سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 3870
Sunan Ibn Majah 3870
کتاب #35: کتاب: دعا کے فضائل و آداب اور احکام و مسائل
14: بَابُ : مَا يَدْعُو بِهِ الرَّجُلُ إِذَا أَصْبَحَ وَإِذَا أَمْسَى
باب: صبح شام کیا دعا پڑھے؟
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ , حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ , حَدَّثَنَا أَبُو عَقِيلٍ , عَنْ سَابِقٍ , عَنْ أَبِي سَلَّامٍ , خَادِمِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " مَا مِنْ مُسْلِمٍ , أَوْ إِنْسَانٍ , أَوْ عَبْدٍ , يَقُولُ حِينَ يُمْسِي وَحِينَ يُصْبِحُ: رَضِيتُ بِاللَّهِ رَبًّا , وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا , وَبِمُحَمَّدٍ نَبِيًّا , إِلَّا كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يُرْضِيَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ".
خادم رسول ابوسلام رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب کوئی مسلمان یا کوئی آدمی یا کوئی بندہ ( یہ راوی کا شک ہے کہ کون سا کلمہ ارشاد فرمایا ) صبح و شام یہ کہتا ہے : «رضيت بالله ربا وبالإسلام دينا وبمحمد نبيا» ” ہم اللہ کے رب ہونے ، اسلام کے دین ہونے ، اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نبی ہونے سے راضی و خوش ہیں ) تو اللہ تعالیٰ پر اس کا یہ حق بن گیا کہ وہ قیامت کے دن اسے خوش کرے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3870]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 12050، ومصباح الزجاجة: 1357)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الأدب 110 (5072)، مسند احمد (4/337، 5/367) (ضعیف) (سند میں سابق بن ناجیہ مجہول العین اور ابو سلام مجہول ہیں، اور سند میں اضطراب ہے، بعض روایات میں ابوسلام نے خادم النبی ﷺ سے روایت کی ہے، اور یہ مبہم ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: 5020)