سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 210
Sunan Ibn Majah 210
کتاب #-: (ابواب کتاب: سنت کی اہمیت و فضیلت)
37: بَابُ : مَنْ أَحْيَا سُنَّةً قَدْ أُمِيتَتْ
باب: مردہ سنت کو زندہ کرنے والے کا ثواب۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ ، حَدَّثَنِي كَثِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ أَحْيَا سُنَّةً مِنْ سُنَّتِي قَدْ أُمِيتَتْ بَعْدِي، فَإِنَّ لَهُ مِنَ الْأَجْرِ مِثْلَ أَجْرِ مَنْ عَمِلَ بِهَا مِنَ النَّاسِ، لَا يَنْقُصُ مِنْ أُجُورِ النَّاسِ شَيْئًا، وَمَنِ ابْتَدَعَ بِدْعَةً لَا يَرْضَاهَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ، فَإِنَّ عَلَيْهِ مِثْلَ إِثْمِ مَنْ عَمِلَ بِهَا مِنَ النَّاسِ، لَا يَنْقُصُ مِنْ آثَامِ النَّاسِ شَيْئًا".
عوف مزنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : ” جس شخص نے میری سنتوں میں سے کسی ایسی سنت کو زندہ کیا جو میرے بعد مردہ ہو چکی تھی تو اسے اتنا ثواب ملے گا جتنا اس پر عمل کرنے والوں کو ملے گا ، اور ان کے ثوابوں میں کچھ کمی نہ ہو گی ، اور جس نے کوئی ایسی بدعت ایجاد کی جسے اللہ اور اس کے رسول پسند نہیں کرتے ہیں تو اسے اتنا گناہ ہو گا جتنا اس پر عمل کرنے والوں کو ہو گا ، اس سے ان کے گناہوں میں کوئی کمی نہ ہو گی “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 210]
💡 وضاحت:
۱؎: مردہ یعنی متروک سنتوں کو زندہ کرنے کا ثواب بہت ہے، اس حدیث میں مردہ سنتوں کے زندہ کرنے والوں کے لئے بشارت ہے، ساتھ ہی بدعات کو رواج دینے والوں اور ان پر عمل کرنے والوں کو جو وبال ہو گا اس کا بھی بیان ہے، اللہ تعالیٰ ہم سب کو بدعتوں اور بدعتیوں سے محفوظ رکھے، آمین۔
قال الشيخ الألباني:
ضعيف جدا
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف جدًا ¤ كثير العوفي: متروك ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 382
تخریج دارالدعوہ:
انظر ما قبلہ (صحیح) (سند میں کثیر بن عبد اللہ ضعیف راوی ہیں، لیکن کثرت طرق سے یہ صحیح ہے کماتقدم)