سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 3864
Sunan Ibn Majah 3864
کتاب #35: کتاب: دعا کے فضائل و آداب اور احکام و مسائل
12: بَابُ : كَرَاهِيَةِ الاِعْتِدَاءِ فِي الدُّعَاءِ
باب: دعا میں حد سے تجاوز کرنے کی ممانعت۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا عَفَّانُ , حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ , أَنْبَأَنَا سَعِيدٌ الْجُرَيْرِيُّ , عَنْ أَبِي نَعَامَةَ , أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مُغَفَّلٍ , سَمِعَ ابْنَهُ , يَقُولُ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْقَصْرَ الْأَبْيَضَ عَنْ يَمِينِ الْجَنَّةِ , إِذَا دَخَلْتُهَا , فَقَالَ: أَيْ بُنَيَّ! سَلِ اللَّهَ الْجَنَّةَ وَعُذْ بِهِ مِنَ النَّارِ , فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ: " سَيَكُونُ قَوْمٌ يَعْتَدُونَ فِي الدُّعَاءِ".
ابونعامہ ( قیس بن عبایہ ) سے روایت ہے کہ عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ نے اپنے بیٹے کو یہ دعا مانگتے سنا : «اللهم إني أسألك القصر الأبيض عن يمين الجنة إذا دخلتها» ” اللہ ! جب میں جنت میں جاؤں تو مجھے جنت کی دائیں جانب سفید محل عطا فرما “ ، تو انہوں نے کہا : میرے بیٹے ! اللہ تعالیٰ سے جنت کا سوال کرو اور جہنم سے پناہ مانگو ، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے : ” عنقریب کچھ ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو دعا میں حد سے آگے بڑھ جائیں گے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3864]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے کراہت نکلی ان پر تکلف اور مسجع اور مقفی دعاؤں کی جو متاخرین نے ایجاد کیں ہیں، اور جاہل ان کے الفاظ پر فریفتہ ہو جاتے ہیں، عمدہ دعائیں وہی ہیں جو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہیں، آپ مختصر اور جامع دعائیں پسند فرماتے تھے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الطہارة 45 (96)، (تحفة الأشراف: 9664)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/86، 187، 5/55) (صحیح)