سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 169
Sunan Ibn Majah 169
کتاب #-: (ابواب کتاب: سنت کی اہمیت و فضیلت)
34: بَابٌ في ذِكْرِ الْخَوَارِجِ
باب: خوارج کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، قَالَ: قُلْتُ لِأَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، هَلْ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُ فِي الْحَرُورِيَّةِ شَيْئًا؟، فَقَالَ: سَمِعْتُهُ يَذْكُرُ" قَوْمًا يَتَعَبَّدُونَ، يَحْقِرُ أَحَدُكُمْ صَلَاتَهُ مَعَ صَلَاتِهِمْ، وَصَوْمَهُ مَعَ صَوْمِهِمْ، يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ، أَخَذَ سَهْمَهُ فَنَظَرَ فِي نَصْلِهِ فَلَمْ يَرَ شَيْئًا، فَنَظَرَ فِي رِصَافِهِ فَلَمْ يَرَ شَيْئًا، فَنَظَرَ فِي قِدْحِهِ فَلَمْ يَرَ شَيْئًا، فَنَظَرَ فِي الْقُذَذِ فَتَمَارَى، هَلْ يَرَى شَيْئًا أَمْ لَا؟".
ابوسلمہ کہتے ہیں کہ میں نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے کہا : کیا آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو حروریہ ۱؎ ( خوارج ) کے بارے میں کچھ ذکر کرتے ہوئے سنا ہے ؟ انہوں نے کہا : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک ایسی قوم کا ذکر کرتے ہوئے سنا ہے جو بڑی عبادت گزار ہو گی ، اس کی نماز کے مقابلہ میں تم میں سے ہر ایک شخص اپنی نماز کو کمتر اور حقیر سمجھے گا ۲؎ ، وہ دین سے ایسے ہی نکل جائیں گے جس طرح تیر شکار کے جسم سے نکل جاتا ہے کہ تیر انداز اپنا تیر لے کر اس کا پھل دیکھتا ہے ، تو اسے ( خون وغیرہ ) کچھ بھی نظر نہیں آتا ، پھر اس کے پھل کو دیکھتا ہے تو بھی کچھ نظر نہیں آتا ، پھر اپنے تیر کی لکڑی کو دیکھتا ہے تو بھی کچھ نظر نہیں آتا ، پھر وہ تیر کے پر کو دیکھتا ہے تو شک میں مبتلا ہوتا ہے کہ آیا اسے کچھ اثر دکھایا نہیں ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 169]
💡 وضاحت:
۱؎: «حروریہ» : حروراء کی طرف نسبت ہے جو کوفہ کے قریب ایک بستی کا نام ہے اس سے مراد خوارج ہیں، انہیں «حروریہ» اس لئے کہا جاتا ہے کہ انہوں نے اسی بستی سے خروج کیا تھا۔ ۲؎: ظاہری عبادت و ریاضت اگر عقیدہ اسلام سے الگ ہو کر کی جا رہی ہے تو وہ بیکار محض ہے، یہ بھی پتہ چلا کہ بدعت کی نحوست سے نماز و روزہ جیسی اہم عبادتیں بھی مقبول نہیں ہوتیں، تیر شکار سے پار نکل جانے میں جس قدر سرعت رکھتا ہے، اہل بدعت خصوصاً خوارج دین سے خارج ہونے میں سریع تر ہیں۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الأنبیاء 6 (3344)، المناقب 25 (3610)، المغازي 62 (4351)، تفسیر التوبہ 10 (4667)، فضائل القرآن 36 (5058)، الأدب 95 (6163)، الاستتابة 7 (6933)، التوحید 23 (7432)، صحیح مسلم/الزکاة 47 (1064)، (تحفة الأشراف: 4421)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/السنة 31 (4764)، سنن النسائی/الزکاة 79 (2579)، التحریم 22 (4106)، موطا امام مالک/القرآن 4 (10)، مسند احمد (3/ 56، 60، 65، 68، 72، 73) (صحیح)