سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 104
Sunan Ibn Majah 104
کتاب #-: رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کے فضائل و مناقب
13: بَابُ : فَضْلِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
باب: عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے مناقب و فضائل۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مُحَمَّدٍ الطَّلْحِيُّ ، أَنْبَأَنَا دَاوُدُ بْنُ عَطَاءٍ الْمَدِينِيُّ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَوَّلُ مَنْ يُصَافِحُهُ الْحَقُّ عُمَرُ، وَأَوَّلُ مَنْ يُسَلِّمُ عَلَيْهِ، وَأَوَّلُ مَنْ يَأْخُذُ بِيَدِهِ، فَيُدْخِلُهُ الْجَنَّةَ".
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” حق تعالیٰ سب سے پہلے قیامت کے دن عمر سے مصافحہ کریں گے ، اور سب سے پہلے انہیں سے سلام کریں گے ، اور سب سے پہلے ان کا ہاتھ پکڑ کر جنت میں داخل کریں گے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 104]
قال الشيخ الألباني:
منكر جدا
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف ¤ داود بن عطاء: ضعيف (تقريب: 1801) والسند ضعفه البوصيري ¤ وقال في داود بن عطاء: ”قد اتفقوا علي ضعفه“ ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 379
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 24، ومصباح الزجاجة: 40) (منکر جدًا) (داود بن عطاء المدینی ضعیف ہیں، اور منکر الحدیث ہیں اس لئے یہ حدیث ضعیف ہے)