سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 250
Sunan Ibn Majah 250
کتاب #-: (ابواب کتاب: سنت کی اہمیت و فضیلت)
45: بَابُ : الاِنْتِفَاعِ بِالْعِلْمِ وَالْعَمَلِ بِهِ
باب: علم سے نفع اٹھانے اور اس پر عمل کرنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَال: كَانَ مِنْ دُعَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عِلْمٍ لَا يَنْفَعُ، وَمِنْ دُعَاءٍ لَا يُسْمَعُ، وَمِنْ قَلْبٍ لَا يَخْشَعُ، وَمِنْ نَفْسٍ لَا تَشْبَعُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعاؤں میں یہ دعا بھی تھی : «اللهم إني أعوذ بك من علم لا ينفع ومن دعا لا يسمع ومن قلب لا يخشع ومن نفس لا تشبع» ” اے اللہ ! میں اس علم سے پناہ مانگتا ہوں جو نفع نہ دے ، اور اس دعا سے جو سنی نہ جائے ، اور اس دل سے جو ( اللہ سے ) نہ ڈرے ، اور اس نفس سے جو آسودہ نہ ہوتا ہو “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 250]
💡 وضاحت:
۱؎: علم دین کا نفع یہی ہے کہ آدمی اس پر عمل کرے، اور خلق کو اس کی طرف بلائے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
سنن النسائی/الاستعاذة 17 (5469)، (تحفة الأشراف: 13046)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة 367 (1548)، مسند احمد (2/1261) (یہ حدیث مکرر ہے، دیکھئے: 3837) (صحیح)