سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 3891
Sunan Ibn Majah 3891
کتاب #35: کتاب: دعا کے فضائل و آداب اور احکام و مسائل
21: بَابُ : مَا يَدْعُو بِهِ الرَّجُلُ إِذَا رَأَى السَّحَابَ وَالْمَطَرَ
باب: بادل اور بارش دیکھنے کے وقت کیا دعا پڑھے؟
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ , عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ , عَنْ عَطَاءٍ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , إِذَا رَأَى مَخِيلَةً , تَلَوَّنَ وَجْهُهُ وَتَغَيَّرَ , وَدَخَلَ وَخَرَجَ , وَأَقْبَلَ وَأَدْبَرَ , فَإِذَا أَمْطَرَتْ سُرِّيَ عَنْهُ , قَالَ: فَذَكَرَتْ لَهُ عَائِشَةُ بَعْضَ مَا رَأَتْ مِنْهُ , فَقَالَ: " وَمَا يُدْرِيكِ لَعَلَّهُ كَمَا قَالَ قَوْمُ هُودٍ: فَلَمَّا رَأَوْهُ عَارِضًا مُسْتَقْبِلَ أَوْدِيَتِهِمْ قَالُوا هَذَا عَارِضٌ مُمْطِرُنَا بَلْ هُوَ مَا اسْتَعْجَلْتُمْ بِهِ سورة الأحقاف آية 24.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بادل کو دیکھتے تو ( تردد و پریشانی کی وجہ سے ) آپ کے چہرہ مبارک کا رنگ بدل جاتا ، کبھی اندر تشریف لے جاتے کبھی باہر ، کبھی آگے جاتے کبھی پیچھے ، پھر جب بارش ہونے لگتی تو آپ کی یہ کیفیت ختم ہو جاتی ، عائشہ رضی اللہ عنہا نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ کی اس کیفیت کا ذکر کیا جسے انہوں نے دیکھا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اے عائشہ تجھے کیا معلوم ؟ ہو سکتا ہے یہ وہی ہو جسے دیکھ کر قوم ہود نے کہا تھا : «فلما رأوه عارضا مستقبل أوديتهم قالوا هذا عارض ممطرنا بل هو ما استعجلتم به» ” تو جب ان لوگوں نے بادل کو اپنی وادیوں کی طرف آتے دیکھا تو کہنے لگے : یہ بادل ہے جو ہم پر پانی برسائے گا ، ( نہیں اس میں پانی نہیں تھا ) بلکہ وہ چیز ( یعنی عذاب ) ہے جس کی تم جلدی مچا رہے تھے “ ( سورۃ الاحقاف : ۲۴ ) ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3891]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/ الاستسقاء 3 (899)، سنن الترمذی/الدعوات 42 (3449)، (تحفة الأشراف: 17385)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/240) (صحیح)