سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 215
Sunan Ibn Majah 215
کتاب #-: (ابواب کتاب: سنت کی اہمیت و فضیلت)
38: بَابُ : فَضْلِ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ
باب: قرآن سیکھنے اور سکھانے والوں کے فضائل و مناقب۔
حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ أَبُو بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بُدَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ لِلَّهِ أَهْلِينَ مِنَ النَّاسِ"، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ هُمْ؟ قَالَ: " هُمْ أَهْلُ الْقُرْآنِ أَهْلُ اللَّهِ وَخَاصَّتُهُ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” لوگوں میں سے کچھ اللہ والے ہیں “ ، لوگوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! وہ کون لوگ ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” وہ قرآن پڑھنے پڑھانے والے ہیں ، جو اللہ والے اور اس کے نزدیک خاص لوگ ہیں “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 215]
💡 وضاحت:
۱ ؎: قرآن والے یعنی خشوع و خضوع اور آداب کے ساتھ اس کی تلاوت کرنے والے، اور اس کے وعدہ اور وعید پر ایمان لانے والے، اور اس کے احکام پر چلنے والے اللہ تعالیٰ کے خاص لوگ ہیں۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 241، ومصباح الزجاجة: 79)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الکبری 26 (8031)، مسند احمد (3 /127، 128، 242)، سنن الدارمی/فضائل القرآن 1 (3329) (صحیح)