كتاب الدعاء
کتاب: دعا کے فضائل و آداب اور احکام و مسائل
|
1: بَابُ : فَضْلِ الدُّعَاءِ
باب: دعا کی فضیلت۔
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ , قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , حَدَّثَنَا أَبُو الْمَلِيحِ الْمَدَنِيُّ , قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا صَالِحٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ لَمْ يَدْعُ اللَّهَ سُبْحَانَهُ غَضِبَ عَلَيْهِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص اللہ تعالیٰ سے دعا نہیں کرتا ، تو اللہ تعالیٰ اس پر غضب ناک ( غصہ ) ہوتا ہے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3827]
💡 وضاحت:
۱؎: کیونکہ بندگی کا تقاضا یہ ہے کہ آدمی اپنے مالک سے مانگے، نہ مانگنے سے غرور و تکبر اور بے نیازی ظاہر ہوتی ہے، آدمی کو چاہئے کہ اپنی ہر ضرورت کو اپنے مالک سے مانگے اور جب کوئی تکلیف ہو تو اپنے مالک سے دعا کرے، ہم تو اس کے در کے بھیک مانگنے والے ہیں، رات دن اس سے مانگا ہی کرتے ہیں، اور ذرا سا صدمہ ہوتا ہے تو ہم سے صبر نہیں ہو سکتا اپنے مالک سے اسی وقت دعا کرنے لگتے ہیں ہم تو ہر وقت اس کے محتاج ہیں، اور اس کے در دولت کے فقیر ہیں۔
قال الشيخ الألباني:
حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ ترمذي (3373) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 513
تخریج دارالدعوہ:
سنن الترمذی/الدعوات 2 (3373)، (تحفة الأشراف: 15441)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/443، 477) (صحیح) (تراجع الألباني: رقم: 113)
|
|
|
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ , حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , عَنْ الْأَعْمَشِ , عَنْ ذَرِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْهَمْدَانِيِّ , عَنْ يُسَيْعٍ الْكِنْدِيِّ , عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ الدُّعَاءَ هُوَ الْعِبَادَةُ , ثُمَّ قَرَأَ وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ سورة غافر آية 60".
نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بیشک دعا ہی عبادت ہے ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی : «وقال ربكم ادعوني أستجب لكم» ” اور تمہارے رب نے کہا : دعا کرو ( مجھے پکارو ) میں تمہاری دعا قبول کروں گا ( سورة الغافر : 60 ) “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3828]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح ¤ مشكوة المصابيح: 2357 ¤ وله شاھد حسن لذاته عند البيهقي في شعب الايمان (1/ 372 ح 6996)
تخریج دارالدعوہ:
سنن الترمذی/تفسیر القرآن3 16 (2969)، الدعوات 1 (3372)، سنن ابی داود/الصلاة 358 (1479)، (تحفة الأشراف: 11643)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/271، 276، 277) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى , حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ , حَدَّثَنَا عِمْرَانُ الْقَطَّانُ , عَنْ قَتَادَةَ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " لَيْسَ شَيْءٌ أَكْرَمَ عَلَى اللَّهِ سُبْحَانَهُ مِنَ الدُّعَاءِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ کے نزدیک دعا سے زیادہ لائق قدر کوئی چیز نہیں “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3829]
قال الشيخ الألباني:
حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ ترمذي (3370) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 513
تخریج دارالدعوہ:
سنن الترمذی/الدعوات 1 (3370)، (تحفة الأشراف: 12938)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/362) (حسن)
|
|
|
2: بَابُ : دُعَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعاؤں کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ سَنَةَ إِحْدَى وَثَلَاثِينَ وَمِائَتَيْنِ , حَدَّثَنَا وَكِيعٌ فِي سَنَةِ خَمْسٍ وَتِسْعِينَ وَمِائَةٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ فِي مَجْلِسِ الْأَعْمَشِ مُنْذُ خَمْسِينَ سَنَةً , حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ الْجَمَلِيُّ فِي زَمَنِ خَالِدٍ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ الْمُكَتِّبِ , عَنْ طَليْقٍ بْنِ قَيْسِ الْحَنَفِيِّ , عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , كَانَ يَقُولُ فِي دُعَائِهِ: " رَبِّ أَعِنِّي وَلَا تُعِنْ عَلَيَّ , وَانْصُرْنِي وَلَا تَنْصُرْ عَلَيَّ , وَامْكُرْ لِي وَلَا تَمْكُرْ عَلَيَّ , وَاهْدِنِي وَيَسِّرِ الْهُدَى لِي , وَانْصُرْنِي عَلَى مَنْ بَغَى عَلَيَّ , رَبِّ اجْعَلْنِي لَكَ شَكَّارًا , لَكَ ذَكَّارًا , لَكَ رَهَّابًا , لَكَ مُطِيعًا , إِلَيْكَ مُخْبِتًا إِلَيْكَ أَوَّاهًا مُنِيبًا , رَبِّ تَقَبَّلْ تَوْبَتِي , وَاغْسِلْ حَوْبَتِي , وَأَجِبْ دَعْوَتِي , وَاهْدِ قَلْبِي , وَسَدِّدْ لِسَانِي , وَثَبِّتْ حُجَّتِي , وَاسْلُلْ سَخِيمَةَ قَلْبِي" , قَالَ أَبُو الْحَسَنِ الطَّنَافِسِيُّ: قُلْتُ لِوَكِيعٍ: أَقُولُهُ فِي قُنُوتِ الْوِتْرِ؟ قَالَ: نَعَمْ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی دعا میں یہ پڑھا کرتے تھے : «رب أعني ولا تعن علي وانصرني ولا تنصر علي وامكر لي ولا تمكر علي واهدني ويسر الهدى لي وانصرني على من بغى علي رب اجعلني لك شكارا لك ذكارا لك رهابا لك مطيعا إليك مخبتا إليك أواها منيبا رب تقبل توبتي واغسل حوبتي وأجب دعوتي واهد قلبي وسدد لساني وثبت حجتي واسلل سخيمة قلبي» ” اے میرے رب ! میری مدد فرما ، اور میرے مخالف کی مدد مت کر ، اور میری تائید فرما ، اور میرے مخالف کی تائید مت کر ، اور میرے لیے تدبیر فرما ، میرے خلاف کسی کی سازش کامیاب نہ ہونے دے ، اور مجھے ہدایت فرما ، اور ہدایت کو میرے لیے آسان کر دے ، اور اس شخص کے مقابلہ میں میری مدد فرما جو مجھ پر ظلم کرے ، اے اللہ ! مجھے اپنا شکر گزار اور ذکر کرنے والا ، ڈرنے والا ، اور اپنا مطیع فرماں بردار ، رونے اور گڑگڑانے والا ، رجوع کرنے والا بندہ بنا لے ، اے اللہ میری توبہ قبول فرما ، میرے گناہ دھو دے ، میری دعا قبول فرما ، میرے دل کو صحیح راستے پر لگا ، میری زبان کو مضبوط اور درست کر دے ، میری دلیل و حجت کو مضبوط فرما ، اور میرے دل سے بغض و عناد ختم کر دے “ ۔ ابوالحسن طنافسی کہتے ہیں کہ میں نے وکیع سے کہا : کیا میں یہ دعا قنوت وتر میں پڑھ لیا کروں ؟ تو انہوں نے کہا : ہاں پڑھ لیا کرو ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3830]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الصلاة 360 (1510، 1511)، سنن الترمذی/الدعوات 103 (3551)، (تحفة الأشراف: 5765)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/227) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدَةَ , حَدَّثَنَا أَبِي , عَنْ الْأَعْمَشِ , عَنْ أَبِي صَالِحٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ: أَتَتْ فَاطِمَةُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَسْأَلُهُ خَادِمًا , فَقَالَ لَهَا: " مَا عِنْدِي مَا أُعْطِيكِ" , فَرَجَعَتْ فَأَتَاهَا بَعْدَ ذَلِكَ , فَقَالَ: " الَّذِي سَأَلْتِ أَحَبُّ إِلَيْكِ أَوْ مَا هُوَ خَيْرٌ مِنْهُ؟" , فَقَالَ لَهَا عَلِيٌّ: قُولِي: لَا , بَلْ مَا هُوَ خَيْرٌ مِنْهُ , فَقَالَتْ: فَقَالَ: " قُولِي: اللَّهُمَّ رَبَّ السَّمَاوَاتِ السَّبْعِ , وَرَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ , رَبَّنَا وَرَبَّ كُلِّ شَيْءٍ , مُنْزِلَ التَّوْرَاةِ وَالْإِنْجِيلِ وَالْقُرْآنِ الْعَظِيمِ , أَنْتَ الْأَوَّلُ فَلَيْسَ قَبْلَكَ شَيْءٌ , وَأَنْتَ الْآخِرُ فَلَيْسَ بَعْدَكَ شَيْءٌ , وَأَنْتَ الظَّاهِرُ فَلَيْسَ فَوْقَكَ شَيْءٌ , وَأَنْتَ الْبَاطِنُ فَلَيْسَ دُونَكَ شَيْءٌ , اقْضِ عَنَّا الدَّيْنَ , وَأَغْنِنَا مِنَ الْفَقْرِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک خادم طلب کرنے کے لیے آئیں ، تو آپ نے ان سے فرمایا : ” میرے پاس تو خادم نہیں ہے جو میں تجھے دوں “ ، ( یہ سن کر ) وہ واپس چلی گئیں ، اس کے بعد آپ خود ان کے پاس تشریف لائے اور فرمایا : ” جو چیز تم نے طلب کی تھی وہ تمہیں زیادہ پسند ہے یا اس سے بہتر چیز تمہیں بتاؤں “ ؟ علی رضی اللہ عنہ نے فاطمہ رضی اللہ عنہا سے کہا : تم کہو کہ نہیں ، بلکہ مجھے وہ چیز زیادہ پسند ہے جو خادم سے بہتر ہو ، چنانچہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے یہی کہا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم یہ کہا کرو «اللهم رب السموات السبع ورب العرش العظيم ربنا ورب كل شيء منزل التوراة والإنجيل والقرآن العظيم أنت الأول فليس قبلك شيء وأنت الآخر فليس بعدك شيء وأنت الظاهر فليس فوقك شيء وأنت الباطن فليس دونك شيء اقض عنا الدين وأغننا من الفقر» اے اللہ ! ساتوں آسمانوں اور عرش عظیم کے رب ! اور ہمارے رب اور ہر چیز کے رب ، تورات ، انجیل اور قرآن عظیم کو نازل کرنے والے ! تو ہی اول ہے تجھ سے پہلے کوئی چیز نہیں تھی ، تو ہی آخر ہے ، تیرے بعد کوئی چیز نہیں ہو گی ، تو ہی ظاہر ہے تیرے اوپر کوئی چیز نہیں ، تو ہی باطن ہے تیرے ورے کوئی چیز نہیں ، ہم سے ہمارا قرض ادا کر دے ، اور محتاجی دور کر کے ہمیں غنی کر دے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3831]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الذکروالدعاء 17 (2713)، (تحفة الأشراف: 12499)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الأدب 107 (5051)، سنن الترمذی/الدعوات 19 (3400)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/404) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ , وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ , قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ , حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ أَبِي إِسْحَاق , عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: " اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْهُدَى وَالتُّقَى وَالْعَفَافَ وَالْغِنَى".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا مانگا کرتے تھے : «اللهم إني أسألك الهدى والتقى والعفاف والغنى» ” اے اللہ ! میں تجھ سے ہدایت ، پرہیزگاری ، پاکدامنی اور دل کی مالدرای چاہتا ہوں “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3832]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الذکروالدعاء 18 (2721)، سنن الترمذی/الدعوات 37 (3489)، (تحفة الأشراف: 9507)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/389، 434، 443) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ , عَنْ مُوسَى بْنِ عُبَيْدَةَ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ ثَابِتٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ: " اللَّهُمَّ انْفَعْنِي بِمَا عَلَّمْتَنِي , وَعَلِّمْنِي مَا يَنْفَعُنِي , وَزِدْنِي عِلْمًا , وَالْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى كُلِّ حَالٍ , وَأَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ النَّارِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا مانگا کرتے تھے : «اللهم انفعني بما علمتني وعلمني ما ينفعني وزدني علما والحمد لله على كل حال وأعوذ بالله من عذاب النار» ” اے اللہ ! مجھے اس علم سے فائدہ پہنچا جو تو نے مجھے سکھایا ، اور مجھے وہ علم سکھا جو میرے لیے نفع بخش ہو ، اور میرے علم میں زیادتی عطا فرما ، اللہ تعالیٰ کا ہر حال میں شکر ہے ، میں جہنم کے عذاب سے اللہ کی پناہ چاہتا ہوں “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3833]
قال الشيخ الألباني:
صحيح دون والحمد
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف ¤ ضعيف ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 513
تخریج دارالدعوہ:
سنن الترمذی/الدعوات 129 (3599)، (تحفة الأشراف: 14356) (صحیح) (آخری فقرہ والحمد للہ...... کے علاوہ حدیث صحیح ہے، اور یہ مکرر ہے، ملاحظہ ہو: 251، سند میں موسیٰ بن عبیدہ ضعیف راوی ہیں، لیکن دوسرے شواہد سے تقویت پاکر یہ صحیح ہے)
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ , حَدَّثَنَا أَبِي , حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ , عَنْ يَزِيدَ الرَّقَاشِيِّ , عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ , قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يُكْثِرُ أَنْ يَقُولَ: " اللَّهُمَّ ثَبِّتْ قَلْبِي عَلَى دِينِكَ" , فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , تَخَافُ عَلَيْنَا وَقَدْ آمَنَّا بِكَ وَصَدَّقْنَاكَ بِمَا جِئْتَ بِهِ , فَقَالَ: " إِنَّ الْقُلُوبَ بَيْنَ إِصْبَعَيْنِ مِنْ أَصَابِعِ الرَّحْمَنِ عَزَّ وَجَلَّ يُقَلِّبُهَا" , وَأَشَارَ الْأَعْمَشُ بِإِصْبَعَيْهِ.
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اکثر یہ دعا مانگا کرتے تھے : «اللهم ثبت قلبي على دينك» ” اے اللہ ! میرے دل کو اپنے دین پر قائم رکھ “ ، ایک شخص نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! آپ ہم پر خوف کرتے ہیں ( ہمارے حال سے کہ ہم پھر گمراہ ہو جائیں گے ) ، حالانکہ ہم تو آپ پر ایمان لا چکے ، اور ان تعلیمات کی تصدیق کر چکے ہیں جو آپ لے کر آئے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بیشک لوگوں کے دل رحمن کی دونوں انگلیوں کے درمیان ہیں ، انہیں وہ الٹتا پلٹتا ہے “ ، اور اعمش نے اپنی دونوں انگلیوں سے اشارہ کیا ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3834]
💡 وضاحت:
۱ ؎: اور اعمش حدیث کے بڑے امام اور بڑے حافظ تھے، مجسمہ اور مشبہہ میں سے نہ تھے، بلکہ سچے اہل سنت میں سے تھے جو جمہیہ اور معتزلہ کی طرح اللہ کی انگلیوں کی تاویل نہیں کرتے تھے، اور انگلی سے انگلی ہی مراد لیتے ہیں، لیکن رب نہ خود کسی مخلوق کے مشابہ ہے، نہ اس کی کوئی چیز جیسے آنکھ اور ساق (پنڈلی) اور انگلی کے اور اگر کوئی ہم سے سوال کرے کہ اللہ کی انگلی کیسی ہے تو ہم کہیں گے اس کی ذات کیسی ہے اگر اس کا جواب وہ دے تو ہم بھی اس کے سوال کا جواب دیں گے، دوسری روایت میں ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی چھنگلیا طور پہاڑ پر رکھ دی تو وہ ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا، اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ حقیقتاً اللہ تعالیٰ کی انگلیاں ہیں، اور مجازی معنی مراد نہیں ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ يزيد بن أبان الرقاشي ضعيف ¤ وانظر ضعيف سنن الترمذي (2140) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 513
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 1673، ومصباح الزجاجة: 1343)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/القد ر 7 (2140) (صحیح) (سند میں یزید الرقاشی ضعیف راوی ہیں، لیکن دوسرے طریق سے یہ صحیح ہے)
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ , حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ , عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ , عَنْ أَبِي الْخَيْرِ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ , عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ , أَنَّهُ قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: عَلِّمْنِي دُعَاءً أَدْعُو بِهِ فِي صَلَاتِي , قَالَ: " قُلْ: اللَّهُمَّ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي ظُلْمًا كَثِيرًا , وَلَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ , فَاغْفِرْ لِي مَغْفِرَةً مِنْ عِنْدِكَ , وَارْحَمْنِي إِنَّكَ أَنْتَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ".
ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا : مجھے کوئی ایسی دعا سکھا دیجئیے جسے میں نماز میں پڑھا کروں ، آپ نے فرمایا : ” تم یہ دعا پڑھا کرو «اللهم إني ظلمت نفسي ظلما كثيرا ولا يغفر الذنوب إلا أنت فاغفر لي مغفرة من عندك وارحمني إنك أنت الغفور الرحيم» ” اے اللہ ! میں نے اپنے نفس پر بہت ظلم کیا ہے اور گناہوں کا بخشنے والا صرف تو ہی ہے ، تو اپنی عنایت سے میرے گناہ بخش دے ، اور مجھ پر رحم فرما ، تو غفور و رحیم ( بخشنے والا مہربان ) ہے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3835]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الأذان 149 (834)، الدعوات 17 (6326)، التوحید 9 (7387، 7388)، صحیح مسلم/الدعاء 13 (2705)، سنن الترمذی/الدعوات 97 (3531)، سنن النسائی/السہو 59 (1303)، (تحفة الأشراف: 6606)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/73) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ , حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , عَنْ مِسْعَرٍ , عَنْ أَبِي مَرْزُوقٍ , عَنْ أَبِي وَائِلٍ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ , قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُتَّكِئٌ عَلَى عَصًا , فَلَمَّا رَأَيْنَاهُ قُمْنَا , فَقَالَ: " لَا تَفْعَلُوا كَمَا يَفْعَلُ أَهْلُ فَارِسَ بِعُظَمَائِهَا" , قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ: لَوْ دَعَوْتَ اللَّهَ لَنَا , قَالَ: " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا , وَارْضَ عَنَّا , وَتَقَبَّلْ مِنَّا , وَأَدْخِلْنَا الْجَنَّةَ , وَنَجِّنَا مِنَ النَّارِ , وَأَصْلِحْ لَنَا شَأْنَنَا كُلَّهُ" , قَالَ فَكَأَنَّمَا أَحْبَبْنَا أَنْ يَزِيدَنَا , فَقَالَ: " أَوَلَيْسَ قَدْ جَمَعْتُ لَكُمُ الْأَمْرَ".
ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عصا ( چھڑی ) پر ٹیک لگائے ہمارے پاس باہر تشریف لائے ، جب ہم نے آپ کو دیکھا تو ہم کھڑے ہو گئے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم ایسے کھڑے نہ ہوا کرو جیسے فارس کے لوگ اپنے بڑوں کے لیے کھڑے ہوتے ہیں “ ہم نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! کاش آپ ہمارے لیے اللہ سے دعا فرماتے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی : «اللهم اغفر لنا وارحمنا وارض عنا وتقبل منا وأدخلنا الجنة ونجنا من النار وأصلح لنا شأننا كله» ” اے اللہ ! ہمیں بخش دے ، اور ہم پر رحم فرما ، اور ہم سے راضی ہو جا ، ہماری عبادت قبول فرما ، ہمیں جنت میں داخل فرما ، اور جہنم سے بچا ، اور ہمارے سارے کام درست فرما دے “ ، ابوامامہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : تو گویا ہماری خواہش ہوئی کہ آپ اور کچھ دعا فرمائیں : تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا میں نے تمہارے لیے جامع دعا نہیں کر دی “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3836]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ سنن أبي داود (5230) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 514
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الأدب 165 (5230)، (تحفة الأشراف: 4934)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/253، 256) (ضعیف) (ابو مرزوق لین الحدیث ہیں، اور سند میں کافی اضطراب ہے، لیکن فعل فارس سے ممانعت صحیح مسلم میں جابر رضی اللہ عنہ سے ثابت ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: 346)
|
|
|
حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ الْمِصْرِيُّ , أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ , عَنْ أَخِيهِ عَبَّادِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ , أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ , يَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ: " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْأَرْبَعِ: مِنْ عِلْمٍ لَا يَنْفَعُ , وَمِنْ قَلْبٍ لَا يَخْشَعُ , وَمِنْ نَفْسٍ لَا تَشْبَعُ , وَمِنْ دُعَاءٍ لَا يُسْمَعُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا فرمایا کرتے تھے : «اللهم إني أعوذ بك من الأربع من علم لا ينفع ومن قلب لا يخشع ومن نفس لا تشبع ومن دعا لا يسمع» ” اے اللہ ! میں چار باتوں سے تیری پناہ چاہتا ہوں : اس علم سے جو فائدہ نہ دے ، اس دل سے جو اللہ کے سامنے نرم نہ ہو ، اس نفس سے جو آسودہ نہ ہو اور اس دعا سے جو قبول نہ ہو “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3837]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الصلاة 367 (1548)، سنن النسائی/الاستعاذة 17 (5469)، 55 (5552)، (تحفة الأشراف: 13549)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/340، 365، 451) (یہ حدیث مکرر ہے دیکھئے: 250) (صحیح)
|
|
|
3: بَابُ : مَا تَعَوَّذَ مِنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
باب: جن چیزوں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پناہ چاہی ہے ان کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ . ح وحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ , حَدَّثَنَا وَكِيعٌ جَمِيعًا , عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَائِشَةَ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَدْعُو بِهَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِ: " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ النَّارِ , وَعَذَابِ النَّارِ , وَمِنْ فِتْنَةِ الْقَبْرِ , وَعَذَابِ الْقَبْرِ , وَمِنْ شَرِّ فِتْنَةِ الْغِنَى , وَشَرِّ فِتْنَةِ الْفَقْرِ , وَمِنْ شَرِّ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ , اللَّهُمَّ اغْسِلْ خَطَايَايَ بِمَاءِ الثَّلْجِ وَالْبَرَدِ , وَنَقِّ قَلْبِي مِنَ الْخَطَايَا , كَمَا نَقَّيْتَ الثَّوْبَ الْأَبْيَضَ مِنَ الدَّنَسِ , وَبَاعِدْ بَيْنِي وَبَيْنَ خَطَايَايَ , كَمَا بَاعَدْتَ بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ , اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكَسَلِ وَالْهَرَمِ , وَالْمَأْثَمِ وَالْمَغْرَمِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کلمات کے ذریعہ دعا کیا کرتے تھے : «اللهم إني أعوذ بك من فتنة النار وعذاب النار ومن فتنة القبر وعذاب القبر ومن شر فتنة الغنى وشر فتنة الفقر ومن شر فتنة المسيح الدجال اللهم اغسل خطاياي بماء الثلج والبرد ونق قلبي من الخطايا كما نقيت الثوب الأبيض من الدنس وباعد بيني وبين خطاياي كما باعدت بين المشرق والمغرب اللهم إني أعوذ بك من الكسل والهرم والمأثم والمغرم» ” اے اللہ ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں جہنم کے فتنہ اور جہنم کے عذاب سے ، اور قبر کے فتنہ اور اس کے عذاب سے ، اور مالداری و فقیری کے فتنے کی برائی سے ، اور مسیح الدجال کے فتنے کی برائی سے ، اے اللہ ! میرے گناہوں کو برف اور اولے کے پانی سے دھو ڈال ، اور میرے دل کو گناہوں سے پاک و صاف کر دے ، جس طرح تو نے سفید کپڑے کو میل کچیل سے پاک و صاف کیا ہے ، اور میرے اور میرے گناہوں کے درمیان دوری کر دے جس طرح تو نے پورب اور پچھم کے درمیان دوری کی ہے ، اے اللہ ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں سستی ، بڑھاپے ، گناہ اور قرض سے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3838]
💡 وضاحت:
۱؎: اس بڑھاپے سے پناہ مانگی جس میں آدمی معذور اور بے عقل ہو جاتا ہے، اور مالداری کے فتنے یہ ہیں: بخل،حرص، زکاۃ نہ دینا، سود کھانا، اللہ تعالی سے غافل ہو جانا، مستحقوں کی خبر گیری نہ کرنا وغیرہ وغیرہ، فقیری کا فتنہ یہ ہے کہ مال کے لالچ میں دین کو کھو بیٹھنا، کفار اور فساق کی صحبت اختیار کرنا۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
حدیث أبي بکر بن أبي شیبة أخرجہ: صحیح مسلم/الدعوات 14 (589)، تحفة الأشرف: 16988، وحدیث علی بن محمد قد أخرجہ: صحیح البخاری/ الدعوات 39 (6275)، صحیح مسلم/الذکر 14 (589)، (تحفة الأشراف: 17260)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة 153 (580)، سنن الترمذی/الدعوات 77 (3495)، سنن النسائی/الاستعاذة 16 (5468)، مسند احمد (6/57، 207) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ , عَنْ حُصَيْنٍ , عَنْ هِلَالٍ , عَنْ فَرْوَةَ بْنِ نَوْفَلٍ , قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنْ دُعَاءٍ كَانَ يَدْعُو بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَتْ: كَانَ يَقُولُ: " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا عَمِلْتُ , وَمِنْ شَرِّ مَا لَمْ أَعْمَلْ".
فروہ بن نوفل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہما سے سوال کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کون سی دعا کیا کرتے تھے ؟ انہوں نے کہا : آپ کہتے تھے : «اللهم إني أعوذ بك من شر ما عملت ومن شر ما لم أعمل» ” اے اللہ ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں ان کاموں کی برائی سے جو میں نے کئے اور ان کاموں کی برائی سے جو میں نے نہیں کئے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3839]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الدعاء 18 (2716)، سنن ابی داود/الصلاة 367 (1550)، سنن النسائی/السہو 63 (1308)، الاستعاذة 57 (5527)، (تحفة الأشراف: 17430)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/31، 100، 139، 213، 357) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ , حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ سُلَيْمٍ , حَدَّثَنِي حُمَيْدٌ الْخَرَّاطُ , عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ , عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ , قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُنَا هَذَا الدُّعَاءَ , كَمَا يُعَلِّمُنَا السُّورَةَ مِنَ الْقُرْآنِ: " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ جَهَنَّمَ , وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ , وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ , وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جیسے قرآن کی سورت سکھاتے اسی طرح یہ دعا بھی ہمیں سکھاتے تھے : «اللهم إني أعوذ بك من عذاب جهنم وأعوذ بك من عذاب القبر وأعوذ بك من فتنة المسيح الدجال وأعوذ بك من فتنة المحيا والممات» ” اے اللہ ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں جہنم کے عذاب سے ، اور میں تیری پناہ چاہتا ہوں قبر کے عذاب سے ، اور میں تیری پناہ چاہتا ہوں مسیح دجال کے فتنہ سے ، اور میں تیری پناہ چاہتا ہوں زندگی اور موت کے فتنہ سے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3840]
قال الشيخ الألباني:
حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 6346، ومصباح الزجاجة: 1344)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/المساجد 25 (590)، سنن ابی داود/الصلاة 367 (1542)، سنن الترمذی/الدعوات 70 (3494)، سنن النسائی/الجنائز115 (2065)، موطا امام مالک/القرآن 8 (33)، مسند احمد (1/242، 258، 298، 311) (حسن صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ , حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ , عَنْ الْأَعْرَجِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: فَقَدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ مِنْ فِرَاشِهِ , فَالْتَمَسْتُهُ , فَوَقَعَتْ يَدِي عَلَى بَطْنِ قَدَمَيْهِ وَهُوَ فِي الْمَسْجِدِ , وَهُمَا مَنْصُوبَتَانِ , وَهُوَ يَقُولُ: " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِرِضَاكَ مِنْ سَخَطِكَ , وَبِمُعَافَاتِكَ مِنْ عُقُوبَتِكَ , وَأَعُوذُ بِكَ مِنْكَ , لَا أُحْصِي ثَنَاءً عَلَيْكَ , أَنْتَ كَمَا أَثْنَيْتَ عَلَى نَفْسِكَ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بستر پر موجود نہ پایا تو میں آپ کو ڈھونڈھنے لگی ( مکان میں اندھیرا تھا ) تو میرا ہاتھ آپ کے قدموں کے تلووں پر جا پڑا ، دونوں پاؤں کھڑے تھے اور آپ ( حالت سجدہ میں ) یہ دعا کر رہے تھے : «اللهم إني أعوذ برضاك من سخطك وبمعافاتك من عقوبتك وأعوذ بك منك لا أحصي ثناء عليك أنت كما أثنيت على نفسك» ” اے اللہ ! میں پناہ مانگتا ہوں تیری رضا مندی کی تیری ناراضگی سے ، اور تیری عافیت کی تیری سزا سے ، اور میں تیری پناہ مانگتا ہوں تیرے عذاب سے ، میں تیری تعریف کما حقہ نہیں کر سکتا ، تو ویسے ہی ہے جیسے تو نے خود اپنی تعریف فرمائی ہے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3841]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الصلاة 42 (486)، سنن ابی داود/الصلاة 152 (879)، سنن النسائی/الطہارة 120 (169)، التطبیق 47 (1101)، 71 (1131)، (تحفة الأشراف: 17807)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/القرآن 8 (13)، مسند احمد (6/58، 201) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ , عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ , عَنْ إِسْحَاق بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , عَنْ جَعْفَرِ بْنِ عِيَاضٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تَعَوَّذُوا بِاللَّهِ مِنَ الْفَقْرِ وَالْقِلَّةِ وَالذِّلَّةِ , وَأَنْ تَظْلِمَ أَوْ تُظْلَمَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم اللہ سے فقیری ، مال کی کمی ، ذلت ، ظلم کرنے اور ظلم کئے جانے سے پناہ مانگو “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3842]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
سنن النسائی/الاستعاذة 14 (5465)، (تحفة الأشراف: 2235)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/305) (ضعیف) (سند میں محمد بن مصعب صدوق لیکن کثیر الغلط راوی ہیں، اور اسحاق بن عبد اللہ بن أبی فروہ متروک، لیکن فعل رسول ﷺ سے ایسا ثابت ہے، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: 1445 وصحیح ابی داود: 1381)
|
|
|
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ , حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ , عَنْ جَابِرٍ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " سَلُوا اللَّهَ عِلْمًا نَافِعًا , وَتَعَوَّذُوا بِاللَّهِ مِنْ عِلْمٍ لَا يَنْفَعُ".
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم اللہ تعالیٰ سے اس علم کا سوال کرو جو فائدہ پہنچائے ، اور اس علم سے پناہ مانگو جو فائدہ نہ پہنچائے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3843]
قال الشيخ الألباني:
حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 3007، ومصباح الزجاجة: 1345) (حسن)
|
|
|
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ , حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , عَنْ إِسْرَائِيلَ , عَنْ أَبِي إِسْحَاق , عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ , عَنْ عُمَرَ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَتَعَوَّذُ مِنْ: " الْجُبْنِ وَالْبُخْلِ , وَأَرْذَلِ الْعُمُرِ , وَعَذَابِ الْقَبْرِ , وَفِتْنَةِ الصَّدْرِ" , قَالَ وَكِيعٌ يَعْنِي: الرَّجُلَ يَمُوتُ عَلَى فِتْنَةٍ , لَا يَسْتَغْفِرُ اللَّهَ مِنْهَا.
عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بزدلی ، بخیلی ، ارذل عمر ( انتہائی بڑھاپا ) ، قبر کے عذاب اور دل کے فتنہ سے پناہ مانگتے تھے ۔ وکیع نے کہا : دل کا فتنہ یہ ہے کہ آدمی برے اعتقاد پر مر جائے ، اور اللہ تعالیٰ سے اس کے بارے میں توبہ و استغفار نہ کرے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3844]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ سنن أبي داود (1539) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 514
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الصلاة 367 (1539)، سنن النسائی/الاستعاذة 2 (5445)، (تحفة الأشراف: 10617)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/54) (ضعیف) (اس حدیث پر حکم ضعیف أبی داود میں ہے، لیکن یہ حدیث صحیح اور ضعیف ابن ماجہ میں آئی ہی نہیں ہے، اور اسی لئے سنن أبی داود کے دارالمعارف کے نسخہ میں (1539)، نمبر پربیاض ہے، محققین مسند أحمد نے اس کو صحیح کہا ہے: 145 و 388)
|
|
|
4: بَابُ : الْجَوَامِعِ مِنَ الدُّعَاءِ
باب: جامع دعاؤں کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ , حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ , أَنْبَأَنَا أَبُو مَالِكٍ سَعْدُ بْنُ طَارِقٍ , عَنْ أَبِيهِ , أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ أَتَاهُ رَجُلٌ , فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , كَيْفَ أَقُولُ حِينَ أَسْأَلُ رَبِّي؟ قَالَ: " قُلْ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَارْحَمْنِي , وَعَافِنِي وَارْزُقْنِي" , وَجَمَعَ أَصَابِعَهُ الْأَرْبَعَ إِلَّا الْإِبْهَامَ ," فَإِنَّ هَؤُلَاءِ يَجْمَعْنَ لَكَ دِينَكَ وَدُنْيَاكَ".
طارق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ( اس وقت کہ جب ) ایک شخص آپ کی خدمت میں حاضر ہوا ، اور اس نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں جب اپنے رب سے سوال کروں تو کیا کہوں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم یہ کہو : «اللهم اغفر لي وارحمني وعافني وارزقني» ” اے اللہ ! مجھے بخش دے ، مجھ پر رحم فرما ، اور مجھے عافیت دے اور مجھے رزق عطا فرما “ ، اور آپ نے انگوٹھے کے علاوہ چاروں انگلیاں جمع کر کے فرمایا : ” یہ چاروں کلمات تمہارے لیے دین اور دنیا دونوں کو اکٹھا کر دیں گے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3845]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الذکروالدعاء 10 (2797)، (تحفة الأشراف: 4977)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/472، 4/353، 356، 382، 6/394) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا عَفَّانُ , حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ , أَخْبَرَنِي جَبْرُ بْنُ حَبِيبٍ , عَنْ أُمِّ كُلْثُومٍ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ , عَنْ عَائِشَةَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَّمَهَا هَذَا الدُّعَاءَ: " اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنَ الْخَيْرِ كُلِّهِ , عَاجِلِهِ وَآجِلِهِ , مَا عَلِمْتُ مِنْهُ وَمَا لَمْ أَعْلَمْ , وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الشَّرِّ كُلِّهِ , عَاجِلِهِ وَآجِلِهِ , مَا عَلِمْتُ مِنْهُ وَمَا لَمْ أَعْلَمْ , اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ خَيْرِ مَا سَأَلَكَ عَبْدُكَ وَنَبِيُّكَ , وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا عَاذَ بِهِ عَبْدُكَ وَنَبِيُّكَ , اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْجَنَّةَ , وَمَا قَرَّبَ إِلَيْهَا مِنْ قَوْلٍ أَوْ عَمَلٍ , وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ النَّارِ , وَمَا قَرَّبَ إِلَيْهَا مِنْ قَوْلٍ أَوْ عَمَلٍ , وَأَسْأَلُكَ أَنْ تَجْعَلَ كُلَّ قَضَاءٍ قَضَيْتَهُ لِي خَيْرًا".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یہ دعا سکھائی : «اللهم إني أسألك من الخير كله عاجله وآجله ما علمت منه وما لم أعلم وأعوذ بك من الشر كله عاجله وآجله ما علمت منه وما لم أعلم اللهم إني أسألك من خير ما سألك عبدك ونبيك وأعوذ بك من شر ما عاذ به عبدك ونبيك اللهم إني أسألك الجنة وما قرب إليها من قول أو عمل وأعوذ بك من النار وما قرب إليها من قول أو عمل وأسألك أن تجعل كل قضاء قضيته لي خيرا» ” اے اللہ ! میں تجھ سے دنیا و آخرت کی ساری بھلائی کی دعا مانگتا ہوں جو مجھ کو معلوم ہے اور جو نہیں معلوم ، اور میں تیری پناہ چاہتا ہوں دنیا اور آخرت کی تمام برائیوں سے جو مجھ کو معلوم ہیں اور جو معلوم نہیں ، اے اللہ ! میں تجھ سے اس بھلائی کا طالب ہوں جو تیرے بندے اور تیرے نبی نے طلب کی ہے ، اور میں تیری پناہ چاہتا ہوں اس برائی سے جس سے تیرے بندے اور تیرے نبی نے پناہ چاہی ہے ، اے اللہ ! میں تجھ سے جنت کا طالب ہوں اور اس قول و عمل کا بھی جو جنت سے قریب کر دے ، اور میں تیری پناہ چاہتا ہوں جہنم سے اور اس قول و عمل سے جو جہنم سے قریب کر دے ، اور میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ ہر وہ حکم جس کا تو نے میرے لیے فیصلہ کیا ہے بہتر کر دے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3846]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 17986، ومصباح الزجاجة: 1346)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/134، 147) (صحیح) (سند میں ام کلثوم کے بارے میں بوصیری نے کلام کیا ہے، جب کہ مسلم نے ان سے روایت کی ہے، اور حدیث کی تصحیح ابن حبان، حاکم، ذہبی اور البانی نے کی ہے، نیز شواہد بھی ہیں، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: 1542)
|
|
|
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى الْقَطَّانُ , حَدَّثَنَا جَرِيرٌ , عَنْ الْأَعْمَشِ , عَنْ أَبِي صَالِحٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِرَجُلٍ: " مَا تَقُولُ فِي الصَّلَاةِ؟" , قَالَ: أَتَشَهَّدُ , ثُمَّ أَسْأَلُ اللَّهَ الْجَنَّةَ , وَأَعُوذُ بِهِ مِنَ النَّار , أَمَا وَاللَّهِ مَا أُحْسِنُ دَنْدَنَتَكَ وَلَا دَنْدَنَةَ مُعَاذٍ , قَالَ: " حَوْلَهَا نُدَنْدِنُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے پوچھا : ” تم نماز میں کیا کہتے ہو “ ؟ اس نے کہا : میں تشہد ( التحیات ) پڑھتا ہوں ، پھر اللہ سے جنت کا سوال کرتا ہوں اور جہنم سے اس کی پناہ مانگتا ہوں ، لیکن اللہ کی قسم میں آپ کی اور معاذ کی گنگناہٹ اچھی طرح سمجھ نہیں پاتا ہوں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہم بھی تقریباً ویسے ہی گنگناتے ہیں “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3847]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اور معاذ رضی اللہ عنہ کی گنگناہٹ میں نہیں سمجھتا آواز تو سنتا ہوں لیکن معلوم نہیں ہوتا کہ آپ اور معاذ رضی اللہ عنہ کیا دعا مانگتے ہیں۔
۲؎: یعنی مقصود ہماری دعاؤں کا بھی یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ جنت نصیب کرے اور جہنم سے بچائے۔ آمین۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 12363، ومصباح الزجاجة: 1347) (صحیح)
|
|
|
5: بَابُ : الدُّعَاءِ بِالْعَفْوِ وَالْعَافِيَةِ
باب: عفو اور عافیت کی دعا کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ , حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ أَخْبَرَنِي سَلَمَةُ بْنُ وَرْدَانَ , عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ , قَالَ: أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ , فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَيُّ الدُّعَاءِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: " سَلْ رَبَّكَ الْعَفْوَ وَالْعَافِيَةَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ" , ثُمَّ أَتَاهُ فِي الْيَوْمِ الثَّانِي , فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَيُّ الدُّعَاءِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: " سَلْ رَبَّكَ الْعَفْوَ وَالْعَافِيَةَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ" , ثُمَّ أَتَاهُ فِي الْيَوْمِ الثَّالِثِ , فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ , أَيُّ الدُّعَاءِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: " سَلْ رَبَّكَ الْعَفْوَ وَالْعَافِيَةَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ , فَإِذَا أُعْطِيتَ الْعَفْوَ وَالْعَافِيَةَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ , فَقَدْ أَفْلَحْتَ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص آیا اور کہنے لگا : اللہ کے رسول ! کون سی دعا سب سے بہتر ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم اللہ سے دنیا اور آخرت میں عفو اور عافیت کا سوال کیا کرو “ ، پھر وہ شخص دوسرے دن حاضر خدمت ہوا اور عرض کیا : اللہ کے رسول ! کون سی دعا سب سے بہتر ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم اپنے رب سے دنیا و آخرت میں عفو اور عافیت کا سوال کیا کرو “ ، پھر وہ تیسرے دن بھی حاضر خدمت ہوا ، اور عرض کیا : اللہ کے نبی ! کون سی دعا سب سے بہتر ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم اپنے رب سے دنیا و آخرت میں عفو و عافیت کا سوال کیا کرو ، کیونکہ جب تمہیں دنیا اور آخرت میں عفو اور عافیت عطا ہو گئی تو تم کامیاب ہو گئے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3848]
💡 وضاحت:
۱؎: بیشک عافیت میں عام بلاؤں، بیماریوں اور تکالیف سے حفاظت ہو گی، اور معافی میں گناہوں کی بخشش، اب اور کیا چاہتے ہو، یہ دو لفظ ہزاروں لفظوں کو شامل ہیں۔
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ ترمذي (3512) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 514
تخریج دارالدعوہ:
سنن الترمذی/الدعوات 85 (3512)، (تحفة الأشراف: 869)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/127) (ضعیف) (سند میں سلمہ بن وردان ضعیف راوی ہیں)
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ , وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ , قَالَا: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ , قَالَ: سَمِعْتُ شُعْبَةَ , عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُمَيْرٍ , قَالَ: سَمِعْتُ سُلَيْمَ بْنَ عَامِرٍ يُحَدِّثُ , عَنْ أَوْسَطَ بْنِ إِسْمَاعِيل الْبَجَلِيِّ , أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا بَكْرٍ , حِينَ قُبِضَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ: قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَقَامِي هَذَا عَامَ الْأَوَّلِ , ثُمَّ بَكَى أَبُو بَكْرٍ , ثُمَّ قَالَ: " عَلَيْكُمْ بِالصِّدْقِ فَإِنَّهُ مَعَ الْبِرِّ , وَهُمَا فِي الْجَنَّةِ , وَإِيَّاكُمْ وَالْكَذِبَ فَإِنَّهُ مَعَ الْفُجُورِ , وَهُمَا فِي النَّارِ , وَسَلُوا اللَّهَ الْمُعَافَاةَ , فَإِنَّهُ لَمْ يُؤْتَ أَحَدٌ بَعْدَ الْيَقِينِ خَيْرًا مِنَ الْمُعَافَاةِ , وَلَا تَحَاسَدُوا , وَلَا تَبَاغَضُوا , وَلَا تَقَاطَعُوا , وَلَا تَدَابَرُوا , وَكُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا".
اوسط بن اسماعیل بجلی سے روایت ہے کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی ، تو انہوں نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ پچھلے سال میری اس جگہ پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے تھے ، پھر ابوبکر رضی اللہ عنہ نے روتے ہوئے کہا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم اپنے لیے سچائی کو لازم کر لو کیونکہ سچائی نیکی کی ساتھی ہے ، اور یہ دونوں جنت میں ہوں گی ، اور تم جھوٹ سے پرہیز کرو کیونکہ جھوٹ برائی کا ساتھی ہے ، اور یہ دونوں جہنم میں ہوں گی ، اور تم اللہ تعالیٰ سے تندرستی اور عافیت طلب کرو کیونکہ ایمان و یقین کے بعد صحت و تندرستی سے بڑھ کر کوئی چیز نہیں ہے ، تم آپس میں ایک دوسرے سے حسد اور بغض نہ کرو ، قطع رحمی اور ترک تعلقات سے بچو ، اور ایک دوسرے سے منہ موڑ کر پیٹھ نہ پھیرو بلکہ اللہ کے بندے بھائی بھائی بن کر رہو “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3849]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی تمام مسلمانوں کے ساتھ محبت اور شفقت سے پیش آؤ، اور کسی مسلمان کو مت ستاؤ۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 6586، ومصباح الزجاجة: 1348)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الدعوات 106 (3558)، مسند احمد (1/3، 5، 7، 8) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ , حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , عَنْ كَهْمَسِ بْنِ الْحَسَنِ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , أَنَّهَا قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَرَأَيْتَ إِنْ وَافَقْتُ لَيْلَةَ الْقَدْرِ مَا أَدْعُو , قَالَ: " تَقُولِينَ: اللَّهُمَّ إِنَّكَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّي".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! اگر مجھے شب قدر مل جائے تو کیا دعا کروں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ دعا کرو «اللهم إنك عفو تحب العفو فاعف عني» ” اے اللہ تو معاف کرنے والا ہے اور معافی و درگزر کو پسند کرتا ہے تو تو مجھ کو معاف فرما دے ۔“ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3850]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ ترمذي (3513) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 514
تخریج دارالدعوہ:
سنن الترمذی/الدعوات 85 (3513)، (تحفة الأشراف: 16185)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/171، 182، 183، 208) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ , حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , عَنْ هِشَامٍ صَاحِبِ الدَّسْتُوَائِيِّ , عَنْ قَتَادَةَ , عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ زِيَادٍ الْعَدَوِيِّ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا مِنْ دَعْوَةٍ يَدْعُو بِهَا الْعَبْدُ أَفْضَلَ مِنْ , اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْمُعَافَاةَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بندہ جو بھی دعا مانگتا ہے وہ اس دعا سے زیادہ بہتر نہیں ہو سکتی : ( وہ دعا یہ ہے ) «اللهم إني أسألك المعافاة في الدنيا والآخرة» اے اللہ میں تجھ سے دنیا اور آخرت میں عافیت چاہتا ہوں ۔“ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3851]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ قتادة عنعن ¤ وفي السند اختلاف وللحديث شاهد معنوي (بالسند المنقطع) في مجمع الزوائد (10/ 175) وقال: ”رواه البزار ورجاله رجال الصحيح‘‘۔قلت: ھو في كشف الأستار (4/ 51۔52 ح 3176) و قال البزار: ”و سالم (بن أبي الجعد) لم يسمع من أبي الدرداء“ فالسند ضعيف لانقطاعه ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 514
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 14282، ومصباح الزجاجة: 1349) (صحیح)
|
|
|
6: بَابُ : إِذَا دَعَا أَحَدُكُمْ فَلْيَبْدَأْ بِنَفْسِهِ
باب: جب تم میں سے کوئی دعا کرے تو اپنے سے شروع کرے۔
|
|
|
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ , حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ , حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ أَبِي إِسْحَاق , عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ , عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَرْحَمُنَا اللَّهُ وَأَخَا عَادٍ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ ہم پر اور عاد کے بھائی ( ہود علیہ السلام ) پر رحم فرمائے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3852]
💡 وضاحت:
۱؎: ہود علیہ السلام قوم عاد کی طرف نبی بنا کر بھیجے گئے تھے۔
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ أبو إسحاق ھو الشيباني،وفيه عنعنة سفيان الثوري ¤ وللحديث شاهد مرسل ضعيف عند ابن أبي شيبة (220/10) وحديث مسلم (2380/172) يُغني عنه ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 514
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 5592، ومصباح الزجاجة: 1350) (ضعیف) (سند میں زید بن الحباب ہیں، جو سفیان سے احادیث کی روایت میں غلطیاں کرتے ہیں، نیز ابو اسحاق مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے، نیز ملاحظہ ہو: 4829)
|
|
|
7: بَابُ : يُسْتَجَابُ لأَحَدِكُمْ مَا لَمْ يَعْجَلْ
باب: دعا قبول ہوتی ہے بشرطیکہ جلدی نہ کرے۔
|
|
|
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ , حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ سُلَيْمَانَ , عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ , عَنْ الزُّهْرِيِّ , عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " يُسْتَجَابُ لِأَحَدِكُمْ مَا لَمْ يَعْجَلْ" , قِيلَ: وَكَيْفَ يَعْجَلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: " يَقُولُ: قَدْ دَعَوْتُ اللَّهَ فَلَمْ يَسْتَجِبْ اللَّهُ لِي".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم میں سے ہر ایک کی دعا قبول ہوتی ہے ، بشرطیکہ وہ جلدی نہ کرے “ ، عرض کیا گیا : اللہ کے رسول ! جلدی کا کیا مطلب ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” وہ یوں کہتا ہے کہ میں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی لیکن اللہ تعالیٰ نے میری دعا قبول نہ کی “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3853]
💡 وضاحت:
۱؎: ایسا کہنا مالک کی جناب میں بے ادبی ہے، اور مالک کا اختیار ہے جب وہ مناسب سمجھتا ہے اس وقت دعا قبول کرتا ہے، کبھی جلدی، کبھی دیر میں اور کبھی دنیا میں قبول نہیں کرتا، جب بندے کا فائدہ دعا قبول نہ ہونے میں ہوتا ہے تو آخرت کے لئے اس دعا کو اٹھا رکھتا ہے، غرض مالک کی حکمتیں اور اس کے بھید زیادہ وہی جانتا ہے، اور کسی حال میں بندے کو اپنے مالک سے مایوس نہ ہونا چاہئے، کیونکہ سوا اس کے در کے اور کونسا در ہے؟ اور وہ اپنے بندوں پر ماں باپ سے زیادہ رحیم وکریم ہے، پس بہتر یہی ہے کہ بندہ سب کام اللہ کی رضا پر چھوڑ دے اور ظاہر میں شرعی احکام کے مطابق دعا کرتا رہے، لیکن اگر دعا قبول نہ ہو تو بھی دل خوش رہے، اور یہ سمجھے کہ اس میں ضرور کوئی حکمت ہو گی، اور ہمارا کچھ فائدہ ہو گا۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الدعوات 22 (6340)، صحیح مسلم/الذکروالدعاء 25 (2735)، سنن ابی داود/الصلاة 358 (1484)، سنن الترمذی/الدعوات 12 (3387)، (تحفة الأشراف: 2929)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/القرآن 8 (29)، مسند احمد (2/396، 487) (صحیح)
|
|
|
8: بَابُ : لاَ يَقُولُ الرَّجُلُ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي إِنْ شِئْتَ
باب: آدمی کو اس طرح نہیں کہنا چاہئے کہ اے اللہ! اگر تو چاہے تو مجھ کو بخش دے۔
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ , حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ , عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ , عَنْ أَبِي الزِّنَادِ , عَنْ الْأَعْرَجِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي إِنْ شِئْتَ , وَلْيَعْزِمْ فِي الْمَسْأَلَةِ فَإِنَّ اللَّهَ لَا مُكْرِهَ لَهُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم میں سے کوئی یہ نہ کہے کہ اے اللہ ! اگر تو چاہے تو مجھے بخش دے ، بلکہ اللہ تعالیٰ سے یقینی طور پر سوال کرے ، کیونکہ اللہ تعالیٰ پر کوئی زور زبردستی کرنے والا نہیں ہے ۔“ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3854]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 13872)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/التوحید 31 (7477)، صحیح مسلم/الذکر والدعاء 3 (2679)، سنن ابی داود/الصلاة 358 (1483)، سنن الترمذی/الدعوات 78 (3497)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/القرآن 8 (28)، مسند احمد (2/243، 457، 486) (صحیح)
|
|
|
9: بَابُ : اسْمِ اللَّهِ الأَعْظَمِ
باب: اللہ تعالیٰ کے اسم اعظم کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ , حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ , عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي زِيَادٍ , عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ , عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ , قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اسْمُ اللَّهِ الْأَعْظَمُ فِي هَاتَيْنِ الْآيَتَيْنِ وَإِلَهُكُمْ إِلَهٌ وَاحِدٌ لا إِلَهَ إِلا هُوَ الرَّحْمَنُ الرَّحِيمُ سورة البقرة آية 163 وَفَاتِحَةِ سُورَةِ آلِ عِمْرَانَ.
اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ کا اسم اعظم ان دو آیات میں ہے «وإلهكم إله واحد لا إله إلا هو الرحمن الرحيم» ” تم سب کا معبود ایک ہی معبود ہے ، اس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ، وہ بہت رحم کرنے والا اور بڑا مہربان ہے “ ( سورۃ البقرہ : ۱۶۳ ) اور سورۃ آل عمران کے شروع میں : «الم الله لا إله إلا هو الحي القيوم» ” «الم» ، اللہ تعالیٰ وہ ہے جس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ، جو حی و قیوم ( زندہ اور سب کا نگہبان ) ہے ۔“ ( سورۃ آل عمران : ۱-۲ ) ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3855]
قال الشيخ الألباني:
حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الصلاة 358 (1496)، سنن الترمذی/الدعوات 65 (3478)، (تحفة الأشراف: 15767)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/461)، سنن الدارمی/فضائل القرآن 14 (3432) (حسن) (سند میں عبید اللہ القداح ضعیف ہیں، نیز شہر بن حوشب میں بھی کلام ہے، ترمذی نے حدیث کو صحیح کہا ہے، اس کی شاہد ابوامامہ کی حدیث (3856؍أ) ہے، جس سے تقویت پاکر یہ حدیث حسن ہوئی، ملاحظہ ہو: ا لصحیحہ: 746، وصحیح ابی داود: 5؍ 234)
|
|
|
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ , حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ أَبِي سَلَمَةَ , قَالَ: ذَكَرْتُ ذَلِكَ لِعِيسَى بْنِ مُوسَى , فَحَدَّثَنِي أَنَّهُ سَمِعَ غَيْلَانَ بْنَ أَنَسٍ يُحَدِّثُ , عَنْ الْقَاسِمِ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , نَحْوَهُ.
قاسم کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا اسم اعظم جس کے ذریعہ اگر دعا کی جائے تو قبول ہوتی ہے تین سورتوں میں ہے : سورۃ البقرہ ، سورۃ آل عمران اور سورۃ طہٰ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3856]
💡 وضاحت:
۱؎: سورۃ بقرہ اور سورۃ آل عمران میں بھی یہی ہے: «الله لا إله إلا هو الحي القيوم» (سورة آل عمران: 2) اور سورۃ طہ میں ہے: «الله لا إله إلا هو له الأسماء الحسنى» (سورة طہ: 8) بعضوں نے کہا: «الله لا إله إلا هو الحي القيوم» یہی اسم اعظم ہے، بعضوں نے کہا صرف «الحي القيوم» ہے۔
قال الشيخ الألباني:
حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 4921، ومصباح الزجاجة: 1352) (حسن) (غیلان بن انس مقبول ہیں، لیکن ابو یعلی میں عبداللہ بن العلاء نے ان کی متابعت کی ہے، نیز أسماء بنت یزید کی حدیث شاہد ہے، جو ترمذی اور ابوداود میں ہے)
|
|
|
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ , حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ أَبِي سَلَمَةَ , قَالَ: ذَكَرْتُ ذَلِكَ لِعِيسَى بْنِ مُوسَى , فَحَدَّثَنِي أَنَّهُ سَمِعَ غَيْلَانَ بْنَ أَنَسٍ يُحَدِّثُ , عَنْ الْقَاسِمِ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , نَحْوَهُ.
اس سند سے ابوامامہ سے بھی اسی طرح مرفوعاً مروی ہے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3856M]
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 4921، ومصباح الزجاجة: 1352) (حسن) (غیلان بن انس مقبول ہیں، لیکن ابو یعلی میں عبداللہ بن العلاء نے ان کی متابعت کی ہے، نیز أسماء بنت یزید کی حدیث شاہد ہے، جو ترمذی اور ابوداود میں ہے)
|
|
|
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ , حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , عَنْ مَالِكِ بْنِ مِغْوَلٍ , أَنَّهُ سَمِعَهُ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ , عَنْ أَبِيهِ , قَالَ: سَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , رَجُلًا يَقُولُ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِأَنَّكَ أَنْتَ اللَّهُ الْأَحَدُ الصَّمَدُ الَّذِي لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَقَدْ سَأَلَ اللَّهَ بِاسْمِهِ الْأَعْظَمِ , الَّذِي إِذَا سُئِلَ بِهِ أَعْطَى , وَإِذَا دُعِيَ بِهِ أَجَابَ".
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو یہ کہتے سنا : «اللهم إني أسألك بأنك أنت الله الأحد الصمد الذي لم يلد ولم يولد ولم يكن له كفوا أحد» ” اے اللہ ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کیونکہ تو ہی اکیلا اللہ ہے ، بے نیاز ہے ، جس نے نہ جنا اور نہ وہ جنا گیا ، اور نہ کوئی اس کا ہم سر ہے “ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس شخص نے اللہ سے اس کے اس اسم اعظم کے ذریعہ سوال کیا ہے جس کے ذریعہ اگر سوال کیا جائے تو اللہ تعالیٰ عطا کرتا ہے ، اور دعا کی جائے تو وہ قبول کرتا ہے ۔“ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3857]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الصلاة 358 (1493، 1494)، سنن الترمذی/الدعوات 64 (3475)، (تحفة الأشراف: 1998)، وقد أخرجہ: مسند احمد (0.6355/349، 350، 360) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ , حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , حَدَّثَنَا أَبُو خُزَيْمَةَ , عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ , عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ , قَالَ: سَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , رَجُلًا يَقُولُ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِأَنَّ لَكَ الْحَمْدَ , لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ وَحْدَكَ لَا شَرِيكَ لَكَ , الْمَنَّانُ بَدِيعُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ , ذُو الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ , فَقَالَ: " لَقَدْ سَأَلَ اللَّهَ بِاسْمِهِ الْأَعْظَمِ , الَّذِي إِذَا سُئِلَ بِهِ أَعْطَى وَإِذَا دُعِيَ بِهِ أَجَابَ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو یہ دعا کرتے سنا ، «اللهم إني أسألك بأن لك الحمد لا إله إلا أنت وحدك لا شريك لك المنان بديع السموات والأرض ذو الجلال والإكرام» ” اے اللہ ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کیونکہ تیرے ہی لیے حمد ہے ، تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں ، تو اکیلا ہے تیرا کوئی شریک نہیں ، تو بہت احسان کرنے والا ہے ، آسمانوں اور زمین کو بغیر مثال کے پیدا کرنے والا ہے ، جلال اور عظمت والا ہے “ ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس شخص نے اللہ سے اس کے اس اسم اعظم کے ذریعہ سوال کیا ہے کہ جب بھی اس کے ذریعہ سوال کیا جائے تو وہ عطا کرتا ہے ، اور جب اس کے ذریعہ دعا مانگی جائے تو وہ قبول کرتا ہے ۔“ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3858]
قال الشيخ الألباني:
حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 238، ومصباح الزجاجة: 1353)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الدعوت 110 (3544)، سنن ابی داود/الصلاة 358 (1495)، سنن النسائی/السہو 58 (1301)، مسند احمد (3/120، 158، 245) (حسن صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو يُوسُفَ الصَّيْدَلَانِيُّ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الرَّقِّيُّ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ , عَنْ الْفَزَارِيِّ , عَنْ أَبِي شَيْبَةَ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُكَيْمٍ الْجُهَنِيِّ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ: " اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِاسْمِكَ الطَّاهِرِ الطَّيِّبِ الْمُبَارَكِ الْأَحَبِّ إِلَيْكَ الَّذِي , إِذَا دُعِيتَ بِهِ أَجَبْتَ , وَإِذَا سُئِلْتَ بِهِ أَعْطَيْتَ , وَإِذَا اسْتُرْحِمْتَ بِهِ رَحِمْتَ , وَإِذَا اسْتُفْرِجَتَ بِهِ فَرَّجْتَ" , قَالَتْ: وَقَالَ ذَاتَ يَوْمٍ: " يَا عَائِشَةُ , هَلْ عَلِمْتِ أَنَّ اللَّهَ قَدْ دَلَّنِي عَلَى الِاسْمِ الَّذِي إِذَا دُعِيَ بِهِ أَجَابَ" , قَالَتْ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي فَعَلِّمْنِيهِ , قَالَ: " إِنَّهُ لَا يَنْبَغِي لَكِ يَا عَائِشَةُ" , قَالَتْ: فَتَنَحَّيْتُ وَجَلَسْتُ سَاعَةً , ثُمَّ قُمْتُ فَقَبَّلْتُ رَأْسَهُ , ثُمَّ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , عَلِّمْنِيهِ , قَالَ: " إِنَّهُ لَا يَنْبَغِي لَكِ يَا عَائِشَةُ أَنْ أُعَلِّمَكِ , إِنَّهُ لَا يَنْبَغِي لَكِ أَنْ تَسْأَلِينَ بِهِ شَيْئًا مِنَ الدُّنْيَا" , قَالَتْ: فَقُمْتُ فَتَوَضَّأْتُ , ثُمَّ صَلَّيْتُ رَكْعَتَيْنِ , ثُمَّ قُلْتُ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَدْعُوكَ اللَّهَ , وَأَدْعُوكَ الرَّحْمَنَ , وَأَدْعُوكَ الْبَرَّ , الرَّحِيمَ , وَأَدْعُوكَ بِأَسْمَائِكَ الْحُسْنَى كُلِّهَا مَا عَلِمْتُ مِنْهَا وَمَا لَمْ أَعْلَمْ , أَنْ تَغْفِرَ لِي , وَتَرْحَمَنِي , قَالَتْ: فَاسْتَضْحَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , ثُمَّ قَالَ: " إِنَّهُ لَفِي الْأَسْمَاءِ الَّتِي دَعَوْتِ بِهَا".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ دعا مانگتے ہوئے سنا ہے : «اللهم إني أسألك باسمك الطاهر الطيب المبارك الأحب إليك الذي إذا دعيت به أجبت وإذا سئلت به أعطيت وإذا استرحمت به رحمت وإذا استفرجت به فرجت» ” اے اللہ ! میں تجھ سے تیرے اس پاکیزہ ، مبارک اچھے نام کے واسطہ سے دعا کرتا ہوں جو تجھے زیادہ پسند ہے کہ جب اس کے ذریعہ تجھ سے دعا کی جاتی ہے ، تو تو قبول فرماتا ہے ، اور جب اس کے ذریعہ تجھ سے سوال کیا جاتا ہے تو تو عطا کرتا ہے ، اور جب اس کے ذریعہ تجھ سے رحم طلب کی جائے تو تو رحم فرماتا ہے ، اور جب مصیبت کو دور کرنے کی دعا کی جاتی ہے تو مصیبت اور تنگی کو دور کرتا ہے “ ، اور ایک روز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” عائشہ ! کیا تم جانتی ہو کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنا وہ نام بتایا ہے کہ جب بھی اس کے ذریعہ دعا کی جائے تو وہ اسے قبول کرے گا “ ، میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ، مجھے بھی وہ نام بتا دیجئیے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” عائشہ ! یہ تمہارے لیے مناسب نہیں “ ، میں یہ سن کر علیحدہ ہو گئی اور کچھ دیر خاموش بیٹھی رہی ، پھر میں نے اٹھ کر آپ کے سر مبارک کو چوما ، اور عرض کیا : اللہ کے رسول ! مجھے بتا دیجئیے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” عائشہ ! تمہارے لیے مناسب نہیں کہ میں تمہیں بتاؤں ، اور تمہارے لیے اس اسم اعظم کے واسطہ سے دنیا کی کوئی چیز طلب کرنی مناسب نہیں ، یہ سن کر میں اٹھی ، وضو کیا ، پھر میں نے دو رکعت نماز پڑھی ، اس کے بعد میں نے یہ دعا مانگی : «اللهم إني أدعوك الله وأدعوك الرحمن وأدعوك البر الرحيم وأدعوك بأسمائك الحسنى كلها ما علمت منها وما لم أعلم أن تغفر لي وترحمني» ” اے اللہ ! میں تجھ اللہ سے دعا کرتی ہوں ، میں تجھ رحمن سے دعا کرتی ہوں ، اور میں تجھ محسن و مہربان سے دعا کرتی ہوں اور میں تجھ سے تیرے تمام اسماء حسنیٰ سے دعا کرتی ہوں ، جو مجھے معلوم ہوں یا نہ معلوم ہوں ، یہ کہ تو مجھے بخش دے ، اور مجھ پر رحم فرما “ ، یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہنسے اور فرمایا : ” اسم اعظم انہی اسماء میں ہے جس کے ذریعہ تم نے دعا مانگی ہے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3859]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ أبو شيبة غير منسوب،وقال البوصيري: ”لم أر من جرحه ولا وثقه“ يعني أنه مجهول الحال وھو مذكور في التقريب (8165) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 514
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 16272، ومصباح الزجاجة: 1354) (ضعیف) (سند میں ابوشیبہ مجہول راوی ہیں)
|
|
|
10: بَابُ : أَسْمَاءِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ
باب: اللہ تعالیٰ کے اسماء حسنیٰ کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ لِلَّهِ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ اسْمًا , مِائَةً إِلَّا وَاحِدًا , مَنْ أَحْصَاهَا دَخَلَ الْجَنَّةَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ کے نناوے نام ہیں ایک کم سو ، جو انہیں یاد ( حفظ ) کرے ۱؎ تو وہ شخص جنت میں داخل ہو گا “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3860]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی ان ناموں کی پوری پوری معرفت حاصل ہو، اور ان میں پائے جانے والے معانی و مفاہیم کے جو تقاضے ہیں ان کے مطابق زندگی گزارے، تو ان شاء اللہ وہ جنت کا مستحق ہو گا۔
قال الشيخ الألباني:
حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 15067)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الشروط 18 (2736)، صحیح مسلم/الذکر والدعاء 2 (2677)، سنن الترمذی/الدعوات 83 (3506)، مسند احمد (2/458، 499، 503) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّنْعَانِيُّ , حَدَّثَنَا أَبُو الْمُنْذِرِ زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ التَّمِيمِيُّ , حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ , حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجُ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " إِنَّ لِلَّهِ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ اسْمًا , مِائَةً إِلَّا وَاحِدًا , إِنَّهُ وِتْرٌ يُحِبُّ الْوِتْرَ , مَنْ حَفِظَهَا دَخَلَ الْجَنَّةَ , وَهِيَ: اللَّهُ الْوَاحِدُ الصَّمَدُ الْأَوَّلُ الْآخِرُ الظَّاهِرُ الْبَاطِنُ الْخَالِقُ الْبَارِئُ الْمُصَوِّرُ الْمَلِكُ الْحَقُّ السَّلَامُ الْمُؤْمِنُ الْمُهَيْمِنُ الْعَزِيزُ الْجَبَّارُ الْمُتَكَبِّرُ الرَّحْمَنُ الرَّحِيمُ اللَّطِيفُ الْخَبِيرُ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ الْعَلِيمُ الْعَظِيمُ الْبَارُّ الْمُتْعَالِ الْجَلِيلُ الْجَمِيلُ الْحَيُّ الْقَيُّومُ الْقَادِرُ الْقَاهِرُ الْعَلِيُّ الْحَكِيمُ الْقَرِيبُ الْمُجِيبُ الْغَنِيُّ الْوَهَّابُ الْوَدُودُ الشَّكُورُ الْمَاجِدُ الْوَاجِدُ الْوَالِي الرَّاشِدُ الْعَفُوُّ الْغَفُورُ الْحَلِيمُ الْكَرِيمُ التَّوَّابُ الرَّبُّ الْمَجِيدُ الْوَلِيُّ الشَّهِيدُ الْمُبِينُ الْبُرْهَانُ الرَّءُوفُ الرَّحِيمُ الْمُبْدِئُ الْمُعِيدُ الْبَاعِثُ الْوَارِثُ الْقَوِيُّ الشَّدِيدُ الضَّارُّ النَّافِعُ الْبَاقِي الْوَاقِي الْخَافِضُ الرَّافِعُ الْقَابِضُ الْبَاسِطُ الْمُعِزُّ الْمُذِلُّ الْمُقْسِطُ الرَّزَّاقُ ذُو الْقُوَّةِ الْمَتِينُ الْقَائِمُ الدَّائِمُ الْحَافِظُ الْوَكِيلُ الْفَاطِرُ السَّامِعُ الْمُعْطِي الْمُحْيِي الْمُمِيتُ الْمَانِعُ الْجَامِعُ الْهَادِي الْكَافِي الْأَبَدُ الْعَالِمُ الصَّادِقُ النُّورُ الْمُنِيرُ التَّامُّ الْقَدِيمُ الْوِتْرُ الْأَحَدُ الصَّمَدُ الَّذِي لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ" , قَالَ زُهَيْرٌ: فَبَلَغَنَا مِنْ غَيْرِ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنَّ أَوَّلَهَا يُفْتَحُ بِقَوْلِ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ , وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ , لَهُ الْمُلْكُ , وَلَهُ الْحَمْدُ , بِيَدِهِ الْخَيْرُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ , لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ لَهُ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَى.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بیشک اللہ تعالیٰ کے ننانوے نام ہیں ایک کم سو ، چونکہ اللہ تعالیٰ طاق ہے اس لیے طاق کو پسند کرتا ہے جو انہیں یاد کرے گا وہ جنت میں داخل ہو گا ، اور وہ ننانوے نام یہ ہیں : «الله» ” اسم ذات سب ناموں سے اشرف اور اعلیٰ “ ، «الواحد» ” اکیلا ، ایکتا “ ، «الصمد» ” بے نیاز “ ، «الأول» ” پہلا “ ، «الآخر» ” پچھلا “ ، «الظاهر» ” ظاہر “ ، «الباطن» ” باطن “ ، «الخالق» ” پیدا کرنے والا “ ، «البارئ» ” بنانے والا “ ، «المصور» ” صورت بنانے والا “ ، «الملك» ” بادشاہ “ ، «الحق» ” سچا “ ، «السلام» ” سلامتی دینے والا “ ، «المؤمن» ” یقین والا “ ، «المهيمن» ” نگہبان “ ، «العزيز» ” غالب “ ، «الجبار» ” تسلط والا “ ، «المتكبر» ” بڑائی والا “ ، «الرحمن» ” بہت رحم کرنے والا “ ، «الرحيم» ” مہربان “ ، «اللطيف» ” بندوں پر شفقت کرنے والا “ ، «الخبير» ” خبر رکھنے والا “ ، «السميع» ” سننے والا “ ، «البصير» ” دیکھنے والا “ ، «العليم» ” جاننے والا “ ، «العظيم» ” بزرگی والا “ ، «البار» ” بھلائی والا “ ، «المتعال» ” برتر “ ، «الجليل» ” بزرگ “ ، «الجميل» ” خوبصورت “ ، «الحي» ” زندہ “ ، «القيوم» ” قائم رہنے اور قائم رکھنے والا “ ، «القادر» ” قدرت والا “ ، «القاهر» ” قہر والا “ ، «العلي» ” اونچا “ ، «الحكيم» ” حکمت والا “ ، «القريب» ” نزدیک “ ، «المجيب» ” قبول کرنے والا “ ، «الغني» ” تونگر بے نیاز “ ، «الوهاب» ” بہت دینے والا “ ، «الودود» ” بہت چاہنے والا “ ، «الشكور» ” قدر کرنے والا “ ، «الماجد» ” بزرگی والا “ ، «الواجد» ” پانے والا “ ، «الوالي» ” مالک مختار ، حکومت کرنے والا “ ، «الراشد» ” خیر والا “ ، «العفو» ” بہت معاف کرنے والا “ ، «الغفور» ” بہت بخشنے والا “ ، «الحليم» ” بردبار “ ، «الكريم» ” کرم والا “ ، «التواب» ” توبہ قبول کرنے والا “ ، «الرب» ” پالنے والا “ ، «المجيد» ” بزرگی والا “ ، «الولي» ” مددگار و محافظ “ ، «الشهيد» ” نگراں ، حاضر “ ، «المبين» ” ظاہر کرنے والا “ ، «البرهان» ” دلیل “ ، «الرءوف» ” شفقت والا “ ، «الرحيم» ” مہربان “ ، «المبدئ» ” پہلے پہل پیدا کرنے والا “ ، «المعيد» ” دوبارہ پیدا کرنے والا “ ، «الباعث» ” زندہ کر کے اٹھانے والا “ ، «الوارث» ” وارث “ ، «القوي» ” ( قوی ) زور آور “ ، «الشديد» ” سخت “ ، «الضار» ” نقصان پہنچانے والا “ ، «النافع» ” نفع دینے والا “ ، «الباقي» ” قائم “ ، «الواقي» ” بچانے والا “ ، «الخافض» ” پست کرنے والا “ ، «الرافع» ” اونچا کرنے والا “ ، «القابض» ” روکنے والا “ ، «الباسط» ” چھوڑ دینے والا ، پھیلانے والا “ ، «المعز» ” عزت دینے والا “ ، «المذل» ” ذلت دینے والا “ ، «المقسط» ” منصف “ ، «الرزاق» ” روزی دینے والا “ ، «ذو القوة» ” طاقت والا “ ، «المتين» ” مضبوط “ ، «القائم» ” ہمیشہ رہنے والا “ ، «الدائم» ” ہمیشگی والا “ ، «الحافظ» ” بچانے والا “ ، «الوكيل» ” کارساز “ ، «الفاطر» ” پیدا کرنے والا “ ، «السامع» ” سننے والا “ ، «المعطي» ” دینے والا “ ، «المحيي» ” زندہ کرنے والا “ ، «المميت» ” مارنے والا “ ، «المانع» ” روکنے والا “ ، «الجامع» ” جمع کرنے والا “ ، «الهادي» ” ( رہبری ہادی ) راہ بنانے والا “ ، «الكافي» ” کفایت کرنے والا “ ، «الأبد» ” ہمیشہ برقرار “ ، «العالم» ” ( عالم ) جاننے والا “ ، «الصادق» ” سچا “ ، «النور» ” روشن ، ظاہر “ ، «المنير» ” روشن کرنے والا “ ، «التام» ” مکمل “ ، «القديم» ” ہمیشہ رہنے والا “ ، «الوتر» ” طاق “ ، «الأحد» ” اکیلا “ ، «الصمد» ” بے نیاز “ ، «الذي لم يلد ولم يولد ولم يكن له كفوا أحد» ” جس نے نہ جنا ہے نہ وہ جنا گیا ہے ، اور اس کا کوئی ہمسر نہیں ہے “ ۔ زہیر کہتے ہیں : ہمیں بہت سے اہل علم سے یہ بات معلوم ہوئی ہے کہ ان ناموں کی ابتداء اس قول سے کی جاتی ہے : «لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد بيده الخير وهو على كل شيء قدير لا إله إلا الله له الأسماء الحسنى» ” اللہ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں ، وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں ، اسی کے لیے بادشاہت ہے ، اسی کے لیے ہر طرح کی تعریف ہے ، اسی کے ہاتھ میں خیر ہے اور وہ ہر چیز پر قدرت والا ہے ، اللہ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں اسی کے لیے اچھے نام ہیں “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3861]
قال الشيخ الألباني:
صحيح دون عد الأسماء
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ عبدالملك الصنعاني: لين الحديث ¤ وللحديث طريق آخر ضعيف عند الترمذي (3507) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 514
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 13970، ومصباح الزجاجة: 1355) (ضعیف) (سند میں عبدالملک بن محمد لین الحدیث ہیں، اور اسماء حسنیٰ کے اس سیاق سے حدیث ضعیف ہے)
|
|
|
11: بَابُ : دَعْوَةِ الْوَالِدِ وَدَعْوَةِ الْمَظْلُومِ
باب: ماں باپ کی دعا اولاد کے لیے اور مظلوم کی دعا کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ , حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ السَّهْمِيُّ , عَنْ هِشَامٍ الدَّسْتُوَائِيِّ , عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ , عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ثَلَاثُ دَعَوَاتٍ يُسْتَجَابُ لَهُنَّ لَا شَكَّ فِيهِنَّ: دَعْوَةُ الْمَظْلُومِ , وَدَعْوَةُ الْمُسَافِرِ , وَدَعْوَةُ الْوَالِدِ لِوَلَدِهِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تین دعائیں ہیں جن کی قبولیت میں کوئی شک نہیں : مظلوم کی دعا ، مسافر کی دعا ، والد ( اور والدہ ) کی دعا اپنی اولاد کے حق میں “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3862]
قال الشيخ الألباني:
حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الصلاة 364 (1536)، سنن الترمذی/البروالصلة 7 (1905)، (تحفة الأشراف: 14873)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/258، 348، 478، 517، 523) (حسن)
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى , حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ , حَدَّثَتْنَا حُبَابَةُ ابْنَةُ عَجْلَانَ , عَنْ أُمِّهَا أُمِّ حَفْصٍ , عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ جَرِيرٍ , عَنْ أُمِّ حَكِيمٍ بِنْتِ وَدَّاعٍ الْخُزَاعِيَّةِ , قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ: " دُعَاءُ الْوَالِدِ يُفْضِي إِلَى الْحِجَابِ".
ام حکیم بنت وداع خزاعیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے : ” والد ( اور والدہ ) کی دعا حجاب الٰہی ( مقام قبولیت ) تک پہنچتی ہے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3863]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ قال الذهبي في ميزان الإعتدال: ”حبابة لا تعرف،ولا أمها،ولا صفية،تفرد عنها التبوذكي‘‘ (605/4) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 515
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 18315، ومصباح الزجاجة: 1356) (ضعیف) (سند میں حبابہ، ام حفص، اور صفیہ سب مجہول ہیں)
|
|
|
12: بَابُ : كَرَاهِيَةِ الاِعْتِدَاءِ فِي الدُّعَاءِ
باب: دعا میں حد سے تجاوز کرنے کی ممانعت۔
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا عَفَّانُ , حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ , أَنْبَأَنَا سَعِيدٌ الْجُرَيْرِيُّ , عَنْ أَبِي نَعَامَةَ , أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مُغَفَّلٍ , سَمِعَ ابْنَهُ , يَقُولُ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْقَصْرَ الْأَبْيَضَ عَنْ يَمِينِ الْجَنَّةِ , إِذَا دَخَلْتُهَا , فَقَالَ: أَيْ بُنَيَّ! سَلِ اللَّهَ الْجَنَّةَ وَعُذْ بِهِ مِنَ النَّارِ , فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ: " سَيَكُونُ قَوْمٌ يَعْتَدُونَ فِي الدُّعَاءِ".
ابونعامہ ( قیس بن عبایہ ) سے روایت ہے کہ عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ نے اپنے بیٹے کو یہ دعا مانگتے سنا : «اللهم إني أسألك القصر الأبيض عن يمين الجنة إذا دخلتها» ” اللہ ! جب میں جنت میں جاؤں تو مجھے جنت کی دائیں جانب سفید محل عطا فرما “ ، تو انہوں نے کہا : میرے بیٹے ! اللہ تعالیٰ سے جنت کا سوال کرو اور جہنم سے پناہ مانگو ، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے : ” عنقریب کچھ ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو دعا میں حد سے آگے بڑھ جائیں گے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3864]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے کراہت نکلی ان پر تکلف اور مسجع اور مقفی دعاؤں کی جو متاخرین نے ایجاد کیں ہیں، اور جاہل ان کے الفاظ پر فریفتہ ہو جاتے ہیں، عمدہ دعائیں وہی ہیں جو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہیں، آپ مختصر اور جامع دعائیں پسند فرماتے تھے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الطہارة 45 (96)، (تحفة الأشراف: 9664)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/86، 187، 5/55) (صحیح)
|
|
|
13: بَابُ : رَفْعِ الْيَدَيْنِ فِي الدُّعَاءِ
باب: دعا میں دونوں ہاتھ اٹھانے کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ , حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ , عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مَيْمُونٍ , عَنْ أَبِي عُثْمَانَ , عَنْ سَلْمَانَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " إِنَّ رَبَّكُمْ حَيِيٌّ كَرِيمٌ , يَسْتَحْيِي مِنْ عَبْدِهِ أَنْ يَرْفَعَ إِلَيْهِ يَدَيْهِ , فَيَرُدَّهُمَا صِفْرًا أَوْ قَالَ خَائِبَتَيْنِ".
سلمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تمہارا رب «حی» ( بڑا باحیاء ، شرمیلا ) اور کریم ہے ، اسے اس بات سے شرم آتی ہے کہ اس کا بندہ اس کے سامنے ہاتھ پھیلائے تو وہ انہیں خالی یا نامراد لوٹا دے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3865]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی صالح مومن کی دعا خالی نہیں جاتی، یا تو دنیا ہی میں قبول کر لی جاتی ہے، یا پھر آخرت میں اسے اس کا بہتر بدلہ ملے گا۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن ¤ وله شاھد حسن عند امالي المحاملي (433 وسنده حسن، /نديم ظهير)
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الصلاة 358 (1488)، سنن الترمذی/الدعوات 105 (3556)، (تحفة الأشراف: 4494)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/438) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ , حَدَّثَنَا عَائِذُ بْنُ حَبِيبٍ , عَنْ صَالِحِ بْنِ حَسَّانَ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ , عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا دَعَوْتَ اللَّهَ , فَادْعُ بِبُطُونِ كَفَّيْكَ , وَلَا تَدْعُ بِظُهُورِهِمَا , فَإِذَا فَرَغْتَ , فَامْسَحْ بِهِمَا وَجْهَكَ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم اللہ تعالیٰ سے دعا کرو تو اپنے ہاتھ کی اندرونی ہتھیلیوں سے دعا کیا کرو ، ان کی پشت اپنی طرف کر کے دعا نہ کرو ، پھر جب دعا سے فارغ ہو جاؤ تو اپنے ہاتھ اپنے منہ پر پھیرو “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3866]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف ¤ ضعيف جدًا ¤ سنن أبي داود (1485) ¤ صالح بن حسان: متروك ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 515
تخریج دارالدعوہ:
(یہ حدیث مکرر ہے، ملاحظہ ہو: نمبر: 1181) (ضعیف) (ملاحظہ ہو: الإرواء: 434)
|
|
|
14: بَابُ : مَا يَدْعُو بِهِ الرَّجُلُ إِذَا أَصْبَحَ وَإِذَا أَمْسَى
باب: صبح شام کیا دعا پڑھے؟
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ , حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى , حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ , عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ أَبِي عَيَّاشٍ الزُّرَقِيِّ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ قَالَ حِينَ يُصْبِحُ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ , لَهُ الْمُلْكُ , وَلَهُ الْحَمْدُ , وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ , كَانَ لَهُ عَدْلَ رَقَبَةٍ مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيل , وَحُطَّ عَنْهُ عَشْرُ خَطِيئَاتٍ , وَرُفِعَ لَهُ عَشْرُ دَرَجَاتٍ , وَكَانَ فِي حِرْزٍ مِنَ الشَّيْطَانِ حَتَّى يُمْسِيَ , وَإِذَا أَمْسَى فَمِثْلُ ذَلِكَ حَتَّى يُصْبِحَ" , قَالَ: فَرَأَى رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا يَرَى النَّائِمُ , فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّ أَبَا عَيَّاشٍ يَرْوِي عَنْكَ كَذَا وَكَذَا , فَقَالَ: " صَدَقَ أَبُو عَيَّاشٍ".
ابوعیاش زرقی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص صبح کے وقت یہ دعا پڑھے : «لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير» ” اللہ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں ، وہ یکتا ہے اس کا کوئی شریک نہیں ، اسی کے لیے بادشاہت ہے ، اور اسی کے لیے حمد و ثنا ، وہی ہر چیز پر قادر ہے “ تو اسے اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے ایک غلام آزاد کرنے کا ثواب ملتا ہے ، اور اس کے دس گناہ مٹا دئیے جاتے ہیں ، اور اس کے دس درجے بڑھا دئیے جاتے ہیں ، اور وہ شام تک شیطان سے محفوظ رہتا ہے ، اور اگر شام کے وقت یہ پڑھے تو وہ صبح تک ایسے ہی رہتا ہے تو ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں دیکھا ، اور عرض کیا : اللہ کے رسول ! ابوعیاش آپ سے ایسی اور ایسی حدیث بیان کرتے ہیں ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ابوعیاش سچ کہتا ہے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3867]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الأدب 110 (5077)، (تحفة الأشراف: 12076)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/356، 420) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ , عَنْ سُهَيْلٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ: قَال رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا أَصْبَحْتُمْ , فَقُولُوا: اللَّهُمَّ بِكَ أَصْبَحْنَا , وَبِكَ أَمْسَيْنَا , وَبِكَ نَحْيَا , وَبِكَ نَمُوتُ , وَإِذَا أَمْسَيْتُمْ , فَقُولُوا: اللَّهُمَّ بِكَ أَمْسَيْنَا , وَبِكَ أَصْبَحْنَا , وَبِكَ نَحْيَا , وَبِكَ نَمُوتُ , وَإِلَيْكَ الْمَصِيرُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب صبح کرو تو یہ کہا کرو ، «اللهم بك أصبحنا وبك أمسينا وبك نحيى وبك نموت وإذا أمسيتم فقولوا اللهم بك أمسينا وبك أصبحنا وبك نحيى وبك نموت وإليك المصير» ” اے اللہ ہم نے تیرے ہی نام پر صبح کی ، اور تیرے ہی نام پر شام کی ، اور تیرے ہی نام پر ہم جیتے ہیں ، اور تیرے ہی نام پر مریں گے “ ، اور شام کرو تو یہ کہا کرو ، «اللهم بك أمسينا وبك أصبحنا وبك نحيى وبك نموت وإليك المصير» ” اے اللہ ! ہم نے تیرے ہی نام پر شام کی ، اور تیرے ہی نام پر صبح کی ، اور تیرے ہی نام پر جیتے ہیں ، تیرے ہی نام پر مریں گے ، اور تیری ہی طرف پلٹ کر جانا ہے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3868]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 12695)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الأدب 110 (5068)، سنن الترمذی/الدعوات 13 (3391)، مسند احمد (2/354، 522) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ , حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ , حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ , قَالَ: سَمِعْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ , يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ: " مَا مِنْ عَبْدٍ , يَقُولُ فِي صَبَاحِ كُلِّ يَوْمٍ , وَمَسَاءِ كُلِّ لَيْلَةٍ: بِسْمِ اللَّهِ الَّذِي لَا يَضُرُّ مَعَ اسْمِهِ شَيْءٌ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي السَّمَاءِ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ , ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَيَضُرَّهُ شَيْءٌ" , قَالَ: وَكَانَ أَبَانُ قَدْ أَصَابَهُ طَرَفٌ مِنَ الْفَالِجِ , فَجَعَلَ الرَّجُلُ يَنْظُرُ إِلَيْهِ , فَقَالَ لَهُ أَبَانُ: مَا تَنْظُرُ إِلَيَّ؟ أَمَا إِنَّ الْحَدِيثَ كَمَا قَدْ حَدَّثْتُكَ , وَلَكِنِّي لَمْ أَقُلْهُ يَوْمَئِذٍ لِيُمْضِيَ اللَّهُ عَلَيَّ قَدَرَهُ.
عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : ” جو کوئی بندہ ہر دن صبح اور شام تین بار یہ کہے : «بسم الله الذي لا يضر مع اسمه شيء في الأرض ولا في السماء وهو السميع العليم» ” اس اللہ کے نام سے جس کے نام لینے سے زمین اور آسمان کی کوئی چیز نقصان نہیں پہنچا سکتی ہے ، وہ سمیع و علیم ( یعنی سننے اور جاننے والا ہے ) تو اسے کوئی چیز نقصان نہیں پہنچا سکتی “ ۔ راوی کہتے ہیں : ابان کچھ فالج سے متاثر ہو گئے تو وہ شخص انہیں دیکھنے لگا ، ابان نے اس سے کہا : مجھے کیا دیکھتے ہو ؟ سنو ! حدیث ویسے ہی ہے جیسے میں نے تم سے بیان کی ، لیکن میں اس دن یہ دعا نہیں پڑھ سکا تھا تاکہ اللہ تعالیٰ اپنی تقدیر مجھ پر نافذ کر دے ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3869]
💡 وضاحت:
۱؎: اب یہ اعتراض نہ ہونا چاہئے کہ پھر اس دعا کے پڑھنے سے کیا حاصل،کیونکہ بندے کو یہ علم کہاں ہے کہ قضا مبرم (قطعی) ہے یا معلق، اور احتمال ہے کہ قضائے معلق ہو اس دعاکے پڑھنے پر یعنی اگر یہ دعا پڑھ لے گا تو اس صدمے سے محفوظ رہے گا اور جب دعا پڑھ لے تو یہ سمجھنا چاہئے کہ تقدیر میں اس آفت کا ٹل جانا دعا کی برکت سے تھا، اور اگر نہ پڑھے اور آفت آ جائے تو معلوم ہوا کہ ہماری تقدیر میں یہ مصیبت آنی ضرور لکھی تھی، اب ہم دعا کیسے پڑھ سکتے تھے کیونکہ تقدیر سے بچنا محال ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الأدب 110 (5088، 5089)، سنن الترمذی/الدعوات 13 (3388)، (تحفة الأشراف: 9778)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/62، 72) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ , حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ , حَدَّثَنَا أَبُو عَقِيلٍ , عَنْ سَابِقٍ , عَنْ أَبِي سَلَّامٍ , خَادِمِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " مَا مِنْ مُسْلِمٍ , أَوْ إِنْسَانٍ , أَوْ عَبْدٍ , يَقُولُ حِينَ يُمْسِي وَحِينَ يُصْبِحُ: رَضِيتُ بِاللَّهِ رَبًّا , وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا , وَبِمُحَمَّدٍ نَبِيًّا , إِلَّا كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يُرْضِيَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ".
خادم رسول ابوسلام رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب کوئی مسلمان یا کوئی آدمی یا کوئی بندہ ( یہ راوی کا شک ہے کہ کون سا کلمہ ارشاد فرمایا ) صبح و شام یہ کہتا ہے : «رضيت بالله ربا وبالإسلام دينا وبمحمد نبيا» ” ہم اللہ کے رب ہونے ، اسلام کے دین ہونے ، اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نبی ہونے سے راضی و خوش ہیں ) تو اللہ تعالیٰ پر اس کا یہ حق بن گیا کہ وہ قیامت کے دن اسے خوش کرے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3870]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 12050، ومصباح الزجاجة: 1357)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الأدب 110 (5072)، مسند احمد (4/337، 5/367) (ضعیف) (سند میں سابق بن ناجیہ مجہول العین اور ابو سلام مجہول ہیں، اور سند میں اضطراب ہے، بعض روایات میں ابوسلام نے خادم النبی ﷺ سے روایت کی ہے، اور یہ مبہم ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: 5020)
|
|
|
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الطَّنَافِسِيُّ , حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , حَدَّثَنَا عُبَادَةُ بْنُ مُسْلِمٍ , حَدَّثَنَا جُبَيْرُ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ , قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ , يَقُولُ: لَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَعُ هَؤُلَاءِ الدَّعَوَاتِ , حِينَ يُمْسِي وَحِينَ يُصْبِحُ: " اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْعَفْوَ وَالْعَافِيَةَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ , اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْعَفْوَ وَالْعَافِيَةَ فِي دِينِي وَدُنْيَايَ وَأَهْلِي وَمَالِي , اللَّهُمَّ اسْتُرْ عَوْرَاتِي , وَآمِنْ رَوْعَاتِي , وَاحْفَظْنِي مِنْ بَيْنِ يَدَيَّ , وَمِنْ خَلْفِي , وَعَنْ يَمِينِي , وَعَنْ شِمَالِي , وَمِنْ فَوْقِي , وَأَعُوذُ بِكَ أَنْ أُغْتَالَ مِنْ تَحْتِي" , قَالَ وَكِيعٌ يَعْنِي: الْخَسْفَ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صبح و شام ان دعاؤں کو نہیں چھوڑتے تھے : «اللهم إني أسألك العفو والعافية في الدنيا والآخرة اللهم إني أسألك العفو والعافية في ديني ودنياي وأهلي ومالي اللهم استر عوراتي وآمن روعاتي واحفظني من بين يدي ومن خلفي وعن يميني وعن شمالي ومن فوقي وأعوذ بك أن أغتال من تحتي» ” اے اللہ ! میں تجھ سے دنیا اور آخرت میں عفو اور عافیت کا طالب ہوں ، اے اللہ ! میں تجھ سے اپنے دین و دنیا اور اپنے اہل و مال میں معافی اور عافیت کا طالب ہوں ، اے اللہ ! میرے عیوب چھپا دے ، میرے دل کو مامون کر دے ، اور میرے آگے پیچھے ، دائیں بائیں ، اور اوپر سے میری حفاظت فرما ، اور میں تیری پناہ چاہتا ہوں نیچے سے ہلاک کئے جانے سے “ ۔ وکیع کہتے ہیں : «أغتال من تحتي» کے معنی دھنسا دئیے جانے کے ہیں ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3871]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الأدب 110 (5074)، سنن النسائی/الاستعاذة 59 (5531)، عمل الیوم واللیلة 181 (566)، (تحفة الأشراف: 6673) وقد أخرجہ: مسند احمد (2/25) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ , حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عُيَيْنَةَ , حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ ثَعْلَبَةَ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ , عَنْ أَبِيهِ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اللَّهُمَّ أَنْتَ رَبِّي لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ , خَلَقْتَنِي وَأَنَا عَبْدُكَ , وَأَنَا عَلَى عَهْدِكَ وَوَعْدِكَ مَا اسْتَطَعْتُ , أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا صَنَعْتُ , أَبُوءُ بِنِعْمَتِكَ وَأَبُوءُ بِذَنْبِي , فَاغْفِرْ لِي فَإِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ" , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ قَالَهَا فِي يَوْمِهِ وَلَيْلَتِهِ فَمَاتَ فِي ذَلِكَ الْيَوْمِ أَوْ تِلْكَ اللَّيْلَةِ , دَخَلَ الْجَنَّةَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى".
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : «اللهم أنت ربي لا إله إلا أنت خلقتني وأنا عبدك وأنا على عهدك ووعدك ما استطعت أعوذ بك من شر ما صنعت أبوء بنعمتك وأبوء بذنبي فاغفر لي فإنه لا يغفر الذنوب إلا أنت» ” اے اللہ ! تو ہی میرا رب ہے ، تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے ، تو نے ہی مجھے پیدا کیا ، میں تیرا ہی بندہ ہوں ، اپنی طاقت بھر میں تیرے عہد و وعدہ پر قائم ہوں ، اپنے کئے ہوئے کے شر سے میں تیری پناہ چاہتا ہوں ، مجھے تیرے احسانات اور اپنے گناہوں کا اعتراف ہے ، میری بخشش فرما ، بلاشبہ تو ہی گناہوں کو بخشنے والا ہے “ ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو کوئی شخص دن اور رات میں یہ دعا پڑھے ، اور اسی دن یا اسی رات اس شخص کا انتقال ہو جائے ، تو ان شاءاللہ وہ جنت میں داخل ہو گا “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3872]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الأدب 110 (5070)، (تحفة الأشراف: 2004)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/356) (صحیح)
|
|
|
15: بَابُ : مَا يَدْعُو بِهِ إِذَا أَوَى إِلَى فِرَاشِهِ
باب: بستر پر لیٹتے وقت کیا دعا پڑھے؟
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُخْتَارِ , حَدَّثَنَا سُهَيْلٌ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ إِذَا أَوَى إِلَى فِرَاشِهِ: " اللَّهُمَّ رَبَّ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ , وَرَبَّ كُلِّ شَيْءٍ , فَالِقَ الْحَبِّ وَالنَّوَى , مُنْزِلَ التَّوْرَاةِ , وَالْإِنْجِيلِ , وَالْقُرْآنِ الْعَظِيمِ , أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ كُلِّ دَابَّةٍ أَنْتَ آخِذٌ بِنَاصِيَتِهَا , أَنْتَ الْأَوَّلُ فَلَيْسَ قَبْلَكَ شَيْءٌ , وَأَنْتَ الْآخِرُ فَلَيْسَ بَعْدَكَ شَيْءٌ , وَأَنْتَ الظَّاهِرُ فَلَيْسَ فَوْقَكَ شَيْءٌ , وَأَنْتَ الْبَاطِنُ فَلَيْسَ دُونَكَ شَيْءٌ , اقْضِ عَنِّي الدَّيْنَ , وَأَغْنِنِي مِنَ الْفَقْرِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنے بستر پر تشریف لے جاتے تو یہ دعا پڑھتے : «اللهم رب السموات ورب الأرض ورب كل شيء فالق الحب والنوى منزل التوراة والإنجيل والقرآن العظيم أعوذ بك من شر كل دابة أنت آخذ بناصيتها أنت الأول فليس قبلك شيء وأنت الآخر فليس بعدك شيء وأنت الظاهر فليس فوقك شيء وأنت الباطن فليس دونك شيء اقض عني الدين وأغنني من الفقر» ” اے اللہ ! آسمانوں اور زمین کے رب ! ہر چیز کے رب ! دانے اور گٹھلی کو پھاڑ کر پودا نکالنے والے ! توراۃ ، انجیل اور قرآن عظیم کو نازل کرنے والے ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں زمین پر رینگنے والی ہر مخلوق کے شر و فساد سے ، جس کی پیشانی تیرے ہاتھوں میں ہے ، تو ہی سب سے پہلے ہے ، تجھ سے پہلے کوئی نہیں تھا ، اور تو ہی سب سے آخر ہے تیرے بعد کوئی نہیں ، اور تو ہی ظاہر ہے تیرے اوپر کوئی نہیں ، اور تو ہی باطن ہے تجھ سے ورے کوئی چیز نہیں ، میرا قرض ادا کرا دے اور فقر و مسکنت سے مجھے آزاد کرا دے آسودہ حال بنا دے ) ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3873]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 12733)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الذکر والدعاء 17 (2713)، سنن ابی داود/الأدب 107 (5051)، سنن الترمذی/الدعوات 19 (3400)، مسند احمد (2/381) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ , حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ , عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " إِذَا أَرَادَ أَحَدُكُمْ أَنْ يَضْطَجِعَ عَلَى فِرَاشِهِ , فَلْيَنْزِعْ دَاخِلَةَ إِزَارِهِ , ثُمَّ لِيَنْفُضْ بِهَا فِرَاشَهُ , فَإِنَّهُ لَا يَدْرِي مَا خَلَفَهُ عَلَيْهِ , ثُمَّ لِيَضْطَجِعْ عَلَى شِقِّهِ الْأَيْمَنِ , ثُمَّ لِيَقُلْ: رَبِّ بِكَ وَضَعْتُ جَنْبِي وَبِكَ أَرْفَعُهُ , فَإِنْ أَمْسَكْتَ نَفْسِي فَارْحَمْهَا , وَإِنْ أَرْسَلْتَهَا فَاحْفَظْهَا بِمَا حَفِظْتَ بِهِ عِبَادَكَ الصَّالِحِينَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم میں سے کوئی اپنے بستر پر لیٹنے کا ارادہ کرے تو اپنے تہبند کا داخلی کنارہ کھینچ کر اس سے اپنا بستر جھاڑے ، اس لیے کہ اسے نہیں پتہ کہ ( جانے کے بعد ) بستر پر کون سی چیز پڑی ہے ، پھر داہنی کروٹ لیٹے اور کہے : «رب بك وضعت جنبي وبك أرفعه فإن أمسكت نفسي فارحمها وإن أرسلتها فاحفظها بما حفظت به عبادك الصالحين» ” میرے رب ! میں نے تیرا نام لے کر اپنا پہلو رکھا ہے ، اور تیرے ہی نام پر اس کو اٹھاؤں گا ، پھر اگر تو میری جان کو روک لے ( یعنی اب میں نہ جاگوں اور مر جاؤں ) تو اس پر رحم فرما ، اور اگر تو چھوڑ دے ( اور میں جاگوں ) تو اس کی حفاظت فرما ان چیزوں کے ذریعہ جن سے تو نے اپنے نیک بندوں کی حفاظت فرماتا ہے ) ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3874]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الدعوات 13 (6320 تعلیقاً)، التوحید 13 (7393 تعلیقاً)، (تحفة الأشراف: 12984)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الذکروالدعاء 17 (2714)، مسند احمد (2/283، 432، 295)، سنن الدارمی/الاستئذان 51 (2726) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ , حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ , وَسَعِيدُ بْنُ شُرَحْبِيلَ , أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ , عَنْ عُقَيْلٍ , عَنْ ابْنِ شِهَابٍ , أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ أَخْبَرَهُ , عَنْ عَائِشَةَ : أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ" إِذَا أَخَذَ مَضْجَعَهُ , نَفَثَ فِي يَدَيْهِ , وَقَرَأَ , وَمَسَحَ بِهِمَا جَسَدَهُ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنے بستر پر لیٹتے تو اپنے دونوں ہاتھوں میں پھونک مارتے ، اور معوذتین : «قل أعوذ برب الفلق» و «قل أعوذ برب الناس» پڑھتے ، اور انہیں اپنے جسم پر پھیر لیتے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3875]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الدعوات 12 (6319)، سنن الترمذی/الدعوات 21 (3402)، سنن ابی داود/الأدب 107 (5056)، (تحفة الأشراف: 16537)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/116، 154) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ , حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ أَبِي إِسْحَاق , عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ لِرَجُلٍ: " إِذَا أَخَذْتَ مَضْجَعَكَ , أَوْ أَوَيْتَ إِلَى فِرَاشِكَ , فَقُلْ: اللَّهُمَّ أَسْلَمْتُ وَجْهِي إِلَيْكَ , وَأَلْجَأْتُ ظَهْرِي إِلَيْكَ , وَفَوَّضْتُ أَمْرِي إِلَيْكَ , رَغْبَةً وَرَهْبَةً إِلَيْكَ , لَا مَلْجَأَ وَلَا مَنْجَأَ مِنْكَ إِلَّا إِلَيْكَ , آمَنْتُ بِكِتَابِكَ الَّذِي أَنْزَلْتَ , وَنَبِيِّكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ , فَإِنْ مِتَّ مِنْ لَيْلَتِكَ , مِتَّ عَلَى الْفِطْرَةِ , وَإِنْ أَصْبَحْتَ , أَصْبَحْتَ وَقَدْ أَصَبْتَ خَيْرًا كَثِيرًا".
براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے فرمایا : ” جب تم سونے لگو یا اپنے بستر پر جاؤ تو یہ دعا پڑھا کرو : «اللهم أسلمت وجهي إليك وألجأت ظهري إليك وفوضت أمري إليك رغبة ورهبة إليك لا ملجأ ولا منجى منك إلا إليك آمنت بكتابك الذي أنزلت ونبيك الذي أرسلت» ” اے اللہ ! میں نے اپنا چہرہ ( یعنی نفس ) تجھ کو سونپ دیا ، اپنی پیٹھ تیرے سہارے پر لگا دی ، اور اپنا کام تیرے سپرد کر دیا ، امیدی ناامیدی کے ساتھ تیری ذات پر بھروسہ کیا ، سوائے تیرے سوا کہیں اور کوئی جائے پناہ اور جائے نجات نہیں ، میں تیری کتاب پر جسے تو نے نازل کیا ، اور تیرے نبی پر جسے تو نے بھیجا ایمان لایا ، پھر اگر تمہارا اس رات انتقال ہو گیا تو دین اسلام پر مرو گے ، اور اگر تم نے صبح کی تو تم خیر کثیر کے ساتھ صبح کرو گے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3876]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 1852)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الوضوء 75 (247)، صحیح مسلم/الذکر والدعاء 17 (2710)، سنن الترمذی/الدعوات 16 (3394)، مسند احمد (4/ 289، 298، 303)، سنن الدارمی/ الاستئذان 51 (2725) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ , حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , عَنْ إِسْرَائِيلَ , عَنْ أَبِي إِسْحَاق , عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ , إِذَا أَوَى إِلَى فِرَاشِهِ , وَضَعَ يَدَهُ يَعْنِي: الْيُمْنَى تَحْتَ خَدِّهِ , ثُمَّ قَالَ: " اللَّهُمَّ قِنِي عَذَابَكَ يَوْمَ تَبْعَثُ أَوْ تَجْمَعُ عِبَادَكَ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب بستر پر تشریف لے جاتے تو اپنا دایاں ہاتھ اپنے رخسار مبارک کے نیچے رکھتے ، پھر ( یہ دعا ) پڑھتے : «اللهم قني عذابك يوم تبعث ( أو تجمع ) عبادك» ” اے اللہ ! مجھ کو تو اپنے اس دن کے عذاب سے بچا جس دن تو اپنے بندوں کو اٹھائے گا یا جمع کرے گا “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3877]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 9617، ومصباح الزجاجة: 1358)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/394، 400، 414، 443) (صحیح)
|
|
|
16: بَابُ : مَا يَدْعُو بِهِ إِذَا انْتَبَهَ مِنَ اللَّيْلِ
باب: رات میں آنکھ کھل جائے تو کیا دعا پڑھے؟
|
|
|
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ , حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ , حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ , حَدَّثَنِي عُمَيْرُ بْنُ هَانِئٍ , حَدَّثَنِي جُنَادَةُ بْنُ أَبِي أُمَيَّةَ , عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ تَعَارَّ مِنَ اللَّيْلِ , فَقَالَ حِينَ يَسْتَيْقِظُ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ , لَهُ الْمُلْكُ , وَلَهُ الْحَمْدُ , وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ , سُبْحَانَ اللَّهِ , وَالْحَمْدُ لِلَّهِ , وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ , وَاللَّهُ أَكْبَرُ , وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ الْعَلِيِّ الْعَظِيمِ , ثُمَّ دَعَا رَبِّ اغْفِرْ لِي , غُفِرَ لَهُ" , قَالَ الْوَلِيدُ: أَوْ قَالَ: دَعَا اسْتُجِيبَ لَهُ , فَإِنْ قَامَ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ صَلَّى قُبِلَتْ صَلَاتُهُ.
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو رات میں بیدار ہو اور آنکھ کھلتے ہی یہ دعا پڑھے : «لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير سبحان الله والحمد لله ولا إله إلا الله والله أكبر ولا حول ولا قوة إلا بالله العلي العظيم» ” اللہ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں ، وہ یکتا ہے اس کا کوئی شریک نہیں ، اسی کے لیے بادشاہت ہے ، اور اسی کے لیے حمد و ثنا ہے ، وہی ہر چیز پر قادر ہے ، اللہ کی پاکی بیان کرتا ہوں ، تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں ، اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ، اللہ ہی سب سے بڑا ہے ، طاقت و قوت اللہ بلند و برتر کی توفیق ہی سے ہے “ پھر یہ دعا پڑھے : «رب اغفر لي» ” اے رب مجھ کو بخش دے “ ، تو وہ بخش دیا جائے گا ، ولید کہتے ہیں : یا یوں کہا : اگر وہ دعا کرے تو اس کی دعا قبول ہو گی ، اور اگر اٹھ کر وضو کرے ، پھر نماز پڑھے تو اس کی نماز قبول ہو گی ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3878]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/التہجد 21 (1154)، سنن ابی داود/الأدب 108 (5060)، سنن الترمذی/الدعوات 26 (3414)، (تحفة الأشراف: 5074)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/الاستئذان 53 (2729) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ , أَنْبَأَنَا شَيْبَانُ , عَنْ يَحْيَى , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ , أَنَّ رَبِيعَةَ بْنَ كَعْبٍ الْأَسْلَمِيَّ أَخْبَرَهُ , أَنَّهُ كَانَ يَبِيتُ عِنْدَ بَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَكَانَ يَسْمَعُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُول مِنَ اللَّيْلِ: " سُبْحَانَ اللَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ" الْهَوِيَّ , ثُمَّ يَقُولُ: " سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ".
ربیعہ بن کعب اسلمی رضی اللہ عنہ خبر دیتے ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازے کے پاس رات گزارتے تھے اور رات کو بڑی دیر تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنتے : «سبحان الله رب العالمين» پھر فرماتے : «سبحان الله وبحمده» ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3879]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ رات کو جب نیند سے بیدار ہو تو جہاں تک ہو سکے کلمہ پڑھ کر دعا کرے، اور استغفار پڑھے، اور تسبیح یا تہلیل میں مشغول رہے، تو اس کو قیام اللیل کا ثواب مل جائے گا، لیکن افضل یہ ہے کہ بستر سے اٹھے اور وضو کر کے تہجد پڑھے، اگر کسی سے تہجد ادا نہ ہو سکے تو کم سے کم یہ ضروری ہے کہ بچھونے پر ہی رہ کر یہ کلمہ جتنی بار ہو سکے پڑھے اور استغفار کرے، اور دعا کرے، قیام اللیل اس قدر بھی ادا ہو جائے گا، اور جان لینا چاہیے کہ سلف صالحین نے قیام اللیل کبھی ترک نہیں کیا، اور وہ ضروری ہے اگرچہ تھوڑا سا ہی ہو یعنی ایک بار یہ کلمہ پڑھ کر دعا کر لے جیسا اس حدیث میں ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الصلاة 43 (489)، سنن ابی داود/الصلاة 312 (1320)، سنن الترمذی/الدعوات 7 (3416)، سنن النسائی/التطبیق 79 (1139)، (تحفة الأشراف: 3603)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/49، 57) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ , حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ , عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ , عَنْ حُذَيْفَةَ , قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا انْتَبَهَ مِنَ اللَّيْلِ , قَالَ: " الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَحْيَانَا بَعْدَ مَا أَمَاتَنَا وَإِلَيْهِ النُّشُورُ".
حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب رات کو جاگتے تو یہ دعا پڑھتے : «الحمد لله الذي أحيانا بعد ما أماتنا وإليه النشور» ” تمام تعریف اس اللہ کے لیے ہے جس نے ہم کو ( نیند کی صورت میں ) موت طاری کرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیا ، اور اسی کی طرف اٹھ کر جا نا ہے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3880]
💡 وضاحت:
۱؎: صبح نیند سے بیدار ہونے کے بعد یہ دعا پڑھنی چاہیے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الدعوات 7 (6312)، التوحید 13 (7394)، سنن ابی داود/الأدب 107 (5049)، سنن الترمذی/الدعوات 28 (3417)، (تحفة الأشراف: 3308)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/154، 385، 387، 397، 399، 407)، سنن الدارمی/الاستئذان 53 (2728) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ , حَدَّثَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ , عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ , عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النُّجُودِ , عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ , عَنْ أَبِي ظَبْيَةَ , عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا مِنْ عَبْدٍ بَاتَ عَلَى طُهُورٍ , ثُمَّ تَعَارَّ مِنَ اللَّيْلِ , فَسَأَلَ اللَّهَ شَيْئًا مِنْ أَمْرِ الدُّنْيَا , أَوْ مِنْ أَمْرِ الْآخِرَةِ , إِلَّا أَعْطَاهُ".
معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو کوئی بندہ رات کو باوضو سوئے ، اور پھر رات میں اٹھ کر اللہ تعالیٰ سے دنیا و آخرت کی کسی چیز کا سوال کرے تو اللہ تعالیٰ اسے دیتا ہے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3881]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الأدب 105 (5042)، (تحفة الأشراف: 11371)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/ 234، 235، 244) (صحیح)
|
|
|
17: بَابُ : الدُّعَاءِ عِنْدَ الْكَرْبِ
باب: مصیبت کے وقت دعا کرنے کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ . ح وحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ , حَدَّثَنَا وَكِيعٌ جَمِيعًا , عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ , حَدَّثَنِي هِلَالٌ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ , عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ , عَنْ أُمِّهِ أَسْمَاءَ ابْنَةِ عُمَيْسٍ , قَالَتْ: عَلَّمَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَلِمَاتٍ أَقُولُهُنَّ عِنْدَ الْكَرْبِ: " اللَّهُ , اللَّهُ رَبِّي لَا أُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا".
اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یہ کلمات سکھائے کہ میں سخت تکلیف کے وقت پڑھا کروں ، ( وہ کلمات یہ ہیں ) «الله الله ربي لا أشرك به شيئا» ” اللہ ، اللہ ہی میرا رب ہے میں اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتی “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3882]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الصلاة 361 (1525)، (تحفة الأشراف: 15757)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/36) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ , حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , عَنْ هِشَامٍ صَاحِبِ الدَّسْتُوَائِيِّ , عَنْ قَتَادَةَ , عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ , عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , كَانَ يَقُولُ عِنْدَ الْكَرْبِ: " لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ الْحَلِيمُ الْكَرِيمُ , سُبْحَانَ اللَّهِ رَبِّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ , سُبْحَانَ اللَّهِ رَبِّ السَّمَوَاتِ السَّبْعِ وَرَبِّ الْعَرْشِ الْكَرِيمِ" , قَالَ وَكِيعٌ مَرَّةً: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ , فِيهَا كُلِّهَا.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سخت تکلیف کے وقت یہ ( دعا ) پڑھتے تھے : «لا إله إلا الله الحليم الكريم سبحان الله رب العرش العظيم سبحان الله رب السموات السبع ورب العرش الكريم» ” اللہ حلیم ( برد بار ) و کریم ( کرم والے ) کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے ، پاکی بیان کرتا ہوں عرش عظیم کے رب اللہ کی ، پاکی بیان کرتا ہوں ساتوں آسمان اور عرش کریم کے رب اللہ کی “ ۔ وکیع کی ایک روایت میں ہے کہ ہر فقرے کے شروع میں ایک ایک بار «لا إله إلا الله» ہے ۔ ۱؎ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3883]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی «لا إله إلا الله الحليم الكريم لا إله إلا الله سبحان الله رب العرش العظيم لا إله إلا الله سبحان الله رب السموات السبع ورب العرش الكريم» غرض یہ دعا سختی اور مصیبت کے وقت مفید اور مجرب ہے جیسے کوئی ڈر لاحق ہو یا آگ لگ جائے یا پانی میں ڈوبنے لگے یا کسی اور مصیبت میں پھنس جائے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الدعوات 27 (645، 6346)، صحیح مسلم/الذکروالدعاء 21 (2730)، سنن الترمذی/الدعوات 40، (3435)، (تحفة الأشراف: 5420)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/228، 254، 258، 259، 268، 280، 284، 339، 256) (صحیح)
|
|
|
18: بَابُ : مَا يَدْعُو بِهِ الرَّجُلُ إِذَا خَرَجَ مِنْ بَيْتِهِ
باب: گھر سے نکلتے وقت کیا دعا پڑھے؟
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ , عَنْ مَنْصُورٍ , عَنْ الشَّعْبِيِّ , عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , كَانَ إِذَا خَرَجَ مِنْ مَنْزِلِهِ , قَالَ: " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ أَنْ أَضِلَّ أَوْ أَزِلَّ , أَوْ أَظْلِمَ أَوْ أُظْلَمَ , أَوْ أَجْهَلَ أَوْ يُجْهَلَ عَلَيَّ".
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب گھر سے باہر تشریف لے جاتے تو یہ دعا پڑھتے : «اللهم إني أعوذ بك أن أضل أو أزل أو أظلم أو أظلم أو أجهل أو يجهل علي» ” اے اللہ ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں اس بات سے کہ میں راہ بھٹک جاؤں یا پھسل جاؤں ، یا کسی پر ظلم کروں ، یا کوئی مجھ پر ظلم کرے ، یا میں جہالت کروں ، یا کوئی مجھ سے جہالت کرے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3884]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ سنن أبي داود (5094) ترمذي (3427) نسائي (5488) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 515
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الأدب 112 (5094)، سنن الترمذی/الدعوات 35 (3427)، سنن النسائی/الاستعاذة 29 (5488)، 64 (5541)، (تحفة الأشراف: 18168)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/306، 318، 322) (صحیح) (تراجع الألبانی: رقم: 136)
|
|
|
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ , حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيل , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُسَيْنِ بْنِ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ , عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , كَانَ إِذَا خَرَجَ مِنْ بَيْتِهِ , قَالَ: " بِسْمِ اللَّهِ , لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ , التُّكْلَانُ عَلَى اللَّهِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب گھر سے باہر تشریف لے جاتے تو یہ دعا پڑھتے : «بسم الله لا حول ولا قوة إلا بالله التكلان على الله» ” اللہ کے نام سے ( میں نکل رہا ہوں ) گناہوں سے بچنے اور نیکی کرنے کی طاقت ، اللہ تعالیٰ کی مدد اور قوت کے بغیر ممکن نہیں ، اللہ ہی پر بھروسہ ہے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3885]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ عبداﷲ بن حسين بن عطاء: ضعيف (تقريب: 3275) وضعفه جمھور الأئمة (مجمع الزوائد 243/4) ¤ وللحديث شواهد ضعيفة ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 515
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 12689، ومصباح الزجاجة: 1359) (ضعیف) (عبد اللہ بن حسین بن عطاء ضعیف ہیں)
|
|
|
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ , حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ , حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ هَارُونَ , عَنْ الْأَعْرَجِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " إِذَا خَرَجَ الرَّجُلُ مِنْ بَابِ بَيْتِهِ أَوْ مِنْ بَابِ دَارِهِ كَانَ مَعَهُ مَلَكَانِ مُوَكَّلَانِ بِهِ , فَإِذَا قَالَ: بِسْمِ اللَّهِ , قَالَا: هُدِيتَ , وَإِذَا قَالَ: لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ , قَالَا: وُقِيتَ , وَإِذَا قَالَ: تَوَكَّلْتُ عَلَى اللَّهِ , قَالَا: كُفِيتَ , قَالَ: فَيَلْقَاهُ قَرِينَاهُ , فَيَقُولَانِ: مَاذَا تُرِيدَانِ مِنْ رَجُلٍ قَدْ هُدِيَ وَكُفِيَ وَوُقِيَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب آدمی اپنے گھر یا اپنے مکان کے دروازے سے باہر نکلتا ہے ، تو اس کے ساتھ دو فرشتے مقرر ہوتے ہیں ، جب وہ «بسم الله» کہتا ہے تو وہ دونوں فرشتے کہتے ہیں : تو نے سیدھی راہ اختیار کی ، اور جب وہ آدمی «لا حول ولا قوة إلا بالله» کہتا ہے تو وہ فرشتے کہتے ہیں کہ اب تو ہر آفت سے محفوظ ہے اور جب آدمی «توكلت على الله» کہتا ہے ، تو وہ دونوں فرشتے کہتے ہیں کہ اب تجھے کسی اور کی مدد کی حاجت نہیں ، اس کے بعد اس شخص کے دونوں شیطان جو اس کے ساتھ رہتے ہیں وہ اس سے ملتے ہیں تو یہ فرشتے ان سے کہتے ہیں کہ اب تم اس کے ساتھ کیا کرنا چاہتے ہو جس نے سیدھا راستہ اختیار کیا ، تمام آفات و مصائب سے محفوظ ہو گیا ، اور اللہ کی مدد کے علاوہ دوسرے کی مدد سے بے نیاز ہو گیا اور ہر ایک آفت و مصیبت سے بچا لیا گیا ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3886]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ هارون بن هارون: ضعيف ¤ ولبعض الحديث شواهد ضعيفة عند أبي داود (5095) وغيره ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 515
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 13972، ومصباح الزجاجة: 1360) (ضعیف) (ہارون بن ہارون ضعیف ہیں)
|
|
|
19: بَابُ : مَا يَدْعُو بِهِ إِذَا دَخَلَ بَيْتَهُ
باب: گھر میں داخل ہوتے وقت کیا دعا پڑھے؟
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ , حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ , عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ , أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ , عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ: " إِذَا دَخَلَ الرَّجُلُ بَيْتَهُ , فَذَكَرَ اللَّهَ عِنْدَ دُخُولِهِ وَعِنْدَ طَعَامِهِ , قَالَ الشَّيْطَانُ: لَا مَبِيتَ لَكُمْ وَلَا عَشَاءَ , وَإِذَا دَخَلَ وَلَمْ يَذْكُرِ اللَّهَ عِنْدَ دُخُولِهِ , قَالَ الشَّيْطَانُ: أَدْرَكْتُمُ الْمَبِيتَ , فَإِذَا لَمْ يَذْكُرِ اللَّهَ عِنْدَ طَعَامِهِ , قَالَ: أَدْرَكْتُمُ الْمَبِيتَ وَالْعَشَاءَ".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : ” جب آدمی گھر میں داخل ہوتے وقت اور کھانا کھاتے وقت اللہ کا ذکر کرتا ( یعنی بسم اللہ کہتا ) ہے ، تو شیطان اپنے لشکر سے کہتا ہے کہ آج یہاں نہ تمہاری رات گزر سکتی ہے ( یعنی نہ سونے کی جگہ تم کو مل سکتی ہے ) اور نہ تمہیں کھانا مل سکتا ہے ، اور جب آدمی گھر میں بغیر اللہ کا ذکر کئے ( یعنی بغیر بسم اللہ کہے ) داخل ہوتا ہے ، تو شیطان ( اپنے لشکر سے ) کہتا ہے کہ تم نے سونے کی جگہ پا لی ، اگر آدمی کھانے کے وقت بھی اللہ کا نام نہیں لیتا ہے ، تو شیطان کہتا ہے کہ تم نے کھانے اور سونے دونوں کی جگہ پا لی “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3887]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الأشربة 13 (2018)، سنن ابی داود/الأطعمة 16 (3765)، (تحفة الأشراف: 2797)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/346، 383) (صحیح)
|
|
|
20: بَابُ : مَا يَدْعُو بِهِ الرَّجُلُ إِذَا سَافَرَ
باب: سفر کرتے وقت کون سی دعا پڑھے؟
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ , وَأَبُو مُعَاوِيَةَ , عَنْ عَاصِمٍ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَرْجِسَ , قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ: وَقَالَ عَبْدُ الرَّحِيمِ: يَتَعَوَّذُ , إِذَا سَافَرَ: " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ وَعْثَاءِ السَّفَرِ , وَكَآبَةِ الْمُنْقَلَبِ , وَالْحَوْرِ بَعْدَ الْكَوْرِ , وَدَعْوَةِ الْمَظْلُومِ , وَسُوءِ الْمَنْظَرِ فِي الْأَهْلِ وَالْمَالِ" , وَزَادَ أَبُو مُعَاوِيَةَ , فَإِذَا رَجَعَ , قَالَ: مِثْلَهَا.
عبداللہ بن سرجس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر کرتے تو یہ دعا پڑھتے : ( اور عبدالرحیم کی روایت میں ہے کہ آپ پناہ مانگتے تھے ) : «اللهم إني أعوذ بك من وعثاء السفر وكآبة المنقلب والحور بعد الكور ودعوة المظلوم وسوء المنظر في الأهل والمال» ” اے اللہ ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں سفر کی صعوبتوں اور مشقتوں سے ، واپسی کے غم سے ، ترقی کے بعد تنزلی سے ، اور مظلوم کی بد دعا سے اور اہل و عیال کے سلسلے میں برا منظر دیکھنے سے “ ۔ اور ابومعاویہ کی روایت میں یہ اضافہ ہے کہ سفر سے لوٹتے وقت بھی یہی دعا پڑھتے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3888]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/المناسک 75 (1343)، سنن الترمذی/الدعوات 42 (3439)، سنن النسائی/الاستعاذة 41 (5500)، (تحفة الأشراف: 5320)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/82، 83)، سنن الدارمی/الاستئذان 42 (2714) (صحیح)
|
|
|
21: بَابُ : مَا يَدْعُو بِهِ الرَّجُلُ إِذَا رَأَى السَّحَابَ وَالْمَطَرَ
باب: بادل اور بارش دیکھنے کے وقت کیا دعا پڑھے؟
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ , عَنْ أَبِيهِ الْمِقْدَامِ , عَنْ أَبِيهِ , أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ , أَنَّ ّالنَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , كَانَ إِذَا رَأَى سَحَابًا مُقْبِلًا مِنْ أُفُقٍ مِنَ الْآفَاقِ , تَرَكَ مَا هُوَ فِيهِ , وَإِنْ كَانَ فِي صَلَاتِهِ , حَتَّى يَسْتَقْبِلَهُ , فَيَقُولُ: " اللَّهُمَّ إِنَّا نَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا أُرْسِلَ بِهِ" , فَإِنْ أَمْطَرَ , قَالَ: " اللَّهُمَّ سَيْبًا نَافِعًا" , مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثَةً , وَإِنْ كَشَفَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَلَمْ يُمْطِرْ ," حَمِدَ اللَّهَ" عَلَى ذَلِكَ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب آسمان کے کسی کنارے سے اٹھتے بادل کو دیکھتے تو جس کام میں مشغول ہوتے اسے چھوڑ دیتے ، یہاں تک کہ اگر نماز میں ( بھی ) ہوتے تو بادل کی طرف چہرہ مبارک کرتے ، اور یہ دعا ما نگتے : «اللهم إنا نعوذ بك من شر ما أرسل به» ” اے اللہ ہم تیری پناہ مانگتے ہیں اس چیز کے شر سے جو اس کے ساتھ بھیجی گئی ہے “ پھر اگر بارش شروع ہو جاتی تو فرماتے : «اللهم سيبا نافعا» ” اے اللہ جاری اور فائدہ دینے والا پانی عنایت فرما “ ، دو یا تین مرتبہ یہی الفاظ دہراتے اور اگر اللہ تعالیٰ بادل ہٹا دیتا اور بارش نہ ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر اللہ کا شکر ادا کرتے ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3889]
💡 وضاحت:
۱؎: اگلی امتوں پر بادل کی شکل میں اللہ کا عذاب آیا تھا، اس لیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب بادل دیکھتے تو عذاب سے اللہ کی پناہ مانگتے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الأدب 113 (5099)، سنن النسائی/الاستسقاء 15 (1522)، (تحفة الأشراف: 16146)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/بدء الخلق 5 (3206)، تفسیرسورةالأحقاف 2 (4829)، الأدب 68 (5099)، صحیح مسلم/الاستسقاء 3 (899)، سنن الترمذی/تفسیرالقرآن 46 (3257)، مسند احمد (6/190) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ حَبِيبِ بْنِ أَبِي الْعِشْرِينَ , حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ , أَخْبَرَنِي نَافِعٌ , أَنَّ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ أَخْبَرَهُ , عَنْ عَائِشَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , كَانَ إِذَا رَأَى الْمَطَرَ , قَالَ: " اللَّهُمَّ اجْعَلْهُ صَيِّبًا هَنِيئًا".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بارش کو دیکھتے تو فرماتے : «اللهم اجعله صيبا هنيئا» ” اے اللہ ! تو اس کو جاری اور بابرکت بنا “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3890]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الاستسقاء 23 (1032)، (تحفة الأشراف: 17558)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/90، 119، 129) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ , عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ , عَنْ عَطَاءٍ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , إِذَا رَأَى مَخِيلَةً , تَلَوَّنَ وَجْهُهُ وَتَغَيَّرَ , وَدَخَلَ وَخَرَجَ , وَأَقْبَلَ وَأَدْبَرَ , فَإِذَا أَمْطَرَتْ سُرِّيَ عَنْهُ , قَالَ: فَذَكَرَتْ لَهُ عَائِشَةُ بَعْضَ مَا رَأَتْ مِنْهُ , فَقَالَ: " وَمَا يُدْرِيكِ لَعَلَّهُ كَمَا قَالَ قَوْمُ هُودٍ: فَلَمَّا رَأَوْهُ عَارِضًا مُسْتَقْبِلَ أَوْدِيَتِهِمْ قَالُوا هَذَا عَارِضٌ مُمْطِرُنَا بَلْ هُوَ مَا اسْتَعْجَلْتُمْ بِهِ سورة الأحقاف آية 24.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بادل کو دیکھتے تو ( تردد و پریشانی کی وجہ سے ) آپ کے چہرہ مبارک کا رنگ بدل جاتا ، کبھی اندر تشریف لے جاتے کبھی باہر ، کبھی آگے جاتے کبھی پیچھے ، پھر جب بارش ہونے لگتی تو آپ کی یہ کیفیت ختم ہو جاتی ، عائشہ رضی اللہ عنہا نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ کی اس کیفیت کا ذکر کیا جسے انہوں نے دیکھا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اے عائشہ تجھے کیا معلوم ؟ ہو سکتا ہے یہ وہی ہو جسے دیکھ کر قوم ہود نے کہا تھا : «فلما رأوه عارضا مستقبل أوديتهم قالوا هذا عارض ممطرنا بل هو ما استعجلتم به» ” تو جب ان لوگوں نے بادل کو اپنی وادیوں کی طرف آتے دیکھا تو کہنے لگے : یہ بادل ہے جو ہم پر پانی برسائے گا ، ( نہیں اس میں پانی نہیں تھا ) بلکہ وہ چیز ( یعنی عذاب ) ہے جس کی تم جلدی مچا رہے تھے “ ( سورۃ الاحقاف : ۲۴ ) ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3891]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/ الاستسقاء 3 (899)، سنن الترمذی/الدعوات 42 (3449)، (تحفة الأشراف: 17385)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/240) (صحیح)
|
|
|
22: بَابُ : مَا يَدْعُو بِهِ الرَّجُلُ إِذَا نَظَرَ إِلَى أَهْلِ الْبَلاَءِ
باب: مصیبت زدہ کو دیکھ کر کیا دعا پڑھے؟
|
|
|
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ , حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , عَنْ خَارِجَةَ بْنِ مُصْعَبٍ , عَنْ أَبِي يَحْيَى عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ , وَلَيْسَ بِصَاحِبِ ابْنِ عُيَيْنَةَ مَوْلَى آلِ الزُّبَيْرِ , عَنْ سَالِم , عَنْ ابْنِ عُمَرَ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ فَجِئَهُ صَاحِبُ بَلَاءٍ , فَقَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي عَافَانِي مِمَّا ابْتَلَاكَ بِهِ , وَفَضَّلَنِي عَلَى كَثِيرٍ مِمَّنْ خَلَقَ تَفْضِيلًا , عُوفِيَ مِنْ ذَلِكَ الْبَلَاءِ كَائِنًا مَا كَانَ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب کوئی شخص اچانک کسی کو بلایا مصیبت میں مبتلا دیکھے تو یہ دعا پڑھے : «الحمد لله الذي عافاني مما ابتلاك به وفضلني على كثير ممن خلق تفضيلا» ” تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے مجھے عافیت دی اس چیز سے جس میں تجھ کو مبتلا کیا ، اور مجھے اپنی بہت سی مخلوقات پر فضیلت بخشی “ ، تو وہ اس بلا اور مصیبت سے محفوظ رہے گا ، چاہے کوئی بھی بلا اور مصیبت ہو “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3892]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی ہر قسم کی بلاؤں سے لیکن اگر یہ بلا دینی ہو جیسے کسی کو فسق اور فجور میں دیکھے تو یہ دعا پڑھے تاکہ اس شخص کو نصیحت ہو اور اگر دنیوی بلا ہو، جیسے کوڑھ، جذام وغیرہ تو آہستہ سے پڑھے کہ وہ شخص نہ سنے، اور اس کے دل کو رنج نہ ہو۔
قال الشيخ الألباني:
حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ ترمذي (3431) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 515
تخریج دارالدعوہ:
سنن الترمذی/الدعوات 38 (3431)، (تحفة الأشراف: 6787، 10528) (حسن) (خارجہ بن مصعب متروک الحدیث اور ابو یحییٰ عمرو بن دینار ضعیف ہیں، اصل حدیث متابعات و شواہد کی بناء پر حسن ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: 602، 2737)
|
|