سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 3848
Sunan Ibn Majah 3848
کتاب #35: کتاب: دعا کے فضائل و آداب اور احکام و مسائل
5: بَابُ : الدُّعَاءِ بِالْعَفْوِ وَالْعَافِيَةِ
باب: عفو اور عافیت کی دعا کا بیان۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ , حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ أَخْبَرَنِي سَلَمَةُ بْنُ وَرْدَانَ , عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ , قَالَ: أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ , فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَيُّ الدُّعَاءِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: " سَلْ رَبَّكَ الْعَفْوَ وَالْعَافِيَةَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ" , ثُمَّ أَتَاهُ فِي الْيَوْمِ الثَّانِي , فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَيُّ الدُّعَاءِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: " سَلْ رَبَّكَ الْعَفْوَ وَالْعَافِيَةَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ" , ثُمَّ أَتَاهُ فِي الْيَوْمِ الثَّالِثِ , فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ , أَيُّ الدُّعَاءِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: " سَلْ رَبَّكَ الْعَفْوَ وَالْعَافِيَةَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ , فَإِذَا أُعْطِيتَ الْعَفْوَ وَالْعَافِيَةَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ , فَقَدْ أَفْلَحْتَ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص آیا اور کہنے لگا : اللہ کے رسول ! کون سی دعا سب سے بہتر ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم اللہ سے دنیا اور آخرت میں عفو اور عافیت کا سوال کیا کرو “ ، پھر وہ شخص دوسرے دن حاضر خدمت ہوا اور عرض کیا : اللہ کے رسول ! کون سی دعا سب سے بہتر ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم اپنے رب سے دنیا و آخرت میں عفو اور عافیت کا سوال کیا کرو “ ، پھر وہ تیسرے دن بھی حاضر خدمت ہوا ، اور عرض کیا : اللہ کے نبی ! کون سی دعا سب سے بہتر ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم اپنے رب سے دنیا و آخرت میں عفو و عافیت کا سوال کیا کرو ، کیونکہ جب تمہیں دنیا اور آخرت میں عفو اور عافیت عطا ہو گئی تو تم کامیاب ہو گئے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3848]
💡 وضاحت:
۱؎: بیشک عافیت میں عام بلاؤں، بیماریوں اور تکالیف سے حفاظت ہو گی، اور معافی میں گناہوں کی بخشش، اب اور کیا چاہتے ہو، یہ دو لفظ ہزاروں لفظوں کو شامل ہیں۔
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف ¤ ترمذي (3512) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 514
تخریج دارالدعوہ:
سنن الترمذی/الدعوات 85 (3512)، (تحفة الأشراف: 869)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/127) (ضعیف) (سند میں سلمہ بن وردان ضعیف راوی ہیں)