سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 85
Sunan Ibn Majah 85
کتاب #1: کتاب: سنت کی اہمیت و فضیلت
10: بَابٌ في الْقَدَرِ
باب: قضا و قدر (تقدیر) کا بیان۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَصْحَابِهِ، وَهُمْ يَخْتَصِمُونَ فِي الْقَدَرِ، فَكَأَنَّمَا يُفْقَأُ فِي وَجْهِهِ حَبُّ الرُّمَّانِ مِنِ الْغَضَبِ، فَقَالَ: " بِهَذَا أُمِرْتُمْ، أَوْ لِهَذَا خُلِقْتُمْ تَضْرِبُونَ الْقُرْآنَ بَعْضَهُ بِبَعْضٍ، بِهَذَا هَلَكَتِ الْأُمَمُ قَبْلَكُمْ"، قَالَ: فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو: مَا غَبَطْتُ نَفْسِي بِمَجْلِسٍ تَخَلَّفْتُ فِيهِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مَا غَبَطْتُ نَفْسِي بِذَلِكَ الْمَجْلِسِ وَتَخَلُّفِي عَنْهُ.
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کے پاس آئے ، وہ لوگ اس وقت تقدیر کے بارے میں بحث کر رہے تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک سخت غصہ کی وجہ سے سرخ ہو گیا ، گویا کہ آپ کے چہرے پر انار کے دانے نچوڑ دیئے گئے ہوں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا تمہیں اسی کا حکم دیا گیا ہے ، یا تم اسی لیے پیدا کیے گئے ہو ؟ تم قرآن کے بعض حصہ کو بعض حصہ سے ٹکرا رہے ہو ، اسی وجہ سے تم سے پہلی امتیں ہلاک ہوئی ہیں “ ۱؎ ۔ عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کا بیان ہے : میں نے کبھی بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس سے غیر حاضر ہونے کی ایسی خواہش اپنے جی میں نہیں کی جیسی اس مجلس سے غیر حاضر رہنے کی خواہش کی ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 85]
💡 وضاحت:
۱؎: اس سے معلوم ہوا کہ تقدیر کے بارے میں زیادہ گفتگو نہیں کرنی چاہئے، جتنی اللہ اور اس کے رسول نے خبر دی ہے اسی پر ایمان کافی ہے، اور اس کے بارے میں زیادہ غور و خوض اور قیل و قال، باطل میں قیل و قال کرنا ہے، اور اس طرح باقی امور جس میں شارع نے اجمال و اختصار سے کام لیا ہے اس کی شرح و تفصیل کی بھی ہمیں ضرورت نہیں۔
قال الشيخ الألباني:
حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 8704، ومصباح الزجاجة: 29)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/196، 178) (حسن صحیح)