی سند میں حفص بن سلیمان البزار ضعیف بلکہ متروک الحدیث راوی ہے، اس لئے اس سند سے یہ حدیث ضعیف ہے، لیکن پہلا ٹکڑا: طلب العلم فريضة على كل مسلم طرق و شواہد کی بناء پر صحیح ہے، اور دوسرا ٹکڑا: وواضع العلم عند غير أهله كمقلد الخنازير الجوهر واللؤلؤ والذهب ضعیف ہے کیونکہ اس کاراوی حفص ہے، ملاحظہ ہو: المشکاة: 218 ا لضعیفہ: 216)
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ نَفَّسَ عَنْ مُؤْمِنٍ كُرْبَةً مِنْ كُرَبِ الدُّنْيَا، نَفَّسَ اللَّهُ عَنْهُ كُرْبَةً مِنْ كُرَبِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ، وَمَنْ سَتَرَ مُسْلِمًا سَتَرَهُ اللَّهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، وَمَنْ يَسَّرَ عَلَى مُعْسِرٍ يَسَّرَ اللَّهُ عَلَيْهِ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، وَاللَّهُ فِي عَوْنِ الْعَبْدِ مَا كَانَ الْعَبْدُ فِي عَوْنِ أَخِيهِ، وَمَنْ سَلَكَ طَرِيقًا يَلْتَمِسُ فِيهِ عِلْمًا، سَهَّلَ اللَّهُ لَهُ بِهِ طَرِيقًا إِلَى الْجَنَّةِ، وَمَا اجْتَمَعَ قَوْمٌ فِي بَيْتٍ مِنْ بُيُوتِ اللَّهِ يَتْلُونَ كِتَابَ اللَّهِ، وَيَتَدَارَسُونَهُ بَيْنَهُمْ إِلَّا حَفَّتْهُمُ الْمَلَائِكَةُ، وَنَزَلَتْ عَلَيْهِمُ السَّكِينَةُ، وَغَشِيَتْهُمُ الرَّحْمَةُ، وَذَكَرَهُمُ اللَّهُ فِيمَنْ عِنْدَهُ، وَمَنْ أَبْطَأَ بِهِ عَمَلُهُ لَمْ يُسْرِعْ بِهِ نَسَبُهُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس شخص نے کسی مسلمان کی دنیاوی پریشانیوں میں سے کسی پریشانی کو دور کر دیا ، اللہ تعالیٰ اس کی قیامت کی پریشانیوں میں سے بعض پریشانیاں دور فرما دے گا ، اور جس شخص نے کسی مسلمان کے عیب کو چھپایا اللہ تعالیٰ دنیا و آخرت میں اس کے عیب کو چھپائے گا ، اور جس شخص نے کسی تنگ دست پر آسانی کی ، اللہ تعالیٰ دنیا و آخرت میں اس پر آسانی کرے گا ، اور اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی مدد کرتا رہتا ہے جب تک وہ اپنے بھائی کی مدد کرتا رہتا ہے ، اور جو شخص علم دین حاصل کرنے کے لیے کوئی راستہ چلے تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت کے راستہ کو آسان کر دیتا ہے ، اور جب بھی اللہ تعالیٰ کے کسی گھر میں کچھ لوگ اکٹھا ہو کر قرآن کریم پڑھتے ہیں یا ایک دوسرے کو پڑھاتے ہیں ، تو فرشتے انہیں گھیر لیتے ہیں ، اور ان پر سکینت نازل ہوتی ہے ، انہیں رحمت ڈھانپ لیتی ہے اور اللہ تعالیٰ ان کا ذکر اپنے مقرب فرشتوں میں کرتا ہے ، اور جس کے عمل نے اسے پیچھے کر دیا ، تو آخرت میں اس کا نسب اسے آگے نہیں کر سکتا “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 225]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الذکروالدعاء والتوبہ 11 (2699)، سنن ابی داود/الصلاة 349 (1455)، العلم 1 (3643)، الادب 68 (4946) (تحفة الأشراف: 12510)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الحدود 3 (1426)، القراء ات 12 (2946)، مسند احمد (2/252)، سنن الدارمی/ المقدمة 32 (356) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ، قَالَ: أَتَيْتُ صَفْوَانَ بْنَ عَسَّالٍ الْمُرَادِيَّ ، فَقَالَ: مَا جَاءَ بِكَ؟ قُلْتُ: أُنْبِطُ الْعِلْمَ، قَال: فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَا مِنْ خَارِجٍ خَرَجَ مِنْ بَيْتِهِ فِي طَلَبِ الْعِلْمِ إِلَّا وَضَعَتْ لَهُ الْمَلَائِكَةُ أَجْنِحَتَهَا رِضًا بِمَا يَصْنَعُ".
زر بن حبیش کہتے ہیں کہ میں صفوان بن عسال مرادی رضی اللہ عنہ کے پاس آیا ، انہوں نے پوچھا : کس لیے آئے ہو ؟ میں نے کہا : علم حاصل کرنے کے لیے ، صفوان رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : ” جو شخص اپنے گھر سے علم حاصل کرنے کے لیے نکلتا ہے تو فرشتے اس کے اس عمل سے خوش ہو کر اس کے لیے اپنے بازو بچھا دیتے ہیں “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 226]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 4955، ومصباح الزجاجة: 84)، مسند احمد (4/420) (حسن صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيل ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ صَخْرٍ ، عَنْ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ جَاءَ مَسْجِدِي هَذَا، لَمْ يَأْتِهِ إِلَّا لِخَيْرٍ يَتَعَلَّمُهُ، أَوْ يُعَلِّمُهُ، فَهُوَ بِمَنْزِلَةِ الْمُجَاهِدِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَمَنْ جَاءَ لِغَيْرِ ذَلِكَ، فَهُوَ بِمَنْزِلَةِ الرَّجُلِ يَنْظُرُ إِلَى مَتَاعِ غَيْرِهِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص میری اس مسجد میں صرف خیر ( علم دین ) سیکھنے یا سکھانے کے لیے آئے تو وہ اللہ تعالیٰ کے راستہ میں جہاد کرنے والے کے درجہ میں ہے ، اور جو اس کے علاوہ کسی اور مقصد کے لیے آئے تو وہ اس شخص کے درجہ میں ہے جس کی نظر دوسروں کی متاع پر لگی ہوتی ہے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 227]
💡 وضاحت:
۱؎: مسجد نبوی میں علم دین حاصل کرنے کی غرض سے جانے والا مجاہد کے درجہ میں ہے، اور اسی وجہ سے دوسری مساجد اور دینی درسگاہوں میں علم دین حاصل کرنے والا بھی فضیلت کا مستحق ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 12956، ومصباح الزجاجة: 85)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/350، 418، 526) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي عَاتِكَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " عَلَيْكُمْ بِهَذَا الْعِلْمِ قَبْلَ أَنْ يُقْبَضَ، وَقَبْضُهُ أَنْ يُرْفَعَ، وَجَمَعَ بَيْنَ إِصْبَعَيْهِ الْوُسْطَى وَالَّتِي تَلِي الْإِبْهَامَ هَكَذَا"، ثُمَّ قَالَ: " الْعَالِمُ، وَالْمُتَعَلِّمُ شَرِيكَانِ فِي الْأَجْرِ، وَلَا خَيْرَ فِي سَائِرِ النَّاسِ".
ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم اس علم دین کو اس کے قبض کیے جانے سے پہلے حاصل کر لو ، اور اس کا قبض کیا جانا یہ ہے کہ اسے اٹھا لیا جائے “ ، پھر آپ نے بیچ والی اور شہادت کی انگلی دونوں کو ملایا ، اور فرمایا : ” عالم اور متعلم ( سیکھنے اور سکھانے والے ) دونوں ثواب میں شریک ہیں ، اور باقی لوگوں میں کوئی خیر نہیں ہے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 228]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف ¤ إسناده ضعيف جدًا ¤ علي بن يزيد: ضعيف ¤ و عثمان بن أبي العاتكة: ضعيف ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 382
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 4918، ومصباح الزجاجة: 86)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/المقدمة 26 (246) (ضعیف) (اس کی سند میں علی بن یزید الہانی سخت ضعیف راوی ہے، اور عثمان بن أبی عاتکہ کی علی بن یزید سے روایت میں ضعف ہے، اور قاسم بن عبدالرحمن الدمشقی بھی متکلم فیہ راوی ہیں، خلاصہ یہ کہ یہ سند ضعیف ہے، بلکہ علماء کے نزدیک یہ سند ضعف میں مشہور ہے، نیز ملاحظہ ہو: الإرواء: 2/143)
|
|
|
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ هِلَالٍ الصَّوَّافُ ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ الزِّبْرِقَانِ ، عَنْ بَكْرِ بْنِ خُنَيْسٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِيَادٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ مِنْ بَعْضِ حُجَرِهِ، فَدَخَلَ الْمَسْجِدَ، فَإِذَا هُوَ بِحَلْقَتَيْنِ إِحْدَاهُمَا يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ وَيَدْعُونَ اللَّهَ، وَالْأُخْرَى يَتَعَلَّمُونَ وَيُعَلِّمُونَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كُلٌّ عَلَى خَيْرٍ هَؤُلَاءِ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ وَيَدْعُونَ اللَّهَ، فَإِنْ شَاءَ أَعْطَاهُمْ، وَإِنْ شَاءَ مَنَعَهُمْ، وَهَؤُلَاءِ يَتَعَلَّمُونَ، وَإِنَّمَا بُعِثْتُ مُعَلِّمًا فَجَلَسَ مَعَهُمْ".
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن اپنے کسی کمرے سے نکلے اور مسجد میں داخل ہوئے ، آپ نے اس میں دو حلقے دیکھے ، ایک تلاوت قرآن اور ذکرو دعا میں مشغول تھا ، اور دوسرا تعلیم و تعلم میں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” دونوں حلقے نیکی کے کام میں ہیں ، یہ لوگ قرآن پڑھ رہے ہیں ، اور اللہ سے دعا کر رہے ہیں ، اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو انہیں دے اور چاہے تو نہ دے ، اور یہ لوگ علم سیکھنے اور سکھانے میں مشغول ہیں ، اور میں تو صرف معلم بنا کر بھیجا گیا ہوں ، پھر انہیں کے ساتھ بیٹھ گئے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 229]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف ¤ ضعيف ¤ داودبن الزبرقان:متروك ¤ وشيخه بكر بن خنيس: ضعيف ضعفه الجمهور ¤ و عبد الرحمٰن بن زياد الإفريقي: ضعيف ¤ وللحديث لون آخر عند الدارمي (355) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 382
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 8869، ومصباح الزجاجة: 87)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/المقدمة 32 (261) (ضعیف) (اس کی سند میں داود، بکر بن خنیس اور عبد الرحمن بن زیاد افریقی تینوں ضعیف ہیں، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: 11)
|
|
|
40: بَابُ : مَنْ بَلَّغَ عِلْمًا
باب: علم دین کے مبلغ کے مناقب و فضائل۔
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبَّادٍ أَبِي هُبَيْرَةَ الْأَنْصَارِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ ، قَالَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَضَّرَ اللَّهُ امْرَأً سَمِعَ مَقَالَتِي فَبَلَّغَهَا، فَرُبَّ حَامِلِ فِقْهٍ غَيْرِ فَقِيهٍ، وَرُبَّ حَامِلِ فِقْهٍ إِلَى مَنْ هُوَ أَفْقَهُ مِنْهُ"، زَادَ فِيهِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ: " ثَلَاثٌ لَا يُغِلُّ عَلَيْهِنَّ قَلْبُ امْرِئٍ مُسْلِمٍ، إِخْلَاصُ الْعَمَلِ لِلَّهِ، وَالنُّصْحُ لِأَئِمَّةِ الْمُسْلِمِينَ، وَلُزُومُ جَمَاعَتِهِمْ".
زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ اس شخص کو تروتازہ رکھے جس نے میری کوئی حدیث سنی اور اسے دوسروں تک پہنچایا ، اس لیے کہ بعض علم رکھنے والے خود فقیہ نہیں ہوتے ہیں ، اور بعض علم کو اپنے سے زیادہ فقیہ تک پہنچاتے ہیں “ ۔ علی بن محمد نے اپنی روایت میں اتنا مزید کہا : تین چیزیں ہیں کہ ان میں کسی مسلمان کا دل خیانت نہیں کرتا ، ہر نیک کام محض اللہ کی رضا کے لیے کرنا ، مسلمانوں کے اماموں اور سرداروں کی خیر خواہی چاہنا ، مسلمانوں کی جماعت کے ساتھ ہمیشہ رہنا ، ان سے جدا نہ ہونا ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 230]
💡 وضاحت:
۱؎: حدیث سے علم دین اور اس کی تبلیغ کی فضیلت معلوم ہوئی، نیز معلوم ہوا کہ اجتہاد کا دروازہ بند نہیں ہو گا، قرآن و حدیث کی تعلیم و تبلیغ کی ترغیب کے ساتھ ساتھ اس میں بشارت ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم کے زمانہ کے بعد بھی بہت سارے لوگ دین میں تفقہ و بصیرت حاصل کریں گے، اور مشکل مسائل کا حل قرآن و حدیث سے تلاش کیا کریں گے، اور یہ محدثین کا گروہ ہے، ان کے لئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعائے خیر فرمائی، اور یہ معاملہ قیامت تک جاری رہے گا، اور اس میں ان لوگوں کی تردید بھی ہے جو اجتہاد کے دروازہ کو بغیر کسی شرعی دلیل کے بند کہتے ہیں۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 3722، ومصباح الزجاجة: 88)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/العلم 10 (3660)، سنن الترمذی/العلم 7 (2656)، مسند احمد (1/437، 5/ 183)، سنن الدارمی/المقدمة 24 (235) (صحیح) (اس کی سند میں لیث بن أبی سلیم ضعیف ہیں، لیکن متابعات وشواہد کی وجہ سے یہ حدیث صحیح، بلکہ متواتر ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: 403، ودراسة حديث: نضر الله امرأ رواية ودراية للشيخ عبدالمحسن العباد)
|
|
|
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا خَالِي يَعْلَى . ح وحَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاق ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِهِ.
جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منیٰ کی مسجد خیف میں خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ اس شخص کو تروتازہ رکھے جس نے میری حدیث سنی اور اسے دوسروں تک پہنچا دیا ، اس لیے کہ بہت سے علم دین رکھنے والے فقیہ نہیں ہوتے ہیں ، اور بہت سے وہ ہیں جو علم کو اپنے سے زیادہ فقیہ تک پہنچاتے ہیں “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 231]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
t
|
|
|
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا خَالِي يَعْلَى . ح وحَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاق ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِهِ.
اس سند سے بھی جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے اسی کے ہم معنی حدیث مرفوعاً مروی ہے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 231M]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
t
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ ابْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " نَضَّرَ اللَّهُ امْرَأً سَمِعَ مِنَّا حَدِيثًا فَبَلَّغَهُ، فَرُبَّ مُبَلَّغٍ أَحْفَظُ مِنْ سَامِعٍ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ اس شخص کو تروتازہ رکھے جس نے میری کوئی حدیث سنی اور اسے دوسروں تک پہنچا دیا ، اس لیے کہ بہت سے وہ لوگ جنہیں حدیث پہنچائی جاتی ہے وہ سننے والوں سے زیادہ ادراک رکھنے والے ہوتے ہیں “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 232]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
سنن الترمذی/العلم 7 (2657)، (تحفة الأشراف: 9361) وقد أخرجہ: مسند احمد (1/436) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ ، أَمْلَاهُ عَلَيْنَا، حَدَّثَنَا قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، وَعَنْ رَجُلٍ آخَرَ هُوَ أَفْضَلُ فِي نَفْسِي مِنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، قَالَ: خَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ النَّحْرِ فَقَالَ: " لِيُبَلِّغِ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ، فَإِنَّهُ رُبَّ مُبَلَّغٍ يَبْلُغُهُ أَوْعَى لَهُ مِنْ سَامِعٍ".
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوم النحر ( دسویں ذی الحجہ ) کو خطبہ دیا اور فرمایا : ” یہ باتیں حاضرین مجلس ان لوگوں تک پہنچا دیں جو موجود نہیں ہیں ، اس لیے کہ بہت سے لوگ جنہیں کوئی بات پہنچائی جاتی ہے وہ سننے والے سے زیادہ اس بارے میں ہوشمند اور باشعور ہوتے ہیں “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 233]
قال الشيخ الألباني:
صحيح من دون فإنه
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 11691)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأضاحي 5 (5550)، صحیح مسلم/القسامة 9 (1679)، مسند احمد (5/37، 39، 45، 94)، سنن الدارمی/المناسک 72 (1957) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ . ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ ، أَنْبَأَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، عَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ مُعَاوِيَةَ الْقُشَيْرِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَلَا لِيُبَلِّغْ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ؟".
معاویہ قشیری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” سنو ! حاضرین یہ باتیں ان تک پہنچا دیں جو یہاں نہیں ہیں “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 234]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 11393، ومصباح الزجاجة: 90) وقد أخرجہ: مسند احمد (4/31، 32) (صحیح)ط (اس کی سند حسن ہے، لیکن شواہد کی بناء پر صحیح ہے)۔
|
|
|
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ، أَنْبَأَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِيُّ ، حَدَّثَنِي قُدَامَةُ بْنُ مُوسَى ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْحُصَيْنِ التَّمِيمِيِّ ، عَنْ أَبِي عَلْقَمَةَ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ يَسَارٍ مَوْلَى ابْنِ عُمَرَ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لِيُبَلِّغْ شَاهِدُكُمْ غَائِبَكُمْ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم میں سے جو لوگ حاضر ہیں انہیں چاہیئے کہ جو لوگ یہاں حاضر نہیں ہیں ، ان تک ( جو کچھ انہوں نے سنا ہے ) پہنچا دیں “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 235]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ سنن أبي داود (1278) ترمذي (419) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 383
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الصلاة 299 (1278)، سنن الترمذی/الصلاة 192 (419)، (تحفة الأشراف: 8570)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/ 104) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ ، حَدَّثَنَا مُبَشِّرُ بْنُ إِسْمَاعِيل الْحَلَبِيُّ ، عَنْ مُعَانِ بْنِ رِفَاعَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْوَهَّابِ بْنِ بُخْتٍ الْمَكِّيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَضَّرَ اللَّهُ عَبْدًا سَمِعَ مَقَالَتِي فَوَعَاهَا، ثُمَّ بَلَّغَهَا عَنِّي، فَرُبَّ حَامِلِ فِقْهٍ غَيْرِ فَقِيهٍ، وَرُبَّ حَامِلِ فِقْهٍ إِلَى مَنْ هُوَ أَفْقَهُ مِنْهُ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ اس شخص کو تروتازہ رکھے جس نے میری حدیث سنی ، اور اسے محفوظ رکھا ، پھر میری جانب سے اسے اوروں کو پہنچا دیا ، اس لیے کہ بہت سے علم دین رکھنے والے فقیہ نہیں ہوتے ہیں ، اور بہت سے علم دین رکھنے والے اپنے سے زیادہ فقیہ تک پہنچاتے ہیں “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 236]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 1076، ومصباح الزجاجة: 91)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/427، 3/225، 4/80، 82، 5/183) (صحیح) (اس کی سند میں محمد بن ابراہیم الدمشقی منکر الحدیث ہیں، لیکن اصل حدیث شواہد کی بناء پر صحیح ہے، بلکہ متواتر ہے، ملاحظہ ہو: دراسة حديث: نضر الله امرأ للشيخ عبدالمحسن العباد)۔
|
|
|
41: بَابُ : مَنْ كَانَ مِفْتَاحًا لِلْخَيْرِ
باب: خیر کی کنجی والی شخصیت کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ الْمَرْوَزِيُّ ، أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حُمَيْدٍ ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ مِنَ النَّاسِ مَفَاتِيحَ لِلْخَيْرِ مَغَالِيقَ لِلشَّرِّ، وَإِنَّ مِنَ النَّاسِ مَفَاتِيحَ لِلشَّرِّ مَغَالِيقَ لِلْخَيْرِ، فَطُوبَى لِمَنْ جَعَلَ اللَّهُ مَفَاتِيحَ الْخَيْرِ عَلَى يَدَيْهِ، وَوَيْلٌ لِمَنْ جَعَلَ اللَّهُ مَفَاتِيحَ الشَّرِّ عَلَى يَدَيْهِ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بعض لوگ خیر کی کنجی اور برائی کے قفل ہوتے ہیں ۱؎ اور بعض لوگ برائی کی کنجی اور خیر کے قفل ہوتے ہیں ، تو اس شخص کے لیے خوشخبری ہے جس کے ہاتھ میں اللہ تعالیٰ نے خیر کی کنجیاں رکھ دیں ہیں ، اور اس شخص کے لیے ہلاکت ہے جس کے ہاتھ میں اللہ تعالیٰ نے شر کی کنجیاں رکھ دی ہیں “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 237]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی خیر (اچھائی) کو پھیلاتے، اور برائی کو روکتے ہیں، اللہ تعالیٰ ان کے ہاتھ سے خیر کے دروازے کھلواتا ہے، گویا کہ اس نے خیر کی کنجی ان کو دے رکھی ہے جیسے محدثین، ائمہ دین، صلحاء و اتقیاء ان کی صحبت لوگوں کو نیک بناتی ہے، شر و فساد اور بدعات و سئیات سے روکتی ہے، برخلاف فساق و فجار، مفسدین و مبتدعین کے ان کی صحبت سے محض شر پیدا ہوتا ہے، «أعاذنا الله منهم»
قال الشيخ الألباني:
حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ محمد بن أبي حميد: ضعيف ¤ وللحديث طرق ضعيفة عند ابن أبي عاصم (السنة: 298) وغيره ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 383
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 550، ومصباح الزجاجة: 92) (حسن) (حدیث کی سند میں مذکور راوی ''محمد بن أبی حمید'' ضعیف ہیں، لیکن شواہد کی بناء پر یہ حدیث حسن ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: 1332)۔
|
|
|
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ أَبُو جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ هَذَا الْخَيْرَ خَزَائِنُ، وَلِتِلْكَ الْخَزَائِنِ مَفَاتِيحُ، فَطُوبَى لِعَبْدٍ جَعَلَهُ اللَّهُ مِفْتَاحًا لِلْخَيْرِ مِغْلَاقًا لِلشَّرِّ، وَوَيْلٌ لِعَبْدٍ جَعَلَهُ اللَّهُ مِفْتَاحًا لَلشَّرِّ مِغْلَاقًا لِلْخَيْرِ".
سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ خیر خزانے ہیں ، اور ان خزانوں کی کنجیاں بھی ہیں ، اس بندے کے لیے خوشخبری ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے خیر کی کنجی ، اور شر کا قفل بنا دیا ہو ، اور اس بندے کے لیے ہلاکت ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے شر کی کنجی ، اور خیر کا قفل بنایا ہو “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 238]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف جدا
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ عبد الرحمٰن بن زيد بن أسلم: ضعيف ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 383
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 4701، ومصباح الزجاجة: 93) (حسن) (تراجع الألبانی: رقم: 104، شواہد کی بناء پر یہ حدیث بھی حسن ہے، ورنہ اس کی سند میں ''عبد الرحمن بن زید بن اسلم'' ضعیف ہیں)
|
|
|
42: بَابُ : ثَوْابِ مُعَلِّمِ النَّاسِ الْخَيْرَ
باب: لوگوں کو خیر و بھلائی سکھانے والے کا ثواب۔
|
|
|
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَطَاءٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنَّهُ لَيَسْتَغْفِرُ لِلْعَالِمِ مَنْ فِي السَّمَاوَاتِ وَمَنْ فِي الْأَرْضِ، حَتَّى الْحِيتَانِ فِي الْبَحْرِ".
ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : ” عالم کے لیے آسمان و زمین کی تمام مخلوق مغفرت طلب کرتی ہے ، یہاں تک کہ سمندر میں مچھلیاں بھی “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 239]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ عالم باعمل کی بڑی فضیلت ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ عثمان بن عطاء الخراساني: ضعيف وحفص بن عمر الشامي البزاز مجھول (تقريب: 4502،1425) ¤ قال الدارقطني في عثمان بن عطاء الخراساني: ”ھو ضعيف الحديث جدًا“ (163/3،164) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 383
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 10952)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/ المقدمة 32 (355) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى الْمِصْرِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ ّالنَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ عَلَّمَ عِلْمًا فَلَهُ أَجْرُ مَنْ عَمِلَ بِهِ لَا يَنْقُصُ مِنْ أَجْرِ الْعَامِلِ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے کسی کو علم دین سکھایا ، تو اس کو اتنا ثواب ملے گا جتنا کہ اس شخص کو جو اس پر عمل کرے ، اور عمل کرنے والے کے ثواب سے کوئی کمی نہ ہو گی “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 240]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث میں بڑی فضیلت ہے ان علماء کی جو امر بالمعروف اور نہی عن المنکر (یعنی بھلی باتوں کا حکم دینا اور بری باتوں سے روکنے) کی تعلیم دیتے ہیں، یا درس و تدریس سے علوم دینیہ پھیلاتے ہیں، یا تقریر و تحریر سے علوم قرآن و حدیث نشر کرتے ہیں۔
قال الشيخ الألباني:
حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ عبد اللّٰه بن وھب مدلس و عنعن ¤ و الحديث السابق (الأصل: 206) يغني عنه ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 383
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 11304، ومصباح الزجاجة: 94) (حسن) (یحییٰ بن ایوب نے سہل بن معاذ کو نہیں پایا، امام مزی نے ابن وہب عن یحییٰ بن ایوب عن زبان بن فائد عن سہل بن معاذ بن انس عن أبیہ کی سند ذکر کی ہے، حافظ ابن حجر نے سہل بن معاذ کے بارے میں فرمایا کہ لا بأس به إلا في روايات زبان عنه ، لیکن شواہد کی بنا ء پر یہ حدیث حسن ہے، ملاحظہ ہو: باب نمبر: 14، حدیث نمبر: 203- 207)
|
|
|
قَالَ أَبُو الْحَسَنِ: وَحَدَّثَنَا أَبُو حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ سِنَانٍ الرَّهَاوِيُّ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ سِنَانٍ يَعْنِي أَبَاهُ ، حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ أَبِي أُنَيْسَةَ ، عَنْ فُلَيْحِ بْنِ سُلَيْمَانَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ.
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” آدمی اپنی موت کے بعد جو چیزیں دنیا میں چھوڑ جاتا ہے ان میں سے بہترین چیزیں تین ہیں : نیک اور صالح اولاد جو اس کے لیے دعائے خیر کرتی رہے ، صدقہ جاریہ جس سے نفع جاری رہے ، اس کا ثواب اسے پہنچتا رہے گا ، اور ایسا علم کہ اس کے بعد اس پر عمل کیا جاتا رہے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 241]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
t
|
|
|
قَالَ أَبُو الْحَسَنِ: وَحَدَّثَنَا أَبُو حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ سِنَانٍ الرَّهَاوِيُّ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ سِنَانٍ يَعْنِي أَبَاهُ ، حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ أَبِي أُنَيْسَةَ ، عَنْ فُلَيْحِ بْنِ سُلَيْمَانَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ.
اس سند سے ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ، وہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا پھر انہوں نے اسی کے ہم معنی حدیث بیان کی ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 241M]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
t
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ وَهْبِ بْنِ عَطِيَّةَ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا مَرْزُوقُ بْنُ أَبِي الْهُذَيْلِ ، حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ ، حَدَّثَنِي أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْأَغَرُّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ مِمَّا يَلْحَقُ الْمُؤْمِنَ مِنْ عَمَلِهِ، وَحَسَنَاتِهِ بَعْدَ مَوْتِهِ، عِلْمًا عَلَّمَهُ وَنَشَرَهُ، وَوَلَدًا صَالِحًا تَرَكَهُ، وَمُصْحَفًا وَرَّثَهُ، أَوْ مَسْجِدًا بَنَاهُ، أَوْ بَيْتًا لِابْنِ السَّبِيلِ بَنَاهُ، أَوْ نَهْرًا أَجْرَاهُ، أَوْ صَدَقَةً أَخْرَجَهَا مِنْ مَالِهِ فِي صِحَّتِهِ وَحَيَاتِهِ يَلْحَقُهُ مِنْ بَعْدِ مَوْتِهِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مومن کو اس کے اعمال اور نیکیوں میں سے اس کے مرنے کے بعد جن چیزوں کا ثواب پہنچتا رہتا ہے وہ یہ ہیں : علم جو اس نے سکھایا اور پھیلایا ، نیک اور صالح اولاد جو چھوڑ گیا ، وراثت میں قرآن مجید چھوڑ گیا ، کوئی مسجد بنا گیا ، یا مسافروں کے لیے کوئی مسافر خانہ بنوا دیا ہو ، یا کوئی نہر جاری کر گیا ، یا زندگی اور صحت و تندرستی کی حالت میں اپنے مال سے کوئی صدقہ نکالا ہو ، تو اس کا ثواب اس کے مرنے کے بعد بھی اسے ملتا رہے گا “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 242]
قال الشيخ الألباني:
حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ الوليد بن مسلم: مدلس ¤ وكان يدلس تدليس التسوية ولم يصرح بالسماع المسلسل ومرزوق بن أبي الھذيل: لين الحديث (تقريب: 6554) أي ضعيف و ضعفه الجمھور ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 383
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 13474، ومصباح الزجاجة: 96)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الوصایا 14 (2880)، مسند احمد (2/372)، سنن الدارمی/المقدمة 46 (578) (حسن)
|
|
|
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ الْمَدَنِيُّ ، حَدَّثَنِي إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ طَلْحَةَ ، عَنْ الْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أَفْضَلُ الصَّدَقَةِ أَنْ يَتَعَلَّمَ الْمَرْءُ الْمُسْلِمُ عِلْمًا، ثُمَّ يُعَلِّمَهُ أَخَاهُ الْمُسْلِمَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” سب سے بہتر اور افضل صدقہ یہ ہے کہ کوئی مسلمان علم دین سیکھے ، پھر اسے اپنے مسلمان بھائی کو سکھائے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 243]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ الحسن مدلس و عنعن ¤ والحديث ضعفه البو صيري ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 383
تخریج دارالدعوہ:
تفر د بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 12260، ومصباح الزجاجة: 97) (ضعیف) (اس سند میں اسحاق بن ابراہیم ضعیف ہیں، اور حسن بصری کا ابوہریر ہ رضی اللہ عنہ سے سماع ثابت نہیں ہے، نیز ملاحظہ ہو: الإرواء: 6/29)
|
|
|
43: بَابُ : مَنْ كَرِهَ أَنْ يُوطَأَ عَقِبَاهُ
باب: اس کا ذکر جس کو یہ ناپسند ہو کہ لوگ اس کے پیچھے پیچھے چلیں۔
|
|
|
قَالَ أَبُو الْحَسَنِ: وَحَدَّثَنَا حَازِمُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَ أَبُو الْحَسَنِ: وَحَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَصْرٍ الْهَمْدَانِيُّ صَاحِبُ الْقَفِيزِ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ.
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی بھی ٹیک لگا کر کھاتے ہوئے نہیں دیکھا گیا اور نہ کبھی آپ کے پیچھے پیچھے دو آدمی چلتے تھے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 244]
💡 وضاحت:
۱؎: «اتکاء» (ٹیک لگانے) سے مراد کیا ہے؟ اس میں اختلاف ہے، صحیح یہی ہے کہ ایک جانب جھک کر کھانا «اتکاء» ہے جیسے دائیں یا بائیں ہاتھ پر یا دیوار کے ساتھ ٹیک لگانا وغیرہ، ٹیک لگا کر کھانا منع ہے، گاؤ تکیہ لگا کر اس پر ٹیک دے کر کھانا، یا ایک ہاتھ زمین پر ٹیک کر کھانا، غرض ہر وہ صورت جس میں متکبرین و مکثرین (تکبر کرنے والوں، زیادہ کھانے والوں) کی مشابہت ہو منع ہے۔ ۲؎ ”نہ کبھی آپ کے پیچھے پیچھے دو آدمی چلتے تھے“ مطلب: جیسے دینی تعلیم سے غافل عام امراء اور مالداروں کے بارے میں مشاہدہ ہے کہ ان میں تکبر پایا جاتا ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
t
|
|
|
قَالَ أَبُو الْحَسَنِ: وَحَدَّثَنَا حَازِمُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَ أَبُو الْحَسَنِ: وَحَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَصْرٍ الْهَمْدَانِيُّ صَاحِبُ الْقَفِيزِ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ.
(امام ابن ماجہ رحمہ اللہ کے شاگرد ) ابوالحسن القطان نے اپنی عالی سند سے یہی حدیث حماد بن سلمہ کے دوسرے دو شاگردوں سے بھی بیان کی ہے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 244M]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
t
|
|
|
قَالَ أَبُو الْحَسَنِ: وَحَدَّثَنَا حَازِمُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَ أَبُو الْحَسَنِ: وَحَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَصْرٍ الْهَمْدَانِيُّ صَاحِبُ الْقَفِيزِ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ.
(امام ابن ماجہ رحمہ اللہ کے شاگرد ) ابوالحسن القطان نے اپنی عالی سند سے یہی حدیث حماد بن سلمہ کے دوسرے دو شاگردوں سے بھی بیان کی ہے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 244M]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
t
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنَا مُعَانُ بْنُ رِفَاعَةَ ، حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ يَزِيدَ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْقَاسِمَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ ، قَالَ: " مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي يَوْمٍ شَدِيدِ الْحَرّ نَحْوَ بَقِيعِ الْغَرْقَدِ، وَكَانَ النَّاسُ يَمْشُونَ خَلْفَهُ، فَلَمَّا سَمِعَ صَوْتَ النِّعَالِ وَقَرَ ذَلِكَ فِي نَفْسِهِ، فَجَلَسَ حَتَّى قَدَّمَهُمْ أَمَامَهُ لِئَلَّا يَقَعَ فِي نَفْسِهِ شَيْءٌ مِنَ الْكِبْرِ".
ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سخت گرمی کے دن میں بقیع غرقد نامی مقبرہ سے گزرے ، لوگ آپ کے پیچھے چل رہے تھے ، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جوتوں کی چاپ سنی تو آپ کے دل میں خیال آیا ، آپ بیٹھ گئے ، یہاں تک کہ ان کو اپنے سے آگے کر لیا کہ کہیں آپ کے دل میں کچھ تکبر نہ آ جائے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 245]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ علي بن يزيد: ضعيف ¤ ومعان بن رفاعة: لين الحديث كثير الإرسال (تقريب: 6747) ¤ والحديث ضعفه البوصيري ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 383
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 4915، ومصباح الزجاجة: 98)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/266) (ضعیف) (علی بن یزید الألہانی ضعیف و منکر الحدیث ہیں، نیز القاسم بھی ضعیف ہیں، اور اس سند پر کلام کے لئے ملاحظہ ہو حدیث نمبر: 228)
|
|
|
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ نُبَيْحٍ الْعَنَزِيِّ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم إِذَا مَشَى مَشَى أَصْحَابُهُ أَمَامَهُ وَتَرَكُوا ظَهْرَهُ لِلْمَلَائِكَةِ".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب چلتے تو صحابہ رضی اللہ عنہم آپ کے آگے آگے چلتے اور آپ کی پیٹھ فرشتوں کے لیے چھوڑ دیتے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 246]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ سفيان الثوري عنعن ¤ و روي الحاكم (4/ 281 ح 7753) عن جابر بن عبد اللّٰه رضي اللّٰه عنه قال قال رسول اللّٰه ﷺ: ((لا تمشوا بين يدي ولا خلفي فإن ھذا مقام الملائكة)) قال جابر: ”جئت أسعي إلي النبي ﷺ كأني شرارة“ وسنده صحيح ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 384
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 3121، ومصباح الزجاجة: 99)، مسند احمد (3/302، 332) (صحیح)
|
|
|
44: بَابُ : الْوَصَاةِ بِطَلَبَةِ الْعِلْمِ
باب: طالبان علم کی وصیت۔
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَارِثِ بْنِ رَاشِدٍ الْمِصْرِيُّ ، حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ عَبْدَةَ ، عَنْ أَبِي هَارُونَ الْعَبْدِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " سَيَأْتِيكُمْ أَقْوَامٌ يَطْلُبُونَ الْعِلْمَ، فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُمْ، فَقُولُوا لَهُمْ: مَرْحَبًا مَرْحَبًا بِوَصِيَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَاقْنُوهُمْ"، قُلْتُ لِلْحَكَمِ: " مَا اقْنُوهُمْ"؟ قَالَ: " عَلِّمُوهُمْ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” عنقریب تمہارے پاس کچھ لوگ علم حاصل کرنے آئیں گے ، لہٰذا جب تم ان کو دیکھو تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وصیت کے مطابق انہیں «مرحبا» ( خوش آمدید ) کہو ، اور انہیں علم سکھاؤ “ ۔ محمد بن حارث کہتے ہیں کہ میں نے حکم سے پوچھا کہ «اقنوهم» کے کیا معنی ہیں ، تو انہوں نے کہا : «علموهم» ، یعنی انہیں علم سکھلاؤ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 247]
قال الشيخ الألباني:
حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف ¤ إسناده ضعيف جدًا ¤ ترمذي (2650) وانظر الحديث الآتي (249) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 384
تخریج دارالدعوہ:
سنن الترمذی/العلم 4 (2650)، (تحفة الأشراف: 4262) (حسن) (سند میں ابوہارون العبدی ضعیف ومتروک راوی ہے، لیکن شواہد کی بناء پر یہ حسن ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: 280)
|
|
|
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرِ بْنِ زُرَارَةَ ، حَدَّثَنَا الْمُعَلَّى بْنُ هِلَالٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيل ، قَالَ: دَخَلْنَا عَلَى الْحَسَنِ نَعُودُهُ حَتَّى مَلَأْنَا الْبَيْتَ، فَقَبَضَ رِجْلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: دَخَلْنَا عَلَى أَبِي هُرَيْرَةَ نَعُودُهُ حَتَّى مَلَأْنَا الْبَيْتَ، فَقَبَضَ رِجْلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: دَخَلْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى مَلَأْنَا الْبَيْتَ وَهُوَ مُضْطَجِعٌ لِجَنْبِهِ، فَلَمَّا رَآنَا قَبَضَ رِجْلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: " إِنَّهُ سَيَأْتِيكُمْ أَقْوَامٌ مِنْ بَعْدِي يَطْلُبُونَ الْعِلْمَ، فَرَحِّبُوا بِهِمْ، وَحَيُّوهُمْ، وَعَلِّمُوهُمْ"، قَالَ: فَأَدْرَكْنَا وَاللَّهِ أَقْوَامًا مَا رَحَّبُوا بِنَا، وَلَا حَيَّوْنَا، وَلَا عَلَّمُونَا إِلَّا بَعْدَ أَنْ كُنَّا نَذْهَبُ إِلَيْهِمْ فَيَجْفُونَا.
اسماعیل ( اسماعیل بن مسلم ) کہتے ہیں کہ ہم حسن بصری کے پاس ان کی عیادت کے لیے گئے یہاں تک کہ ہم سے گھر بھر گیا ، انہوں نے اپنے پاؤں سمیٹ لیے پھر کہا : ہم ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس ان کی عیادت کے لیے گئے یہاں تک کہ ہم سے گھر بھر گیا ، تو انہوں نے اپنے پاؤں سمیٹ لیے ، اور کہا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے ، یہاں تک کہ ہم سے گھر بھر گیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم پہلو کے بل لیٹے ہوئے تھے ، جب آپ نے ہمیں دیکھا تو اپنے پاؤں سمیٹ لیے پھر فرمایا : ” عنقریب میرے بعد کچھ لوگ طلب علم کے لیے آئیں گے ، تو تم انہیں مرحبا کہنا ، مبارکباد پیش کرنا ، اور انہیں علم دین سکھانا “ ۔ پھر حسن بصری کہتے ہیں : قسم اللہ کی ( طلب علم میں ) ہمارا بہت سے ایسے لوگوں سے سابقہ پڑا کہ انہوں نے نہ تو ہمیں مرحبا کہا ، نہ ہمیں مبارکباد دی ، اور نہ ہی ہمیں علم دین سکھایا ، اس پر مزید یہ کہ جب ہم ان کے پاس جاتے تو وہ ہمارے ساتھ بری طرح پیش آتے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 248]
قال الشيخ الألباني:
موضوع
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف ¤ إسناده موضوع ¤ معلي بن ھلال: كذاب ¤ وقال الحافظ ابن حجر: اتفق النقاد علي تكذيبه (تقريب: 6807) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 384
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 12258، ومصباح الزجاجة: 100)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/ 414) (موضوع) (اس سند میں المعلی بن ہلال کی کئی لوگوں نے تکذیب کی ہے، اور اس پر وضع حدیث کا الزام لگایا ہے، اور اسماعیل بن مسلم ضعیف ہیں، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: 3349)
|
|
|
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنْقَزِيُّ ، أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي هَارُونَ الْعَبْدِيِّ ، قَالَ: كُنَّا إِذَا أَتَيْنَا أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، قَالَ: مَرْحَبًا بِوَصِيَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَنَا: " إِنَّ النَّاسَ لَكُمْ تَبَعٌ، وَإِنَّهُمْ سَيَأْتُونَكُمْ مِنْ أَقْطَارِ الْأَرْضِ يَتَفَقَّهُونَ فِي الدِّينِ، فَإِذَا جَاءُوكُمْ فَاسْتَوْصُوا بِهِمْ خَيْرًا".
ہارون عبدی کہتے ہیں کہ جب ہم ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کے پاس آتے تو وہ فرماتے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وصیت کے مطابق تمہیں خوش آمدید ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا : ” لوگ تمہارے پیچھے ہیں ، اور عنقریب وہ تمہارے پاس زمین کے مختلف گوشوں سے علم دین حاصل کرنے کے لیے آئیں گے ، لہٰذا جب وہ تمہارے پاس آئیں تو تم ان کے ساتھ بھلائی کرنا “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 249]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف ¤ ضعيف جدًا ¤ ترمذي(2650) وانظر الحديث السابق (247) ¤ أبو هارون العبدي: متروك ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 384
تخریج دارالدعوہ:
سنن الترمذی/العلم 4 (2650)، (تحفة الأشراف: 4262) (ضعیف) (سند میں ابوہارون العبدی ضعیف راوی ہے)
|
|
|
45: بَابُ : الاِنْتِفَاعِ بِالْعِلْمِ وَالْعَمَلِ بِهِ
باب: علم سے نفع اٹھانے اور اس پر عمل کرنے کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَال: كَانَ مِنْ دُعَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عِلْمٍ لَا يَنْفَعُ، وَمِنْ دُعَاءٍ لَا يُسْمَعُ، وَمِنْ قَلْبٍ لَا يَخْشَعُ، وَمِنْ نَفْسٍ لَا تَشْبَعُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعاؤں میں یہ دعا بھی تھی : «اللهم إني أعوذ بك من علم لا ينفع ومن دعا لا يسمع ومن قلب لا يخشع ومن نفس لا تشبع» ” اے اللہ ! میں اس علم سے پناہ مانگتا ہوں جو نفع نہ دے ، اور اس دعا سے جو سنی نہ جائے ، اور اس دل سے جو ( اللہ سے ) نہ ڈرے ، اور اس نفس سے جو آسودہ نہ ہوتا ہو “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 250]
💡 وضاحت:
۱؎: علم دین کا نفع یہی ہے کہ آدمی اس پر عمل کرے، اور خلق کو اس کی طرف بلائے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
سنن النسائی/الاستعاذة 17 (5469)، (تحفة الأشراف: 13046)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة 367 (1548)، مسند احمد (2/1261) (یہ حدیث مکرر ہے، دیکھئے: 3837) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُبَيْدَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " اللَّهُمَّ انْفَعْنِي بِمَا عَلَّمْتَنِي، وَعَلِّمْنِي مَا يَنْفَعُنِي، وَزِدْنِي عِلْمًا، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى كُلِّ حَالٍ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے : ” اے اللہ ! میرے لیے اس چیز کو نفع بخش اور مفید بنا دے جو تو نے مجھے سکھایا ہے ، مجھے وہ چیز سکھا دے جو میرے لیے نفع بخش اور مفید ہو ، اور میرا علم زیادہ کر دے ، اور ہر حال میں ساری تعریفیں اللہ کے لیے ہیں “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 251]
قال الشيخ الألباني:
صحيح دون الحمد
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ ترمذي (3599) وانظر الحديث الآتي (3833) ¤ ورواية المستدرك (1/ 510 ح 1879،سنده حسن) يغني عنه ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 384
تخریج دارالدعوہ:
سنن الترمذی/الدعوات129 (3599)، (تحفة الأشراف: 14356)، (یہ حدیث مکرر ہے، دیکھئے: 3833) (صحیح) ( الحمد لله على كل حال کا جملہ ثابت نہیں ہے، تراجع الألبانی: رقم: 462)
|
|
|
قَالَ أَبُو الْحَسَنِ: أَنْبَأَنَا أَبُو حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، حَدَّثَنَا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس شخص نے علم دین کو جس سے خالص اللہ تعالیٰ کی رضا مندی مقصود ہوتی ہے محض کسی دنیاوی فائدہ کے لیے سیکھا تو وہ قیامت کے دن جنت کی خوشبو تک نہیں پائے گا “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 252]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ:
t
|
|
|
قَالَ أَبُو الْحَسَنِ: أَنْبَأَنَا أَبُو حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، حَدَّثَنَا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ.
اس سند سے بھی فلیح بن سلیمان نے اسی طرح کی حدیث روایت کی ہے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 252M]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
t
|
|
|
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو كَرِبٍ الْأَزْدِيُّ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ طَلَبَ الْعِلْمَ لِيُمَارِيَ بِهِ السُّفَهَاءَ، أَوْ لِيُبَاهِيَ بِهِ الْعُلَمَاءَ، أَوْ لِيَصْرِفَ وُجُوهَ النَّاسِ إِلَيْهِ، فَهُوَ فِي النَّارِ»
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس شخص نے علم سیکھا تاکہ بے وقوفوں سے بحث و مباحثہ کرے ، یا علماء پر فخر کرے ، یا لوگوں کو اپنی جانب مائل کرے ، تو وہ جہنم میں ہو گا “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 253]
قال الشيخ الألباني:
حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، أَنْبَأَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا تَعَلَّمُوا الْعِلْمَ لِتُبَاهُوا بِهِ الْعُلَمَاءَ، وَلَا لِتُمَارُوا بِهِ السُّفَهَاءَ، وَلَا تَخَيَّرُوا بِهِ الْمَجَالِسَ، فَمَنْ فَعَلَ ذَلِكَ فَالنَّارُ النَّارُ".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم علم کو علماء پر فخر کرنے یا کم عقلوں سے بحث و تکرار کے لیے نہ سیکھو ، اور علم دین کو مجالس میں اچھے مقام کے حصول کا ذریعہ نہ بناؤ ، جس نے ایسا کیا تو اس کے لیے جہنم ہے ، جہنم “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 254]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی جہنم کا مستحق ہے، یا وہ علم اس کے حق میں خود آگ ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ ابن جريج وأبو الزبير مدلسان وعنعنا ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 384
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 2878، ومصباح الزجاجة: 102) (صحیح) (تراجع الألبانی رقم: 388، وصحیح الترغیب: 102، شواہد کی بناء پر یہ صحیح ہے)
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، أَنْبَأَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْكِنْدِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ أُنَاسًا مِنْ أُمَّتِي سَيَتَفَقَّهُونَ فِي الدِّينِ، وَيَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ، وَيَقُولُونَ: نَأْتِي الْأُمَرَاءَ فَنُصِيبُ مِنْ دُنْيَاهُمْ وَنَعْتَزِلُهُمْ بِدِينِنَا، وَلَا يَكُونُ ذَلِكَ كَمَا لَا يُجْتَنَى مِنَ الْقَتَادِ إِلَّا الشَّوْكُ، كَذَلِكَ لَا يُجْتَنَى مِنْ قُرْبِهِمْ إِلَّا"، قَال مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ: كَأَنَّهُ يَعْنِي: الْخَطَايَا.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بیشک میری امت کے کچھ لوگ دین کا علم حاصل کریں گے ، قرآن پڑھیں گے ، اور کہیں گے کہ ہم امراء و حکام کے پاس چلیں اور ان کی دنیا سے کچھ حصہ حاصل کریں ، پھر ہم اپنے دین کے ساتھ ان سے الگ ہو جائیں گے ، ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ) یہ بات ہونے والی نہیں ہے ، جس طرح کانٹے دار درخت سے کانٹا ہی چنا جا سکتا ہے ، اسی طرح ان کی قربت سے صرف... چنا جا سکتا ہے “ ۔ محمد بن صباح راوی نے کہا : گویا آپ نے ( گناہ ) مراد لیا ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 255]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ الوليد بن مسلم عنعن ¤ والحديث ضعفه البوصيري ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 385
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 5825، ومصباح الزجاجة: 104) (ضعیف) (حدیث کی سند میں مذکور راوی عبید اللہ بن أبی بردہ مقبول راوی ہیں، لیکن متابعت نہ ہونے سے لین الحدیث ہیں، یعنی ضعیف ہیں، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: 1250)
|
|
|
قَالَ مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيل: قَالَ عَمَّارٌ: لَا أَدْرِي مُحَمَّدٌ، أَوْ أَنَسُ بْنُ سِيرِينَ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” «جب الحزن» سے اللہ کی پناہ مانگو “ ، لوگوں نے پوچھا : اللہ کے رسول ! «جب الحزن» کیا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جہنم میں ایک وادی ہے جس سے جہنم ہر روز چار سو مرتبہ پناہ مانگتی ہے “ ، لوگوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! اس میں کون لوگ داخل ہوں گے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اسے ان قراء کے لیے تیار کیا گیا ہے جو اپنے اعمال میں ریاکاری کرتے ہیں ، اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک بدترین قاری وہ ہیں جو مالداروں کا چکر کاٹتے ہیں “ ۔ محاربی کہتے ہیں : امراء سے مراد ظالم حکمران ہیں ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 256]
💡 وضاحت:
(مصباح الزجاجۃ، تحت رقم: ۱۰۳) د/عوض شہری کے نسخہ میں یہ عبارت نہیں ہے جب کہ مصری نسخہ میں یہ یہاں، اور بعد میں نمبر (۲۵) کے بعد ہے، یہاں پر اس نص کا وجود غلط معلوم ہوتا ہے، اس کا مقام نمبر (۲۵۷) کے بعد ہی صحیح ہے)
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ ترمذي (2383) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 385
تخریج دارالدعوہ:
t
|
|
|
قَالَ مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيل: قَالَ عَمَّارٌ: لَا أَدْرِي مُحَمَّدٌ، أَوْ أَنَسُ بْنُ سِيرِينَ.
اس سند سے بھی معاویہ نصری نے جو ثقہ ہیں مذکورہ بالا حدیث کے ہم معنی روایت بیان کی ہے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 256M]
💡 وضاحت:
(مصباح الزجاجۃ، تحت رقم: ۱۰۳) د/عوض شہری کے نسخہ میں یہ عبارت نہیں ہے جب کہ مصری نسخہ میں یہ یہاں، اور بعد میں نمبر (۲۵) کے بعد ہے، یہاں پر اس نص کا وجود غلط معلوم ہوتا ہے، اس کا مقام نمبر (۲۵۷) کے بعد ہی صحیح ہے)
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
تخریج دارالدعوہ:
t
|
|
|
قَالَ مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيل: قَالَ عَمَّارٌ: لَا أَدْرِي مُحَمَّدٌ، أَوْ أَنَسُ بْنُ سِيرِينَ.
عمار کہتے ہیں : مجھے نہیں معلوم کہ ابومعاذ کے شیخ محمد ہیں یا انس بن سیرین ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 256M]
💡 وضاحت:
(مصباح الزجاجۃ، تحت رقم: ۱۰۳) د/عوض شہری کے نسخہ میں یہ عبارت نہیں ہے جب کہ مصری نسخہ میں یہ یہاں، اور بعد میں نمبر (۲۵) کے بعد ہے، یہاں پر اس نص کا وجود غلط معلوم ہوتا ہے، اس کا مقام نمبر (۲۵۷) کے بعد ہی صحیح ہے)
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
تخریج دارالدعوہ:
t
|
|
|
قَالَ مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيل: قَالَ عَمَّارٌ: لَا أَدْرِي مُحَمَّدٌ، أَوْ أَنَسُ بْنُ سِيرِينَ.
امام ابن ماجہ رحمہ اللہ نے ایک دوسری سند سے ( حدیث کے راوی ابن سیرین) کے بارے میں راوی کا تردد بھی بیان کیا ہے کہ وہ محمد بن سیرین ہے یا انس بن سیرین ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 256M]
💡 وضاحت:
(مصباح الزجاجۃ، تحت رقم: ۱۰۳) د/عوض شہری کے نسخہ میں یہ عبارت نہیں ہے جب کہ مصری نسخہ میں یہ یہاں، اور بعد میں نمبر (۲۵) کے بعد ہے، یہاں پر اس نص کا وجود غلط معلوم ہوتا ہے، اس کا مقام نمبر (۲۵۷) کے بعد ہی صحیح ہے)
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
تخریج دارالدعوہ:
t
|
|
|
قَالَ أَبُو الْحَسَنِ: حَدَّثَنَا حَازِمُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ نُمَيْرٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ النَّصْرِيِّ، وَكَانَ ثِقَةً، ثُمَّ ذَكَرَ الْحَدِيثَ نَحْوَهُ بِإِسْنَادِهِ.
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا اگر اہل علم علم کی حفاظت کرتے ، اور اس کو اس کے اہل ہی کے پاس رکھتے تو وہ اپنے زمانہ والوں کے سردار ہوتے ، لیکن ان لوگوں نے دنیا طلبی کے لیے اہل دنیا پر علم کو نچھاور کیا ، تو ان کی نگاہوں میں ذلیل ہو گئے ، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : ” جس نے اپنی تمام تر سوچوں کو ایک سوچ یعنی آخرت کی سوچ بنا لیا ، تو اللہ تعالیٰ اس کے دنیاوی غموں کے لیے کافی ہو گا ، اور جس کی تمام تر سوچیں دنیاوی احوال میں پریشان رہیں ، تو اللہ تعالیٰ کو کچھ پرواہ نہیں کہ وہ کس وادی میں ہلاک ہو جائے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 257]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی اس حالت میں اللہ تعالیٰ اس سے اپنی مدد اٹھا لے گا۔
قال الشيخ الألباني:
حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف ¤ إسناده ضعيف جدًا ¤ وانظر الحديث الآتي (4106) ¤ نهشل بن سعيد: متروك،كذبه إسحاق بن راهويه (تقريب: 7198) ¤ وروي ابن أبي عاصم في الزھد (166) بسند صحيح عن ابن عمر قال قال رسول اللّٰه ﷺ: ((من جعل الھموم ھمًا واحدًا كفاه اللّٰه ھمه من أمر دنياه وآخرته وجعل غناه في قلبه ومن تشعبت به الھموم فلا يبالي اللّٰه في أي أودية الدنيا ھلك)) و ھذا يغني عنه۔ ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 385
تخریج دارالدعوہ:
(مصباح الزجاجة: 105، ط، مصریہ، وموطا امام مالک/ الجامعة الإسلامیة)
|
|
|
قَالَ أَبُو الْحَسَنِ: حَدَّثَنَا حَازِمُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ نُمَيْرٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ النَّصْرِيِّ، وَكَانَ ثِقَةً، ثُمَّ ذَكَرَ الْحَدِيثَ نَحْوَهُ بِإِسْنَادِهِ.
ابن نمیر نے معاویہ نصری ثقہ سے اس اسناد سے اسی طرح حدیث روایت کی ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 257M]
قال الشيخ الألباني:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
(مصباح الزجاجة: 105، ط، مصریہ، وموطا امام مالک/ الجامعة الإسلامیة)
|
|
|
حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ ، وَأَبُو بَدْرٍ عَبَّادُ بْنُ الْوَلِيدِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ الْهُنَائِيُّ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ الْهُنَائِيُّ ، عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ دُرَيْكٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ طَلَبَ الْعِلْمَ لِغَيْرِ اللَّهِ، أَوْ أَرَادَ بِهِ غَيْرَ اللَّهِ، فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس شخص نے غیر اللہ کے لیے علم طلب کیا ، یا اللہ کے علاوہ کی ( رضا مندی ) چاہی ، تو وہ اپنا ٹھکانا جہنم کو بنا لے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 258]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ ترمذي (2655) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 385
تخریج دارالدعوہ:
سنن الترمذی/العلم 6 (2655)، (تحفة الأشراف: 6712) (ضعیف) (خالد بن دریک کا سماع ابن عمر رضی اللہ عنہما سے نہیں ہے، اس لئے یہ روایت انقطاع کی وجہ سے ضعیف ہے)
|
|
|
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَاصِمٍ الْعَبَّادَانِيُّ ، حَدَّثَنَا بَشِيرُ بْنُ مَيْمُونٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَشْعَثَ بْنَ سَوَّارٍ ، عَنْ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَا تَعَلَّمُوا الْعِلْمَ لِتُبَاهُوا بِهِ الْعُلَمَاءَ، أَوْ لِتُمَارُوا بِهِ السُّفَهَاءَ، أَوْ لِتَصْرِفُوا وُجُوهَ النَّاسِ إِلَيْكُمْ، فَمَنْ فَعَلَ ذَلِكَ فَهُوَ فِي النَّارِ".
حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : ” تم علم کو علماء پر فخر کرنے یا کم عقلوں سے بحث و تکرار کرنے یا لوگوں کو اپنی جانب متوجہ کرنے کے لیے نہ سیکھو ، جس نے ایسا کیا اس کا ٹھکانا جہنم میں ہو گا “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 259]
قال الشيخ الألباني:
حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف ¤ ضعيف ¤ قال البوصيري: ”ھذا إسناد ضعيف“ بشير بن ميمون: متروك متھم (تقريب: 725) وأشعث بن سوار: ضعيف ¤ وللحديث شواھد ضعيفة ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 385
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 3382، ومصباح الزجاجة: 106) (حسن) (سند میں ''بشیر بن میمون'' متروک ومتہم اور ''اشعث بن سوار'' دونوں ضعیف ہیں، اس لئے یہ سند سخت ضعیف ہے، لیکن شواہد ومتابعات کی بناء پر حدیث صحیح ہے، ملاحظہ ہو: تخريج اقتضاء العلم، للخطیب البغدادی: 100- 102، وصحيح الترغيب: 106-110)
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل ، أَنْبَأَنَا وَهْبُ بْنُ إِسْمَاعِيل الْأَسَدِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيُّ ، عَنْ جَدِّهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ تَعَلَّمَ الْعِلْمَ لِيُبَاهِيَ بِهِ الْعُلَمَاءَ، وَيُجَارِيَ بِهِ السُّفَهَاءَ، وَيَصْرِفَ بِهِ وُجُوهَ النَّاسِ إِلَيْهِ، أَدْخَلَهُ اللَّهُ جَهَنَّمَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے علم کو علماء پر فخر کرنے ، اور بیوقوفوں سے بحث و تکرار کرنے ، اور لوگوں کو اپنی جانب متوجہ کرنے کے لیے سیکھا ، اللہ اسے جہنم میں داخل کرے گا “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 260]
قال الشيخ الألباني:
حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف ¤ ضعيف ¤ قال البوصيري: ”ھذا إسناد ضعيف۔لإ تفاقھم علٰي ضعف عبد اللّٰه بن سعيد“ وھو متروك ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 385
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 14337، ومصباح الزجاجة: 107)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/338) (حسن) (سند میں ''عبد اللہ بن سعید المقبری'' ضعیف راوی ہیں، لیکن شواہد کے بناء پر حدیث صحیح ہے، کما تقدم)
|
|
|
46: بَابُ : مَنْ سُئِلَ عَنْ عِلْمٍ فَكَتَمَهُ
باب: علم چھپانے پر وارد وعید کا بیان۔
|
|
|
قال أبو الحسن أيضا وحدثنا إبراهيم بن نصر قال: حدثنا أبو نعيم قال: حدثنا عمارة بن زاذان فذكر نحوه.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص بھی علم دین یاد رکھتے ہوئے اسے چھپائے ، تو اسے قیامت کے دن آگ کی لگام پہنا کر لایا جائے گا “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 261]
💡 وضاحت:
(یہ سند شیخ مشہور بن حسن سلمان کے نسخے میں نہیں ہے، بلکہ یہ شیخ علی حسن عبدالحمید اثری کے نسخے میں صفحہ نمبر (۱۴۷) پر موجود ہے)
قال الشيخ الألباني:
حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
t
|
|
|
قال أبو الحسن أيضا وحدثنا إبراهيم بن نصر قال: حدثنا أبو نعيم قال: حدثنا عمارة بن زاذان فذكر نحوه.
اس سند سے بھی عمارہ بن زاذان نے اسی طرح کی حدیث ذکر کی ہے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 261M]
💡 وضاحت:
(یہ سند شیخ مشہور بن حسن سلمان کے نسخے میں نہیں ہے، بلکہ یہ شیخ علی حسن عبدالحمید اثری کے نسخے میں صفحہ نمبر (۱۴۷) پر موجود ہے)
قال الشيخ الألباني:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
t
|
|
|
قال أبو الحسن أيضا وحدثنا إبراهيم بن نصر قال: حدثنا أبو نعيم قال: حدثنا عمارة بن زاذان فذكر نحوه.
اس سند سے بھی عمارہ بن زاذان نے اسی طرح کی حدیث ذکر کی ہے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 261M]
💡 وضاحت:
(یہ سند شیخ مشہور بن حسن سلمان کے نسخے میں نہیں ہے، بلکہ یہ شیخ علی حسن عبدالحمید اثری کے نسخے میں صفحہ نمبر (۱۴۷) پر موجود ہے)
قال الشيخ الألباني:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
t
|
|
|
حدثنا أبو مروان العثماني محمد بن عثمان حدثنا إبراهيم بن سعد عن الزهري عن عبد الرحمن بن هرمز الأعرج أنه سمع أبا هريرة يقول والله لولا آيتان في كتاب الله تعالى ما حدثت عنه- يعني عن النبي صلى الله عليه وسلم- شيئا أبدا لولا قول الله: {إن الذين يكتمون ما أنزل الله من الكتاب} إلى آخر الآيتين.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اللہ کی قسم ! اگر قرآن کریم کی دو آیتیں نہ ہوتیں تو میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کبھی بھی کوئی نہ حدیث بیان کرتا ، اور دو آیتیں یہ ہیں : «إن الذين يكتمون ما أنزل الله من الكتاب» إلى آخر الآيتين ” بیشک جو لوگ اللہ کی اتاری ہوئی کتاب کو چھپاتے ہیں اور اس کے بدلہ میں معمولی قیمت لیتے ہیں ، وہ اپنے پیٹ میں جہنم کی آگ بھر رہے ہیں ، قیامت کے دن اللہ نہ تو ان سے بات کرے گا اور نہ ہی ان کو معاف کرے گا ، اور ان کو سخت عذاب پہنچے گا ، یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے گمراہی کو ہدایت کے بدلے خرید لیا اور عذاب کو مغفرت کے بدلے ، پس وہ کیا ہی صبر کرنے والے ہیں جہنم پر “ ( سورة البقرة : 174-175 ) ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 262]
💡 وضاحت:
۱؎: آیت کا سیاق یہ ہے: «إن الذين يكتمون ما أنزل الله من الكتاب ويشترون به ثمنا قليلا أولئك ما يأكلون في بطونهم إلا النار ولا يكلمهم الله يوم القيامة ولا يزكيهم ولهم عذاب أليم (۱۷۴) أولئك الذين اشتروا الضلالة بالهدى والعذاب بالمغفرة فمآ أصبرهم على النار (۱۷۵)» (سورة البقرة: 174-175)، یہ آیات اگرچہ یہود کے متعلق ہیں، جنہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی توراۃ میں موجود صفات چھپا لیں، مگر قرآن کے عمومی سیاق کا حکم شریعت کے احکام کو چھپانے والوں کو شامل ہے، علماء کے یہاں مشہور قاعدہ ہے: «العبرة بعموم اللفظ لا بخصوص السبب» یعنی: ”اصل اعتبار الفاظ کے عموم سے استدلال کا ہے، سبب نزول سے وہ خاص نہیں ہے“۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/العلم 42 (118)، المزارعة 21 (2350)، الاعتصام 22 (7354)، صحیح مسلم/الفضائل 35 (2492)، سنن النسائی/الکبری (5878)، (تحفة الأشراف: 13957)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/240، 274) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ أَبِي السَّرِيِّ الْعَسْقَلَانِيُّ ، حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ تَمِيمٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ السَّرِيِّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا لَعَنَ آخِرُ هَذِهِ الْأُمَّةِ أَوَّلَهَا فَمَنْ كَتَمَ حَدِيثًا فَقَدْ كَتَمَ مَا أَنْزَلَ اللَّهُ".
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب اس امت کے خلف ( بعد والے ) اپنے سلف ( پہلے والوں ) کو برا بھلا کہنے لگیں ، تو جس شخص نے اس وقت ایک حدیث بھی چھپائی اس نے اللہ کا نازل کردہ فرمان چھپایا “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 263]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی وہ «إن الذين يكتمون ما أنزل الله» کی آیت جو اوپر گذری ہے اس کا مستحق ٹھہرا۔
قال الشيخ الألباني:
ضعيف جدا
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف ¤ موضوع ¤ عبد اللّٰه بن السري: لم يدرك ابن المنكدر،بل سمع ھذا الحديث من سعيد بن زكريا المدائني عن عنبسة بن عبد الرحمٰن (متروك،رماه أبو حاتم بالوضع / ضعيف سنن الترمذي: 1856) عن محمد بن زاذان (متروك / ضعيف سنن الترمذي:2699) عن ابن المنكدر به ¤ انظر المعجم الأوسط للطبراني (432) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 385
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 3051، ومصباح الزجاجة: 108) (ضعیف جدًا) (سند میں '' حسین بن أبی السر ی '' سخت ضعیف ہیں، اور عبد اللہ بن السری صدق وزہد سے متصف ہو تے ہوئے عجائب ومناکیر روایت کرنے میں منفرد ہیں، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: 1507)
|
|
|
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْأَزْهَرِ ، حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ جَمِيلٍ ، حَدَّثَنِي عُمَرَ بْنُ سُلَيْمٍ ، حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ سُئِلَ عَنْ عِلْمٍ فَكَتَمَهُ، أُلْجِمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِلِجَامٍ مِنْ نَارٍ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : ” جس شخص سے دین کے کسی مسئلہ کے متعلق پوچھا گیا ، اور باوجود علم کے اس نے اسے چھپایا ، تو قیامت کے دن اسے آگ کی لگام پہنائی جائے گی “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 264]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 1707، ومصباح الزجاجة: 109) (صحیح) (اس کی سند میں یوسف بن ابراہیم ضعیف ہیں، لیکن شواہد کی بناء پر حدیث صحیح ہے، ملاحظہ ہو: المشکاة: 223، 224)
|
|
|
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ حِبَّانَ بْنِ وَاقِدٍ الثَّقَفِيُّ أَبُو إِسْحَاق الْوَاسِطِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَاصِمٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ دَابٍ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ كَتَمَ عِلْمًا مِمَّا يَنْفَعُ اللَّهُ بِهِ فِي أَمْرِ النَّاسِ فِي الدِّينِ، أَلْجَمَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِلِجَامٍ مِنَ النَّارِ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس شخص نے کوئی ایسا علم چھپایا جس سے اللہ تعالیٰ لوگوں کے دینی امور میں نفع دیتا ہے ، تو اللہ اسے قیامت کے دن آگ کی لگام پہنائے گا “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 265]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف جدا
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف ¤ إسناده ضعيف جدًا ¤ قال البوصيري: ”ھذا إسناد ضعيف فيه محمد بن دأب،كذبه أبو زرعة وغيره ونسب إلي وضع الحديث“ ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 385
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 4127، ومصباح الزجاجة: 110) (ضعیف جدًا) (سند میں محمد بن داب سخت ضعیف ہیں، اور أبوزرعہ وغیرہ نے تکذیب کی ہے، اور وضع حدیث سے منسوب کیا ہے)
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَفْصِ بْنِ هِشَامِ بْنِ زَيْدِ بْنِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِبْرَاهِيمَ إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْكَرَابِيسِيُّ ، عَنْ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ سُئِلَ عَنْ عِلْمٍ فَكَتَمَهُ، أُلْجِمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِلِجَامٍ مِنْ نَارٍ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس شخص سے دین کا کوئی مسئلہ پوچھا گیا ، اور جاننے کے باوجود اس نے اس کو چھپایا ، تو قیامت کے دن اسے آگ کی لگام پہنائی جائے گی “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 266]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 14477) (صحیح)
|
|