سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 3847
Sunan Ibn Majah 3847
کتاب #35: کتاب: دعا کے فضائل و آداب اور احکام و مسائل
4: بَابُ : الْجَوَامِعِ مِنَ الدُّعَاءِ
باب: جامع دعاؤں کا بیان۔
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى الْقَطَّانُ , حَدَّثَنَا جَرِيرٌ , عَنْ الْأَعْمَشِ , عَنْ أَبِي صَالِحٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِرَجُلٍ: " مَا تَقُولُ فِي الصَّلَاةِ؟" , قَالَ: أَتَشَهَّدُ , ثُمَّ أَسْأَلُ اللَّهَ الْجَنَّةَ , وَأَعُوذُ بِهِ مِنَ النَّار , أَمَا وَاللَّهِ مَا أُحْسِنُ دَنْدَنَتَكَ وَلَا دَنْدَنَةَ مُعَاذٍ , قَالَ: " حَوْلَهَا نُدَنْدِنُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے پوچھا : ” تم نماز میں کیا کہتے ہو “ ؟ اس نے کہا : میں تشہد ( التحیات ) پڑھتا ہوں ، پھر اللہ سے جنت کا سوال کرتا ہوں اور جہنم سے اس کی پناہ مانگتا ہوں ، لیکن اللہ کی قسم میں آپ کی اور معاذ کی گنگناہٹ اچھی طرح سمجھ نہیں پاتا ہوں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہم بھی تقریباً ویسے ہی گنگناتے ہیں “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3847]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اور معاذ رضی اللہ عنہ کی گنگناہٹ میں نہیں سمجھتا آواز تو سنتا ہوں لیکن معلوم نہیں ہوتا کہ آپ اور معاذ رضی اللہ عنہ کیا دعا مانگتے ہیں۔
۲؎: یعنی مقصود ہماری دعاؤں کا بھی یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ جنت نصیب کرے اور جہنم سے بچائے۔ آمین۔
۲؎: یعنی مقصود ہماری دعاؤں کا بھی یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ جنت نصیب کرے اور جہنم سے بچائے۔ آمین۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 12363، ومصباح الزجاجة: 1347) (صحیح)