سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 202
Sunan Ibn Majah 202
کتاب #-: (ابواب کتاب: سنت کی اہمیت و فضیلت)
35: بَابُ : فِيمَا أَنْكَرَتِ الْجَهْمِيَّةُ
باب: جہمیہ کا انکار صفات باری تعالیٰ۔
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا الْوَزِيرُ بْنُ صَبِيحٍ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ حَلْبَسٍ ، عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِي شَأْنٍ سورة الرحمن آية 29 قَالَ: " مِنْ شَأْنِهِ أَنْ يَغْفِرَ ذَنْبًا، وَيُفَرِّجَ كَرْبًا، وَيَرْفَعَ قَوْمًا، وَيَخْفِضَ آخَرِينَ".
ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے فرمان : «كل يوم هو في شأن» ” وہ ذات باری تعالیٰ ہر روز ایک نئی شان میں ہے “ ( سورة الرحمن : 29 ) کے سلسلے میں بیان فرمایا : ” اس کی شان میں سے یہ ہے کہ وہ کسی کے گناہ کو بخش دیتا ہے ، کسی کی مصیبت کو دور کرتا ہے ، کسی قوم کو بلند اور کسی کو پست کرتا ہے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 202]
قال الشيخ الألباني:
حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 11005، ومصباح الزجاجة: 73) (حسن) (بخاری نے تعلیقاً تفسیر سورہ الرحمن میں ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کا قول نقل کیا ہے، صحیح بخاری مع فتح الباری: 8/620)