سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 197
Sunan Ibn Majah 197
کتاب #-: (ابواب کتاب: سنت کی اہمیت و فضیلت)
35: بَابُ : فِيمَا أَنْكَرَتِ الْجَهْمِيَّةُ
باب: جہمیہ کا انکار صفات باری تعالیٰ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاق ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " يَمِينُ اللَّهِ مَلْأَى لَا يَغِيضُهَا شَيْءٌ، سَحَّاءُ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ، وَبِيَدِهِ الْأُخْرَى الْمِيزَانُ يَرْفَعُ الْقِسْطَ وَيَخْفِضُ"، قَالَ: أَرَأَيْتَ مَا أَنْفَقَ مُنْذُ خَلَقَ اللَّهُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ؟ فَإِنَّهُ لَمْ يَنْقُصْ مِمَّا فِي يَدَيْهِ شَيْئًا".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ کا دایاں ہاتھ بھرا ہوا ہے ، رات دن خرچ کرتا رہتا ہے پھر بھی اس میں کوئی کمی نہیں ہوتی ہے ، اس کے دوسرے ہاتھ میں میزان ہے ، وہ اسے پست و بالا کرتا ہے “ ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ذرا غور کرو کہ آسمان و زمین کی تخلیق ( پیدائش ) سے لے کر اس نے اب تک کتنا خرچ کیا ہو گا ؟ لیکن جو کچھ اس کے دونوں ہاتھ میں ہے اس میں سے کچھ بھی نہ گھٹا “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 197]
💡 وضاحت:
۱؎: رات دن کی سخاوت کے باوجود اللہ عزوجل کے خزانے سے کچھ بھی کمی نہیں ہوئی، اسی کے پاس سارے خزانے ہیں، اس نے کسی کو نہیں سونپے، آسمان و زمین والوں کا رزق اللہ تبارک و تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے، وہی سب کو رزق دیتا ہے، حلال ہو یا حرام، اہل سنت کا یہی مذہب ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
سنن الترمذی/تفسیر القرآن 4 (3045)، (تحفة الأشراف: 13863)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/تفسیر ھود 2 (4684)، التوحید 19 (4711)، صحیح مسلم/الزکاة 11 (993)، مسند احمد (2/500) (صحیح)