سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 208
Sunan Ibn Majah 208
کتاب #-: (ابواب کتاب: سنت کی اہمیت و فضیلت)
36: بَابُ : مَنْ سَنَّ سُنَّةً حَسَنَةً أَوْ سَيِّئَةً
باب: (دین میں) اچھے یا برے طریقہ کے موجد کا انجام۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ لَيْثٍ ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا مِنْ دَاعٍ يَدْعُو إِلَى شَيْءٍ، إِلَّا وُقِفَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَازِمًا لِدَعْوَتِهِ مَا دَعَا إِلَيْهِ، وَإِنْ دَعَا رَجُلٌ رَجُلًا".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو کوئی بھی کسی چیز کی طرف بلاتا ہے ، قیامت کے دن اس حال میں کھڑا کیا جائے گا کہ وہ اپنی دعوت کو لازم پکڑے ہو گا ، چاہے کسی ایک شخص نے ایک ہی شخص کو بلایا ہو “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 208]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف ¤ قال البوصيري: ”ھذا إسناد ضعيف،ليث ھو ابن أبي سليم: ضعفه الجمهور“ وھو ضعيف مدلس ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 381
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 12221، ومصباح الزجاجة: 77) (ضعیف) (سند میں لیث بن أبی سلیم ضعیف راوی ہیں)