سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 167
Sunan Ibn Majah 167
کتاب #-: (ابواب کتاب: سنت کی اہمیت و فضیلت)
34: بَابٌ في ذِكْرِ الْخَوَارِجِ
باب: خوارج کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل ابْنُ عُلَيَّة ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ عَبِيدَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، قَالَ: وَذَكَرَ الْخَوَارِجَ، فَقَالَ: " فِيهِمْ رَجُلٌ مُخْدَجُ الْيَدِ، أَوْ مُودَنُ الْيَدِ، أَوْ مَثْدَنُ الْيَدِ، وَلَوْلَا أَنْ تَبْطَرُوا لَحَدَّثْتُكُمْ بِمَا وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ يَقْتُلُونَهُمْ عَلَى لِسَانِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" قُلْتُ: أَنْتَ سَمِعْتَهُ مِنْ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِي، وَرَبِّ الْكَعْبَةِ ثَلاثَ مَرَّاتٍ.
عبیدہ فرماتے ہیں کہ علی رضی اللہ عنہ نے خوارج کا ذکر کیا ، اور ذکر کرتے ہوئے کہا : ان میں ایک آدمی ناقص ہاتھ کا ہے ۱؎ ، اور اگر مجھے ڈر نہ ہوتا کہ تم خوشی سے اترانے لگو گے تو میں تمہیں ضرور بتاتا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کی زبان سے ان کے قاتلین کے لیے کس ثواب اور انعام و اکرام کا وعدہ فرمایا ہے ، میں نے کہا : کیا آپ نے یہ بات محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے ؟ کہا : ہاں ، کعبہ کے رب کی قسم ! ( ضرور سنی ہے ) ، اسے تین مرتبہ کہا ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 167]
💡 وضاحت:
۱؎: راوی کو شک ہے کہ «مخدج اليد أو مودن اليد أو مثدون اليد» میں سے کون سا لفظ استعمال کیا ہے، جب کہ ان سب کے معنی تقریباً برابر ہیں، یعنی ناقص ہاتھ۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الزکاة 48 (1066)، سنن ابی داود/السنة 31 (4763)، (تحفة الأشراف: 10233)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/ 13، 65، 83، 95، 113، 122 144 145) (صحیح)