سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 3878
Sunan Ibn Majah 3878
کتاب #35: کتاب: دعا کے فضائل و آداب اور احکام و مسائل
16: بَابُ : مَا يَدْعُو بِهِ إِذَا انْتَبَهَ مِنَ اللَّيْلِ
باب: رات میں آنکھ کھل جائے تو کیا دعا پڑھے؟
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ , حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ , حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ , حَدَّثَنِي عُمَيْرُ بْنُ هَانِئٍ , حَدَّثَنِي جُنَادَةُ بْنُ أَبِي أُمَيَّةَ , عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ تَعَارَّ مِنَ اللَّيْلِ , فَقَالَ حِينَ يَسْتَيْقِظُ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ , لَهُ الْمُلْكُ , وَلَهُ الْحَمْدُ , وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ , سُبْحَانَ اللَّهِ , وَالْحَمْدُ لِلَّهِ , وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ , وَاللَّهُ أَكْبَرُ , وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ الْعَلِيِّ الْعَظِيمِ , ثُمَّ دَعَا رَبِّ اغْفِرْ لِي , غُفِرَ لَهُ" , قَالَ الْوَلِيدُ: أَوْ قَالَ: دَعَا اسْتُجِيبَ لَهُ , فَإِنْ قَامَ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ صَلَّى قُبِلَتْ صَلَاتُهُ.
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو رات میں بیدار ہو اور آنکھ کھلتے ہی یہ دعا پڑھے : «لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير سبحان الله والحمد لله ولا إله إلا الله والله أكبر ولا حول ولا قوة إلا بالله العلي العظيم» ” اللہ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں ، وہ یکتا ہے اس کا کوئی شریک نہیں ، اسی کے لیے بادشاہت ہے ، اور اسی کے لیے حمد و ثنا ہے ، وہی ہر چیز پر قادر ہے ، اللہ کی پاکی بیان کرتا ہوں ، تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں ، اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ، اللہ ہی سب سے بڑا ہے ، طاقت و قوت اللہ بلند و برتر کی توفیق ہی سے ہے “ پھر یہ دعا پڑھے : «رب اغفر لي» ” اے رب مجھ کو بخش دے “ ، تو وہ بخش دیا جائے گا ، ولید کہتے ہیں : یا یوں کہا : اگر وہ دعا کرے تو اس کی دعا قبول ہو گی ، اور اگر اٹھ کر وضو کرے ، پھر نماز پڑھے تو اس کی نماز قبول ہو گی ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3878]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/التہجد 21 (1154)، سنن ابی داود/الأدب 108 (5060)، سنن الترمذی/الدعوات 26 (3414)، (تحفة الأشراف: 5074)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/الاستئذان 53 (2729) (صحیح)