سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 180
Sunan Ibn Majah 180
کتاب #-: (ابواب کتاب: سنت کی اہمیت و فضیلت)
35: بَابُ : فِيمَا أَنْكَرَتِ الْجَهْمِيَّةُ
باب: جہمیہ کا انکار صفات باری تعالیٰ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَنْبَأَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ ، عَنْ وَكِيعِ بْنِ حُدُسٍ ، عَنْ عَمِّهِ أَبِي رَزِينٍ ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَكُلُّنَا يَرَى للَّهَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ؟ وَمَا آيَةُ ذَلِكَ فِي خَلْقِهِ؟ قَالَ: " يَا أَبَا رَزِينٍ أَلَيْسَ كُلُّكُمْ يَرَى الْقَمَرَ مُخْلِيًا بِهِ"؟ قَالَ: قُلْتُ: بَلَى، قَالَ: " فَاللَّهُ أَعْظَمُ وَذَلِكَ آيَتُهُ فِي خَلْقِهِ".
ابورزین رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! کیا ہم اللہ تعالیٰ کو قیامت کے دن دیکھیں گے ؟ اور اس کی اس کے مخلوق میں کیا نشانی ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ابورزین ! کیا تم میں سے ہر ایک چاند کو اکیلا بلا کسی روک ٹوک کے نہیں دیکھ لیتا ہے ؟ “ ، میں نے کہا : کیوں نہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ اس سے زیادہ عظیم ہے ، اور اس کی مخلوق میں یہ ( چاند ) اس کے دیدار کی ایک نشانی ہے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 180]
قال الشيخ الألباني:
حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/السنة 20 (4731)، (تحفة الأشراف: 11175)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/11، 12) (حسن) (وکیع بن حدس مقبول عند المتابعہ ہیں، او ران کی متابعت موجود ہے، ملاحظہ ہو: السنة لابن أبی عاصم (468)، شیخ الاسلام ابن تیمیة وجھودہ فی الحدیث وعلومہ (38) للدکتور عبد الرحمن الفریوائی)