سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 3849
Sunan Ibn Majah 3849
کتاب #35: کتاب: دعا کے فضائل و آداب اور احکام و مسائل
5: بَابُ : الدُّعَاءِ بِالْعَفْوِ وَالْعَافِيَةِ
باب: عفو اور عافیت کی دعا کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ , وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ , قَالَا: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ , قَالَ: سَمِعْتُ شُعْبَةَ , عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُمَيْرٍ , قَالَ: سَمِعْتُ سُلَيْمَ بْنَ عَامِرٍ يُحَدِّثُ , عَنْ أَوْسَطَ بْنِ إِسْمَاعِيل الْبَجَلِيِّ , أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا بَكْرٍ , حِينَ قُبِضَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ: قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَقَامِي هَذَا عَامَ الْأَوَّلِ , ثُمَّ بَكَى أَبُو بَكْرٍ , ثُمَّ قَالَ: " عَلَيْكُمْ بِالصِّدْقِ فَإِنَّهُ مَعَ الْبِرِّ , وَهُمَا فِي الْجَنَّةِ , وَإِيَّاكُمْ وَالْكَذِبَ فَإِنَّهُ مَعَ الْفُجُورِ , وَهُمَا فِي النَّارِ , وَسَلُوا اللَّهَ الْمُعَافَاةَ , فَإِنَّهُ لَمْ يُؤْتَ أَحَدٌ بَعْدَ الْيَقِينِ خَيْرًا مِنَ الْمُعَافَاةِ , وَلَا تَحَاسَدُوا , وَلَا تَبَاغَضُوا , وَلَا تَقَاطَعُوا , وَلَا تَدَابَرُوا , وَكُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا".
اوسط بن اسماعیل بجلی سے روایت ہے کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی ، تو انہوں نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ پچھلے سال میری اس جگہ پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے تھے ، پھر ابوبکر رضی اللہ عنہ نے روتے ہوئے کہا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم اپنے لیے سچائی کو لازم کر لو کیونکہ سچائی نیکی کی ساتھی ہے ، اور یہ دونوں جنت میں ہوں گی ، اور تم جھوٹ سے پرہیز کرو کیونکہ جھوٹ برائی کا ساتھی ہے ، اور یہ دونوں جہنم میں ہوں گی ، اور تم اللہ تعالیٰ سے تندرستی اور عافیت طلب کرو کیونکہ ایمان و یقین کے بعد صحت و تندرستی سے بڑھ کر کوئی چیز نہیں ہے ، تم آپس میں ایک دوسرے سے حسد اور بغض نہ کرو ، قطع رحمی اور ترک تعلقات سے بچو ، اور ایک دوسرے سے منہ موڑ کر پیٹھ نہ پھیرو بلکہ اللہ کے بندے بھائی بھائی بن کر رہو “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3849]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی تمام مسلمانوں کے ساتھ محبت اور شفقت سے پیش آؤ، اور کسی مسلمان کو مت ستاؤ۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 6586، ومصباح الزجاجة: 1348)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الدعوات 106 (3558)، مسند احمد (1/3، 5، 7، 8) (صحیح)