سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 3827
Sunan Ibn Majah 3827
کتاب #35: کتاب: دعا کے فضائل و آداب اور احکام و مسائل
1: بَابُ : فَضْلِ الدُّعَاءِ
باب: دعا کی فضیلت۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ , قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , حَدَّثَنَا أَبُو الْمَلِيحِ الْمَدَنِيُّ , قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا صَالِحٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ لَمْ يَدْعُ اللَّهَ سُبْحَانَهُ غَضِبَ عَلَيْهِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص اللہ تعالیٰ سے دعا نہیں کرتا ، تو اللہ تعالیٰ اس پر غضب ناک ( غصہ ) ہوتا ہے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3827]
💡 وضاحت:
۱؎: کیونکہ بندگی کا تقاضا یہ ہے کہ آدمی اپنے مالک سے مانگے، نہ مانگنے سے غرور و تکبر اور بے نیازی ظاہر ہوتی ہے، آدمی کو چاہئے کہ اپنی ہر ضرورت کو اپنے مالک سے مانگے اور جب کوئی تکلیف ہو تو اپنے مالک سے دعا کرے، ہم تو اس کے در کے بھیک مانگنے والے ہیں، رات دن اس سے مانگا ہی کرتے ہیں، اور ذرا سا صدمہ ہوتا ہے تو ہم سے صبر نہیں ہو سکتا اپنے مالک سے اسی وقت دعا کرنے لگتے ہیں ہم تو ہر وقت اس کے محتاج ہیں، اور اس کے در دولت کے فقیر ہیں۔
قال الشيخ الألباني:
حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف ¤ ترمذي (3373) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 513
تخریج دارالدعوہ:
سنن الترمذی/الدعوات 2 (3373)، (تحفة الأشراف: 15441)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/443، 477) (صحیح) (تراجع الألباني: رقم: 113)