سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 240
Sunan Ibn Majah 240
کتاب #-: (ابواب کتاب: سنت کی اہمیت و فضیلت)
42: بَابُ : ثَوْابِ مُعَلِّمِ النَّاسِ الْخَيْرَ
باب: لوگوں کو خیر و بھلائی سکھانے والے کا ثواب۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى الْمِصْرِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ ّالنَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ عَلَّمَ عِلْمًا فَلَهُ أَجْرُ مَنْ عَمِلَ بِهِ لَا يَنْقُصُ مِنْ أَجْرِ الْعَامِلِ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے کسی کو علم دین سکھایا ، تو اس کو اتنا ثواب ملے گا جتنا کہ اس شخص کو جو اس پر عمل کرے ، اور عمل کرنے والے کے ثواب سے کوئی کمی نہ ہو گی “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 240]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث میں بڑی فضیلت ہے ان علماء کی جو امر بالمعروف اور نہی عن المنکر (یعنی بھلی باتوں کا حکم دینا اور بری باتوں سے روکنے) کی تعلیم دیتے ہیں، یا درس و تدریس سے علوم دینیہ پھیلاتے ہیں، یا تقریر و تحریر سے علوم قرآن و حدیث نشر کرتے ہیں۔
قال الشيخ الألباني:
حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف ¤ عبد اللّٰه بن وھب مدلس و عنعن ¤ و الحديث السابق (الأصل: 206) يغني عنه ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 383
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 11304، ومصباح الزجاجة: 94) (حسن) (یحییٰ بن ایوب نے سہل بن معاذ کو نہیں پایا، امام مزی نے ابن وہب عن یحییٰ بن ایوب عن زبان بن فائد عن سہل بن معاذ بن انس عن أبیہ کی سند ذکر کی ہے، حافظ ابن حجر نے سہل بن معاذ کے بارے میں فرمایا کہ لا بأس به إلا في روايات زبان عنه ، لیکن شواہد کی بنا ء پر یہ حدیث حسن ہے، ملاحظہ ہو: باب نمبر: 14، حدیث نمبر: 203- 207)