سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 54
Sunan Ibn Majah 54
کتاب #1: کتاب: سنت کی اہمیت و فضیلت
8: بَابُ : اجْتِنَابِ الرَّأْيِ وَالْقِيَاسِ
باب: رائے اور قیاس سے اجتناب و پرہیز۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنِي رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ ، وَجَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ، عَنْ ابْنِ أَنْعُمٍ هُوَ الْإِفْرِيقِيُّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ رَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْعِلْمُ ثَلَاثَةٌ، فَمَا وَرَاءَ ذَلِكَ فَهُوَ فَضْلٌ آيَةٌ مُحْكَمَةٌ، أَوْ سُنَّةٌ قَائِمَةٌ، أَوْ فَرِيضَةٌ عَادِلَةٌ".
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” علم تین طرح کا ہے ، اور جو اس کے علاوہ ہے وہ زائد قسم کا ہے : محکم آیات ۱؎ ، صحیح ثابت سنت ۲؎ ، اور منصفانہ وراثت ۳؎ “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 54]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی غیر منسوخ قرآن کا علم۔ ۲؎: یعنی صحیح احادیث کا علم۔ ۳؎: فرائض کا علم جس سے ترکے کی تقسیم انصاف کے ساتھ ہو سکے۔
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف ¤ سنن أبي داود (2885) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 376
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الفرائض 1 (2885)، (تحفة الأشراف: 8876) (ضعیف) (سند میں تین راوی: رشدین بن سعد، عبدالرحمن بن زیاد بن أنعم الإفریقی اور عبد الرحمن بن رافع ضعیف ہیں)