سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 3869
Sunan Ibn Majah 3869
کتاب #35: کتاب: دعا کے فضائل و آداب اور احکام و مسائل
14: بَابُ : مَا يَدْعُو بِهِ الرَّجُلُ إِذَا أَصْبَحَ وَإِذَا أَمْسَى
باب: صبح شام کیا دعا پڑھے؟
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ , حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ , حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ , قَالَ: سَمِعْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ , يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ: " مَا مِنْ عَبْدٍ , يَقُولُ فِي صَبَاحِ كُلِّ يَوْمٍ , وَمَسَاءِ كُلِّ لَيْلَةٍ: بِسْمِ اللَّهِ الَّذِي لَا يَضُرُّ مَعَ اسْمِهِ شَيْءٌ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي السَّمَاءِ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ , ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَيَضُرَّهُ شَيْءٌ" , قَالَ: وَكَانَ أَبَانُ قَدْ أَصَابَهُ طَرَفٌ مِنَ الْفَالِجِ , فَجَعَلَ الرَّجُلُ يَنْظُرُ إِلَيْهِ , فَقَالَ لَهُ أَبَانُ: مَا تَنْظُرُ إِلَيَّ؟ أَمَا إِنَّ الْحَدِيثَ كَمَا قَدْ حَدَّثْتُكَ , وَلَكِنِّي لَمْ أَقُلْهُ يَوْمَئِذٍ لِيُمْضِيَ اللَّهُ عَلَيَّ قَدَرَهُ.
عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : ” جو کوئی بندہ ہر دن صبح اور شام تین بار یہ کہے : «بسم الله الذي لا يضر مع اسمه شيء في الأرض ولا في السماء وهو السميع العليم» ” اس اللہ کے نام سے جس کے نام لینے سے زمین اور آسمان کی کوئی چیز نقصان نہیں پہنچا سکتی ہے ، وہ سمیع و علیم ( یعنی سننے اور جاننے والا ہے ) تو اسے کوئی چیز نقصان نہیں پہنچا سکتی “ ۔ راوی کہتے ہیں : ابان کچھ فالج سے متاثر ہو گئے تو وہ شخص انہیں دیکھنے لگا ، ابان نے اس سے کہا : مجھے کیا دیکھتے ہو ؟ سنو ! حدیث ویسے ہی ہے جیسے میں نے تم سے بیان کی ، لیکن میں اس دن یہ دعا نہیں پڑھ سکا تھا تاکہ اللہ تعالیٰ اپنی تقدیر مجھ پر نافذ کر دے ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3869]
💡 وضاحت:
۱؎: اب یہ اعتراض نہ ہونا چاہئے کہ پھر اس دعا کے پڑھنے سے کیا حاصل،کیونکہ بندے کو یہ علم کہاں ہے کہ قضا مبرم (قطعی) ہے یا معلق، اور احتمال ہے کہ قضائے معلق ہو اس دعاکے پڑھنے پر یعنی اگر یہ دعا پڑھ لے گا تو اس صدمے سے محفوظ رہے گا اور جب دعا پڑھ لے تو یہ سمجھنا چاہئے کہ تقدیر میں اس آفت کا ٹل جانا دعا کی برکت سے تھا، اور اگر نہ پڑھے اور آفت آ جائے تو معلوم ہوا کہ ہماری تقدیر میں یہ مصیبت آنی ضرور لکھی تھی، اب ہم دعا کیسے پڑھ سکتے تھے کیونکہ تقدیر سے بچنا محال ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الأدب 110 (5088، 5089)، سنن الترمذی/الدعوات 13 (3388)، (تحفة الأشراف: 9778)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/62، 72) (صحیح)