سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 139
Sunan Ibn Majah 139
کتاب #-: رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کے فضائل و مناقب
21: بَابُ : فَضْلِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
باب: عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے مناقب و فضائل۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، عَنْ الْحَسَنِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سُوَيْدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذْنُكَ عَلَيَّ أَنْ تَرْفَعَ الْحِجَابَ، وَأَنْ تَسْمَعَ سِوَادِي حَتَّى أَنْهَاكَ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تمہیں میرے گھر آنے کی اجازت یہی ہے کہ تم پردہ اٹھاؤ ، اور یہ کہ میری آواز سن لو ، الا یہ کہ میں تمہیں خود منع کر دوں “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 139]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی فضیلت ظاہر ہے، چونکہ وہ خادم خاص تھے، اور برابر شریک مجلس رہا کرتے تھے، بار بار اجازت طلب کرنے میں حرج تھا، اس لئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو یہ مخصوص اجازت عطا فرمائی۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/السلام 6 (2169)، (تحفة الأشراف: 9388)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/388، 394، 404) (صحیح)