📖 سنن ابن ماجه (Sunan Ibn Majah) • تمام کتب ↗

كتاب الجهاد

کتاب: جہاد کے فضائل و احکام

کتاب #28 • کل احادیث: 131
فلٹر احادیث:
اردو سائز:
عربی سائز:
1: بَابُ : فَضْلِ الْجِهَادِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ
باب: اللہ کی راہ میں جہاد کی فضیلت۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفُضَيْلِ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَعَدَّ اللَّهُ لِمَنْ خَرَجَ فِي سَبِيلِهِ لَا يُخْرِجُهُ إِلَّا جِهَادٌ فِي سَبِيلِي، وَإِيمَانٌ بِي، وَتَصْدِيقٌ بِرُسُلِي، فَهُوَ عَلَيَّ ضَامِنٌ أَنْ أُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ أَوْ أَرْجِعَهُ إِلَى مَسْكَنِهِ الَّذِي خَرَجَ مِنْهُ نَائِلًا مَا نَالَ مِنْ أَجْرٍ أَوْ غَنِيمَةٍ"، ثُمَّ قَالَ: " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى الْمُسْلِمِينَ مَا قَعَدْتُ خِلَافَ سَرِيَّةٍ تَخْرُجُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَبَدًا، وَلَكِنْ لَا أَجِدُ سَعَةً فَأَحْمِلَهُمْ وَلَا يَجِدُونَ سَعَةً فَيَتَّبِعُونِي، وَلَا تَطِيبُ أَنْفُسُهُمْ فَيَتَخَلَّفُونَ بَعْدِي، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَوَدِدْتُ أَنْ أَغْزُوَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَأُقْتَلَ ثُمَّ أَغْزُوَ فَأُقْتَلَ ثُمَّ أَغْزُوَ فَأُقْتَلَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ نے اس شخص کے لیے جو اس کی راہ میں نکلے ، اور اسے اس کی راہ میں صرف جہاد اور اللہ تعالیٰ پر ایمان اور اس کے رسولوں کی تصدیق ہی نے نکالا ہو ، ( تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ) میں اس کے لیے ضمانت لیتا ہوں کہ اسے جنت میں داخل کروں ، یا اجر و ثواب اور مال غنیمت کے ساتھ اس منزل تک لوٹا دوں جہاں سے وہ گیا تھا “ ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ، اگر مجھے مسلمانوں کے مشقت میں پڑ جانے کا ڈر نہ ہوتا تو میں کسی بھی سریہ ( لشکر ) کا جو اللہ کے راستے میں نکلتا ہے ساتھ نہ چھوڑتا ، لیکن میرے پاس اتنی گنجائش نہیں کہ سب کی سواری کا انتظام کر سکوں ، نہ لوگوں کے پاس اتنی فراخی ہے کہ وہ ہر جہاد میں میرے ساتھ رہیں ، اور نہ ہی انہیں یہ پسند ہے کہ میں چلا جاؤں ، اور وہ نہ جا سکیں ، پیچھے رہ جائیں ، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے ، میں چاہتا ہوں کہ اللہ کی راہ میں جہاد کروں ، اور قتل کر دیا جاؤں ، پھر جہاد کروں ، اور قتل کر دیا جاؤں ، پھر جہاد کروں ، اور قتل کر دیا جاؤں “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2753]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الإیمان 26 (36 مطولاً)، الجہاد 2 2787)، فرض الخمس 8 (3123)، التوحید 28 (7457)، صحیح مسلم/الإمارة 28 (1876)، سنن النسائی/الجہاد 14 (3124)، (تحفة الأشراف: 14901)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الجہاد 1 (2)، مسند احمد (2/231، 384، 399، 424، 494)، سنن الدارمی/الجہاد 2 (2436) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، عَنْ شَيْبَانَ ، عَنْ فِرَاسٍ ، عَنْ عَطِيَّةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الْمُجَاهِدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ مَضْمُونٌ عَلَى اللَّهِ إِمَّا أَنْ يَكْفِتَهُ إِلَى مَغْفِرَتِهِ وَرَحْمَتِهِ، وَإِمَّا أَنْ يَرْجِعَهُ بِأَجْرٍ وَغَنِيمَةٍ، وَمَثَلُ الْمُجَاهِدِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ كَمَثَلِ الصَّائِمِ الْقَائِمِ الَّذِي لَا يَفْتُرُ حَتَّى يَرْجِعَ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والے شخص کا اللہ تعالیٰ ضامن ہے ، یا تو اسے اپنی رحمت و مغفرت میں ڈھانپ لے ، یا ثواب اور مال غنیمت کے ساتھ اسے ( گھر ) واپس کرے ، اللہ کے راستہ میں جہاد کرنے والے کی مثال نہ تھکنے والے صائم تہجد گزار کی ہے یہاں تک کہ وہ مجاہد گھر لوٹ آئے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2754]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ عطية العوفي ضعيف ¤ و حديث مسلم (1878) و الترمذي (1620) يغني عنه ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 478
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 4224، ومصباح الزجاجة: 973) (صحیح) (سند میں عطیہ العوفی ضعیف ہے، لیکن اصل حدیث ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے متفق علیہ وارد ہے، ملاحظہ ہو: صحیح الترغیب: 1304 و 1320)
2: بَابُ : فَضْلِ الْغَدْوَةِ وَالرَّوْحَةِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ
باب: اللہ کی راہ میں صبح شام چلنے کی فضیلت۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " غَدْوَةٌ أَوْ رَوْحَةٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ کے راستے میں ایک صبح یا ایک شام ( کا وقت گزارنا ) دنیا اور اس کی ساری چیزوں سے بہتر ہے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2755]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/فضائل الجہاد 17 (1649)، (تحفة الأشراف: 13428)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الجہاد 5 (2792)، مسند احمد (2/532، 533) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ مَنْظُورٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " غَدْوَةٌ أَوْ رَوْحَةٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا".
سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ کے راستے میں ایک صبح یا ایک شام ( کا وقت گزارنا ) دنیا اور اس کی ساری چیزوں سے بہتر ہے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2756]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 4673)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الجہاد 5 (2794)، 73 (2892)، الرقاق 2 (6415)، صحیح مسلم/الإمارة 30 (1881)، سنن الترمذی/فضائل الجہاد 17 (1648)، 26 (1664)، سنن النسائی/الجہاد 11 (3120)، مسند احمد (3/433، 5/335، 337، 339)، سنن الدارمی/الجہاد 9 (2443) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَغَدْوَةٌ أَوْ رَوْحَةٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ کے راستے میں ایک صبح یا ایک شام ( کا وقت گزارنا ) دنیا اور اس کی ساری چیزوں سے بہتر ہے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2757]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 726)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الجہاد 5 (2792)، صحیح مسلم/الإمارة 30 (1880)، سنن الترمذی/فضائل الجہاد 17 (1651) (صحیح)
3: بَابُ : مَنْ جَهَّزَ غَازِيًا
باب: مجاہد کو سامان جہاد فراہم کرنے کی فضیلت۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْهَادِ ، عَنْ الْوَلِيدِ بْنِ أَبِي الْوَلِيدِ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سُرَاقَةَ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ جَهَّزَ غَازِيًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ حَتَّى يَسْتَقِلَّ، كَانَ لَهُ مِثْلُ أَجْرِهِ حَتَّى يَمُوتَ أَوْ يَرْجِعَ".
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : ” جو شخص اللہ کی راہ کے کسی مجاہد کو ساز و سامان سے لیس کر دے یہاں تک کہ اسے مزید کسی چیز کی ضرورت نہ رہ جائے تو اسے بھی اتنا ہی ثواب ملے گا جتنا مجاہد کو ، یہاں تک کہ وہ مر جائے یا اپنے گھر لوٹ آئے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2758]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 10605، ومصباح الزجاجة: 974)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/20، 53) (ضعیف) (سند میں ولید بن أبو ولید ضعیف ہے، اور عثمان بن عبد اللہ کی عمر رضی اللہ عنہ سے رو ایت مرسل و منقطع ہے)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ جَهَّزَ غَازِيًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ كَانَ لَهُ مِثْلُ أَجْرِهِ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَنْقُصَ مِنْ أَجْرِ الْغَازِي شَيْئًا".
زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص کسی مجاہد فی سبیل اللہ کو ساز و سامان سے لیس کر دے ، اسے بھی اتنا ہی ثواب ملے گا جتنا اس مجاہد کو ملے گا ، بغیر اس کے کہ اس کے ثواب میں کچھ کمی کی جائے ۔‏‏‏‏“ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2759]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/فضائل الجہاد 6 (1629 1630)، (تحفة الأشراف: 3761)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الجہاد 38 (2843)، صحیح مسلم/الإمارة 38 (1895)، سنن ابی داود/الجہاد 21 (2509)، سنن النسائی/الجہاد 44 (3182)، مسند احمد (4/115، 116، 117، 5/192، 193)، سنن الدارمی/الجہاد 27 (2463) (صحیح)
4: بَابُ : فَضْلِ النَّفَقَةِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ تَعَالَى
باب: اللہ کے راستے میں خرچ کرنے کی فضیلت۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى اللَّيْثِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ ، عَنْ ثَوْبَانَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَفْضَلُ دِينَارٍ يُنْفِقُهُ الرَّجُلُ دِينَارٌ يُنْفِقُهُ عَلَى عِيَالِهِ، وَدِينَارٌ يُنْفِقُهُ عَلَى فَرَسٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَدِينَارٌ يُنْفِقُهُ الرَّجُلُ عَلَى أَصْحَابِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ".
ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” سب سے بہترین دینار جسے آدمی خرچ کرتا ہے وہ دینار ہے جسے اہل و عیال پر خرچ کرتا ہے ، اور وہ دینار ہے جسے وہ اپنے جہاد فی سبیل اللہ کے گھوڑے پر خرچ کرتا ہے ، نیز وہ دینار ہے جسے وہ اپنے مجاہد ساتھیوں پر خرچ کرتا ہے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2760]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الزکاة 12 (994)، سنن الترمذی/البر والصلة 42 (1966)، (تحفة الأشراف: 2101)، وقد أخرجہ: مسند احمد5/ (279، 284) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَمَّالُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ ، عَنِ الْخَلِيلِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، وَأَبِي الدَّرْدَاءِ ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ ، وَأَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، وَجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، وَعِمْرَانَ بْنِ الْحُصَيْنِ ، كُلُّهُمْ يُحَدِّثُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " مَنْ أَرْسَلَ بِنَفَقَةٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَأَقَامَ فِي بَيْتِهِ فَلَهُ بِكُلِّ دِرْهَمٍ سَبْعُ مِائَةِ دِرْهَمٍ، وَمَنْ غَزَا بِنَفْسِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَأَنْفَقَ فِي وَجْهِ ذَلِكَ فَلَهُ بِكُلِّ دِرْهَمٍ سَبْعُ مِائَةِ أَلْفِ دِرْهَمٍ، ثُمَّ تَلَا هَذِهِ الْآيَةَ وَاللَّهُ يُضَاعِفُ لِمَنْ يَشَاءُ سورة البقرة آية 261".
علی بن ابی طالب ، ابوالدردا ء ، ابوہریرہ ، ابوامامہ باہلی ، عبداللہ بن عمر ، عبداللہ بن عمرو بن العاص ، جابر بن عبداللہ اور عمران بن حصین رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص فی سبیل اللہ ( اللہ کی راہ میں ) خرچ بھیجے ، اور اپنے گھر بیٹھا رہے تو اس کے لیے ہر درہم کے بدلے سات سو درہم ہیں ، اور جو شخص فی سبیل اللہ ( اللہ کے راستے میں ) بذات خود جہاد کرنے نکلے ، اور خرچ کرے ، تو اسے ہر درہم کے بدلے سات لاکھ درہم کا ثواب ملے گا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی : «والله يضاعف لمن يشاء» ” اور اللہ تعالیٰ جیسے چاہے دو گنا کر دے “ ( سورۃ البقرہ : ۲۶۱ ) ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2761]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ قال البوصيري: ”ھذا إسناد ضعيف،الخليل بن عبد اللّٰه: لا يعرف“ ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 478
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 2227، 8617، 10068، 10794، 10929، 12261، ومصباح الزجاجة: 975) (ضعیف) (سند میں خلیل بن عبداللہ مجہول راوی ہے)
5: بَابُ : التَّغْلِيظِ فِي تَرْكِ الْجِهَادِ
باب: جہاد چھوڑ دینے پر وارد وعید کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ الْحَارِثِ الذِّمَارِيُّ ، عَنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ لَمْ يَغْزُ أَوْ يُجَهِّزْ غَازِيًا أَوْ يَخْلُفْ غَازِيًا فِي أَهْلِهِ بِخَيْرٍ أَصَابَهُ اللَّهُ سُبْحَانَهُ بِقَارِعَةٍ قَبْلَ يَوْمِ الْقِيَامَةِ".
ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص نہ غزوہ کرے ، نہ کسی غازی کے لیے سامان جہاد کا انتظام کرے ، اور نہ ہی کسی غازی کی غیر موجودگی میں اس کے گھربار کی بھلائی کے ساتھ نگہبانی کرے ، تو اللہ تعالیٰ قیامت آنے سے قبل اسے کسی مصیبت میں مبتلا کر دے گا “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2762]
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الجہاد 18 (2503)، (تحفة الأشراف: 4897)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/الجہاد 26 (2462) (حسن) (تراجع الألبانی: رقم: 380)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ ، حَدَّثَنَا أَبُو رَافِعٍ هُوَ إِسْمَاعِيل بْنُ رَافِعٍ ، عَنْ سُمَيٍّ مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ لَقِيَ اللَّهَ وَلَيْسَ لَهُ أَثَرٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ لَقِيَ اللَّهَ وَفِيهِ ثُلْمَةٌ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملے کہ اس پر جہاد فی سبیل اللہ کا کوئی نشان نہ ہو ، تو وہ اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملے گا کہ اس میں نقصان ہو گا “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2763]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ ترمذي (1666) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 478
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/فضائل الجہاد 26 (1666)، (تحفة الأشراف: 12554)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/160، 214) (ضعیف) (سند میں ابو رافع ضعیف راوی ہیں)
6: بَابُ : مَنْ حَبَسَهُ الْعُذْرُ عَنِ الْجِهَادِ
باب: جو شخص عذر کی وجہ سے جہاد میں شریک نہ ہو اس کے حکم کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: لَمَّا رَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ غَزْوَةِ تَبُوكَ فَدَنَا مِنَ الْمَدِينَةِ قَالَ: " إِنَّ بِالْمَدِينَةِ لَقَوْمًا مَا سِرْتُمْ مِنْ مَسِيرٍ وَلَا قَطَعْتُمْ وَادِيًا إِلَّا كَانُوا مَعَكُمْ فِيهِ"، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَهُمْ بِالْمَدِينَةِ؟ قَالَ: " وَهُمْ بِالْمَدِينَةِ، حَبَسَهُمُ الْعُذْرُ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ تبوک سے لوٹے ، اور مدینہ کے نزدیک پہنچے ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مدینہ میں کچھ ایسے لوگ ہیں کہ جس راہ پر تم چلے اور جس وادی سے بھی تم گزرے وہ تمہارے ہمراہ رہے “ ، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا : مدینہ میں رہ کر بھی وہ ہمارے ساتھ رہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہاں ، مدینہ میں رہ کر بھی ، عذر نے انہیں روک رکھا تھا “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2764]
💡 وضاحت:
۱؎: مثلاً بیماری وغیرہ تو ایسے شخص کو جہاد کا ثواب ملے گا جب اس کی نیت جہاد کی ہو، لیکن عذر کی وجہ سے مجبور ہو کر رک جائے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 758)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الجہاد 35 (2839)، صحیح مسلم/الإمارة 48 (1911)، سنن ابی داود/الجہاد 20 (2508) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ بِالْمَدِينَةِ رِجَالًا مَا قَطَعْتُمْ وَادِيًا وَلَا سَلَكْتُمْ طَرِيقًا إِلَّا شَرِكُوكُمْ فِي الْأَجْرِ، حَبَسَهُمُ الْعُذْرُ"، قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ: أَوْ كَمَا قَالَ: كَتَبْتُهُ لَفْظًا.
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مدینہ میں کچھ ایسے لوگ ہیں کہ تم جس وادی سے بھی گزرے ، یا جس راہ پر چلے ثواب میں ہر جگہ وہ تمہارے شریک رہے ، انہیں عذر نے روک رکھا تھا “ ۔ ابن ماجہ کہتے ہیں : ایسا ہی کچھ احمد بن سنان نے کہا میں نے اسے لفظ بلفظ لکھ لیا ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2765]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الإمارة 48 (1911)، (تحفة الأشراف: 2304)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/300) (صحیح)
7: بَابُ : فَضْلِ الرِّبَاطِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ
باب: اللہ کے راستے میں مورچہ بندی کی فضیلت۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، قَالَ: خَطَبَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ النَّاسَ فَقَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنِّي سَمِعْتُ حَدِيثًا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَمْنَعْنِي أَنْ أُحَدِّثَكُمْ بِهِ إِلَّا الضِّنُّ بِكَمْ وَبِصَحَابَتِكُمْ فَلْيَخْتَرْ مُخْتَارٌ لِنَفْسِهِ أَوْ لِيَدَعْ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ رَابَطَ لَيْلَةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ سُبْحَانَهُ كَانَتْ كَأَلْفِ لَيْلَةٍ صِيَامِهَا وَقِيَامِهَا".
عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے لوگوں میں خطبہ دیا اور فرمایا : لوگو ! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک حدیث سنی ہے جو میں نے تم سے صرف اس لیے نہیں بیان کی کہ میں تمہارا اور تمہارے ساتھ رہنے کا بہت حریص ہوں ۱؎ ، اب اس پر عمل کرنے اور نہ کرنے کا اختیار ہے ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے : ” جس نے اللہ کے راستے میں ایک رات بھی سرحد پر پڑاؤ ڈالا ، تو اسے ہزار راتوں کے صیام و قیام کے مثل ثواب ملے گا “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2766]
💡 وضاحت:
۱؎: کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ حدیث سنتے ہی تم جہاد کے لئے نکل جاؤ اور میں اکیلا رہ جاؤں۔
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ عبد الرحمٰن بن زيد بن أسلم ضعيف ¤ وللحديث شاھد ضعيف عند الحاكم (2/ 81) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 479
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 9816، ومصباح الزجاجة: 976)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/61، 64) (ضعیف جدا) (عبدالرحمن بن زید بن اسلم ضعیف ہیں، ترمذی اور نسائی کے یہاں یہ روایت صِيَامِهَا وَقِيَامِهَا کے بغیر موجود ہے)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي اللَّيْثُ ، عَنْ زُهْرَةَ بْنِ مَعْبَدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ مَاتَ مُرَابِطًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَجْرَى عَلَيْهِ أَجْرَ عَمَلِهِ الصَّالِحِ الَّذِي كَانَ يَعْمَلُ، وَأَجْرَى عَلَيْهِ رِزْقَهُ، وَأَمِنَ مِنَ الْفَتَّانِ، وَبَعَثَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ آمِنًا مِنَ الْفَزَعِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص اللہ کے راستے میں «رباط» ( سرحد پر پڑاؤ ڈالے ہوئے ) مر جائے ، تو جو وہ نیک عمل کرتا تھا اس کا ثواب اس کے لیے جاری رہے گا ، جنت میں سے اس کا رزق مقرر ہو گا ، قبر کے فتنہ سے محفوظ رہے گا ، اور اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے دن ہر ڈر اور گھبراہٹ سے محفوظ اٹھائے گا “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2767]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 14617، ومصباح الزجاجة: 978)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/404) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل بْنِ سَمُرَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَعْلَى السُّلَمِيُّ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ صُبْحٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ مَكْحُولٍ ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَرِبَاطُ يَوْمٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ مِنْ وَرَاءِ عَوْرَةِ الْمُسْلِمِينَ مُحْتَسِبًا مِنْ غَيْرِ شَهْرِ رَمَضَانَ، أَعْظَمُ أَجْرًا مِنْ عِبَادَةِ مِائَةِ سَنَةٍ صِيَامِهَا وَقِيَامِهَا، وَرِبَاطُ يَوْمٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ مِنْ وَرَاءِ عَوْرَةِ الْمُسْلِمِينَ مُحْتَسِبًا مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ، أَفْضَلُ عِنْدَ اللَّهِ وَأَعْظَمُ أَجْرًا، أُرَاهُ قَالَ: مِنْ عِبَادَةِ أَلْفِ سَنَةٍ صِيَامِهَا وَقِيَامِهَا، فَإِنْ رَدَّهُ اللَّهُ إِلَى أَهْلِهِ سَالِمًا لَمْ تُكْتَبْ عَلَيْهِ سَيِّئَةٌ أَلْفَ سَنَةٍ، وَتُكْتَبُ لَهُ الْحَسَنَاتُ، وَيُجْرَى لَهُ أَجْرُ الرِّبَاطِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ".
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ثواب کی نیت سے مسلمانوں کے ناکے پر ( جہاں سے دشمن کے حملہ آور ہونے کا ڈر ہو ) اللہ کی راہ میں سرحد پر ایک دن پڑاؤ کی حفاظت کا ثواب غیر رمضان میں سو سال کے روزوں ، اور ان کے قیام اللیل صیام سے بڑھ کر ہے ، اور اللہ کے راستے میں مسلمانوں کے ناکے پر ثواب کی نیت سے رمضان میں ایک دن کی سرحد کی نگرانی کا ثواب ہزار سال کے نماز سے بڑھ کر ہے ، پھر اگر اللہ تعالیٰ نے اسے صحیح سالم گھر لوٹا دیا تو ایک ہزار سال تک اس کی برائیاں نہیں لکھی جائیں گی ، نیکیاں لکھی جائیں گی ، اور قیامت تک «رباط» کا ثواب جاری رہے گا “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2768]
قال الشيخ الألباني: موضوع
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده موضوع ¤ عمر بن صبح: متروك كذبه ابن راھويه ¤ ومحمد بن يعلي السلمي: ضعيف ¤ وقال المنذري: ”وآثار الوضع ظاهرة عليه“ ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 479
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 75، ومصباح الزجاجة: 979) (موضوع) (سند میں عمر بن صبح ہے، جو وضع حدیث کرتا تھا، نیز محمد بن یعلی ضعیف راوی ہے، اور مکحول کی أبی بن کعب رضی اللہ عنہ سے ملاقات نہیں ہے)
8: بَابُ : فَضْلِ الْحَرْسِ وَالتَّكْبِيرِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ
باب: اللہ کی راہ میں پہرہ داری اور تکبیر کی فضیلت۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، أَنْبَأَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ زَائِدَةَ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " رَحِمَ اللَّهُ حَارِسَ الْحَرَسِ".
عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ لشکر کے پہرہ دار پر رحم فرمائے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2769]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ صالح بن محمدبن زائدة: ضعيف ¤ و عمر بن عبدالعزيز لم يلق عقبة بن عامر رضي اللّٰه عنه ¤ وللحديث لون آخر ضعيف عند الحاكم (86/2) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 479
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 9945، ومصباح الزجاجة: 980)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/الجہاد 11 (2445) (ضعیف) (سند میں صالح بن محمد بن زائدہ ضعیف راوی ہے)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ الرَّمْلِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ شَابُورَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ خَالِدِ بْنِ أَبِي الطَّوِيلِ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " حَرَسُ لَيْلَةٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَفْضَلُ مِنْ صِيَامِ رَجُلٍ وَقِيَامِهِ فِي أَهْلِهِ أَلْفَ سَنَةٍ، السَّنَةُ ثَلاثُ مِائَةٍ وَسِتُّونَ يَوْمًا وَالْيَوْمُ كَأَلْفِ سَنَةٍ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہو ے سنا : ” اللہ کی راہ میں ایک رات پہرہ دینا ، کسی آدمی کے اپنے گھر میں رہ کر ایک ہزار سال کے صوم و صلاۃ سے بڑھ کر ہے ، سال تین سو ساٹھ دن کا ہوتا ہے ، جس کا ہر دن ہزار سال کے برابر ہے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2770]
قال الشيخ الألباني: موضوع
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده موضوع ¤ سعيد بن خالد: منكر الحديث (تقريب: 2290) وقال الھيثمي: ضعفه الجمھور (مجمع الزوائد 14/10) ¤ وقال الحاكم: روي عن أنس بن مالك أحاديث موضوعة (المدخل إلي الصحيح ص 141) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 479
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 860، ومصباح الزجاجة: 981) (موضوع) (سند میں سعید بن خالد الطویل ہے، جو وضع حدیث کرتا تھا، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: 1234، اس موضوع پر صحیح حدیث کے لئے ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: 1866)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِرَجُلٍ: " أُوصِيكَ بِتَقْوَى اللَّهِ، وَالتَّكْبِيرِ عَلَى كُلِّ شَرَفٍ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے فرمایا : ” میں تمہیں اللہ سے ڈرتے رہنے ، اور ہر اونچی زمین پر اللہ اکبر کہنے کی وصیت کرتا ہوں “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2771]
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/الدعوات 46 (3445)، (تحفة الأشراف: 12946)، وقد أخرجہ: 2/325، 331، 443، 476) (حسن)
9: بَابُ : الْخُرُوجِ فِي النَّفِيرِ
باب: عام اعلان جہاد کے وقت فوراً نکلنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ، أَنْبَأَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: ذُكِرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " كَانَ أَحْسَنَ النَّاسِ، وَكَانَ أَجْوَدَ النَّاسِ، وَكَانَ أَشْجَعَ النَّاسِ، وَلَقَدْ فَزِعَ أَهْلُ الْمَدِينَةِ لَيْلَةً فَانْطَلَقُوا قِبَلَ الصَّوْتِ فَتَلَقَّاهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَدْ سَبَقَهُمْ إِلَى الصَّوْتِ وَهُوَ عَلَى فَرَسٍ لِأَبِي طَلْحَةَ عُرْيٍ مَا عَلَيْهِ سَرْجٌ فِي عُنُقِهِ السَّيْفُ وَهُوَ يَقُولُ: " يَا أَيُّهَا النَّاسُ لَنْ تُرَاعُوا" يَرُدُّهُمْ، ثُمَّ قَالَ لِلْفَرَسِ: " وَجَدْنَاهُ بَحْرًا، أَوْ إِنَّهُ لَبَحْرٌ". قَالَ حَمَّادٌ، وَحَدَّثَنِي ثَابِتٌ، أَوْ غَيْرُهُ قَالَ: كَانَ فَرَسًا لِأَبِي طَلْحَةَ يُبَطَّأُ فَمَا سُبِقَ بَعْدَ ذَلِكَ الْيَوْمِ.
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کیا تو انہوں نے کہا : آپ سب سے زیادہ خوبصورت ، سخی اور بہادر تھے ، ایک رات مدینہ والے گھبرا اٹھے ، اور سب لوگ آواز کی جانب نکل پڑے تو راستے ہی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات ہو گئی ، آپ ان سے پہلے اکیلے ہی آواز کی طرف چل پڑے تھے ۱؎ ، اور ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے ننگی پیٹھ اور بغیر زین والے گھوڑے پر سوار تھے ، اور اپنی گردن میں تلوار ٹکائے ہوئے تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے : ” لوگو ! ڈر کی کوئی بات نہیں ہے “ ، یہ کہہ کر آپ لوگوں کو واپس لوٹا رہے تھے ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھوڑے کے متعلق فرمایا : ” ہم نے اسے سمندر پایا ، یا واقعی یہ تو سمندر ہے “ ۔ حماد کہتے ہیں : مجھ سے ثابت نے یا کسی اور نے بیان کیا کہ وہ گھوڑا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کا تھا ، جو سست رفتار تھا لیکن اس دن کے بعد سے وہ کبھی کسی گھوڑے سے پیچھے نہیں رہا ۲؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2772]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی جب امام یا حاکم جہاد کے لئے نکلنے کا اعلان عام کر دے تو ہر ایک مسلمان جس کو کوئی عذر نہ ہو، کا جہادکے لیے نکلنا واجب ہے۔
۲؎: یہ برکت تھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمانے کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے جو نکلا حق تعالیٰ ویسا ہی کر دیا ایک سست رفتار اور خراب گھوڑا دم بھر میں عمدہ گھوڑوں سے زیادہ تیز اور چالاک ہو گیا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/ الجہاد 42 (2820)، 54 (2866)، 82 (2908)، الأدب 39 (6033)، صحیح مسلم/الفضائل 11 (2307)، سنن الترمذی/الجہاد 14 (1687)، (تحفة الأشراف: 289)، وقد أخرجہ: مسند احمد3/147، 163، 185، 271) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ بَكَّارِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ بُسْرِ بْنِ أَبِي أَرْطَاةَ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ ، حَدَّثَنِي شَيْبَانُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا اسْتُنْفِرْتُمْ فَانْفِرُوا".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تمہیں جہاد کے لیے نکلنے کا حکم دیا جائے تو فوراً نکل کھڑے ہو “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2773]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 5418، ومصباح الزجاجة: 982)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/جزاء الصید 4 (1834)، الجہاد 1 (2783)، 27 (2825)، 194 (3077)، صحیح مسلم/الإمارة 20 (1353)، سنن الترمذی/السیر 33 (1590)، سنن النسائی/البیعة 15 (4175)، مسند احمد (1/226، 266، 316، 355)، سنن الدارمی/السیر 69 (2554) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَوْلَى آلِ طَلْحَةَ، عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا يَجْتَمِعُ غُبَارٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَدُخَانُ جَهَنَّمَ فِي جَوْفِ عَبْدٍ مُسْلِمٍ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ کی راہ کا غبار ، اور جہنم کا دھواں ، دونوں کسی مسلمان کے پیٹ میں اکٹھا نہ ہوں گے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2774]
💡 وضاحت:
۱؎: جس نے جہاد میں گرد و غبار کھایا ہے وہ ضرور جہنم کی آگ سے محفوظ رہے گا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/فضائل الجہاد 8 (1633)، الزہد 8 (2311)، سنن النسائی/الجہاد 8 (3109)، (تحفة الأشراف: 14285)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/505) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التُّسْتَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنْ شَبِيبٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ رَاحَ رَوْحَةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ كَانَ لَهُ بِمِثْلِ مَا أَصَابَهُ مِنَ الْغُبَارِ مِسْكًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص ایک شام بھی اللہ کی راہ میں چلا ، تو جتنا غبار اس پر پڑا قیامت کے دن اس کے لیے اتنی ہی مشک ہو گی “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2775]
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ شبيب بن بشر البجلي الكوفي ضعيف ضعفه الجمهور ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 479
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 903، ومصباح الزجاجة: 983) (حسن)
10: بَابُ : فَضْلِ غَزْوِ الْبَحْرِ
باب: سمندری جہاد کی فضیلت۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنِ ابْنِ حَبَّانَ هُوَ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ خَالَتِهِ أُمِّ حَرَامٍ بِنْتِ مِلْحَانَ ، أَنَّهَا قَالَتْ: نَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا قَرِيبًا مِنِّي ثُمَّ اسْتَيْقَظَ يَبْتَسِمُ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا أَضْحَكَكَ؟ قَالَ: " نَاسٌ مِنْ أُمَّتِي عُرِضُوا عَلَيَّ يَرْكَبُونَ ظَهْرَ هَذَا الْبَحْرِ كَالْمُلُوكِ عَلَى الْأَسِرَّةِ"، قَالَتْ: فَادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ، قَالَ: فَدَعَا لَهَا، ثُمَّ نَامَ الثَّانِيَةَ فَفَعَلَ مِثْلَهَا، ثُمَّ قَالَتْ مِثْلَ قَوْلِهَا، فَأَجَابَهَا مِثْلَ جَوَابِهِ الْأَوَّلِ، قَالَتْ: فَادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ، قَالَ: " أَنْتِ مِنَ الْأَوَّلِينَ"، قَالَ: فَخَرَجَتْ مَعَ زَوْجِهَا عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ غَازِيَةً أَوَّلَ مَا رَكِبَ الْمُسْلِمُونَ الْبَحْرَ مَعَ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، فَلَمَّا انْصَرَفُوا مِنْ غَزَاتِهِمْ قَافِلِينَ فَنَزَلُوا الشَّامَ، فَقُرِّبَتْ إِلَيْهَا دَابَّةٌ لِتَرْكَبَ، فَصَرَعَتْهَا فَمَاتَتْ.
انس بن مالک رضی اللہ عنہ اپنی خالہ ام حرام بنت ملحان رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں وہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک روز میرے قریب سوئے ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسکراتے ہوئے بیدار ہوئے ، میں نے پوچھا : اللہ کے رسول ! آپ کس بات پر مسکرا رہے ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میری امت کے کچھ لوگ میرے سامنے لائے گئے جو اس سمندر کے اوپر اس طرح سوار ہو رہے ہیں جیسے بادشاہ تختوں پر بیٹھتے ہیں “ ، ام حرام رضی اللہ عنہا نے کہا : اللہ سے آپ دعا کر دیجئیے کہ وہ مجھے بھی ان ہی لوگوں میں سے کر دے ، انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے دعا فرما دی ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم دوبارہ سو گئے ، پھر ویسے ہی ہوا ، آپ اٹھے تو ہنستے ہوئے ، اور ام حرام رضی اللہ عنہا نے وہی پوچھا جو پہلی بار پوچھا تھا ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں وہی جواب دیا جو پہلی بار دیا تھا ، اس بار بھی انہوں نے عرض کیا : آپ اللہ سے دعا کر دیجئیے کہ وہ مجھے بھی انہی لوگوں میں سے کر دے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم پہلے لوگوں میں سے ہو “ ۔ انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ اپنے شوہر عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کے ہمراہ جہاد کے لیے نکلیں ، یہ پہلا موقع تھا کہ معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما کے ساتھ مسلمان بحری جہاد پر گئے تھے چنانچہ جب لوگ جہاد سے لوٹ رہے تھے تو شام میں رکے ، ام حرام رضی اللہ عنہا کی سواری کے لیے ایک جانور لایا گیا ، جس نے انہیں گرا دیا ، اور وہ فوت ہو گئیں ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2776]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کئی معجزے مذکور ہیں: ایک تو اس بات کی پیش گوئی کہ اسلام کی ترقی ہو گی، دوسرے مسلمان سمندر میں جا کر جہاد کریں گے، تیسرے ام حرام رضی اللہ عنہا بھی ان مسلمانوں کے ساتھ ہوں گی اور اس وقت تک زندہ رہیں گی، چوتھے پھر ام حرام رضی اللہ عنہا کا انتقال ہو جائے گا اور دوسرے لشکر میں شریک نہیں ہو سکیں گی، یہ سب باتیں جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی تھیں پوری ہوئیں، اور یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی کھلی دلیلیں ہیں جو شخص نبی نہ ہو وہ ایسی صحیح پیشین گوئیاں نہیں کر سکتا، سب قوموں سے پہلے عرب کے مسلمانوں نے ہی سمندر میں بڑے بڑے سفر شروع کئے اور علم جہاز رانی میں وہ ساری قوموں کے استاد بن گئے، مگر افسوس ہے کہ گردش زمانہ سے اب یہ حال ہو گیا کہ عرب تمام علوم میں دوسر ی قوموں سے پیچھے رہ گئے ہیں، اور جو لوگ جاہل اور کم علم تھے یعنی یورپ کے لوگ وہ تمام جہاں کے لوگوں سے دنیاوی علوم و فنون میں سبقت لے گئے ہیں: «وتلك الأيام نداولها بين الناس» (سورة آل عمران: 140) اب بھی اگر مسلمانوں کی ترقی منظور ہے تو عربوں میں علوم اور فنون پھیلانے کی کوشش کرنی چاہئے، اور ان کو تمام جنگی علوم و فنون کی تعلیم دینا چاہئے، جب عرب پھر علوم میں ماہر ہو جائیں گے تو دنیا کی تمام اقوام کو ہلاکر رکھ دیں گے، یہ شرف اللہ تعالی نے صرف عربوں ہی کو دیا ہے۔ واضح رہے کہ ام حرام بنت ملحان انصاریہ رضی اللہ عنہا انس بن مالک کی خالہ ہیں، ان کی شادی عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے ہوئی تھی جن کے ساتھ وہ اس جہاد میں شریک ہوئیں اور سمندر کا سفر کیا بعد میں ایک جانور کی سواری سے گر کر انتقال ہوا اور قبرص میں دفن ہوئیں، یہ جنگ عثمان رضی اللہ عنہ کے عہد میں معاویہ رضی اللہ عنہ کی قیادت میں سن ۲۷ ہجری میں واقع ہوئی،ابوذر اور ابوالدرداء وغیرہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اس جنگ میں شریک تھے، معاویہ رضی اللہ عنہ کی اہلیہ فاختہ بنت قرظہ رضی اللہ عنہا بھی اس جنگ میں شریک تھیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الجہاد 3 (2788)، 8 (2799)، 63 (2877)، 75 (2894)، 93 (2924)، الاستئذان 41 (6282)، التعبیر 12 (7001)، صحیح مسلم/الإمارة 49 (1912)، سنن ابی داود/الجہاد 10 (2490، 2492)، سنن الترمذی/فضائل الجہاد 15 (1645)، سنن النسائی/الجہاد 40 (3174)، (تحفة الأشراف: 18307)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الجہاد 18 (39)، مسند احمد (3/264، 6/361، 423، 435)، سنن الدارمی/الجہاد 29 (2465) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ يَحْيَى ، عَنْ لَيْثِ بْنِ أَبِي سُلَيْمٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبَّادٍ ، عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " غَزْوَةٌ فِي الْبَحْرِ مِثْلُ عَشْرِ غَزَوَاتٍ فِي الْبَرِّ، وَالَّذِي يَسْدَرُ فِي الْبَحْرِ كَالْمُتَشَحِّطِ فِي دَمِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ سُبْحَانَهُ".
ابو الدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ایک بحری ( سمندری ) جہاد دس بری جہادوں کے برابر ہے ، اور سمندر میں جس کا سر چکرائے وہ اس شخص کی طرح ہے جو اللہ کے راستے میں اپنے خون میں لوٹ رہا ہو “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2777]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ بقية عنعن ¤ وليث ضعيف مدلس ¤ ومعاوية بن يحيي: ضعيف ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 479
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 11001، ومصباح الزجاجة: 984) (ضعیف) (سند میں معاویہ بن یحییٰ اور ان کے شیخ لیث بن ابی سلیم دونوں ضعیف را وی ہے، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: 1230)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ الْجُبَيْرِيُّ ، حَدَّثَنَا قَيْسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْكِنْدِيُّ ، حَدَّثَنَا عُفَيْرُ بْنُ مَعْدَانَ الشَّامِيُّ ، عَنْ سُلَيْمِ بْنِ عَامِرٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " شَهِيدُ الْبَحْرِ مِثْلُ شَهِيدَيِ الْبَرِّ، وَالْمَائِدُ فِي الْبَحْرِ كَالْمُتَشَحِّطِ فِي دَمِهِ فِي الْبَرِّ، وَمَا بَيْنَ الْمَوْجَتَيْنِ كَقَاطِعِ الدُّنْيَا فِي طَاعَةِ اللَّهِ، وَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَكَلَ مَلَكَ الْمَوْتِ بِقَبْضِ الْأَرْوَاحِ إِلَّا شَهِيدَ الْبَحْرِ فَإِنَّهُ يَتَوَلَّى قَبْضَ أَرْوَاحِهِمْ، وَيَغْفِرُ لِشَهِيدِ الْبَرِّ الذُّنُوبَ كُلَّهَا إِلَّا الدَّيْنَ، وَلِشَهِيدِ الْبَحْرِ الذُّنُوبَ وَالدَّيْنَ".
ابواسامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : ” سمندر کا شہید خشکی کے دو شہیدوں کے برابر ہے ، سمندر میں جس کا سر چکرائے وہ خشکی میں اپنے خون میں لوٹنے والے کی مانند ہے ، اور ایک موج سے دوسری موج تک جانے والا اللہ کی اطاعت میں پوری دنیا کا سفر کرنے والے کی طرح ہے ، اللہ تعالیٰ نے روح قبض کرنے کے لیے ملک الموت ( عزرائیل ) کو مقرر کیا ہے ، لیکن سمندر کے شہید کی جان اللہ تعالیٰ خود قبض کرتا ہے ، خشکی میں شہید ہونے والے کے قرض کے علاوہ تمام گناہ معاف ہو جاتے ہیں ، لیکن سمندر کے شہید کے قرض سمیت سارے گناہ معاف ہوتے ہیں “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2778]
قال الشيخ الألباني: ضعيف جدا
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ عفير: ضعيف ¤ والسند ضعفه البوصيري ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 479
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 4872، ومصباح الزجاجة: 985) (ضعیف جدا) (سند میں عفیر بن معدان شامی سخت ضعیف روای ہے، نیز ملاحظہ ہو: الإرواء: 115)
11: بَابُ : ذِكْرِ الدَّيْلَمِ وَفَضْلِ قَزْوِينَ
باب: دیلم کا ذکر اور قزوین کی فضیلت۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الْوَاسِطِيُّ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، ح وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُنْذِرِ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ كُلُّهُمْ، عَنْ قَيْسٍ ، عَنْ أَبِي حُصَيْنٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَوْ لَمْ يَبْقَ مِنَ الدُّنْيَا إِلَّا يَوْمٌ، لَطَوَّلَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ حَتَّى يَمْلِكَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ بَيْتِي، يَمْلِكُ جَبَلَ الدَّيْلَمِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اگر دنیا کی عمر کا صرف ایک دن باقی رہا تو اللہ تعالیٰ اس دن کو اتنا لمبا کر دے گا کہ میرے خاندان کے ایک فرد کی حکومت قائم ہو ، اور پھر وہ دیلم پہاڑ اور شہر قسطنطنیہ پر قابض ہو جائے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2779]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ قيس بن الربيع: ضعيف ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 480
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 12841، ومصباح الزجاجة: 986) (ضعیف) (سند میں قیس بن الربیع ضعیف راوی ہے)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ أَسَدٍ ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ الْمُحَبَّرِ ، أَنْبَأَنَا الرَّبِيعُ بْنُ صَبِيحٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبَانَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " سَتُفْتَحُ عَلَيْكُمُ الْآفَاقُ، وَسَتُفْتَحُ عَلَيْكُمْ مَدِينَةٌ يُقَالُ لَهَا قَزْوِينُ مَنْ رَابَطَ، فِيهَا أَرْبَعِينَ يَوْمًا أَوْ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً كَانَ لَهُ فِي الْجَنَّةِ عَمُودٌ مِنْ ذَهَبٍ عَلَيْهِ زَبَرْجَدَةٌ خَضْرَاءُ، عَلَيْهَا قُبَّةٌ مِنْ يَاقُوتَةٍ حَمْرَاءَ لَهَا سَبْعُونَ أَلْفَ مِصْرَاعٍ مِنْ ذَهَبٍ، عَلَى كُلِّ مِصْرَاعٍ زَوْجَةٌ مِنَ الْحُورِ الْعِينِ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” عنقریب تم ملکوں کو فتح کرو گے اور عنقریب تم ایک ایسا شہر فتح کرو گے جسے قزوین کہا جاتا ہے جو اس میں چالیس دن یا چالیس رات سرحد کی نگرانی کرے گا ، اس کے لیے جنت میں سونے کا ایک ستون ہو گا ، جس پر سبز زمرد لگا ہو گا ، پھر اس ستون پر سرخ یا قوت کا قبہ ہو گا جس کے ستر ہزار سونے کے چوکھٹے ( دروازے ) ہوں گے ، اور ہر چوکھٹے پر بڑی بڑی آنکھوں والی حوروں میں سے ایک بیوی ہو گی “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2780]
قال الشيخ الألباني: موضوع
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده موضوع ¤ داود بن المحبر:متروك (تقريب: 1811) كذاب وتوثيق ابن معين لا يزيده إلا وھنًا،وقال العراقي: و قد ضعفه الجمھور (تخريج الإحياء 365/2) ¤ ويزيد بن أبان الرقاشي: ضعيف ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 480
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 1686، ومصباح الزجاجة: 987) (موضوع) (سند میں یزید بن ابان، ربیع بن صبیح اور داود بن المحبر ضعیف راوی ہیں، یزید وضع حدیث کرتا تھا، ابن الجوزی نے اس حدیث کو موضوعات میں ذکر کیا ہے، اور یزید بن ابان کو اس سلسلے میں متہم کیا ہے، اور ابن ماجہ پر اس حدیث کی تخریج پر اظہار تعجب کیا ہے، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: 381)
12: بَابُ : الرَّجُلِ يَغْزُو وَلَهُ أَبَوَانِ
باب: ماں باپ کی زندگی میں جہاد کرنے کا حکم۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَمَّالُ ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ ، عَنْ أَبِيهِ طَلْحَةَ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ جَاهِمَةَ السُّلَمِيِّ ، أَنَّ جَاهِمَةَ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ نَحْوَهُ، قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ بْن مَاجَةَ: هَذَا جَاهِمَةُ بْنُ عَبَّاسِ بْنِ مِرْدَاسٍ السُّلَمِيُّ الَّذِي عَاتَبَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ حُنَيْنٍ.
معاویہ بن جاہمہ سلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہو کر عرض کیا : میں اللہ کی رضا اور دار آخرت کی بھلائی کے لیے آپ کے ساتھ جہاد کرنا چاہتا ہوں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” افسوس ، کیا تمہاری ماں زندہ ہے ؟ “ میں نے کہا : ہاں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” واپس جاؤ ، اور اپنی ماں کی خدمت کرو “ پھر میں دوسری جانب سے آیا ، اور میں نے عرض کیا : میں اللہ کی رضا جوئی اور دار آخرت کی خاطر آپ کے ساتھ جہاد کا ارادہ رکھتا ہوں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا تیری ماں زندہ ہے “ ؟ میں نے پھر کہا : ہاں ! اللہ کے رسول ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس کے پاس واپس چلے جاؤ اور اس کی خدمت کرو “ ، پھر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سے آیا اور آپ سے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں نے اللہ کی رضا اور دار آخرت کے لیے آپ کے ساتھ جہاد کا ارادہ کیا ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” افسوس ، کیا تمہاری ماں زندہ ہے ؟ میں نے جواب دیا : ہاں ! اللہ کے رسول ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” افسوس ! اس کے پیر کے پاس رہو ، وہیں جنت ہے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2781]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: t
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَمَّالُ ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ ، عَنْ أَبِيهِ طَلْحَةَ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ جَاهِمَةَ السُّلَمِيِّ ، أَنَّ جَاهِمَةَ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ نَحْوَهُ، قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ بْن مَاجَةَ: هَذَا جَاهِمَةُ بْنُ عَبَّاسِ بْنِ مِرْدَاسٍ السُّلَمِيُّ الَّذِي عَاتَبَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ حُنَيْنٍ.
اس سند سے بھی معاویہ بن جاھمہ رضی اللہ عنہ نے اسی جیسی حدیث ذکر کی ہے ۔ ابوعبداللہ ابن ماجہ کہتے ہیں : یہ جاھمہ بن عباس بن مرداس سلمی ہیں ، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جنگ حنین کے موقعہ پر ( مال غنیمت کی تقسیم کے وقت ) ناراض ہو گئے تھے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2781M]
قال الشيخ الألباني: صحيح
تخریج دارالدعوہ: t
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا الْمُحَارِبِيُّ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ: أَتَى رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي جِئْتُ أُرِيدُ الْجِهَادَ مَعَكَ أَبْتَغِي وَجْهَ اللَّهِ وَالدَّارَ الْآخِرَةَ وَلَقَدْ أَتَيْتُ وَإِنَّ وَالِدَيَّ لَيَبْكِيَانِ، قَالَ: " فَارْجِعْ إِلَيْهِمَا فَأَضْحِكْهُمَا كَمَا أَبْكَيْتَهُمَا".
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص آیا ، اور اس نے عرض کیا : میں آپ کے ساتھ جہاد کے ارادے سے آیا ہوں ، جس سے میرا مقصد رضائے الٰہی اور آخرت کا ثواب ہے ، لیکن میں اپنے والدین کو روتے ہوئے چھوڑ کر آیا ہوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ان کے پاس واپس لوٹ جاؤ اور جس طرح تم نے انہیں رلایا ہے اسی طرح انہیں ہنساؤ “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2782]
💡 وضاحت:
۱؎: ماں کا حق اس حدیث سے معلوم کرنا چاہئے کہ اس کے پاؤں کے پاس جنت ہے، ماں کی خدمت کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جہاد پر مقدم رکھا، ماں باپ جہاد کی اجازت دیں تو آدمی جہاد کر سکتا ہے ورنہ جب تک وہ زندہ ہیں ان کی خدمت کو جہاد پر مقدم رکھے، ان کے مرنے کے بعد پھر اختیار ہے، ماں کا حق اتنا بڑا ہے کہ جہاد جیسا فریضہ اور اسلام کا رکن بغیر اس کی اجازت کے ناجائز ہے۔ جلیل القدر محترم بزرگ اویس قرنی رحمہ اللہ اپنی بوڑھی ماں کی خدمت میں مصروف رہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کے لئے نہ آ سکے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات پائی۔ جو لوگ اپنے ماں باپ کو ستاتے، ان کو ناراض کرتے ہیں وہ ان حدیثوں پر غور کریں، اگر ماں باپ ناراض رہیں گے تو جنت کا ملنا دشوار ہے، جو اپنے ماں باپ کو ناراض کرتا ہے، ایسے شخص کی دنیاوی زندگی بھی بڑی خراب گزرتی ہے، یہ امر تجربہ اور مشاہدہ سے معلوم ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الجہاد 33 (2528)، سنن النسائی/الجہاد 5 (3105)، (تحفة الأشراف: 8640)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الجہاد 138 (3004)، صحیح مسلم/البر 1 (2549)، سنن الترمذی/الجہاد 2 (1671)، مسند احمد (2/165، 194، 198، 204) (صحیح)
13: بَابُ : النِّيَّةِ فِي الْقِتَالِ
باب: جہاد کی نیت کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ: سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الرَّجُلِ يُقَاتِلُ شَجَاعَةً وَيُقَاتِلُ حَمِيَّةً وَيُقَاتِلُ رِيَاءً، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ قَاتَلَ لِتَكُونَ كَلِمَةُ اللَّهِ هِيَ الْعُلْيَا فَهُوَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ".
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس شخص کے بارے میں پوچھا گیا جو بہادری کی شہرت کے لیے لڑتا ہے ، اور جو خاندانی عزت کی خاطر لڑتا ہے ، اور جس کا مقصد ریا و نمود ہوتا ہے ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ کے کلمے کی بلندی کے مقصد سے جو لڑتا ہے وہی مجاہد فی سبیل اللہ ہے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2783]
💡 وضاحت:
۱؎: بہادری کے اظہار کے لیے اور خاندانی شہرت و جاہ کے لیے یا ریاکاری اور دکھاوے کے لیے یا دنیا اور مال و ملک کے لئے جس میں کوئی دینی مصلحت نہ ہو لڑنا جہاد نہیں ہے، اسلام کے بول بالا کے لیے اللہ کے دین کے غلبہ کے لیے اللہ کو راضی کرنے کے لیے جو جہاد ہو گا وہ اسلامی جہاد ہو گا، اور وہی اللہ تعالیٰ کے یہاں مقبول ہو گا، اگلے لوگوں میں اگر کبھی جہاد کے دوران اللہ کے سوا کسی اور کا خیال بھی آ جاتا تو لڑائی چھوڑ دیتے تھے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/العلم 45 (123)، الجہاد 15 (2810)، الخمس 10 (3126)، التوحید 28 (7458)، صحیح مسلم/الإمارة 42 (1904)، سنن ابی داود/الجہاد 26 (2517، 2518)، سنن الترمذی/فضائل الجہاد 16 (1646)، سنن النسائی/الجہاد 21 (3138)، (تحفة الأشراف: 8999)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/392، 397، 405، 417) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عُقْبَةَ ، عَنْ أَبِي عُقْبَةَ وَكَانَ مَوْلًى لِأَهْلِ فَارِسَ، قَالَ: شَهِدْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ فَضَرَبْتُ رَجُلًا مِنَ الْمُشْرِكِينَ، فَقُلْتُ: خُذْهَا مِنِّي وَأَنَا الْغُلَامُ الْفَارِسِيُّ فَبَلَغَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " أَلَا قُلْتَ: خُذْهَا مِنِّي وَأَنَا الْغُلَامُ الْأَنْصَارِيُّ".
ابوعقبہ رضی اللہ عنہ جو کہ اہل فارس کے غلام تھے کہتے ہیں کہ میں جنگ احد میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حاضر تھا ، میں نے ایک مشرک پر یہ کہتے ہوئے حملہ کیا کہ لے میرا یہ وار ، میں فارسی جوان ہوں ، اس کی خبر جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم نے یہ کیوں نہیں کہا کہ لے میرا یہ وار اور میں انصاری نوجوان ہوں “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2784]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ سنن أبي داود (5123) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 480
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الأدب 121 (5123)، (تحفة الأشراف: 12070)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/295) (ضعیف) (سند میں عبدالرحمن بن أبی عقبہ ضعیف اور محمد بن اسحاق مدلس ہیں اور روایت عنعنہ سے کی ہے)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ ، أَخْبَرَنِي أَبُو هَانِئٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيَّ ، يَقُولُ: إِنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو ، يَقُولُ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَا مِنْ غَازِيَةٍ تَغْزُو فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَيُصِيبُوا غَنِيمَةً إِلَّا تَعَجَّلُوا ثُلُثَيْ أَجْرِهِمْ، فَإِنْ لَمْ يُصِيبُوا غَنِيمَةً تَمَّ لَهُمْ أَجْرُهُمْ".
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہو ے سنا : ” لشکر کی جو ٹکڑی اللہ کی راہ میں جہاد کرے اور مال غنیمت پا لے ، تو سمجھو اس نے ثواب کا دو تہائی حصہ تو دنیا ہی میں حاصل کر لیا ، لیکن اگر مال غنیمت نہیں ملتا تو ان کے لیے پورا ثواب ہو گا “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2785]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الإمارة 44 (1906)، سنن ابی داود/الجہاد 13 (2497)، سنن النسائی/الجہاد 15 (3127)، (تحفة الأشراف: 8847)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/169) (صحیح)
14: بَابُ : ارْتِبَاطِ الْخَيْلِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ
باب: اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے گھوڑے رکھنے کا ثواب۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَنْ شَبِيبِ بْنِ غَرْقَدَةَ ، عَنْ عُرْوَةَ الْبَارِقِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْخَيْرُ مَعْقُودٌ بِنَوَاصِي الْخَيْلِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ".
عروہ بارقی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” گھوڑوں کی پیشانی پر قیامت تک خیر و برکت بندھی ہوئی ہے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2786]
💡 وضاحت:
۱؎: مطلب یہ ہے کہ جو گھوڑا جہاد کی نیت سے رکھا جائے، اس کا کھلانا پلانا چرانا سب اجر ہی اجر ہے، اور ہر ایک میں گھوڑے کے مالک کو ثواب ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الجہاد 43 (2850)، 44 (2852)، الخمس 8 (3119)، المناقب 28 (3642)، صحیح مسلم/الإمارة 26 (1873)، سنن الترمذی/الجہاد 19 (1694)، سنن النسائی/الخیل 6 (3604)، (تحفة الأشراف: 9897)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/375)، سنن الدارمی/الجہاد 34 (2470) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " الْخَيْلُ فِي نَوَاصِيهَا الْخَيْرُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” گھوڑوں کی پیشانیوں میں قیامت تک خیر و برکت بندھی ہوئی ہے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2787]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الإمارة 26 (1871)، سنن النسائی/الخیل 6 (3603)، (تحفة الأشراف: 8287)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الجہاد 43 (2849)، المناقب 28 (3644)، موطا امام مالک/الجہاد 19 (44)، مسند احمد (2/49، 57، 101، 112) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُخْتَارِ ، حَدَّثَنَا سُهَيْلٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْخَيْلُ فِي نَوَاصِيهَا الْخَيْرُ" أَوْ قَالَ: " الْخَيْلُ مَعْقُودٌ فِي نَوَاصِيهَا الْخَيْرُ"، قَالَ سُهَيْلٌ: أَنَا أَشُكُّ الْخَيْرُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ الْخَيْلُ ثَلَاثَةٌ: فَهِيَ لِرَجُلٍ أَجْرٌ، وَلِرَجُلٍ سِتْرٌ، وَعَلَى رَجُلٍ وِزْرٌ، فَأَمَّا الَّذِي هِيَ لَهُ أَجْرٌ فَالرَّجُلُ يَتَّخِذُهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَيُعِدُّهَا فَلَا تُغَيِّبُ شَيْئًا فِي بُطُونِهَا إِلَّا كُتِبَ لَهُ أَجْرٌ، وَلَوْ رَعَاهَا فِي مَرْجٍ مَا أَكَلَتْ شَيْئًا إِلَّا كُتِبَ لَهُ بِهَا أَجْرٌ، وَلَوْ سَقَاهَا مِنْ نَهَرٍ جَارٍ كَانَ لَهُ بِكُلِّ قَطْرَةٍ تُغَيِّبُهَا فِي بُطُونِهَا أَجْرٌ، حَتَّى ذَكَرَ الْأَجْرَ فِي أَبْوَالِهَا وَأَرْوَاثِهَا، وَلَوِ اسْتَنَّتْ شَرَفًا أَوْ شَرَفَيْنِ كُتِبَ لَهُ بِكُلِّ خُطْوَةٍ تَخْطُوهَا أَجْرٌ، وَأَمَّا الَّذِي هِيَ لَهُ سِتْرٌ فَالرَّجُلُ يَتَّخِذُهَا تَكَرُّمًا وَتَجَمُّلًا وَلَا يَنْسَى حَقَّ ظُهُورِهَا وَبُطُونِهَا فِي عُسْرِهَا وَيُسْرِهَا، وَأَمَّا الَّذِي هِيَ عَلَيْهِ وِزْرٌ فَالَّذِي يَتَّخِذُهَا أَشَرًا وَبَطَرًا وَبَذَخًا وَرِيَاءً لِلنَّاسِ فَذَلِكَ الَّذِي هِيَ عَلَيْهِ وِزْرٌ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” گھوڑوں کی پیشانی میں بھلائی ہے “ یا فرمایا : ” گھوڑوں کی پیشانی میں قیامت تک خیر اور بھلائی بندھی ہوئی ہے ، گھوڑے تین طرح کے ہوتے ہیں ، ایک شخص کے لیے وہ اجر و ثواب ہیں ، ایک کے لیے ستر ( پردہ ) ہیں ، اور ایک کے واسطے عذاب ہیں ، ( پھر آپ نے تفصیل بیان کی ) اس شخص کے لیے تو باعث اجر و ثواب ہیں جو انہیں اللہ کی راہ میں جہاد کی غرض سے رکھے ، اور انہیں تیار کرے ، چنانچہ ان کے پیٹ میں جو چیز بھی جائے گی وہ اس شخص کے لیے نیکی شمار ہو گی ، اگر وہ انہیں گھاس والی زمین میں بھی چرائے گا تو جو وہ کھائیں گے اس کا ثواب اسے ملے گا ، اگر وہ انہیں بہتی نہر سے پانی پلائے گا تو پیٹ میں جانے والے ہر قطرے کے بدلے اسے ثواب ملے گا ، حتیٰ کہ آپ نے ان کے پیشاب اور لید ( گوبر ) میں بھی ثواب بتایا ، اگر وہ ایک یا دو میل دوڑیں تو بھی ہر قدم کے بدلے جسے وہ اٹھائیں گے ثواب ملے گا ، اور جس شخص کے لیے گھوڑے ستر ( پردہ ) ہیں وہ ہے جو انہیں عزت اور زینت کی غرض سے رکھتا ہے ، لیکن ان کی پیٹھ اور پیٹ کے حق سے تنگی اور آسانی کسی حال میں غافل نہیں رہتا ، لیکن جس شخص کے حق میں یہ گھوڑے گناہ ہیں وہ شخص ہے جو غرور ، تکبر ، فخر اور ریا و نمود کی خاطر انہیں رکھتا ہے ، تو یہی وہ گھوڑے ہیں جو اس کے حق میں گناہ ہیں “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2788]
💡 وضاحت:
۱؎: سواری کا حق یہ ہے کہ جب کوئی مسلمان اس کو ضرورت کی وجہ سے مانگے تو اسے دے یا کوئی پریشان مسلمان راہ میں ملے تو اس کو سوار کر لے، اور بعضوں نے کہا: ان کی زکاۃ ادا کرے، لیکن جمہور علماء کے نزدیک گھوڑوں میں زکاۃ نہیں ہے اور پیٹ کا حق یہ ہے کہ ان کے پانی چارے کی خبر اچھی طرح رکھے اگر ہمیشہ ممکن نہ ہو تو کبھی کبھی خود اس کی دیکھ بھال کرے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الزکاة 6 (987)، (تحفة الأشراف: 12785)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الشرب المساقاة 12 (2371)، الجہاد 48 (2860)، المناقب 28 (3646)، تفسیر سورة الزلزلة 1 (4962)، الاعتصام 24 (7356)، سنن الترمذی/فضائل الجہاد 10 (1636)، سنن النسائی/الخیل (3592)، موطا امام مالک/الجہاد 1 (3)، مسند احمد (2/262، 283) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ أَيُّوبَ يُحَدِّثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ عُلَيِّ بْنِ رَبَاحٍ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " خَيْرُ الْخَيْلِ الْأَدْهَمُ الْأَقْرَحُ الْمُحَجَّلُ الْأَرْثَمُ طَلْقُ الْيَدِ الْيُمْنَى، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ أَدْهَمَ فَكُمَيْتٌ عَلَى هَذِهِ الشِّيَةِ".
ابوقتادہ انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کالا گھوڑا جس کی پیشانی ، ہاتھ ، پیر ، ناک اور اوپر کا ہونٹ سفید ہوں ، اور دایاں ہاتھ باقی جسم کی طرح ہو ، سب سے عمدہ ہے ، اگر وہ کالا نہ ہو تو انہیں صفات والا سرخ سیاہی مائل گھوڑا عمدہ ہے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2789]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی کمیت ہو سفید پیشانی یا کمیت سفید ہاتھ پاؤں یا کمیت سفید لب اور بینی یا کمیت صرف جس کا دایاں ہاتھ سفید ہو، یہ سب عمدہ قسمیں ہیں، اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مشکی رنگ گھوڑوں کے سب رنگوں میں عمدہ ہے، اور حقیقت میں اس رنگ والا گھوڑا نہایت مضبوط اور محنتی ہوتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/الجہاد20 (1695)، (تحفة الأشراف: 12121)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/300)، سنن الدارمی/الجہاد 35 (2472) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ سَلْمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ النَّخَعِيِّ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَكْرَهُ الشِّكَالَ مِنَ الْخَيْلِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ” نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایسے گھوڑے کو ناپسند فرماتے تھے جس کے تین پیر سفید اور ایک پیر کا رنگ باقی جسم کا ہو “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2790]
💡 وضاحت:
۱؎: «شکال» : وہ یہ ہے کہ تین پاؤں سفید ہوں ایک سارے بدن کے رنگ پر ہو، اس کو «ارجل» بھی کہتے ہیں، اب تک گھوڑے والے ایسے رنگ کو مکروہ اور نامبارک سمجھتے ہیں، مگر عوام میں یہ مشہور ہے کہ اگر پیشانی پر بھی سفیدی ہو تو «شکال» ضرر نہیں کرتا، لیکن حدیث مطلق ہے اور بعضوں نے کہا کہ «شکال» یہ ہے کہ داہنا ہاتھ سفید ہو تو بایاں پاؤں سفید ہو یا بایاں ہاتھ سفید نہ ہو تو داہنا پاؤں سفید ہو «واللہ اعلم»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الإمارة 27 (1875)، سنن ابی داود/الجہاد 46 (2547)، سنن الترمذی/الجہاد 21 (1698)، سنن النسائی/الخیل 4 (3597)، (تحفة الأشراف: 14890)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/250، 436، 461، 476) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو عُمَيْرٍ عِيسَى بْنُ مُحَمَّدٍ الرَّمْلِيُّ ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ رَوْحٍ الدَّارِيُّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُقْبَةَ الْقَاضِي ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، عَنْ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنِ ارْتَبَطَ فَرَسًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ ثُمَّ عَالَجَ عَلَفَهُ بِيَدِهِ، كَانَ لَهُ بِكُلِّ حَبَّةٍ حَسَنَةٌ".
تمیم داری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : ” جس نے اللہ کے راستے میں جہاد کی غرض سے گھوڑا باندھا ، پھر دانہ چارہ اپنے ہاتھ سے کھلایا ، تو اس کے لیے ہر دانے کے بدلے ایک نیکی ہو گی “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2791]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ و قال البوصيري: ”ھذا إسناد ضعيف،محمد (بن عقبة القاضي) و أبوه و جده مجهولون و الجد لم يسمّ“ ¤ و أحمد بن يزيد مستور (تقريب: 128) و حديث البخاري (2853) و أحمد (458/6) يغني عنه ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 480
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 2059، ومصباح الزجاجة: 988) (صحیح) (سند میں محمد بن عقبہ بیٹے، باپ اور دادا سب مجہول ہیں، لیکن دوسرے طرق سے یہ صحیح ہے)
15: بَابُ : الْقِتَالِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى
باب: اللہ کی راہ میں لڑنے کا ثواب۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ يُخَامِرَ ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ قَاتَلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ رَجُلٍ مُسْلِمٍ فُوَاقَ نَاقَةٍ وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ".
معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہو ے سنا : ” جو مسلمان شخص اللہ کے راستے میں اونٹنی کا دودھ دوھنے کے درمیانی وقفہ کے برابر لڑا ، اس کے لیے جنت واجب ہو گئی “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2792]
💡 وضاحت:
۱؎: اونٹنی کا دددھ دوھنے کے درمیانی وقفہ سے مراد یا تو وہ ٹھہرنا ہے جو ایک وقت سے دوسرے وقت تک ہوتا ہے مثلاً صبح کو دودھ دوہ کر پھر شام کو دوہتے ہیں تو صبح سے شام تک لڑے یہ مطلب ہے اور صحیح یہ ہے کہ وہ ٹھہرنا مراد ہے جو دودھ دوہنے میں تھوڑی دیر ٹھہر جاتے ہیں تاکہ اور دودھ تھن میں اتر آئے، پھر دوہتے ہیں یہ چار پانچ منٹ ہوتے ہیں، تو مطلب یہ ہو گا کہ جو کوئی اتنی دیر تک بھی اللہ کی راہ میں کافروں سے لڑا تو اس کے لئے جنت واجب ہو گئی۔ سبحان اللہ جہاد کی فضیلت کا کیا کہنا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الجہاد 42 (2541)، سنن النسائی/الجہاد 25 (3143)، سنن الترمذی/فضائل الجہاد 19 (1654)، 21 (1956)، (تحفة الأشراف: 11359)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/230، 235، 243، 244، سنن الدارمی/الجہاد 5 (2439) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا دَيْلَمُ بْنُ غَزْوَانَ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: حَضَرْتُ حَرْبًا فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ : يَا نَفْسِ أَلَا أَرَاكِ تَكْرَهِينَ الْجَنَّهْ أَحْلِفُ بِاللَّهِ لَتَنْزِلِنَّهْ طَائِعَةً أَوْ لَتُكْرَهِنَّهْ.
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں ایک لڑائی میں حاضر ہوا ، تو عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ نے کہا : اے میرے نفس ! میرا خیال ہے کہ تجھے جنت میں جانا ناپسند ہے ، میں اللہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ تجھے جنت میں خوشی یا ناخوشی سے جانا ہی پڑے گا ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2793]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی اللہ کی راہ میں شہید ہو گا اور شہادت جنت میں جانے کا سبب بنے گی، مگر نفس کو ناپسند ہے اس لئے کہ دنیا کی لذتوں کو چھوڑنا پڑتا ہے، عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ نے جیسے قسم کھائی تھی ویسا ہی ہو ا وہ جنگ موتہ میں شہید ہوئے جہاں جعفر بن ابی طالب اور زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ بھی شہید ہوئے اور اوپر ایک حدیث میں گزرا کہ اللہ کے بعض بندے ایسے ہیں کہ اگر اللہ کے بھروسہ پر قسم کھا بیٹھیں تو اللہ تعالیٰ بھی ان کو سچا کرے، عبد اللہ بن رواحہ بھی ایسے ہی بندوں میں تھے، رضی اللہ عنہ وارضاہ۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 5256، ومصباح الزجاجة: 989) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ دِينَارٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ ذَكْوَانَ ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّ الْجِهَادِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: " مَنْ أُهَرِيقَ دَمُهُ وَعُقِرَ جَوَادُهُ".
عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا : اللہ کے رسول ! کون سا جہاد افضل ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس میں مجاہد کا خون بہا دیا جائے ، اور جس کے گھوڑے کو بھی زخمی کر دیا جائے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2794]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی پوری شہادت ہو خود بھی مارا جائے، اور گھوڑا بھی، یا اللہ تو ہمیں بھی راہ حق، اور خدمت دین میں شہادت نصیب فرما، اور موت کی تکالیف سے اور ہر ایک بیماری اور درد کے صدمہ سے بچا۔ آمین۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 10757، ومصباح الزجاجة: 990)، وقد أخرحہ: مسند احمد (4/114) (صحیح) (سند میں محمد بن ذکوان اور شہر بن حوشب ضعیف ہیں، لیکن دوسرے طریق سے یہ صحیح ہے)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ آدَمَ ، وَأَحْمَدُ بْنُ ثَابِتٍ الْجَحْدَرِيُّ ، قَالَا: حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ ، عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا مِنْ مَجْرُوحٍ يُجْرَحُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِمَنْ يُجْرَحُ فِي سَبِيلِهِ، إِلَّا جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَجُرْحُهُ كَهَيْئَتِهِ يَوْمَ جُرِحَ اللَّوْنُ لَوْنُ دَمٍ وَالرِّيحُ رِيحُ مِسْكٍ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ کے راستے میں زخمی ہونے والا شخص ( اور اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ اس کے راستے میں کون زخمی ہو رہا ہے ) قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ اس کا زخم بالکل اسی دن کی طرح تازہ ہو گا جس دن وہ زخمی ہوا تھا ، رنگ تو خون ہی کا ہو گا ، لیکن خوشبو مشک کی سی ہو گی ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2795]
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 12874، ومصباح الزجاجة: 991)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الجہاد 10 (2803)، صحیح مسلم/الإمارة 28 (1876)، سنن الترمذی/فضائل الجہاد 21 (1656)، موطا امام مالک/الجہاد 14 (29)، مسند احمد (2/391، 398، 399، 400، 512، 52، 531، 537)، سنن الدارمی/الجہاد 15 (2450) (حسن صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيل بْنُ أَبِي خَالِدٍ ، سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى يَقُولُ: دَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْأَحْزَابِ فَقَالَ: " اللَّهُمَّ مُنْزِلَ الْكِتَابِ، سَرِيعَ الْحِسَابِ، اهْزِمْ الْأَحْزَابَ، اللَّهُمَّ اهْزِمْهُمْ وَزَلْزِلْهُمْ".
عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( کفار کے ) گروہوں پر بد دعا کی ، اور یوں فرمایا : ” اے اللہ ! کتاب کے نازل فرمانے والے ، جلد حساب لینے والے ، گروہوں کو شکست دے ، اے اللہ ! انہیں شکست دے ، اور جھنجوڑ کر رکھ دے “ ( کہ وہ پریشان و بے قرار ہو کر بھاگ کھڑے ہوں ) ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2796]
💡 وضاحت:
۱؎: جب جنگ میں کافروں کی فوجیں بہت ہوں تو یہی دعا پڑھنی چاہئے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا جنگ احزاب میں کی تھی، یعنی غزوہ خندق میں جب کفار و مشرکین کے گروہ دس ہزار کی تعداد میں مدینہ منورہ پر چڑھ آئے تھے اور مسلمانوں کو گھیرے میں لے لیا تھا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الجہاد 98 (2933)، صحیح مسلم/الجہاد 7 (1742)، سنن الترمذی/الجہاد 8 (1678)، (تحفة الأشراف: 5154)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/353، 355، 381) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، وَأَحْمَدُ بْنُ عِيسَى الْمِصْرِيَّانِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو شُرَيْحٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ شُرَيْحٍ ، أَنَّ سَهْلَ بْنَ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ سَأَلَ اللَّهَ الشَّهَادَةَ بِصِدْقٍ مِنْ قَلْبِهِ بَلَّغَهُ اللَّهُ مَنَازِلَ الشُّهَدَاءِ وَإِنْ مَاتَ عَلَى فِرَاشِهِ".
سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص سچے دل سے اللہ تعالیٰ سے شہادت کا طالب ہو ، اللہ تعالیٰ اسے شہیدوں کے مرتبے پر پہنچا دے گا ، گرچہ وہ اپنے بستر ہی پر فوت ہوا ہو “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2797]
💡 وضاحت:
۱؎: کیونکہ اس کی نیت شہادت کی تھی اور «نیۃ المومن خیر من عملہ» مشہور ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الإمارة 46 (1909)، سنن ابی داود/الصلا ة361 (1520)، سنن الترمذی/فضائل الجہاد 19 (1653)، سنن النسائی/الجہاد 36 (3164)، (تحفة الأشراف: 4655)، سنن الدارمی/الجہاد 16 (2451) (صحیح)
16: بَابُ : فَضْلِ الشَّهَادَةِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ
باب: اللہ کی راہ میں شہادت کی فضیلت۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ أَبِي زَيْنَبَ ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ذُكِرَ الشُّهَدَاءُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " لَا تَجِفُّ الْأَرْضُ مِنْ دَمِ الشَّهِيدِ حَتَّى تَبْتَدِرَهُ زَوْجَتَاهُ كَأَنَّهُمَا ظِئْرَانِ أَضَلَّتَا فَصِيلَيْهِمَا فِي بَرَاحٍ مِنَ الْأَرْضِ، وَفِي يَدِ كُلِّ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا حُلَّةٌ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے شہیدوں کا ذکر آیا ، تو آپ نے فرمایا : ” زمین شہید کا خون خشک بھی نہیں کر پاتی کہ اس کی دونوں بیویاں ان دائیوں کی طرح اس پر جھپٹتی ہیں ، جنہوں نے غیر آباد مقام میں اپنے بچے کھو دئیے ہوں ، ہر بیوی کے ہاتھ میں ایسا جوڑا ہوتا ہے جو دنیا اور دنیا کی تمام نعمتوں سے بہتر ہے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2798]
قال الشيخ الألباني: ضعيف جدا
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 13500، ومصباح الزجاجة: 992)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/297، 427) (ضعیف جدا) (ہلال بن أبی زینب مجہول اور شہر بن حوشب ضعیف ہیں، شعبہ نے شہر سے روایت ترک کر دی تھی)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ ، حَدَّثَنِي بَحِيرُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِ يكَرِبَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لِلشَّهِيدِ عِنْدَ اللَّهِ عز وجل سِتُّ خِصَالٍ: يَغْفِرُ لَهُ فِي أَوَّلِ دُفْعَةٍ مِنْ دَمِهِ، وَيُرَى مَقْعَدَهُ مِنَ الْجَنَّةِ، وَيُجَارُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، وَيَأْمَنُ مِنَ الْفَزَعِ الْأَكْبَرِ، وَيُحَلَّى حُلَّةَ الْإِيمَانِ، وَيُزَوَّجُ مِنَ الْحُورِ الْعِينِ، وَيُشَفَّعُ فِي سَبْعِينَ إِنْسَانًا مِنْ أَقَارِبِهِ".
مقدام بن معد یکرب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ کے یہاں شہید کے لیے چھ بھلائیاں ہیں : ۱- خون کی پہلی ہی پھوار پر اس کی مغفرت ہو جاتی ہے ، اور جنت میں اس کو اپنا ٹھکانا نظر آ جاتا ہے ۲- عذاب قبر سے محفوظ رہتا ہے ، ۳- حشر کی بڑی گھبراہٹ سے مامون و بےخوف رہے گا ، ۴- ایمان کا جوڑا پہنایا جاتا ہے ، ۵- حورعین سے نکاح کر دیا جاتا ہے ، ۶- اس کے اعزہ و اقرباء میں سے ستر آدمیوں کے بارے میں اس کی سفارش قبول کی جاتی ہے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2799]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/فضائل الجہاد 25 (1663)، (تحفة الأشراف: 11556)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/131) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَرَامِيُّ الْأَنْصَارِيُّ ، سَمِعْتُ طَلْحَةَ بْنَ خِرَاشٍ ، سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: لَمَّا قُتِلَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ حَرَامٍ يَوْمَ أُحُدٍ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا جَابِرُ، أَلَا أُخْبِرُكَ مَا قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِأَبِيكَ؟ قُلْتُ: بَلَى، قَالَ: " مَا كَلَّمَ اللَّهُ أَحَدًا إِلَّا مِنْ وَرَاءِ حِجَابٍ وَكَلَّمَ أَبَاكَ كِفَاحًا، فَقَالَ: يَا عَبْدِي تَمَنَّ عَلَيَّ أُعْطِكَ، قَالَ: يَا رَبِّ تُحْيِينِي فَأُقْتَلُ فِيكَ ثَانِيَةً، قَالَ: إِنَّهُ سَبَقَ مِنِّي أَنَّهُمْ إِلَيْهَا لَا يُرْجَعُونَ، قَالَ: يَا رَبِّ فَأَبْلِغْ مَنْ وَرَائِي"، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ هَذِهِ الْآيَةَ وَلا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا سورة آل عمران آية 169 الْآيَةَ كُلَّهَا.
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جب جنگ احد میں ( ان کے والد ) عبداللہ بن عمرو بن حرام رضی اللہ عنہ قتل کر دئیے گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جابر ! اللہ تعالیٰ نے تمہارے والد سے جو فرمایا ہے کیا میں تمہیں وہ نہ بتاؤں “ ؟ میں نے کہا : کیوں نہیں ! ضرور بتائیے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ نے جب بھی کسی سے بات کی تو پردہ کے پیچھے سے لیکن تمہارے والد سے آمنے سامنے بات کی ، اور کہا : اے میرے بندے ! مجھ سے اپنی خواہش کا اظہار کرو ، میں تجھے عطا کروں گا ، انہوں نے کہا : اے میرے رب ! تو مجھے دوبارہ زندہ کر دے کہ میں دوبارہ تیرے راستے میں مارا جاؤں ، اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اس بات کا پہلے ہی فیصلہ ہو چکا ہے کہ دنیا میں دوبارہ لوٹایا نہیں جائے گا ، انہوں نے کہا : اے میرے رب ! میرے پسماندگان کو ( میرا حال ) پہنچا دے ، تو یہ آیت نازل ہوئی : «ولا تحسبن الذين قتلوا في سبيل الله أمواتا» ( سورۃ آل عمران : ۱۶۹ ) ” جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے گئے انہیں تم مردہ مت سمجھو “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2800]
💡 وضاحت:
۱؎: اس سے بدھ مت والوں اور ہندؤں کا مذہب باطل ہوتا ہے، ان کے نزدیک سب آدمی اپنے اپنے اعمال کے موافق سزا اور جزا پا کر پھر دنیا میں جنم لیتے ہیں، مگر جوپرم ہنس یعنی کامل فقیر اللہ کی ذات میں غرق ہو جاتا ہے اس کا جنم نہیں ہوتا۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 2257 (ألف)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/تفسیر القرآن (3010)، تقدم برقم: 190 (حسن)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ فِي قَوْلِهِ: وَلا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا بَلْ أَحْيَاءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ سورة آل عمران آية 169، قَالَ: أَمَا إِنَّا سَأَلْنَا عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ: " أَرْوَاحُهُمْ كَطَيْرٍ خُضْرٍ تَسْرَحُ فِي الْجَنَّةِ فِي أَيِّهَا شَاءَتْ ثُمَّ تَأْوِي إِلَى قَنَادِيلَ مُعَلَّقَةٍ بِالْعَرْشِ، فَبَيْنَمَا هُمْ كَذَلِكَ إِذْ اطَّلَعَ عَلَيْهِمْ رَبُّكَ اطِّلَاعَةً، فَيَقُولُ: سَلُونِي مَا شِئْتُمْ، قَالُوا: رَبَّنَا مَاذَا نَسْأَلُكَ وَنَحْنُ نَسْرَحُ فِي الْجَنَّةِ فِي أَيِّهَا شِئْنَا، فَلَمَّا رَأَوْا أَنَّهُمْ لَا يُتْرَكُونَ مِنْ أَنْ يَسْأَلُوا، قَالُوا: نَسْأَلُكَ أَنْ تَرُدَّ أَرْوَاحَنَا فِي أَجْسَادِنَا إِلَى الدُّنْيَا حَتَّى نُقْتَلَ فِي سَبِيلِكَ، فَلَمَّا رَأَى أَنَّهُمْ لَا يَسْأَلُونَ إِلَّا ذَلِكَ تُرِكُوا".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے اللہ تعالیٰ کے فرمان : «ولا تحسبن الذين قتلوا في سبيل الله أمواتا بل أحياء عند ربهم يرزقون» کے بارے میں ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ) سوال کیا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” شہداء کی روحیں سبز چڑیوں کی شکل میں جنت میں جہاں چاہیں چلتی پھرتی ہیں ، پھر شام کو عرش سے لٹکی ہوئی قندیلوں میں بسیرا کرتی ہیں ، ایک بار کیا ہوا کہ روحیں اسی حال میں تھیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف جھانکا پھر فرمانے لگا : تمہیں جو چاہیئے مانگو ، روحوں نے کہا : ہم جنت میں جہاں چاہتی ہیں چلتی پھرتی ہیں ، اس سے بڑھ کر کیا مانگیں ؟ جب انہوں نے دیکھا کہ بغیر مانگے خلاصی نہیں تو کہنے لگیں : ہمارا سوال یہ ہے کہ تو ہماری روحوں کو دنیاوی جسموں میں لوٹا دے کہ ہم پھر تیرے راستے میں قتل کئے جائیں ، اللہ تعالیٰ نے جب دیکھا کہ وہ اس کے علاوہ اور کچھ نہیں مانگ رہی ہیں تو چھوڑ دیا ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2801]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی جو لوگ اللہ کے راستے میں قتل کئے جائیں ان کو مردہ مت سمجھو بلکہ وہ اپنے مالک کے پاس زندہ ہیں، ان کو روزی ملتی ہے، اس آیت سے شہیدوں کی زندگی اور ان کی روزی ثابت ہوئی، اور دوسری آیتوں اور حدیثوں سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ حقیقت میں بدن سے روح کے نکلنے کا نام موت ہے، نہ یہ کہ روح کا فنا ہو جانا پس جب روح باقی ہے اور فنا نہیں ہوئی، تو زندگی بھی باقی ہے، البتہ یہ نہیں کہہ سکتے کہ وہ دنیا کی سی زندگی ہے، بلکہ شاید دنیاوی زندگی سے زیادہ قوی اور طاقتور ہو، اگر کوئی اعتراض کرے کہ جب سب لوگ زندہ ہیں تو پھر شہداء کی کیا خصوصیت ہے؟ حالانکہ اس آیت سے ان کی خصوصیت نکلتی ہے، تو اس کا جواب یہ ہے کہ شہداء کی خصوصیت اور ان کا امتیاز یہ ہے کہ وہ زندہ بھی ہیں اور اللہ کے پاس معظم و مکرم بھی، ان کو جنت کے پھل روز کھانے کو ملتے ہیں، یہ سب باتیں اوروں کے لئے نہ ہوں گی، مگر دوسری حدیث میں ہے کہ مومنوں کی روحیں چڑیوں کے لباس میں جنت میں چلتی پھرتی ہیں، اس میں سارے مومن داخل ہو گئے، اور ایک حدیث میں ہے کہ قبر میں جنت کی طرف ایک راستہ مومن کے لئے کھول دیا جائے گا، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قیامت تک مومن کی روح وہیں رہے گی، غرض روح کے مسکن کے باب میں علماء کے بہت اقوال ہیں جن کو امام ابن القیم رحمہ اللہ نے تفصیل سے «حادی الأرواح إلی بلاد الأفراح» میں ذکر کیا ہے، اور سب سے زیادہ راجح قول یہی ہے کہ مومنوں کی روحیں جنت میں ہیں، اور کافروں کی جہنم میں، واللہ اعلم۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الإمارة 33 (1887) سنن الترمذی/تفسیر القرآن 4 (3011)، (تحفة الأشراف: 9570)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/الجہاد 19 (2454) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، وَأَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، وبشر بن آدم ، قَالُوا: حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى ، أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ ، عَنْ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا يَجِدُ الشَّهِيدُ مِنَ الْقَتْلِ إِلَّا كَمَا يَجِدُ أَحَدُكُمْ مِنَ الْقَرْصَةِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” شہید کو قتل سے اتنی ہی تکلیف ہوتی ہے جتنی کہ تمہیں چیونٹی کاٹنے سے ہوتی ہے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2802]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی بہت ہلکا اور خفیف صدمہ ہوتا ہے جس کا احساس نہیں ہوتا اور یہ ہلکا صدمہ بھی مرتے ہی جاتا رہتا ہے، پھر تو طرح طرح کے عیش اور آرام نصیب ہوتے ہیں، یہاں تک کہ دوبارہ مارے جانے کی خواہش پیدا ہوتی ہے، یا اللہ! تو اپنے فضل و کرم سے موت کو ہم پر آسان کر دے کہ چیونٹی کے کاٹنے کی طرح بھی معلوم نہ ہو۔
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ ترمذي (1668) نسائي (3163) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 480
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/فضائل الجہاد 26 (1668)، سنن النسائی/الجہاد 35 (3163)، (تحفة الأشراف: 12861)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/297)، سنن الدارمی/الجہاد 17 (2452) (صحیح)
17: بَابُ : مَا يُرْجَى فِيهِ الشَّهَادَةُ
باب: شہادت کی انواع و اقسام کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ أَبِي الْعُمَيْسِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَبْرِ بْنِ عَتِيكٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنَّهُ مَرِضَ فَأَتَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُهُ، فَقَالَ قَائِلٌ مِنْ أَهْلِهِ: إِنْ كُنَّا لَنَرْجُو أَنْ تَكُونَ وَفَاتُهُ قَتْلَ شَهَادَةٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ شُهَدَاءَ أُمَّتِي إِذًا لَقَلِيلٌ، الْقَتْلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ شَهَادَةٌ، وَالْمَطْعُونُ شَهَادَةٌ، وَالْمَرْأَةُ تَمُوتُ بِجُمْعٍ شَهَادَةٌ يَعْنِي الْحَامِلَ، وَالْغَرِقُ، وَالْحَرِقُ، وَالْمَجْنُوبُ يَعْنِي ذَاتَ الْجَنْبِ شَهَادَةٌ".
جابر بن عتیک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ بیمار ہوئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیمار پرسی ( عیادت ) کے لیے تشریف لائے ، ان کے اہل خانہ میں سے کسی نے کہا : ہمیں تو یہ امید تھی کہ وہ اللہ کے راستے میں شہادت کی موت مریں گے ، اس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تب تو میری امت کے شہداء کی تعداد بہت کم ہے ! ( نہیں ایسی بات نہیں بلکہ ) اللہ کے راستے میں قتل ہونا شہادت ہے ، مرض طاعون میں مر جانا شہادت ہے ، عورت کا زچگی ( جننے کی حالت ) میں مر جانا شہادت ہے ، ڈوب کر یا جل کر مر جانا شہادت ہے ، نیز پسلی کے ورم میں مر جانا شہادت ہے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2803]
💡 وضاحت:
۱؎: مطلب یہ ہے کہ ان سب کو شہیدوں کا ثواب اور درجہ ملے گا گرچہ ان کے احکام شہید کے سے نہیں ہیں، اس لئے ان کو غسل دیا جائے گا، ان کی نماز جنازہ پڑھی جائے گی، اس پر بھی بڑا شہید وہی ہے جو اللہ کی راہ یعنی جہاد میں مارا جائے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الجنائز 15 (3111)، سنن النسائی/الجنائز 14 (1847)، الجہاد 39 (3196)، (تحفة الأشراف: 3173)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الجنائز 12 (36)، مسند احمد (5/446) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُخْتَارِ ، حَدَّثَنَا سُهَيْلٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " مَا تَقُولُونَ فِي الشَّهِيدِ فِيكُمْ؟" قَالُوا: الْقَتْلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، قَالَ: " إِنَّ شُهَدَاءَ أُمَّتِي إِذًا لَقَلِيلٌ، مَنْ قُتِلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَهُوَ شَهِيدٌ، وَمَنْ مَاتَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَهُوَ شَهِيدٌ، وَالْمَبْطُونُ شَهِيدٌ، وَالْمَطْعُونُ شَهِيدٌ"، قَالَ سُهَيْلٌ: وَأَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مِقْسَمٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ وَزَادَ فِيهِ: " وَالْغَرِقُ شَهِيدٌ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : ” تم شہید کسے سمجھتے ہو “ ؟ لوگوں نے جواب دیا : اللہ کے راستے میں مارا جانا ( شہادت ہے ) فرمایا : ” تب تو میری امت میں بہت کم شہید ہوں گے “ ! ( پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” نہیں ایسی بات نہیں بلکہ ) جو اللہ کے راستے میں مارا جائے وہ شہید ہے ، جو اللہ کے راستے میں مر جائے وہ بھی شہید ہے ، پیٹ کی بیماری میں مرنے والا بھی شہید ہے ، طاعون کے مرض میں مرنے والا شہید ہے “ ۔ سہیل کہتے ہیں : مجھے عبیداللہ بن مقسم نے خبر دی وہ ابوصالح سے روایت کرتے ہیں ، اس میں یہ لفظ زیادہ ہے : ” اور ڈوب کر مرنے والا بھی شہید ہے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2804]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 12732)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأذان 32 (652)، صحیح مسلم/الإمارة 51 (1914) (صحیح)
18: بَابُ : السِّلاَحِ
باب: اسلحہ کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، وَسُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " دَخَلَ مَكَّةَ يَوْمَ الْفَتْحِ وَعَلَى رَأْسِهِ الْمِغْفَرُ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے دن اس حال میں مکہ داخل ہوئے کہ آپ کے سر پر خود تھا ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2805]
💡 وضاحت:
۱؎: خود لوہے کی ٹوپی کو کہتے ہیں جسے تلوار وغیرہ سے بچاؤ کے لیے سر پر پہنا جاتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/جزاء الصید 18 (1846)، الجہاد160 (3044)، المغازي 48 (4286)، اللباس 17 (5808)، صحیح مسلم/الحج 84 (1357)، سنن ابی داود/الجہاد 127 (2685)، سنن الترمذی/الجہاد 18 (1693)، الشمائل 16 (106)، سنن النسائی/الحج 107 (2870، 2871)، (تحفة الأشراف: 1527)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الحج 81 (247)، مسند احمد (3/109، 164، 180، 186، 224، 232، 240)، سنن الدارمی/المناسک 88 (1981)، السیر 20 (2500) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُصَيْفَةَ ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ ، إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ: " أَخَذَ دِرْعَيْنِ كَأَنَّهُ ظَاهَرَ بَيْنَهُمَا".
سائب بن یزید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ احد کے موقعہ پر اوپر نیچے دو زرہیں پہنیں ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2806]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 3805، ومصباح الزجاجة: 993)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الجہاد 75 (2590)، مسند احمد (3/449) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ حَبِيبٍ ، قَالَ: دَخَلْنَا عَلَى أَبِي أُمَامَةَ فَرَأَى فِي سُيُوفِنَا شَيْئًا مِنْ حِلْيَةِ فِضَّةٍ فَغَضِبَ وَقَالَ: " لَقَدْ فَتَحَ الْفُتُوحَ قَوْمٌ مَا كَانَ حِلْيَةُ سُيُوفِهِمْ مِنَ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ، وَلَكِنْ الْآنُكُ وَالْحَدِيدُ وَالْعَلَابِيُّ"، قَالَ أَبُو الْحَسَنِ الْقَطَّانُ: الْعَلَابِيُّ الْعَصَبُ.
سلیمان بن حبیب کہتے ہیں کہ ہم ابوامامہ رضی اللہ عنہ کے پاس گئے ، تو وہ ہماری تلواروں میں چاندی کا کچھ زیور دیکھ کر غصہ ہو گئے ، اور کہنے لگے : لوگوں ( صحابہ کرام ) نے بہت ساری فتوحات کیں ، لیکن ان کی تلواروں کا زیور سونا چاندی نہ تھا ، بلکہ سیسہ ، لوہا اور علابی تھا ۔ ابوالحسن قطان کہتے ہیں : علابی : اونٹ کا پٹھا ( چمڑا ) ہے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2807]
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الجہاد 83 (2909)، (تحفة الأشراف: 4874) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ الصَّلْتِ ، عَنْ ابْنِ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تَنَفَّلَ سَيْفَهُ ذَا الْفَقَارِ يَوْمَ بَدْرٍ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ بدر کے دن اپنی ذوالفقار نامی تلوار ( علی رضی اللہ عنہ کو ) انعام میں دی ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2808]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ انعام بطور نفل تھا اور نفل اس انعام کو کہتے ہیں جو کسی مجاہد کو اس کی کارکردگی اور بہادری کے صلہ میں حصہ سے زیادہ دیا جاتا ہے، یہ تلوار پہلے عاص بن امیہ کی تھی جو بدر کے دن کام آیا، پھر یہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی، آپ نے اسے علی رضی اللہ عنہ کو دے دیا، اور ان کے پاس یہ تلوار ان کے فوت ہونے تک رہی۔
قال الشيخ الألباني: حسن الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/السیر 12 (1516)، (تحفة الأشراف: 5827)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/2461، 271) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل بْنِ سَمُرَةَ ، أَنْبَأَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنْ أَبِي الْخَلِيلِ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، قَالَ: " كَانَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ إِذَا غَزَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَمَلَ مَعَهُ رُمْحًا، فَإِذَا رَجَعَ طَرَحَ رُمْحَهُ حَتَّى يُحْمَلَ لَهُ، فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ: لَأَذْكُرَنَّ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: لَا تَفْعَلْ، فَإِنَّكَ إِنْ فَعَلْتَ لَمْ تُرْفَعْ ضَالَّةً".
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جہاد کے لیے جاتے تو اپنے ساتھ برچھا لے جاتے ، اور لوٹتے وقت اسے پھینک دیتے ، انہیں دینے کے لیے کوئی اسے اٹھا لاتا ، اس پر علی رضی اللہ عنہ نے کہا : آپ کی یہ حرکت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ضرور بتاؤں گا ، تو مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے کہا : ایسا نہ کریں ، کیونکہ اگر آپ نے ایسا کیا تو گمشدہ چیز اٹھائی نہیں جائے گی “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2809]
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ سفيان الثوري و أبو إسحاق عنعنا ¤ وفيه علة أخري ذكرها البوصيري ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 480
تخریج دارالدعوہ: تفرد بن ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 10182، ومصباح الزجاجة: 994)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/148) (ضعیف الإسناد) (ابواسحاق مدلس اور مختلط ہیں، اور روایت عنعنہ سے ہے، اور ابو خلیل عبد اللہ بن أبی الخلیل مقبول عند المتابعہ ہیں، اور ان کا کوئی متابع نہیں ہے، تو وہ لین الحدیث ہوئے، امام بخاری نے فرمایا کہ ان کی متابعت نہیں کی جائے گی)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل بْنِ سَمُرَةَ ، أَنْبَأَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ ، عَنْ أَبِي رَاشِدٍ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كَانَتْ بِيَدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَوْسٌ عَرَبِيَّةٌ فَرَأَى رَجُلًا بِيَدِهِ قَوْسٌ فَارِسِيَّةٌ، فَقَالَ: " مَا هَذِهِ؟ أَلْقِهَا، وَعَلَيْكُمْ بِهَذِهِ وَأَشْبَاهِهَا وَرِمَاحِ الْقَنَا، فَإِنَّهُمَا يَزِيدُ اللَّهُ لَكُمْ بِهِمَا فِي الدِّينِ، وَيُمَكِّنُ لَكُمْ فِي الْبِلَادِ".
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک ہاتھوں میں ایک عربی کمان تھی ، اور ایک شخص کے ہاتھ میں آپ نے فارسی کمان دیکھی تو فرمایا : ” یہ کیا ہے ؟ اسے پھینک دو ، اور اس طرح کی رکھو ، اور نیزے رکھو کیونکہ اللہ تعالیٰ تمہارے لیے ان دونوں کے ذریعہ سے دین کو ترقی دے گا ، اور تمہیں دوسرے ملکوں کو فتح کرنے پر قادر بنا دے گا “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2810]
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف جدًا ¤ أشعث بن سعيد السمان: متروك (تقريب: 523) وعبد اللّٰه بن بسر الحبراني: ضعيف ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 480
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 10326، ومصباح الزجاجة: 995) (ضعیف الاسناد) (عبداللہ بن بشر الحبرانی ضعیف راوی ہیں)
19: بَابُ : الرَّمْيِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ
باب: اللہ کی راہ میں تیر اندازی کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَنْبَأَنَا هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَّامٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَزْرَقِ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ اللَّهَ لَيُدْخِلُ بِالسَّهْمِ الْوَاحِدِ الثَّلَاثَةَ الْجَنَّةَ: صَانِعَهُ يَحْتَسِبُ فِي صَنْعَتِهِ الْخَيْرَ، وَالرَّامِيَ بِهِ، وَالْمُمِدَّ بِهِ". (حديث مرفوع) (حديث موقوف) وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ارْمُوا، وَارْكَبُوا، وَأَنْ تَرْمُوا، أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ تَرْكَبُوا، وَكُلُّ مَا يَلْهُو بِهِ الْمَرْءُ الْمُسْلِمُ بَاطِلٌ، إِلَّا رَمْيَهُ بِقَوْسِهِ وَتَأْدِيبَهُ فَرَسَهُ، وَمُلَاعَبَتَهُ امْرَأَتَهُ، فَإِنَّهُنَّ مِنَ الْحَقِّ".
عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ایک تیر کے سبب اللہ تعالیٰ تین آدمیوں کو جنت میں داخل کرے گا : ثواب کی نیت سے اس کے بنانے والے کو ، چلانے والے کو ، اور ترکش سے نکال نکال کر دینے والے کو “ ، نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تیر اندازی کرو ، اور سواری کا فن سیکھو ، میرے نزدیک تیر اندازی سیکھنا سواری کا فن سیکھنے سے بہتر ہے ، مسلمان آدمی کا ہر کھیل باطل ہے سوائے تیر اندازی ، گھوڑے کے سدھانے ، اور اپنی بیوی کے ساتھ کھیلنے کے ، کیونکہ یہ تینوں کھیل سچے ہیں “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2811]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی یہ کھیل بےکار اور لغو نہیں ہیں، پہلے دونوں کھیلوں میں آدمی جہاد کے لئے مستعد اور تیار ہوتا ہے اور اخیر کے کھیل میں اپنی بیوی سے الفت ہوتی ہے، اولاد کی امید ہوتی ہے جو انسان کی نسل قائم رکھنے اور بڑھانے کے لئے ضروری ہے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف لكن قوله كل ما يلهو صحيح إلا فإنهن من الحق
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/فضائل الجہاد 11 (1637، 1638)، (تحفة الأشراف: 9929)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/144، 148، سنن الدارمی/الجہاد 14 (2449) (ضعیف) ( وكل ما يلهو به کا لفظ صحیح ہے، اور آخری جملہ فإنهن من الحق ثابت نہیں ہے، نیز ملاحظہ ہو: الصحیحة: 315)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقُرَشِيِّ ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ رَمَى الْعَدُوَّ بِسَهْمٍ فَبَلَغَ سَهْمُهُ الْعَدُوَّ، أَصَابَ أَوْ أَخْطَأَ فَعَدْلُ رَقَبَةٍ".
عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : ” جو دشمن کو تیر مارے ، اور اس کا تیر دشمن تک پہنچے ، ٹھیک لگے یا چوک جائے ، تو اس کا ثواب ایک غلام آزاد کرنے کے برابر ہے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2812]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 10765)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/فضائل الجہاد 11 (1638) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ أَبِي عَلِيٍّ الْهَمْدَانِيِّ ، أَنَّهُ سَمِعَ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ الْجُهَنِيَّ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ عَلَى الْمِنْبَرِ: وَأَعِدُّوا لَهُمْ مَا اسْتَطَعْتُمْ مِنْ قُوَّةٍ سورة الأنفال آية 60، أَلَا وَإِنَّ الْقُوَّةَ الرَّمْيُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ".
عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر آیت کریمہ : «وأعدوا لهم ما استطعتم من قوة» ( سورۃ الانفال : ۶۰ ) ” دشمن کے لیے طاقت بھر تیاری کرو “ کو پڑھتے ہوئے سنا : ( اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے : ) ” آگاہ رہو ! طاقت کا مطلب تیر اندازی ہی ہے “ یہ جملہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار فرمایا ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2813]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی جنگجو کفار و مشرکین اور اعداء اسلام کے مقابلہ کے لئے ہمیشہ اپنی طاقت کو بڑھاتے رہو، اور ہر وقت جنگ کے لئے مستعد رہو گو جنگ نہ ہو، اس لئے کہ معلوم نہیں دشمن کس وقت حملہ کر بیٹھے، ایسا نہ ہو کہ دشمن تمہاری طاقت کم ہونے کے وقت غفلت میں حملہ کر بیٹھے اور تم پر غالب ہو جائے، افسوس ہے کہ مسلمانوں نے قرآن شریف کو مدت سے بالائے طاق رکھ دیا، ہزاروں میں سے ایک بھی مسلمان ایسا نظر نہیں آتا جو قرآن کو اس پر عمل کرنے کے لئے سمجھ کر پڑھے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الإمارة 52 (1917)، سنن ابی داود/الجہاد 24 (2514)، (تحفة الأشراف: 9911)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/تفسیر القرآن 9 (3083)، مسند احمد (4/157)، سنن الدارمی/الجہاد 14 (2448) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا حَرْمَلَهُ بْنُ يَحْيَى الْمِصْرِيُّ ، أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي ابنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ نُعَيْمٍ الرُّعَيْنِيِّ ، عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ نَهِيكٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ الْجُهَنِيَّ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ تَعَلَّمَ الرَّمْيَ ثُمَّ تَرَكَهُ، فَقَدْ عَصَانِي".
عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : ” جس نے تیر اندازی سیکھی پھر اسے چھوڑ دیا ، تو اس نے میری نافرمانی کی “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2814]
💡 وضاحت:
۱؎: مطلب یہ ہے کہ جب کوئی ہتھیار چلانے کا علم سیکھے تو کبھی کبھی اس کی مشق کرتا رہے چھوڑ نہ دے تاکہ ضرورت کے وقت کام آئے اب تیر کے عوض بندوق اور توپ ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح بلفظ فليس منا
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ عثمان بن نعيم الرعيني والمغيرة بن نھيك مجھولان (تقريب: 4523،6853) ¤ و حديث مسلم (1919) يغني عنه ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 480
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 9971)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الجہاد 24 (2513)، سنن الترمذی/فضائل الجہاد 11 (1637)، سنن النسائی/الجہاد 26 (3148)، الخیل 8 (3608)، مسند احمد (4/144، 146، 148، 154، سنن الدارمی/الجہاد 14 (2449) (ضعیف) (فقد عصانی کے لفظ سے ضعیف ہے، اور فلیس منّا کے لفظ سے صحیح ہے)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ الْحُصَيْنِ ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَفَرٍ يَرْمُونَ، فَقَالَ: " رَمْيًا بَنِي إِسْمَاعِيل، فَإِنَّ أَبَاكُمْ كَانَ رَامِيًا".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کچھ لوگوں کے پاس سے گزرے جو تیر اندازی کر رہے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اسماعیل کی اولاد ! تیر اندازی کرو ، تمہارے والد ( اسماعیل ) بڑے تیر انداز تھے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2815]
💡 وضاحت:
۱؎: اسماعیل علیہ السلام کو ان کے باپ ابراہیم علیہ السلام فاران کے میدان یعنی مکہ کی چٹیل زمین میں چھوڑ کر چلے آئے تھے وہ وہیں بڑے ہوئے، اور ان کو شکار کا بہت شوق تھا، اور بڑے تیر انداز اور بہادر تھے، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عربوں کو بھی تیر اندازی کی اس طرح سے ترغیب دی کہ یہ تمہارا آبائی پیشہ ہے اس کو خوب بڑھاؤ۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 5428، ومصباح الزجاجة: 996)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/364) (صحیح)
20: بَابُ : الرَّايَاتِ وَالأَلْوِيَةِ
باب: (جنگ میں) بڑے اور چھوٹے جھنڈوں کے استعمال کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ الْحَارِثِ بْنِ حَسَّانَ ، قَالَ: " قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِمًا عَلَى الْمِنْبَرِ وَبِلَالٌ قَائِمٌ بَيْنَ يَدَيْهِ مُتَقَلِّدٌ سَيْفًا وَإِذَا رَايَةٌ سَوْدَاءُ، فَقُلْتُ: مَنْ هَذَا؟، قَالُوا: هَذَا عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ قَدِمَ مِنْ غَزَاةٍ".
حارث بن حسان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں مدینہ آیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر کھڑے دیکھا ، اور بلال رضی اللہ عنہ آپ کے سامنے گلے میں تلوار ٹکائے ہوئے تھے ، پھر اچانک ایک کالا بڑا جھنڈا دکھائی دیا ، میں نے کہا : یہ کون ہیں ؟ لوگوں نے بتایا کہ یہ عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ ہیں جو ایک غزوہ سے واپس آئے ہیں ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2816]
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/تفسیر القرآ ن 51 (2) (3273، 3274)، (تحفة الأشراف: 3277)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/482) (حسن)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ ، وَعَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ عَمَّارٍ الدُّهْنِيِّ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ مَكَّةَ يَوْمَ الْفَتْحِ، وَلِوَاؤُهُ أَبْيَضُ".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے دن مکہ میں داخل ہوئے تو آپ کا جھنڈا سفید تھا ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2817]
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الجہاد 76 (2592)، سنن الترمذی/الجہاد 9 (1679)، سنن النسائی/الحج 106 (2869)، (تحفة الأشراف: 2889) (حسن)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِسْحَاق الْوَاسِطِيُّ النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاق ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ حَيَّانَ ، سَمِعْتُ أَبَا مِجْلَزٍ ، يُحَدِّثُ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ " أَنَّ رَايَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَتْ سَوْدَاءَ، وَلِوَاؤُهُ أَبْيَضُ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بڑا جھنڈا کالا اور چھوٹا جھنڈا سفید تھا ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2818]
💡 وضاحت:
۱؎: حدیث میں «رایہ» اور «لواء» کا لفظ ہے، «رایہ» یعنی بڑا جھنڈا کالا تھا،اور «لواء» چھوٹا جھنڈا سفید تھا، اس سے معلوم ہوا کہ امام کو لشکروں کو ترتیب دینا اور جھنڈے اور نشان بنانا مستحب ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/الجہاد 10 (1681)، (تحفة الأشراف: 6542) (حسن)
21: بَابُ : لُبْسِ الْحَرِيرِ وَالدِّيبَاجِ فِي الْحَرْبِ
باب: جنگ میں حریر و دیبا (ریشمی کپڑوں) کے پہننے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنْ أَبِي عُمَرَ مَوْلَى أَسْمَاءَ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ ، أَنَّهَا أَخْرَجَتْ جُبَّةً مُزَرَّرَةً بِالدِّيبَاجِ فَقَالَتْ: " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَلْبَسُ هَذِهِ إِذَا لَقِيَ الْعَدُوَّ".
اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے ریشم کی گھنڈیاں لگا ہوا جبہ نکالا اور کہنے لگیں : دشمن سے مقابلہ کے وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اسے پہنتے تھے ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2819]
💡 وضاحت:
۱؎: اکثر اہل علم کے نزدیک لڑائی میں ریشمی کپڑا پہننا جائز ہے کیونکہ تلوار ریشم کو مشکل سے کاٹتی ہے، حریر اور دیباج میں یہ فرق ہے کہ دیباج خالص ریشم ہوتا ہے اور حریر میں ریشم ملا ہوتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ حجاج بن أرطاة ضعيف مدلس و عنعن ¤ وأصل الحديث في صحيح مسلم (2069) وغيره بدون ’’إذا لقي العدو‘‘ و انظر الحديث الآتي (الأصل: 3594) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 480
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/اللباس و الزینة 2 (2069)، سنن ابی داود/اللباس 12 (4054)، سنن النسائی/الکبری الزینة (9619)، (تحفة الأشراف: 15721)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/47، 348، 353)، الأدب المفرد (348) (صحیح) (اس کی سند میں حجاج بن ارطاہ ضعیف ہیں، لیکن متابعت کی وجہ سے حدیث صحیح ہے، کما فی التخریج)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ عُمَرَ " أَنَّهُ كَانَ يَنْهَى عَنِ الْحَرِيرِ وَالدِّيبَاجِ، إِلَّا مَا كَانَ هَكَذَا ثُمَّ أَشَارَ بِإِصْبَعِهِ، ثُمَّ الثَّانِيَةِ، ثُمَّ الثَّالِثَةِ، ثُمَّ الرَّابِعَةِ، وَقَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَانَا عَنْهُ".
عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ حریر اور دیباج ( ریشمی کپڑوں کے استعمال ) سے منع کرتے تھے مگر جو اتنا ہو ، پھر انہوں نے اپنی انگلی سے اشارہ کیا ، پھر دوسری سے پھر تیسری سے پھر چوتھی سے ، اور فرمایا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے ہمیں منع فرمایا کرتے تھے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2820]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی چار انگل تک اجازت ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/اللباس 25 (5828)، صحیح مسلم/اللباس 2 (2069)، سنن ابی داود/اللباس 10 (4042)، سنن النسائی/الزینة 38 (5314)، (تحفة الأشراف: 10597)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/15، 36، 43) (صحیح)
22: بَابُ : لُبْسِ الْعَمَائِمِ فِي الْحَرْبِ
باب: جنگ میں عمامہ (پگڑی) پہننے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ مُسَاوِرٍ ، حَدَّثَنِي جَعْفَرُ بْنُ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: " كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ عِمَامَةٌ سَوْدَاءُ، قَدْ أَرْخَى طَرَفَيْهَا بَيْنَ كَتِفَيْهِ".
عمرو بن حریث رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : گویا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دیکھ رہا ہوں آپ کے سر پر سیاہ عمامہ ( کالی پگڑی ) ہے جس کے دونوں کنارے آپ اپنے دونوں کندھوں کے درمیان لٹکائے ہوئے ہیں ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2821]
💡 وضاحت:
۱؎: عمامہ باندھنا سنت ہے اور کئی حدیثوں میں اس کی فضیلت آئی ہے، اور عمامہ میں شملہ لٹکانا بہتر ہے لیکن ہمیشہ نہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی شملہ لٹکایا ہے کبھی نہیں، اور بہتر یہ ہے کہ شملہ پیٹھ کی طرف لٹکائے اور کبھی داہنے ہاتھ کی طرف، لیکن بائیں ہاتھ کی طرف لٹکانا سنت کے خلاف ہے اور شملہ کی مقدار چار انگل سے لے کر ایک ہاتھ تک ہے اور آدھی پیٹھ سے زیادہ لٹکانا اسراف اور فضول خرچی اور خلاف سنت ہے، اور اس حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ کالے رنگ کا عمامہ باندھنا مسنون ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الحج 84 (1359)، (تحفة الأشراف: 10716)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/اللباس 24 (4077)، سنن الترمذی/الشمائل 16 (108، 109)، سنن النسائی/الزینة من المجتبیٰ 56 (5348)، مسند احمد (4/307)، سنن الدارمی/المناسک 88 (1982) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ مَكَّةَ، وَعَلَيْهِ عِمَامَةٌ سَوْدَاءُ".
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ میں اس حال میں داخل ہوئے کہ آپ کے سر پر کالی پگڑی تھی ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2822]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الحج 84 (1358)، سنن ابی داود/اللباس 24 (4076)، سنن الترمذی/اللباس 11 (1735)، سنن النسائی/الحج 107 (2872)، والزینة من المجتبیٰ 55 (5346، 5347)، (تحفة الأشراف: 2689)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/363، 387) (صحیح)
23: بَابُ : الشِّرَاءِ وَالْبَيْعِ فِي الْغَزْوِ
باب: جنگ میں خرید و فروخت کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْكَرِيمِ ، حَدَّثَنَا سُنَيْدُ بْنُ دَاوُدَ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ حَيَّانَ الرَّقِّيِّ ، أَنْبَأَنَا عَلِيُّ بْنُ عُرْوَةَ الْبَارِقِيُّ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدٍ ، قَالَ: رَأَيْتُ رَجُلًا يَسْأَل أَبِي عَنِ الرَّجُلِ يَغْزُو فَيَشْتَرِي وَيَبِيعُ وَيَتَّجِرُ فِي غَزْوَتِهِ، فَقَالَ لَهُ أَبِي : " كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِتَبُوكَ نَشْتَرِي وَنَبِيعُ، وَهُوَ يَرَانَا وَلَا يَنْهَانَا".
خارجہ بن زید کہتے ہیں کہ میں نے ایک شخص کو اپنے والد سے اس شخص کے بارے میں سوال کرتے دیکھا ، جو جہاد کرنے جائے اور وہاں خرید و فروخت کرے اور تجارت کرے ، تو میرے والد نے اسے جواب دیا : ہم جنگ تبوک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے آپ ہمیں خرید و فروخت کرتے دیکھتے لیکن منع نہ فرماتے ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2823]
💡 وضاحت:
۱؎: پس معلوم ہوا کہ جہاد کے سفر میں خرید و فروخت اور تجارتی لین دین منع نہیں ہے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف جدا
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف جدًا ¤ علي بن عروة: متروك ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 481
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 3713، ومصباح الزجاجة: 997)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/440) (ضعیف جدا) (علی بن عروہ البارقی متروک اور سنید بن داود ضعیف را وی ہے)۔
24: بَابُ : تَشْيِيعِ الْغُزَاةِ وَوَدَاعِهِمْ
باب: غازیوں کو الوداع کہنے (رخصت کرنے) کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُسَافِرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَسْوَدِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ زَبَّانَ بْنِ فَائِدٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَأَنْ أُشَيِّعَ مُجَاهِدًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَأَكُفَّهُ عَلَى رَحْلِهِ غَدْوَةً أَوْ رَوْحَةً، أَحَبُّ إِلَيَّ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا".
معاذ بن انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والے شخص کو صبح یا شام رخصت کروں ، اور اسے سواری پر بٹھاؤں ، یہ میرے نزدیک دنیا اور اس کی تمام نعمتوں سے بہتر ہے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2824]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ زبان: ضعيف (د 1287) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 481
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 11296، ومصباح الزجاجة: 998) (ضعیف) (ابن لہیعہ اور زبان بن فائد دونوں ضعیف ہیں، نیز ملاحظہ ہو: الإرواء: 1189)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ الْحَسَنِ بْنِ ثَوْبَانَ ، عَنْ مُوسَى بْنِ وَرْدَانَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: وَدَّعَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " أَسْتَوْدِعُكَ اللَّهَ الَّذِي لَا تَضِيعُ وَدَائِعُهُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے رخصت کیا تو یہ دعا فرمائی : «أستودعك الله الذي لا تضيع ودائعه» ” میں تمہیں اللہ کے سپرد کرتا ہوں جس کی امانتیں ضائع نہیں ہوتیں “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2825]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 14626، ومصباح الزجاجة: 999)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/358، 403) (صحیح) (سند میں ابن لہیعہ ضعیف ہیں، لیکن متابعت کی وجہ سے حدیث صحیح ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: 16 و 2547)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا حَبَّانُ بْنُ هِلَالٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مِحْصَنٍ حصين بن نمير ، عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَشْخَصَ السَّرَايَا يَقُولُ لِلشَّاخِصِ: " أَسْتَوْدِعُ اللَّهَ دِينَكَ، وَأَمَانَتَكَ، وَخَوَاتِيمَ عَمَلِكَ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی لشکر روانہ فرماتے تو جانے والے کے لیے اس طرح دعا کرتے ، «أستودع الله دينك وأمانتك وخواتيم عملك» ” میں تیرے دین ، تیری امانت ، اور تیرے آخری اعمال کو اللہ کے سپرد کرتا ہوں “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2826]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 8427، ومصباح الزجاجة: 1000)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الجہاد 80 (2600)، سنن الترمذی/الدعوات 44 (3438) (صحیح) (سند میں محمد بن عبدالرحمن بن أبی لیلیٰ ضعیف ہیں، لیکن متابعت کی وجہ سے حدیث صحیح ہے، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: 16)
25: بَابُ : السَّرَايَا
باب: سریہ (فوجی دستوں) کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ مُحَمَّدٌ الصَّنْعَانِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ الْعَامِلِيُّ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِأَكْثَمَ بْنِ الْجَوْنِ الْخُزَاعِيِّ: " يَا أَكْثَمُ، اغْزُ مَعَ غَيْرِ قَوْمِكَ، يَحْسُنْ خُلُقُكَ وَتَكْرُمْ عَلَى رُفَقَائِكَ، يَا أَكْثَمُ، خَيْرُ الرُّفَقَاءِ أَرْبَعَةٌ، وَخَيْرُ السَّرَايَا أَرْبَعُ مِائَةٍ، وَخَيْرُ الْجُيُوشِ أَرْبَعَةُ آلَافٍ، وَلَنْ يُغْلَبَ اثْنَا عَشَرَ أَلْفًا مِنْ قِلَّةٍ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اکثم بن جون خزاعی رضی اللہ عنہ سے فرمایا : ” اکثم ! اپنی قوم کے علاوہ دوسرے لوگوں کے ہمراہ جہاد کرو ، تمہارے اخلاق اچھے ہو جائیں گے ، اور تمہارے ساتھیوں میں تمہاری عزت ہو گی ، اکثم ! چار ساتھی بہتر ہیں ، بہترین دستہ چار سو سپاہیوں کا ہے ، اور بہترین لشکر چار ہزار کا ہے ، نیز بارہ ہزار کا لشکر کبھی کم تعداد کی وجہ سے مغلوب نہیں ہو گا “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2827]
قال الشيخ الألباني: ضعيف جدا لكن شطره الثاني خير صحيح من وجه آخر
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف جدًا ¤ أبو سلمة العاملي الأزدي: متروك ورماه أبو حاتم بالكذب وعبدالملك بن محمد الصنعاني البرسمي لين الحديث (تقريب:8145،4211) ¤ وللحديث طريق آخر عند البيهقي (157/9) وإسناده ضعيف مظلم والشطر الأخير: ’’خيرالصحابة“ إلخ في ضعيف سنن أبي داود (2611) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 481
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 1571، ومصباح الزجاجة: 1001) (ضعیف جداً) (عبدالملک بن محمد الصنعانی لین الحدیث اور ابو سلمہ العاملی متروک ہے، بلکہ ابو حاتم نے اسے جھوٹا قرار دیا ہے، آخری فقرہ: خير الرفقاء دوسرے طریق سے صحیح ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: 986)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، قَالَ: " كُنَّا نَتَحَدَّثُ أَنَّ أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانُوا يَوْمَ بَدْرٍ ثَلَاثَ مِائَةٍ وَبِضْعَةَ عَشَرَ عَلَى عِدَّةِ أَصْحَابِ طَالُوتَ، مَنْ جَازَ مَعَهُ النَّهَرَ وَمَا جَازَ مَعَهُ إِلَّا مُؤْمِنٌ".
براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم برابر گفتگو کرتے رہتے تھے کہ غزوہ بدر میں صحابہ کی تعداد تین سو دس سے کچھ اوپر تھی ، اور یہی تعداد طالوت کے ان ساتھیوں کی بھی تھی جنہوں نے ان کے ساتھ نہر پار کی ( یاد رہے کہ ) ان کے ساتھ صرف اسی شخص نے نہر پار کی تھی جو ایمان والا تھا ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2828]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/المغازي 6 (3959)، (تحفة الأشراف: 1851)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/السیر 38 (1598) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَاب ، عَنْ ابْنِ لَهِيعَةَ ، أَخْبَرَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ لَهِيعَةَ بْنِ عُقْبَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْوَرْدِ صَاحِبَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " إِيَّاكُمْ وَالسَّرِيَّةَ الَّتِي إِنْ لَقِيَتْ فَرَّتْ، وَإِنْ غَنِمَتْ غَلَّتْ".
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ابوالورد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اس فوجی دستے میں شرکت سے بچو جس کی دشمن سے مڈبھیڑ ہو تو وہ بھاگ کھڑا ہو ، اور اگر مال غنیمت حاصل ہو تو اس میں خیانت کرے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2829]
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ لهيعةبن عقبة مستور (تقريب: 5682) وقال البوصيري: ”ھذا إسناد ضعيف موقوف‘‘ ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 481
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 15518، ومصباح الزجاجة: 1002) (ضعیف الإسناد) (سند میں لہیعہ بن عقبہ ضعیف راوی ہے)
26: بَابُ : الأَكْلِ فِي قُدُورِ الْمُشْرِكِينَ
باب: کفار و مشرکین کی ہانڈیوں (برتنوں) میں کھانے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ هُلْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ طَعَامِ النَّصَارَى، فَقَالَ: " لَا يَخْتَلِجَنَّ فِي صَدْرِكَ طَعَامٌ، ضَارَعْتَ فِيهِ نَصْرَانِيَّةً".
ہلب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نصاریٰ کے کھانے کے متعلق سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کسی کھانے سے متعلق تمہارے دل میں وسوسہ نہ آنا چاہیئے ، ورنہ یہ نصاریٰ کی مشابہت ہو جائے گی “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2830]
💡 وضاحت:
۱؎: وہ اپنے مذہب والوں کے سوا دوسرے لوگوں کا کھانا نہیں کھاتے، یہ حال نصاریٰ کا شاید نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ہو گا اب تو نصاریٰ ہر مذہب والے کا کھانا یہاں تک کہ مشرکین کا بھی کھا لیتے ہیں، اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اہل کتاب کا پکایا ہوا کھانا مسلمان کو کھانا جائز ہے اور اللہ تعالی قرآن پاک میں فرماتا ہے: «وطعام الذين أوتوا الكتاب حل لكم» (سورة المائدة: 5) اہل کتاب کا کھانا تمہارے لیے حلال ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہود کا کھانا خیبر میں کھایا، لیکن یہ شرط ہے کہ اس کھانے میں شراب اور سور نہ ہو، اور نہ وہ جانور ہو جو مردار ہو مثلاً گلا گھونٹا ہوا یا اللہ کے سوا اور کسی کے نام پر ذبح کیا ہوا، ورنہ وہ کھانا بالاجماع حرام ہو گا۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الأطعمة 24 (3784)، سنن الترمذی/السیر 16 (1565)، (تحفة الأشراف: 11734)، وقد مسند احمد (5/226) (حسن) (سند میں قبیصہ بن ہلب مجہول العین ہیں، ان سے صرف سماک نے روایت کی ہے، لیکن حدیث کے شواہد کی بناء پر یہ حسن ہے، ملاحظہ ہو: جلباب المرأة المسلة: 182)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنِي أَبُو فَرْوَةَ يَزِيدُ بْنُ سِنَانٍ ، حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ رُوَيْمٍ اللَّخْمِيُّ ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ ، قَالَ: وَلَقِيَهُ وَكَلَّمَهُ قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلْتُهُ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قُدُورُ الْمُشْرِكِينَ نَطْبُخُ فِيهَا؟، قَالَ: " لَا تَطْبُخُوا فِيهَا"، قُلْتُ: فَإِنِ احْتَجْنَا إِلَيْهَا فَلَمْ نَجِدْ مِنْهَا بُدًّا، قَالَ: " فَارْحَضُوهَا رَحْضًا حَسَنًا، ثُمَّ اطْبُخُوا وَكُلُوا".
ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا تو میں نے سوال کیا : اللہ کے رسول ! کیا ہم مشرکین کی ہانڈیوں میں کھانا پکا سکتے ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ان میں نہ پکاؤ “ میں نے کہا : اگر اس کی ضرورت پیش آ جائے اور ہمارے لیے کوئی چارہ کار ہی نہ ہو ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تب تم انہیں اچھی طرح دھو لو ، پھر پکاؤ اور کھاؤ “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2831]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جو لوگ اپنے برتنوں میں نجاستوں کا استعمال کرتے ہیں جیسے مردار کھانے والے اور شراب پینے والے، اگرچہ مسلمان ہی ہوں تو ان کے برتنوں کا استعمال بغیر دھوئے جائز نہیں، اور جو کھانا ان کے برتنوں میں پکا ہو اس کا بھی کھانا درست نہیں ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 11869، ومصباح الزجاجة: 1003) (صحیح) (سند میں ابو فروہ یزید بن سنان ضعیف راوی ہیں، لیکن شواہد و متابعات کی وجہ سے حدیث صحیح ہے، ملاحظہ ہو: الإرواء: 37 - 3207، نیز یہ حدیث آگے آرہی ہے)
27: بَابُ : الاِسْتِعَانَةِ بِالْمُشْرِكِينَ
باب: جنگ میں کفار و مشرکین سے مدد لینے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ نِيَارٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّا لَا نَسْتَعِينُ بِمُشْرِكٍ"، قَالَ عَلِيٌّ فِي حَدِيثِهِ: عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ أَوْ زَيْدٍ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہم کسی مشرک سے مدد نہیں لیتے “ ۔ علی بن محمد نے اپنی روایت میں عبداللہ بن یزید یا زید کہا ہے ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2832]
💡 وضاحت:
۱؎: کافر و مشرک سے جہاد میں بلاضرورت مدد لینا جائز نہیں، صحیح مسلم میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مشرک نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جہاد کا قصد کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوٹ جاؤ، میں مشرک سے مدد نہیں چاہتا، جب وہ اسلام لایا تو اس سے مدد لی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الجہاد 51 (1817)، سنن ابی داود/الجہاد 153 (2732)، سنن الترمذی/السیر 10 (1558)، (تحفة الأشراف: 16358)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/67، 148)، سنن الدارمی/السیر 54 (2538) (صحیح)
28: بَابُ : الْخَدِيعَةِ فِي الْحَرْبِ
باب: جنگ میں دھوکہ اور فریب کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ رُومَانَ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الْحَرْبُ خَدْعَةٌ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جنگ دھوکہ ہے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2833]
💡 وضاحت:
۱؎: جنگ میں دھوکہ دھڑی جس طرح سے بھی ہو سکے مثلاً کافروں میں نااتفاقی ڈلوا دینا، ان کے سامنے سے بھاگنا تاکہ وہ پیچھا کریں پھر ان کو ہلاکت و بربادی کے مقام پر لے جانا، اسی طرح اور سب مکر و حیلہ درست اور جائز ہے، لیکن عہد کر کے اس کا توڑنا جائز نہیں (نووی)۔
قال الشيخ الألباني: صحيح متواتر
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح ¤ متواتر
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 17361، ومصباح الزجاجة: 1004) (صحیح) (سند میں محمد بن اسحاق مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے، لیکن شواہد کی بناء پر یہ حدیث صحیح، بلکہ متواتر ہے، نیز ملاحظہ ہو: صحیح أبی داود: 2370)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ ، عَنْ مَطَرِ بْنِ مَيْمُونٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الْحَرْبُ خَدْعَةٌ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جنگ دھوکہ ہے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2834]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 6218، ومصباح الزجاجة: 1005) (صحیح) (سند میں مطربن میمون ضعیف راوی ہیں، لیکن اصل حدیث متواتر ہے، کما تقدم)
29: بَابُ : الْمُبَارَزَةِ وَالسَّلَبِ
باب: دشمن کو دعوت مبارزت دینے (مقابلے کے لیے للکارنے) اور سامان جنگ لوٹنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ ، وَحَفْصُ بْنُ عَمْرٍو ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل ، أَنْبَأَنَا وَكِيعٌ ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي هَاشِمٍ الرُّمَّانِيِّ ، قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ: هُوَ يَحْيَى بْنُ الْأَسْوَدِ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ عُبَادٍ ، قَالَ: " سَمِعْتُ أَبَا ذَرٍّ يُقْسِمُ: لَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ فِي هَؤُلَاءِ الرَّهْطِ السِّتَّةِ يَوْمَ بَدْرٍ هَذَانِ خَصْمَانِ اخْتَصَمُوا فِي رَبِّهِمْ سورة الحج آية 19 إِلَى قَوْلِهِ إِنَّ اللَّهَ يَفْعَلُ مَا يُرِيدُ سورة الحج آية 14 فِي حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، وَعَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، وَعُبَيْدَةَ بْنِ الْحَارِثِ، وَعُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ، وَشَيْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ، وَالْوَلِيدِ بْنِ عُتْبَةَ اخْتَصَمُوا فِي الْحُجَجِ يَوْمَ بَدْرٍ".
قیس بن عباد کہتے ہیں کہ میں نے ابوذر رضی اللہ عنہ کو قسم کھا کر کہتے سنا کہ آیت کریمہ : «هذان خصمان اختصموا في ربهم» ( سورۃ الحج : ۱۹ ) ” یہ دونوں ایک دوسرے کے دشمن ہیں اپنے رب کے بارے میں انہوں نے جھگڑا کیا “ سے «إن الله يفعل ما يريد» ( سورۃ الحج : ۲۴ ) تک ، ان چھ لوگوں کے بارے میں اتری جو بدر کے دن باہم لڑے ، حمزہ بن عبدالمطلب ، علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہما مسلمانوں کی طرف سے ، اور عبیدہ بن حارث ، عتبہ بن ربیعہ ، شیبہ بن ربیعہ اور ولید بن عتبہ کافروں کی طرف سے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2835]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/المغازي 8 (3966، 3968)، تفسیر سورة الحج 3 (4743)، صحیح مسلم/التفسیر 7 (3033)، (تحفة الأشراف: 11974) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْعُمَيْسِ وَعِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، عَنْ إِيَاسِ بْنِ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: " بَارَزْتُ رَجُلًا فَقَتَلْتُهُ، فَنَفَّلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَلَبَهُ".
سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے ایک شخص کو مقابلہ کے لیے للکارا ، اور اسے قتل کر ڈالا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے چھینا ہوا سامان بطور انعام مجھے ہی دے دیا ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2836]
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 4529، ومصباح الزجاجة: 1006) وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الجہاد 173 (3051)، صحیح مسلم/الجہاد 13 (1754)، مسند احمد (4/45، 46)، سنن الدارمی/السیر 15 (2495) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ كَثِيرِ بْنِ أَفْلَحَ ، عَنْ أَبِي مُحَمَّدٍ مَوْلَى أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَفَّلَهُ سَلَبَ قَتِيلٍ قَتَلَهُ يَوْمَ حُنَيْنٍ".
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ حنین کے موقعہ پر ان کے ہاتھ سے قتل کیے گئے شخص کا سامان انہیں کو دے دیا ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2837]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/البیوع 37 (2100)، فرض الخمس 18 (3142)، المغازي 18 (4321، 4322)، الاحکام 21 (7170)، صحیح مسلم/الجہاد 13 (1751)، سنن ابی داود/الجہاد 147 (2717)، سنن الترمذی/السیر 13 (1562)، (تحفة الأشراف: 12132)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الجہاد 10 (18)، مسند احمد (5/295، 296، 306)، سنن الدارمی/السیر 44 (2528) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو مَالِكٍ الْأَشْجَعِيُّ ، عَنْ نُعَيْمِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، عَنْ ابْنِ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ قَتَلَ فَلَهُ السَّلَبُ".
سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص ( کسی کافر ) کو قتل کرے ، تو اس سے چھینا ہوا مال اسی کو ملے گا “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2838]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی اس کے کپڑے ہتھیار سواری وغیرہ، امام کو اختیار ہے جب چاہے جنگ میں لوگوں کو رغبت دلانے کے لئے یہ کہہ دے کہ جو کوئی کسی کو مارے اس کا سامان وہی لے، یا کسی خاص ٹکڑی سے کہے تم کو مال غنیمت میں سے اس قدر زیادہ ملے گا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 4622، ومصباح الزجاجة: 1007)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/12) (صحیح)
30: بَابُ : الْغَارَةِ وَالْبَيَاتِ وَقَتْلِ النِّسَاءِ وَالصِّبْيَانِ
باب: دشمن پر حملہ کرنے، شبخون (رات میں چھاپہ) مارنے، ان کی عورتوں اور بچوں کو قتل کرنے کے احکام کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ الزُّهرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الصَّعْبُ بْنُ جَثَّامَةَ ، قَالَ: " سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَهْلِ الدَّارِ مِنَ الْمُشْرِكِينَ يُبَيَّتُونَ، فَيُصَابُ النِّسَاءُ وَالصِّبْيَانُ، قَالَ: هُمْ مِنْهُمْ".
صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا کہ مشرکین کی آبادی پر شبخون مارتے ( رات میں حملہ کرتے ) وقت عورتیں اور بچے بھی قتل ہو جائیں گے ، تو اس کا کیا حکم ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” وہ بھی انہیں میں سے ہیں “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2839]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ آمادئہ جنگ اور دشمنی پر اصرار کرنے والے اور اسلام کے خلاف ایڑی چوٹی کا زور لگانے والوں پر رات کے حملہ کا مسئلہ ہے، جن تک اسلام کی دعوت سالہا سال تک اچھی طرح سے پہنچانے کا انتظام کیا گیا، اب آخری حربہ کے طور پر ان کے قلع قمع کا ہر دروازہ کھلا ہوا ہے، اور ان کے ساتھ رہنے والی آبادی میں موجود بچوں اور عورتوں کو اگر کوئی تکلیف پہنچتی ہے، تو یہ بدرجہ مجبوری ہے اس لئے کوئی حرج نہیں ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الجہاد 146 (3012)، صحیح مسلم/الجہاد 9 (1785)، سنن الترمذی/السیر 19 (1570)، سنن ابی داود/الجہاد 121 (2672)، (تحفة الأشراف: 4939)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/38، 71، 72، 73) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل ، أَنْبَأَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ ، عَنْ إِيَاسِ بْنِ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: " غَزَوْنَا مَعَ أَبِي بَكْرٍ هَوَازِنَ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَيْنَا مَاءً لِبَنِي فَزَارَةَ فَعَرَّسْنَا، حَتَّى إِذَا كَانَ عِنْدَ الصُّبْحِ شَنَنَّاهَا عَلَيْهِمْ غَارَةً، فَأَتَيْنَا أَهْلَ مَاءٍ فَبَيَّتْنَاهُمْ فَقَتَلْنَاهُمْ تِسْعَةً أَوْ سَبْعَةَ أَبْيَاتٍ".
سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ہم نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ہمراہ قبیلہ ہوازن سے جہاد کیا ، چنانچہ ہم بنی فزارہ کے چشمہ کے پاس آئے اور ہم نے وہیں پر پڑاؤ ڈالا ، جب صبح کا وقت ہوا ، تو ہم نے ان پر حملہ کر دیا ، پھر ہم چشمہ والوں کے پاس آئے ان پر بھی شبخون مارا ، اور ان کے نو یا سات گھروں کے لوگوں کو قتل کیا ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2840]
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الجہاد 134 (2597)، (تحفة الأشراف: 4516)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الجہاد 14 (1755)، مسند احمد (5/377) (حسن)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، أَنْبَأَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى امْرَأَةً مَقْتُولَةً فِي بَعْضِ الطَّرِيقِ، فَنَهَى عَنْ قَتْلِ النِّسَاءِ وَالصِّبْيَانِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے راستے میں ایک عورت کو دیکھا جسے قتل کر دیا گیا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں اور بچوں کے قتل سے منع فرما دیا ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2841]
💡 وضاحت:
۱؎: ایسے بچے، عورتیں یا بوڑھے جو شریک جنگ نہ ہوں، اور اگر یہ ثابت ہو جائے کہ یہ بھی شریک جنگ ہیں، تو ان کے خلاف بھی کارروائی کی جائے گی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 8401)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الجہاد 147 (3014)، صحیح مسلم/الجہاد 8 (1744)، سنن ابی داود/الجہاد 121 (2668)، سنن الترمذی/الجہاد 19 (1569)، موطا امام مالک/الجہاد 3 (9)، مسند احمد (2/122، 123)، سنن الدارمی/السیر 25 (2505) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْمُرَقَّعِ ، عَنْ جَدِّهِ رَبَاحِ بْنِ الرَّبِيعِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ، قَالَ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ: يُخْطِئُ الثَّوْرِيُّ فِيهِ.
حنظلہ الکاتب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک غزوہ ( جنگ ) میں شریک تھے ، ہمارا گزر ایک مقتول عورت کے پاس سے ہوا ، وہاں لوگ اکٹھے ہو گئے تھے ، ( آپ کو دیکھ کر ) لوگوں نے آپ کے لیے جگہ خالی کر دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ تو لڑنے والوں میں نہ تھی “ ( پھر اسے کیوں مار ڈالا گیا ) اس کے بعد ایک شخص سے کہا : خالد بن ولید کے پاس جاؤ ، اور ان سے کہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں حکم دے رہے ہیں کہ عورتوں ، بچوں ، مزدوروں اور خادموں کو ہرگز قتل نہ کرنا “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2842]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی سفیان نے ابوالزناد سے اور انہوں نے مرقع بن عبداللہ سے اور مرقع نے حنظلہ سے روایت کی ہے، جب کہ اس کی دوسری سند میں مغیرہ بن شعبہ سے اور مرقع نے اپنے دادا رباح بن الربیع سے روایت کی ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الجہاد 121 (2669)، (تحفة الأشراف: 3600)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/488، 4/178، 346) (حسن صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْمُرَقَّعِ ، عَنْ جَدِّهِ رَبَاحِ بْنِ الرَّبِيعِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ، قَالَ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ: يُخْطِئُ الثَّوْرِيُّ فِيهِ.
اس سند سے رباح بن ربیع سے بھی اسی طرح مروی ہے ، ابوبکر بن ابی شیبہ کہتے ہیں : سفیان ثوری اس میں غلطی کرتے تھے ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2842M]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی سفیان نے ابوالزناد سے اور انہوں نے مرقع بن عبداللہ سے اور مرقع نے حنظلہ سے روایت کی ہے، جب کہ اس کی دوسری سند میں مغیرہ بن شعبہ سے اور مرقع نے اپنے دادا رباح بن الربیع سے روایت کی ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الجہاد 121 (2669)، (تحفة الأشراف: 3600)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/488، 4/178، 346) (حسن صحیح)
31: بَابُ : التَّحْرِيقِ بِأَرْضِ الْعَدُوِّ
باب: دشمن کی سر زمین کو آگ لگانے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل بْنِ سَمُرَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ أَبِي الْأَخْضَرِ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، قَالَ: " بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى قَرْيَةٍ يُقَالُ لَهَا: أُبْنَى، فَقَالَ: ائْتِ أُبْنَى صَبَاحًا ثُمَّ حَرِّقْ".
اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ابنیٰ نامی بستی کی جانب بھیجا اور فرمایا : ” ابنیٰ میں صبح کے وقت جاؤ ، اور اسے آگ لگا دو “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2843]
💡 وضاحت:
۱؎ اُبنی: فلسطین میں عسقلان اور رملہ کے درمیان ایک مقام ہے، صحیح بخاری میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو ایک لشکر میں بھیجا، تو فرمایا: اگر تم فلاں فلاں دو شخصوں کو پاؤ تو آگ سے جلا دینا، پھر جب ہم نکلنے لگے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے تم کو حکم دیا تھا فلانے فلانے کو جلانے کا، لیکن آگ سے اللہ ہی عذاب کرتا ہے تم اگر ان کو پاؤ تو قتل کر ڈالنا، لیکن درختوں کا اور بتوں کا اور سامان کا جلانا تو جائز ہے، اور کئی احادیث سے اس کی اجازت ثابت ہے جب اس میں مصلحت ہو۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ سنن أبي داود (2616) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 481
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الجہاد 91 (2616)، (تحفة الأشراف: 107)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/205، 209) (ضعیف) (صالح بن أبی الاخضر ضعیف ہیں جن کی وجہ سے یہ حدیث ضعیف ہے)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَرَّقَ نَخْلَ بَنِي النَّضِيرِ، وَقَطَعَ وَهِيَ الْبُوَيْرَةُ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: مَا قَطَعْتُمْ مِنْ لِينَةٍ أَوْ تَرَكْتُمُوهَا قَائِمَةً سورة الحشر آية 5، الْآيَةَ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ بنو نضیر کے کھجور کا باغ جلا دیا ، اور کاٹ ڈالا ، اس باغ کا نام بویرہ تھا ، چنانچہ اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان نازل ہوا : «ما قطعتم من لينة أو تركتموها قائمة» یعنی ” تم نے کھجوروں کے جو درخت کاٹ ڈالے یا جنہیں تم نے ان کی جڑوں پہ باقی رہنے دیا یہ سب اللہ تعالیٰ کے حکم سے تھا ، اور اس لیے بھی کہ فاسقوں کو اللہ تعالیٰ رسوا کرے “ ( سورۃ الحشر : ۵ ) ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2844]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الحرث والمزارعة 4 (2356)، الجہاد 154 (3020)، المغازي 14 (4031)، صحیح مسلم/الجہاد 10 (1746)، سنن ابی داود/الجہاد 91 (2615)، سنن الترمذی/التفسیر 59 (3302، السیر 4 (1552)، (تحفة الأشراف: 8267)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/123، 140)، سنن الدارمی/السیر 23 (2503) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَرَّقَ نَخْلَ بَنِي النَّضِيرِ، وَقَطَعَ، وَفِيهِ، يَقُولُ شَاعِرُهُمْ: فَهَانَ عَلَى سَرَاةِ بَنِي لُؤَيٍّ حَرِيقٌ بِالْبُوَيْرَةِ مُسْتَطِيرُ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ بنو نضیر کے کھجور کے درخت جلا دئیے اور انہیں کاٹ دیا ، اسی سے متعلق ایک شاعر کہتا ہے : «فهان على سراة بني لؤي حريق بالبويرة مستطير» بنی لؤی کے سرداروں کے لیے آسان ہوا ، بویرہ میں آگ لگانا جو ہر طرف پھیلتی جا رہی تھی ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2845]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: أنظر ماقبلہ، (تحفة الأشراف: 8060) (صحیح)
32: بَابُ : فِدَاءِ الأُسَارَى
باب: (جنگی) قیدیوں کو فدیہ میں دینے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ ، عَنْ إِيَاسِ بْنِ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: " غَزَوْنَا مَعَ أَبِي بَكْرٍ هَوَازِنَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنَفَّلَنِي جَارِيَةً مِنْ بَنِي فَزَارَةَ مِنْ أَجْمَلِ الْعَرَبِ عَلَيْهَا، قَشْعٌ لَهَا فَمَا كَشَفْتُ لَهَا عَنْ ثَوْبٍ، حَتَّى أَتَيْتُ الْمَدِينَةَ فَلَقِيَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي السُّوقِ، فَقَالَ: " لِلَّهِ أَبُوكَ! هَبْهَا لِي"، فَوَهَبْتُهَا لَهُ، فَبَعَثَ بِهَا فَفَادَى بِهَا أُسَارَى مِنْ أُسَارَى الْمُسْلِمِينَ كَانُوا بِمَكَّةَ".
سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ہم نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ قبیلہ ہوازن سے جنگ کی ، تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے قبیلہ بنی فزارہ سے حاصل کی ہوئی ایک لونڈی مجھے بطور نفل ( انعام ) دی ، وہ عرب کے خوبصورت ترین لوگوں میں سے تھی ، اور پوستین پہنے ہوئی تھی ، میں نے اس کا کپڑا بھی نہیں کھولا تھا کہ مدینہ آیا ، بازار میں میری ملاقات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہوئی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ کی شان ، تمہارا باپ بھی کیا خوب آدمی تھا ! یہ لونڈی مجھے دے دو ، میں نے وہ آپ کو ہبہ کر دی ، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ لونڈی ان مسلمانوں کے عوض فدیہ میں دے دی جو مکہ میں تھے ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2846]
💡 وضاحت:
۱؎: معلوم ہوا کہ امام کسی کو کوئی چیز دے کر پھر اس کو واپس لے لے تو بھی جائز ہے جب اس میں کوئی مصلحت ہو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صفیہ رضی اللہ عنہا کو پہلے دحیہ رضی اللہ عنہ کو دیا تھا پھر ان سے واپس لے لیا۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/المغازي 14 (1755)، سنن ابی داود/الجہاد 134 (2697)، (تحفة الأشراف: 4515)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/ و 47، 51) (صحیح)
33: بَابُ : مَا أَحْرَزَ الْعَدُوُّ ثُمَّ ظَهَرَ عَلَيْهِ الْمُسْلِمُونَ
باب: دشمن نے مسلمانوں کے مال پر قبضہ کر لیا پھر مسلمان ان پر غالب آ گئے اور وہی مال ان کے ہاتھ لگ گیا تو اس کے حکم کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: " ذَهَبَتْ فَرَسٌ لَهُ فَأَخَذَهَا الْعَدُوُّ فَظَهَرَ عَلَيْهِمُ الْمُسْلِمُونَ، فَرُدَّ عَلَيْهِ فِي زَمَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ: وَأَبَقَ عَبْدٌ لَهُ فَلَحِقَ بِالرُّومِ فَظَهَرَ عَلَيْهِمُ الْمُسْلِمُونَ"، فَرَدَّهُ عَلَيْهِ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ بَعْدَ وَفَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ان کا ایک گھوڑا چلا گیا ، اور اسے دشمن نے پکڑ لیا ، پھر مسلمان ان پر غالب آ گئے ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں وہ انہیں لوٹایا گیا ، ان کا ایک غلام بھی بھاگ گیا ، اور روم ( کے نصاریٰ ) سے جا ملا ، پھر مسلمان ان پر غالب آ گئے ، تو خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد ان کو واپس کر دیا ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2847]
💡 وضاحت:
۱؎: صحیح مسلم میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی عضباء کو کافر لے گئے، پھر ایک عورت اس پر چڑھ کر مسلمانوں کے پاس آ گئی، تو اس اونٹنی کے نحر کرنے کی اس نے نذر کی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو نذر گناہ کی ہو، یا اپنی ملکیت میں نہ ہو وہ پوری نہ کی جائے، علماء کا یہی قول ہے کہ کافر غلبہ سے مسلمانوں کے کسی چیز کے مالک نہ ہوں گے اور جب وہ چیز پھر ہاتھ آئے تو اس کا مالک لے لے گا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الجہاد 187 (3067 تعلیقاً)، سنن ابی داود/الجہاد 135 (2699)، (تحفة الأشراف: 7943) (صحیح)
34: بَابُ : الْغُلُولِ
باب: مال غنیمت میں خیانت اور چوری کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ ، عَنْ أَبِي عَمْرَةَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ ، قَالَ: تُوُفِّيَ رَجُلٌ مِنْ أَشْجَعَ بِخَيْبَرَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ، فَأَنْكَرَ النَّاسُ ذَلِكَ، وَتَغَيَّرَتْ لَهُ وُجُوهُهُمْ، فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ قَالَ: إِنَّ صَاحِبَكُمْ غَلَّ فِي سَبِيلِ اللَّهِ"، قَالَ زَيْدٌ: فَالْتَمَسُوا فِي مَتَاعِهِ، فَإِذَا خَرَزَاتٌ مِنْ خَرَزِ يَهُودَ مَا تُسَاوِي دِرْهَمَيْنِ.
زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ قبیلہ اشبحع کے ایک شخص کا خیبر میں انتقال ہو گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم لوگ اپنے ساتھی کی نماز ( جنازہ ) پڑھ لو ، لوگوں کو اس پر تعجب ہوا اور ان کے چہروں کے رنگ اڑ گئے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب یہ صورت حال دیکھی تو فرمایا : ” تمہارے ساتھی نے اللہ کے راستے میں ( حاصل شدہ مال غنیمت میں ) خیانت کی ہے “ ۔ زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : پھر لوگوں نے اس کے سامان کی تلاشی لی تو کیا دیکھتے ہیں کہ یہود کے مونگوں میں سے کچھ مونگے جو کہ دو درہم کے برابر تھے اس کے سامان میں موجود تھے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2848]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الجہاد 143 (2710)، سنن النسائی/الجنائز 66 (1961)، (تحفة الأشراف: 3767)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الجہاد13 (23)، مسند احمد (4/114، 5/192) (ضعیف) (ابوعمرہ مجہول العین راوی ہے)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ: كَانَ عَلَى ثَقَلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ: كِرْكِرَةُ، فَمَاتَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " هُوَ فِي النَّارِ"، فَذَهَبُوا يَنْظُرُونَ، فَوَجَدُوا عَلَيْهِ كِسَاءً أَوْ عَبَاءَةً قَدْ غَلَّهَا".
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامان کی نگہبانی پر کرکرہ نامی ایک شخص تھا ، اس کا انتقال ہو گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” وہ جہنم میں ہے “ ، لوگ اس کا سامان دیکھنے لگے تو اس میں ایک کملی یا عباء ملی جو اس نے مال غنیمت میں سے چرا لی تھی ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2849]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الجہاد 190 (3074)، (تحفة الأشراف: 8632)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/160) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ أَبِي سِنَانٍ عِيسَى بْنِ سِنَانٍ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ شَدَّادٍ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ حُنَيْنٍ إِلَى جَنْبِ بَعِيرٍ مِنَ الْمَقَاسِمِ، ثُمَّ تَنَاوَلَ شَيْئًا مِنَ الْبَعِيرِ فَأَخَذَ مِنْهُ قَرَدَةً يَعْنِي وَبَرَةً، فَجَعَلَ بَيْنَ إِصْبَعَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: " يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ هَذَا مِنْ غَنَائِمِكُمْ أَدُّوا الْخَيْطَ وَالْمِخْيَطَ فَمَا فَوْقَ ذَلِكَ، فَمَا دُونَ ذَلِكَ فَإِنَّ الْغُلُولَ عَارٌ عَلَى أَهْلِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَشَنَارٌ وَنَارٌ".
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں جنگ حنین کے دن مال غنیمت کے ایک اونٹ کے پہلو میں نماز پڑھائی ، نماز کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹ میں سے کوئی چیز لی جیسے اونٹ کا بال اور اسے اپنی انگلیوں سے پکڑا پھر فرمایا : ” لوگو ! یہ بھی تمہارے مال غنیمت کا حصہ ہے ، لہٰذا دھاگہ سوئی نیز اس سے چھوٹی اور بڑی چیز بھی جمع کر دو کیونکہ مال غنیمت میں خیانت ( چوری ) کرنے والے کے لیے قیامت کے دن باعث عار ( ندامت ) و شنار ( عیب ) اور باعث نار ( عذاب ) ہو گی “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2850]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی قیامت کے دن اس کی چوری ظاہر کی جائے گی تو لوگوں میں رسوائی ہو گی، عذاب الگ ہو گا اور جس قدر ذرہ سی چیز ہو اس کی چوری جب کھلے گی تو اور زیادہ رسوائی ہے، اس لئے مومن کو چاہئے کہ غنیمت کا کل مال حاکم کے سامنے پیش کر دے ایک سوئی یا دھاگہ بھی اپنے پاس نہ رکھ چھوڑے۔
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 5121، ومصباح الزجاجة: 1009) (حسن صحیح) (سند میں عیسیٰ بن سنان لین الحدیث راوی ہیں، لیکن متابعات و شواہد کی بناء پر یہ صحیح ہے)
35: بَابُ : النَّفَلِ
باب: مال غنیمت میں سے ہبہ کرنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ ، عَنْ مَكْحُولٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ جَارِيَةَ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ مَسْلَمَةَ " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَفَّلَ الثُّلُثَ بَعْدَ الْخُمُسِ".
حبیب بن مسلمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مال غنیمت میں سے خمس ( پانچواں حصہ جو اللہ اور اس کے رسول کا حق ہے ) نکال لینے کے بعد مال غنیمت کا ایک تہائی بطور نفل ہبہ اور عطیہ دیتے ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2851]
💡 وضاحت:
۱؎: مال غنیمت میں سے پانچواں حصہ اللہ اور رسول کا ہے، اور باقی چار حصے مجاہدین میں تقسیم کئے جائیں، اور امام کو اختیار ہے کہ باقی ان چارحصوں ۴/۵ میں جسے جتنا چاہے، عطیہ دے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الجہاد 158 (2748، 2749، 2750)، (تحفة الأشراف: 3293)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/159، 160)، سنن الدارمی/السیر 43 (2526) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ الزُّرَقِيِّ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى ، عَنْ مَكْحُولٍ ، عَنْ أَبِي سَلَّامٍ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَفَّلَ فِي الْبَدْأَةِ الرُّبُعَ، وَفِي الرَّجْعَةِ الثُّلُثَ".
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم شروع لڑائی میں ملنے والے مال غنیمت کا چوتھا حصہ بطور ہبہ دیتے ، اور لوٹتے وقت تہائی حصہ دیتے ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2852]
💡 وضاحت:
۱؎: کیونکہ لوٹتے وقت پھر لڑائی کرنا دشوار ہوتا ہے اس لئے اس میں زیادہ عطیہ مقرر کیا۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/السیر 12 (1561)، (تحفة الأشراف: 5091)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/319، 322، 323)، سنن الدارمی/السیر 42 (2525) (صحیح) (سابقہ حدیث کی بناء پر یہ حدیث صحیح ہے، اس کی سند میں عبد الرحمن بن الحارث اور سلمان بن موسیٰ کی وجہ سے ضعف ہے)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ ، أَنْبَأَنَا رَجَاءُ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ: " لَا نَفَلَ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَرُدُّ الْمُسْلِمُونَ قَوِيُّهُمْ عَلَى ضَعِيفِهِمْ". (حديث مرفوع) (حديث موقوف) قَالَ قَالَ رَجَاءٌ : فَسَمِعْتُ سُلَيْمَانَ بْنَ مُوسَى ، يَقُولُ لَهُ: حَدَّثَنِي مَكْحُولٌ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ مَسْلَمَةَ " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَفَّلَ فِي الْبَدْأَةِ الرُّبُعَ، وَحِينَ قَفَلَ الثُّلُثَ"، فَقَالَ عَمْرٌو: أُحَدِّثُكَ عَنْ أَبِي، عَنْ جَدِّي، وَتُحَدِّثُنِي عَنْ مَكْحُولٍ.
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد مال غنیمت سے ہبہ اور عطیہ کا سلسلہ ختم ہو گیا ، اب طاقتور مسلمان کمزور مسلمانوں کو مال لوٹائیں گے ۱؎ ۔ حبیب بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے شروع لڑائی میں ملنے والے کو مال غنیمت کا چوتھائی حصہ بطور ہبہ اور عطیہ دیا ، اور لوٹتے وقت تہائی حصہ دیا ۲؎ ۔ تو عمرو بن شعیب نے سلیمان بن موسیٰ سے کہا کہ میں تمہیں اپنے والد کے واسطہ سے اپنے دادا ( عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما ) سے روایت کر رہا ہوں اور تم مجھ سے مکحول کے حوالے سے بیان کر رہے ہو ؟ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2853]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی طاقتور لوگوں کے ذریعہ حاصل شدہ مال میں کمزوروں کا بھی حصہ ہو گا۔
۲؎: یعنی مال غنیمت میں سب مسلمان برابر کے شریک ہوں گے اور برابر حصہ پائیں گے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح دون الموقوف على جد عمرو
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: حدیث عبد اللہ بن عمرو تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 8705، ومصباح الزجاجة: 1010)، وحدیث حبیب بن مسلمة تقدم تخریجہ، (2851) (صحیح)
36: بَابُ : قِسْمَةِ الْغَنَائِمِ
باب: مال غنیمت کی تقسیم کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْهَمَ يَوْمَ خَيْبَرَ لِلْفَارِسِ ثَلَاثَةَ أَسْهُمٍ، لِلْفَرَسِ سَهْمَانِ، وَلِلرَّجُلِ سَهْمٌ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ خیبر میں گھوڑ سوار کے لیے تین حصے متعین فرمائے ، دو حصے گھوڑے کے ، اور ایک حصہ آدمی کا ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2854]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الجہاد 154 (2733)، (تحفة الأشراف: 8111)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الجہاد 51 (2863)، صحیح مسلم/الجہاد 17 (1762)، سنن الترمذی/السیر 6 (1554)، مسند احمد (2/2، 62)، سنن الدارمی/السیر33 (2515) (صحیح)
37: بَابُ : الْعَبِيدِ وَالنِّسَاءِ يَشْهَدُونَ مَعَ الْمُسْلِمِينَ
باب: مسلمانوں کے ساتھ جنگ میں غلام اور عورتوں کی شرکت۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ مُهَاجِرِ بْنِ قُنْفُذٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ عُمَيْرًا مَوْلَى آبِي اللَّحْمِ، قَالَ وَكِيعٌ: كَانَ لَا يَأْكُلُ اللَّحْمَ، قَالَ: " غَزَوْتُ مَعَ مَوْلَايَ يَوْمَ خَيْبَرَ، وَأَنَا مَمْلُوكٌ فَلَمْ يَقْسِمْ لِي مِنَ الْغَنِيمَةِ، وَأُعْطِيتُ مِنْ خُرْثِيِّ الْمَتَاعِ سَيْفًا، فَكُنْتُ أَجُرُّهُ إِذَا تَقَلَّدْتُهُ".
محمد بن زید کہتے ہیں کہ میں نے آبی اللحم ( وکیع کہتے ہیں کہ وہ گوشت نہیں کھاتے تھے ) کے غلام عمیر رضی اللہ عنہما سے سنا : وہ کہتے ہیں کہ میں نے اپنے مالک کے ہمراہ خیبر کے دن جہاد کیا ، چونکہ میں غلام تھا لہٰذا مجھے مال غنیمت میں حصہ نہیں ملا ، صرف ردی چیزوں میں سے ایک تلوار ملی ، جب اسے میں لٹکا کر چلتا تو ( وہ اتنی لمبی تھی ) کہ وہ گھسٹتی رہتی تھی ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2855]
💡 وضاحت:
۱؎: اس وجہ سے کہ تلوار لمبی ہو گی یا ان کا قد چھوٹا ہو گا لیکن امام جو مناسب سمجھے انعام کے طور پر ان کو دے، صحیح مسلم میں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک شخص نے ان سے پوچھا: غلام اور عورت کا کوئی حصہ معین تھا، جب وہ لوگوں کے ساتھ حاضر ہوں، تو انہوں نے جواب دیا کہ ان دونوں کا کوئی حصہ متعین نہ تھا مگر یہ کہ مال غنیمت میں سے کچھ ان کو دیا جائے، اور ایک روایت میں یوں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جہاد میں عورتوں کو رکھتے تھے، وہ دو زخمیوں کا علاج کرتیں اور مال غنیمت میں سے کچھ انعام ان کو دیا جاتا لیکن ان کا حصہ مقرر نہیں کیا گیا۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الجہاد 152 (2730)، سنن الترمذی/السیر 9 (1557)، (تحفة الأشراف: 10898)، وقد أخرجہ: مسند احمد5/223)، سنن الدارمی/السیر 35 (2518) (حسن)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ الْأَنْصَارِيَّةِ ، قَالَتْ: " غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْعَ غَزَوَاتٍ، أَخْلُفُهُمْ فِي رِحَالِهِمْ، وَأَصْنَعُ لَهُمُ الطَّعَامَ، وَأُدَاوِي الْجَرْحَى، وَأَقُومُ عَلَى الْمَرْضَى".
ام عطیہ انصاریہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ سات غزوات میں شرکت کی تھی ، مردوں کی غیر موجودگی میں ان کے ڈیروں میں رہتی ، ان کے لیے کھانا بناتی ، زخمیوں کا علاج کرتی اور بیماروں کی دیکھ بھال کرتی تھی ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2856]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الجہاد 48 (1812)، (تحفة الأشراف: 18137)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الحیض 24 (324)، الحج 81 (1652)، سنن الدارمی/الجہاد 30 (2466) (صحیح)
38: بَابُ : وَصِيَّةِ الإِمَامِ
باب: مجاہدین کو امام اور حاکم کی وصیت۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنِي عَطِيَّةُ بْنُ الْحَارِثِ أَبُو رُوقٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنِي أَبُو الْغَرِيفِ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ خَلِيفَةَ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَسَّالٍ ، قَالَ: بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَرِيَّةٍ، فَقَالَ: " سِيرُوا بِاسْمِ اللَّهِ، وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ، قَاتِلُوا مَنْ كَفَرَ بِاللَّهِ، وَلَا تَمْثُلُوا، وَلَا تَغْدِرُوا، وَلَا تَغُلُّوا، وَلَا تَقْتُلُوا وَلِيدًا".
صفوان بن عسال رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک فوجی دستے میں بھیجا تو فرمایا : ” اللہ کے نام پر ، اللہ کے راستے میں جاؤ ، جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کرے اس سے لڑو ، لیکن مثلہ نہ کرنا ، ( ناک کان مت کاٹنا ) عہد شکنی نہ کرنا ، مال غنیمت میں چوری نہ کرنا ، اور بچے کو قتل نہ کرنا “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2857]
💡 وضاحت:
۱؎: دوسری روایت میں اتنا زیادہ ہے: اور نہ عورت کو نہ شیخ فانی کو قتل کرنا یعنی ایسے بوڑھے کو جو لڑائی کے قابل نہ رہا ہو۔
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 4953، ومصباح الزجاجة: 1011)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/240) (حسن صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْفِرْيَابِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ، عَنْ ابْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَمَّرَ رَجُلًا عَلَى سَرِيَّةٍ أَوْصَاهُ فِي خَاصَّةِ نَفْسِهِ، بِتَقْوَى اللَّهِ وَمَنْ مَعَهُ مِنَ الْمُسْلِمِينَ خَيْرًا، فَقَالَ: " اغْزُوا بِاسْمِ اللَّهِ، وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ قَاتِلُوا مَنْ كَفَرَ بِاللَّهِ، اغْزُوا وَلَا تَغْدِرُوا، وَلَا تَغُلُّوا وَلَا تَمْثُلُوا، وَلَا تَقْتُلُوا وَلِيدًا، وَإِذَا أَنْتَ لَقِيتَ عَدُوَّكَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ، فَادْعُهُمْ إِلَى إِحْدَى ثَلَاثِ خِلَالٍ أَوْ خِصَالٍ، فَأَيَّتُهُنَّ أَجَابُوكَ إِلَيْهَا فَاقْبَلْ مِنْهُمْ، وَكُفَّ عَنْهُمْ، ادْعُهُمْ إِلَى الْإِسْلَامِ، فَإِنْ أَجَابُوكَ، فَاقْبَلْ مِنْهُمْ، وَكُفَّ عَنْهُمْ، ثُمَّ ادْعُهُمْ إِلَى التَّحَوُّلِ مِنْ دَارِهِمْ إِلَى دَارِ الْمُهَاجِرِينَ وَأَخْبِرْهُمْ إِنْ فَعَلُوا ذَلِكَ أَنَّ لَهُمْ مَا لِلْمُهَاجِرِينَ وَأَنَّ عَلَيْهِمْ مَا عَلَى الْمُهَاجِرِينَ، وَإِنْ أَبَوْا فَأَخْبِرْهُمْ أَنَّهُمْ يَكُونُونَ كَأَعْرَابِ الْمُسْلِمِينَ يَجْرِي عَلَيْهِمْ حُكْمُ اللَّهِ الَّذِي يَجْرِي عَلَى الْمُؤْمِنِينَ، وَلَا يَكُونُ لَهُمْ فِي الْفَيْءِ وَالْغَنِيمَةِ شَيْءٌ، إِلَّا أَنْ يُجَاهِدُوا مَعَ الْمُسْلِمِينَ، فَإِنْ هُمْ أَبَوْا أَنْ يَدْخُلُوا فِي الْإِسْلَامِ فَسَلْهُمْ إِعْطَاءَ الْجِزْيَةِ، فَإِنْ فَعَلُوا فَاقْبَلْ مِنْهُمْ، وَكُفَّ عَنْهُمْ، فَإِنْ هُمْ أَبَوْا فَاسْتَعِنْ بِاللَّهِ عَلَيْهِمْ وَقَاتِلْهُمْ، وَإِنْ حَاصَرْتَ حِصْنًا فَأَرَادُوكَ أَنْ تَجْعَلَ لَهُمْ ذِمَّةَ اللَّهِ وَذِمَّةَ نَبِيِّكَ فَلَا تَجْعَلْ لَهُمْ ذِمَّةَ اللَّهِ وَلَا ذِمَّةَ نَبِيِّكَ، وَلَكِنْ اجْعَلْ لَهُمْ ذِمَّتَكَ، وَذِمَّةَ أَبِيكَ، وَذِمَّةَ أَصْحَابِكَ، فَإِنَّكُمْ إِنْ تُخْفِرُوا ذِمَّتَكُمْ وَذِمَّةَ آبَائِكُمْ أَهْوَنُ عَلَيْكُمْ، مِنْ أَنْ تُخْفِرُوا ذِمَّةَ اللَّهِ وَذِمَّةَ رَسُولِهِ، وَإِنْ حَاصَرْتَ حِصْنًا فَأَرَادُوكَ أَنْ يَنْزِلُوا عَلَى حُكْمِ اللَّهِ فَلَا تُنْزِلْهُمْ عَلَى حُكْمِ اللَّهِ، وَلَكِنْ أَنْزِلْهُمْ عَلَى حُكْمِكَ، فَإِنَّكَ لَا تَدْرِي أَتُصِيبُ فِيهِمْ حُكْمَ اللَّهِ أَمْ لَا؟"، قَالَ عَلْقَمَةُ: فَحَدَّثْتُ بِهِ مُقَاتِلَ بْنَ حَيَّانَ ، فَقَالَ: حَدَّثَنِي مُسْلِمُ بْنُ هَيْصَمٍ ، عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ مُقَرِّنٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَ ذَلِكَ.
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی فوجی دستے پر کسی شخص کو امیر متعین فرماتے تو اسے ذاتی طور پر اللہ سے ڈرتے رہنے اور اپنے ساتھی مسلمانوں کے ساتھ حسن سلوک کرنے کی وصیت کرتے ، اور فرماتے : ” اللہ کے راستے میں اللہ کا نام لے کر لڑنا ، جو اللہ کے ساتھ کفر کرے اس سے لڑنا ، اور بدعہدی نہ کرنا ، ( مال غنیمت میں ) خیانت نہ کرنا ، مثلہ نہ کرنا ، اور کسی بچے کو قتل نہ کرنا ، جب مشرکوں میں سے اپنے دشمن سے مڈبھیڑ ہو تو انہیں تین باتوں میں سے ایک کی دعوت دینا ، ان میں سے جس بات پر وہ راضی ہو جائیں اسے قبول کرنا ، اور ان سے جنگ سے رک جانا ( سب سے پہلے ) انہیں اسلام کی دعوت دینا ، اگر وہ قبول کر لیں تو ان کا اسلام قبول کرنا ، اور ان کے قتل سے باز رہنا ، پھر انہیں گھربار چھوڑ کر مہاجرین کے ساتھ رہنے کی دعوت دینا ، اور انہیں بتانا کہ اگر وہ ایسا گریں گے تو انہیں مہاجرین جیسے حقوق حاصل ہوں گے ، اور جرم و سزا کا جو قانون مہاجرین کے لیے ہے وہی ان کے لیے بھی ہو گا ، اگر وہ ہجرت کرنے سے انکار کریں تو انہیں بتانا کہ ان کا حکم اعرابی ( دیہاتی ) مسلمانوں جیسا ہو گا ، اللہ تعالیٰ کے جو احکام مسلمانوں پر جاری ہوتے ہیں ان پر بھی جاری ہوں گے ، لیکن مال غنیمت میں اور اس مال میں جو کافروں سے جنگ کے بغیر ہاتھ آ جائے ، ان کا کوئی حصہ نہ ہو گا ، مگر اس صورت میں کہ وہ مسلمانوں کے ساتھ جہاد کریں ، اگر وہ اسلام میں داخل ہونے سے انکار کریں ، تو ان سے جزیہ دینے کا مطالبہ کرنا ، اگر وہ جزیہ دیں تو ان سے قبول کرنا ، اور ان سے اپنا ہاتھ روک لینا ، اور اگر وہ انکار کریں تو ( کامیابی کے لیے ) اللہ تعالیٰ سے مدد مانگنا ، اور ان سے جنگ کرنا ، اگر تم کسی قلعہ کا محاصرہ کر لو اور قلعہ والے تم سے اللہ اور نبی کا عہد کرانا چاہیں تو اللہ اور نبی کا عہد مت دینا ، بلکہ اپنا ، اپنے باپ کا ، اور اپنے ساتھیوں کا ذمہ دینا ، کیونکہ تم اپنا اور اپنے باپ کا ذمہ اللہ اور رسول کے ذمہ کے مقابلے میں آسانی سے توڑ سکتے ہو ، اگر تم نے کسی قلعے کا محاصرہ کر لیا ، اور وہ اللہ کے حکم پر اترنا چاہیں تو انہیں اللہ کے حکم پہ مت اتارنا ، بلکہ اپنے حکم پہ اتارنا کیونکہ تمہیں کیا معلوم کہ ان کے بارے میں تم اللہ کے حکم پر چل رہے ہو یا نہیں ۱؎ ۔ علقمہ کہتے ہیں : میں نے یہ حدیث مقاتل بن حیان سے بیان کی ، انہوں نے کہا : مجھ سے مسلم بن ہیضم نے بیان کی ، مسلم نے نعمان بن مقرن رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مثل روایت کی ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2858]
💡 وضاحت:
۱؎: امام نووی کہتے ہیں: اس حدیث سے کئی باتیں معلوم ہوئیں ایک یہ کہ فئی اور غنیمت میں دیہات کے مسلمانوں کا حصہ نہیں جو اسلام لانے کے بعد اپنے ہی وطن میں رہے، بشرطیکہ وہ جہاد میں شریک نہ ہوں، دوسرے یہ کہ ہر ایک کافر سے جزیہ لینا جائز ہے عربی ہو یا عجمی، کتابی ہو یا غیر کتابی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الجہاد 2 (1731)، سنن ابی داود/الجہاد 90 (2612، 2613)، سنن الترمذی/السیر 48 (1617)، (تحفة الأشراف: 1929)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/352، 358)، سنن الدارمی/السیر 5 (2483) (صحیح)
39: بَابُ : طَاعَةِ الإِمَامِ
باب: امام کی اطاعت و فرماں برداری کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ أَطَاعَنِي فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ، وَمَنْ عَصَانِي فَقَدْ عَصَى اللَّهَ، وَمَنْ أَطَاعَ الْإِمَامَ فَقَدْ أَطَاعَنِي، وَمَنْ عَصَى الْإِمَامَ فَقَدْ عَصَانِي".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے میری بات مانی اس نے اللہ کی بات مانی ، اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے اللہ کی نافرمانی کی ، ( اسی طرح ) جس نے امام کی بات مانی اس نے میری بات مانی ، اور جس نے امام کی نافرمانی کی اس نے میری نا فرمانی کی “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2859]
💡 وضاحت:
۱؎: حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ امام کی اطاعت فرض ہے اور اس کی نافرمانی رسول کی نافرمانی ہے مگر یہ جب تک ہے کہ امام کا حکم شریعت کے خلاف نہ ہو، اگر مسئلہ اختلافی ہو اور امام ایک قول پر چلنے کا حکم دے تو اس کی اطاعت کرنی چاہئے، لیکن جو بات صریح اور بالاتفاق شریعت کے خلاف ہو اس میں اطاعت نہ کرنی چاہئے، دوسری حدیث میں ہے کہ خالق کی معصیت میں کسی مخلوق کی اطاعت نہیں ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: (3) (تحفة الأشراف: 12477) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، وَأَبُو بِشْرٍ بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنِي أَبُو التَّيَّاحِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اسْمَعُوا وَأَطِيعُوا، وَإِنِ اسْتُعْمِلَ عَلَيْكُمْ عَبْدٌ حَبَشِيٌّ كَأَنَّ رَأْسَهُ زَبِيبَةٌ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” سنو اور اطاعت کرو ، گرچہ تم پر حبشی غلام ہی امیر ( حاکم ) کیوں نہ بنا دیا جائے ، جس کا سر منقی ( کشمش ) کی طرح ہو “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2860]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث کا یہ مطلب نہیں ہے کہ حبشی چھوٹے سر والا امامت کبری (خلافت) کے لائق ہے کیونکہ امامت کبری کے لئے قریشی ہونا شرط ہے، بلکہ حدیث کا یہ مطلب ہے کہ امام کے حکم سے اگر کسی لشکر یا ٹکڑی کا سردار معمولی حیثیت کا بھی بنا دیا جائے تو بھی امام کے حکم کی اطاعت کرنی چاہئے اور اس کے بنائے ہوئے امیر اور سردار کی اطاعت پر اعتراض اور اس کی مخالفت نہ کرنا چاہئے، اور بعضوں نے کہا: یہ مبالغہ کے طور پر فرمایا ہے، یعنی اگر بالفرض حبشی بھی تمہارا امام ہو تو اس کی اطاعت بھی لازم ہے، اور اس حدیث میں امام اور حاکم کی اطاعت کی بھرپور ترغیب ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 1699)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأذان 54 (693)، مسند احمد (3/114، 171) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعُ بْنُ الْجَرَّاحِ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْحُصَيْنِ ، عَنْ جَدَّتِهِ أُمِّ الْحُصَيْنِ ، قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنْ أُمِّرَ عَلَيْكُمْ عَبْدٌ حَبَشِيٌّ مُجَدَّعٌ، فَاسْمَعُوا لَهُ وَأَطِيعُوا مَا قَادَكُمْ بِكِتَابِ اللَّهِ".
ام الحصین رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : ” اگر تم پر کوئی نک کٹا حبشی غلام امیر ( حاکم ) بنا دیا جائے تو بھی اس کی بات سنو اور مانو ، جب تک کہ وہ اللہ کی کتاب ( قرآن ) کے مطابق تمہاری سربراہی کرتا رہے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2861]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الحج 51 (1298)، الإمارة 8 (1838)، سنن النسائی/البیعة 26 (4197)، (تحفة الأشراف: 18311)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/69، 5/381، 6/402، 403) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، أَنَّهُ انْتَهَى إِلَى الرَّبَذَةِ وَقَدْ أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَإِذَا عَبْدٌ يَؤُمُّهُمْ، فَقِيلَ: هَذَا أَبُو ذَرٍّ فَذَهَبَ يَتَأَخَّرُ، فَقَالَ أَبُو ذَرٍّ: " أَوْصَانِي خَلِيلِي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَسْمَعَ وَأُطِيعَ، وَإِنْ كَانَ عَبْدًا حَبَشِيًّا مُجَدَّعَ الْأَطْرَافِ".
ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ مقام ربذہ میں پہنچے تو نماز کے لیے تکبیر کہی جا چکی تھی ، تو کیا دیکھتے ہیں کہ ایک غلام لوگوں کی امامت کر رہا ہے ، اس سے کہا گیا : یہ ابوذر رضی اللہ عنہ ہیں ، یہ سن کر وہ پیچھے ہٹنے لگا تو ابوذر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میرے خلیل ( جگری دوست ) محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یہ وصیت کی کہ امام گرچہ اعضاء کٹا حبشی غلام ہی کیوں نہ ہو میں اس کی بات سنوں اور مانوں ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2862]
💡 وضاحت:
۱؎: حدیث سے معلوم ہوا کہ ہر حال میں مسلمانوں کی جماعت سے اتفاق کا خیال رکھنا ضروری ہے اور اگر کسی مستحب یا مسنون امر کی وجہ سے اتفاق ختم ہو جانے کا اندیشہ ہو تو جب تک یہ اندیشہ باقی رہے، اس امر مستحب یا مسنون سے باز رہ سکتے ہیں، لیکن جہاں تک ہو سکے حکمت عملی سے لوگوں کو سمجھا دینا چاہئے کہ یہ فعل مستحب اور سنت رسول ہے، اور اس کے لئے فتنہ و فساد کرنا صریح غیر ایمانی بات ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الإمارة 8 (1837)، (تحفة الأشراف: 11950)، (یہ حدیث مکرر ہے، دیکھئے: 1256) (صحیح)
40: بَابُ : لاَ طَاعَةَ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ
باب: اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں کسی کی اطاعت نہ کرنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْحَكَمِ بْنِ ثَوْبَانَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ عَلْقَمَةَ بْنَ مُجَزِّرٍ عَلَى بَعْثٍ وَأَنَا فِيهِمْ، فَلَمَّا انْتَهَى إِلَى رَأْسِ غَزَاتِهِ أَوْ كَانَ بِبَعْضِ الطَّرِيقِ اسْتَأْذَنَتْهُ طَائِفَةٌ مِنَ الْجَيْشِ فَأَذِنَ لَهُمْ، وَأَمَّرَ عَلَيْهِمْ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ حُذَافَةَ بْنِ قَيْسٍ السَّهْمِيَّ، فَكُنْتُ فِيمَنْ غَزَا مَعَهُ فَلَمَّا كَانَ بِبَعْضِ الطَّرِيقِ، أَوْقَدَ الْقَوْمُ نَارًا لِيَصْطَلُوا أَوْ لِيَصْنَعُوا عَلَيْهَا صَنِيعًا، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ وَكَانَتْ فِيهِ دُعَابَةٌ: أَلَيْسَ لِي عَلَيْكُمُ السَّمْعُ وَالطَّاعَةُ، قَالُوا: بَلَى، قَالَ: فَمَا أَنَا بِآمِرِكُمْ بِشَيْءٍ إِلَّا صَنَعْتُمُوهُ، قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: فَإِنِّي أَعْزِمُ عَلَيْكُمْ إِلَّا تَوَاثَبْتُمْ فِي هَذِهِ النَّارِ، فَقَامَ نَاسٌ فَتَحَجَّزُوا فَلَمَّا ظَنَّ أَنَّهُمْ وَاثِبُونَ، قَالَ: أَمْسِكُوا عَلَى أَنْفُسِكُمْ فَإِنَّمَا كُنْتُ أَمْزَحُ مَعَكُمْ، فَلَمَّا قَدِمْنَا ذَكَرُوا ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ أَمَرَكُمْ مِنْهُمْ بِمَعْصِيَةِ اللَّهِ، فَلَا تُطِيعُوهُ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے علقمہ بن مجزر رضی اللہ عنہ کو ایک لشکر کا سردار بنا کر بھیجا ، میں بھی اس لشکر میں تھا ، جب وہ لشکر کے آخری پڑاؤ پر پہنچے یا درمیان راستے ہی میں تھے تو لشکر کی ایک جماعت نے ( آگے جانے کی ) اجازت مانگی ، علقمہ رضی اللہ عنہ نے اجازت دے دی ، اور عبداللہ بن حذافہ بن قیس سہمی رضی اللہ عنہ کو ان پر امیر مقرر کر دیا ، میں بھی ان لوگوں میں تھا جنہوں نے ان کے ساتھ غزوہ کیا ، ابھی وہ راستہ ہی میں تھے کہ ان لوگوں نے تاپنے یا کچھ پکانے کے لیے آگ جلائی ، تو عبداللہ بن حذافہ رضی اللہ عنہ ( جن کے مزاج میں خوش طبعی پائی جاتی تھی ) نے کہا : کیا تم پر میری بات سننا اور اطاعت کرنا واجب نہیں ؟ لوگوں نے جواب دیا : کیوں نہیں ؟ کہا : میں کسی کام کے کرنے کا تمہیں حکم دوں تو تم حکم بجا لاؤ گے ؟ لوگوں نے جواب دیا : ہاں ، کہا : میں لازمی حکم دیتا ہوں کہ تم اس آگ میں چھلانگ لگا دو ، کچھ لوگ کھڑے ہو گئے اور کودنے کے لیے کمر کس لی ، عبداللہ بن حذافہ رضی اللہ عنہ کو جب یہ گمان ہوا کہ واقعی یہ تو کود ہی جائیں گے ، تو بولے : ٹھہرو ، میں تم سے یونہی مذاق کر رہا تھا ۱؎ ۔ جب ہم لوگ واپس مدینہ آئے ، لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سارا ماجرا سنایا ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” حکام میں جو تمہیں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کا حکم دے تو اس کی بات نہ ما نو “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2863]
💡 وضاحت:
۱؎: اس واقعہ سے پتہ چلاکہ جو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کا حکم دے تو اس کی بات ہرگز مت مانو اگرچہ وہ امام ہو یا حاکم یا خلیفہ یا بادشاہ یا رئیس یا سردار، اللہ کی اطاعت سب پر مقدم ہے، پھر جب خلاف شریعت باتوں میں امام کی اطاعت منع ہوئی تو اللہ اور اس کے رسول کے حکم کے خلاف کسی مجتہد یا عالم کی اطاعت کیوں کر جائز ہو گی، اس حدیث سے تقلید کی جڑ کٹ گئی اور یہ بھی معلوم ہوا کہ جو بادشاہ یا امام شریعت کے خلاف حکم دے تو اس کی بات نہ ماننی چاہئے بلکہ اس کو شریعت کی اطاعت کے لئے مجبور کرنا چاہئے، اگر شریعت کی اطاعت قبول نہ کرے تو اگر قدرت اور طاقت ہو تو اس کو فوراً معزول کر کے دوسرے کسی پرہیزگار دین دار کو اپنا امام یا بادشاہ بنانا چاہئے، یہی اسلام کا شیوہ ہے اور یہی حکم الٰہی ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 4266، ومصباح الزجاجة: 1012)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/67) (حسن)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، وَسُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ الْمَكِّيُّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " عَلَى الْمَرْءِ الْمُسْلِمِ الطَّاعَةُ فِيمَا أَحَبَّ أَوْ كَرِهَ، إِلَّا أَنْ يُؤْمَرَ بِمَعْصِيَةٍ، فَإِذَا أُمِرَ بِمَعْصِيَةٍ فَلَا سَمْعَ وَلَا طَاعَةَ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مسلمان آدمی پر ( امیر اور حاکم کی ) بات ماننا لازم ہے ، چاہے وہ اسے پسند ہو یا ناپسند ، ہاں اگر اللہ اور رسول کی نافرمانی کا حکم دیا جائے تو اس کو سننا ماننا نہیں ہے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2864]
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: حدیث عبد اللہ بن رجاء المکی تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 7927)، وحدیث اللیث بن سعد أخرجہ: صحیح مسلم/الإمارة 8 (1839)، سنن الترمذی/الجہاد 29 (1707)، (تحفة الأشراف: 8088) وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الجہاد 108 (2955)، الأحکام 4 (7144)، سنن ابی داود/الجہاد 96 (2626)، سنن النسائی/البیعة 34 (4211)، مسند احمد (2/17، 42) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ ، ح وحَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " سَيَلِي أُمُورَكُمْ بَعْدِي رِجَالٌ يُطْفِئُونَ السُّنَّةَ، وَيَعْمَلُونَ بِالْبِدْعَةِ، وَيُؤَخِّرُونَ الصَّلَاةَ عَنْ مَوَاقِيتِهَا"، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنْ أَدْرَكْتُهُمْ كَيْفَ أَفْعَلُ؟، قَالَ: " تَسْأَلُنِي يَا ابْنَ أُمِّ عَبْدٍ، كَيْفَ تَفْعَلُ؟ لَا طَاعَةَ لِمَنْ عَصَى اللَّهَ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” وہ زمانہ قریب ہے کہ میرے بعد تمہارے معاملات کی باگ ڈور ایسے لوگوں کے ہاتھ میں آئے گی جو سنت کو مٹائیں گے ، بدعت پر عمل پیرا ہوں گے ، اور نماز کی وقت پر ادائیگی میں تاخیر کریں گے “ ، میں نے کہا : اللہ کے رسول ! اگر میں ان کا زمانہ پاؤں تو کیا کروں ؟ فرمایا : ” اے ام عبد کے بیٹے ! مجھ سے پوچھ رہے ہو کہ کیا کروں ؟ جو شخص اللہ کی نافرمانی کرے اس کی بات نہیں مانی جائے گی “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2865]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 9370، ومصباح الزجاجة: 1013)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/399، 5/325، 329) (صحیح) (صحیح أبی داود: 458، و سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: 2/ 139)
41: بَابُ : الْبَيْعَةِ
باب: بیعت کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق ، وَيَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، وَابْنُ عَجْلَانَ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، قَالَ: " بَايَعْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ فِي الْعُسْرِ وَالْيُسْرِ، وَالْمَنْشَطِ وَالْمَكْرَهِ، وَالْأَثَرَةِ عَلَيْنَا، وَأَنْ لَا نُنَازِعَ الْأَمْرَ أَهْلَهُ، وَأَنْ نَقُولَ الْحَقَّ حَيْثُمَا كُنَّا، لَا نَخَافُ فِي اللَّهِ لَوْمَةَ لَائِمٍ".
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے تنگی اور فراخی ، خوشی و ناخوشی ، اور اپنے اوپر دوسروں کو ترجیح دئیے جانے کی حالت میں بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سننے اور اطاعت کرنے پر بیعت کی ، نیز اس بات پر بیعت کی کہ حکمرانوں سے نہ جھگڑیں ، اور جہاں بھی ہوں حق بات کہیں ، اور اللہ کے سلسلے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہ ڈریں “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2866]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی جس بات میں اللہ کی خوشی ہو یعنی ثواب اور عبادت کے کام میں کسی کی بدگوئی سے ہم کو ڈر نہ ہو، یہ مومنین کاملین کی شان ہے کہ وہ سنت پر چلنے میں کسی سے نہیں ڈرتے اور نہ ہی جاہلوں اور اہل بدعت کے غلط پروپگنڈہ سے متاثر ہوتے ہیں، جاہل اور بدعتی حدیث سے محبت رکھنے اور ان پر عمل کرنے والوں کو برے القاب اور خطابات سے پکارتے اور انہیں طرح طرح سے بدنام کرنے کی کوشش کرتے ہیں، جب یہ محبان رسول نماز میں زورسے آمین، رفع یدین اور امام کے پیچھے سورہ فاتحہ کی قرأت کرتے ہیں، تو جاہل مقلد اور بدعتی ان کو لا مذہب کہتے ہیں اور جب شرک کے کاموں سے پرہیز کرتے ہیں، اور غیر اللہ کے پکارنے یا ماسوا اللہ کی عبادت کرنے یا مدد مانگنے سے خود رکتے ہیں اور دوسروں کو روکتے ہیں، تو یہ لوگ انہیں وہابی کے نام سے بدنام کرتے ہیں، اور جب یہ محبان رسول، اللہ تعالیٰ کی صفات جیسے استواء علی العرش، ضحک، (ہنسنا) نزول (آسمان دنیا پر اترنا) وغیرہ وغیرہ ثابت کرتے ہیں تو یہ انہیں مشبہہ کہتے ہیں، اور جب ید (ہاتھ)، وجہ (چہرہ)، عین (آنکھ)، قدم، صوت (آواز) جیسی صفات کا اثبات کرتے ہیں تو وہ انہیں مجسمہ کا لقب دیتے ہیں، لیکن ان سب تہمتوں سے حق پرستوں کو کوئی ڈر نہیں، اور وہ جاہلوں اور بدعتیوں کی عیب جوئی، اور گالی گلوج اور غلط پروپگنڈے سے ڈرتے اور گھبراتے نہیں بلکہ بلا کھٹکے احادیث صحیحہ پر عمل کرتے ہیں، اس حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صبر و ثبات پر اور شرع کی اطاعت اور حاکم کی اطاعت پر بیعت لی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الفتن 2 (7056)، الأحکام 43 (7199، 7200)، صحیح مسلم/الإمارة 8 (1709)، سنن النسائی/البیعة 1 (4154، 4155)، (تحفة الأشراف: 5118)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الجہاد1 (5)، مسند احمد (4/314، 318، 319، 321، 325) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ التَّنُوخِيُّ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ ، عَنْ أَبِي مُسْلِمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْحَبِيبُ الْأَمِينُ أَمَّا هُوَ إِلَيَّ فَحَبِيبٌ، وَأَمَّا هُوَ عِنْدِي فَأَمِينٌ عَوْفُ بْنُ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيُّ ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْعَةً أَوْ ثَمَانِيَةً أَوْ تِسْعَةً، فَقَالَ: " أَلَا تُبَايِعُونَ رَسُولَ اللَّهِ؟"، فَبَسَطْنَا أَيْدِيَنَا، فَقَالَ قَائِلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا قَدْ بَايَعْنَاكَ، فَعَلَامَ نُبَايِعُكَ؟، فَقَالَ: " أَنْ تَعْبُدُوا اللَّهَ، وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا، وَتُقِيمُوا الصَّلَوَاتِ الْخَمْسَ، وَتَسْمَعُوا وَتُطِيعُوا وَأَسَرَّ كَلِمَةً خُفْيَةً، وَلَا تَسْأَلُوا النَّاسَ شَيْئًا"، قَالَ: فَلَقَدْ رَأَيْتُ بَعْضَ أُولَئِكَ النَّفَرِ يَسْقُطُ سَوْطُهُ، فَلَا يَسْأَلُ أَحَدًا يُنَاوِلُهُ إِيَّاهُ.
عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہم سات یا آٹھ یا نو آدمی تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا تم لوگ اللہ کے رسول سے بیعت نہیں کرو گے “ ؟ ہم نے بیعت کے لیے اپنے ہاتھ پھیلا دئیے ( بیعت کرنے کے بعد ) ایک شخص نے کہا : اللہ کے رسول ! ہم آپ سے بیعت تو کر چکے لیکن یہ کس بات پر ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس بات پر کہ اللہ کی عبادت کرو ، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو ، پانچ وقت کی نماز کا اہتمام کرو ، حکم سنو اور مانو “ ، پھر ایک بات چپکے سے فرمائی : ” لوگوں سے کسی چیز کا سوال نہ کرو “ ، راوی کا بیان ہے کہ ( اس بات کا ان لوگوں پر اتنا اثر ہوا کہ ) میں نے ان میں سے بعض کو دیکھا کہ اس کا کوڑا بھی گر جاتا تو کسی سے یہ نہ کہتا کہ کوڑا اٹھا کر مجھے دو ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2867]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ بات عادت میں داخل ہے کہ جب آدمی گھوڑے یا کسی دوسری سواری پر ہو اور اس کا کوڑا گر پڑے تو کسی سے بھی کہتا ہے کہ بھائی ذرا میرا کوڑا اٹھا دو، اور ہر ایک راہ چلتا یہ کام کر دیتا ہے، بلکہ اگر کوئی نہ کرے تو لوگ اس کو برا کہیں گے، مگر ان لوگوں نے جن کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیعت میں یہ فرمایا تھا کہ کسی سے کچھ مت مانگنا، اتنا کام بھی اپنا کسی اور سے کرانا گوارا نہ کیا، یہ بہت بڑا مرتبہ ہے کہ آدمی سوا اپنے مالک کے کسی سے درخواست نہ کرے، نہ کسی سے کچھ مانگے اور چونکہ یہ کام بہت مشکل تھا اور ہر ایک شخص اس کو نہیں کر سکتا تھا، لہذا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آہستہ سے اس کو فرمایا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الزکاة 35 (1043)، سنن ابی داود/الزکاة 27 (1642)، سنن النسائی/الصلاة 5 (461)، (تحفة الأشراف: 10919) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَتَّابٍ مَوْلَى هُرْمُزَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ: " بَايَعْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ، فَقَالَ: فِيمَا اسْتَطَعْتُمْ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سننے اور اطاعت کرنے پر بیعت کی ، تو آپ نے فرمایا : ” جہاں تک تم سے ہو سکے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2868]
💡 وضاحت:
۱؎: سبحان اللہ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ماں باپ سے زیادہ اپنی امت پر مہربان تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جہاں تک تم سے ہو سکے تاکہ وہ لوگ جھوٹے نہ ہوں جب کسی ایسی بات کا ان کو حکم دیا جائے جو ان کی طاقت سے خارج ہو۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 1087)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/119، 172، 185) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: جَاءَ عَبْدٌ فَبَايَعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْهِجْرَةِ، وَلَمْ يَشْعُرِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ عَبْدٌ، فَجَاءَ سَيِّدُهُ يُرِيدُهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " بِعْنِيهِ"، فَاشْتَرَاهُ بِعَبْدَيْنِ أَسْوَدَيْنِ، ثُمَّ لَمْ يُبَايِعْ أَحَدًا بَعْدَ ذَلِكَ، حَتَّى يَسْأَلَهُ: أَعَبْدٌ هُوَ؟.
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک غلام آیا ، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہجرت پر بیعت کر لی ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کے غلام ہونے کا معلوم ہی نہ ہوا ، چنانچہ اس کا مالک جب اسے لینے کے مقصد سے آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ غلام مجھے بیچ دو “ ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دو کالے غلاموں کے عوض خرید لیا ، پھر اس کے بعد کسی سے بھی یہ معلوم کئے بغیر بیعت نہیں کرتے کہ وہ غلام تو نہیں ہے ؟ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2869]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/المساقاة 23 (1602)، سنن ابی داود/البیوع 17 (3358مختصرا)، سنن الترمذی/البیوع 22 (1239)، السیر 36 (1596)، سنن النسائی/البیعة 21 (4189)، البیوع 64 (4625)، (تحفة الأشراف: 2904)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/349، 372) (صحیح)
42: بَابُ : الْوَفَاءِ بِالْبَيْعَةِ
باب: بیعت پوری کرنے کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَأَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ثَلَاثَةٌ لَا يُكَلِّمُهُمُ اللَّهُ، وَلَا يَنْظُرُ إِلَيْهِمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَلَا يُزَكِّيهِمْ، وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ: رَجُلٌ عَلَى فَضْلِ مَاءٍ بِالْفَلَاةِ يَمْنَعُهُ مِنَ ابْنِ السَّبِيلِ، وَرَجُلٌ بَايَعَ رَجُلًا بِسِلْعَةٍ بَعْدَ الْعَصْرِ فَحَلَفَ بِاللَّهِ لَأَخَذَهَا بِكَذَا وَكَذَا فَصَدَّقَهُ وَهُوَ عَلَى غَيْرِ ذَلِكَ، وَرَجُلٌ بَايَعَ إِمَامًا لَا يُبَايِعُهُ إِلَّا لِدُنْيَا فَإِنْ أَعْطَاهُ مِنْهَا وَفَى لَهُ، وَإِنْ لَمْ يُعْطِهِ مِنْهَا لَمْ يَفِ لَهُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” قیامت کے دن اللہ تعالیٰ تین آدمیوں سے نہ بات کرے گا ، نہ ان کی طرف دیکھے گا ، نہ ہی انہیں پاک کرے گا ، اور ان کے لیے درد ناک عذاب ہے : ایک وہ آدمی جس کے پاس چٹیل میدان میں فالتو پانی ہو اور مسافر کو پانی لینے سے منع کرے ، دوسرا وہ شخص جس نے عصر کے بعد کسی کے ہاتھ سامان بیچا اور اللہ کی قسم کھا کر کہا کہ اس نے یہ چیز اتنے اتنے میں لی ہے ، پھر خریدار نے اس کی بات کا یقین کر لیا ، حالانکہ اس نے غلط بیانی سے کام لیا تھا ، تیسرا وہ آدمی جس نے کسی امام کے ہاتھ پر بیعت کی ، اور مقصد محض دنیاوی فائدہ تھا ، چنانچہ اگر اس نے اسے کچھ دیا تو بیعت کو پورا کیا ، اور اگر نہیں دیا تو پورا نہیں کیا “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2870]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الشہادات 22 (2672)، الأحکام 48 (7212)، صحیح مسلم/الإیمان 46 (108)، البیوع 62 (1566)، سنن الترمذی/السیر 35 (1595)، سنن النسائی/البیوع 6 (4467)، (تحفة الأشراف: 12522)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/253، 480)، (یہ حدیث مکرر ہے دیکھئے: 2207) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، عَنْ حَسَنِ بْنِ فُرَاتٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ بَنِي إِسْرَائِيلَ كَانَتْ تَسُوسُهُمْ أَنْبِيَاؤُهُمْ، كُلَّمَا ذَهَبَ نَبِيٌّ خَلَفَهُ نَبِيٌّ، وَأَنَّهُ لَيْسَ كَائِنٌ بَعْدِي نَبِيٌّ فِيكُمْ"، قَالُوا: فَمَا يَكُونُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟، قَالَ: " تَكُونُ خُلَفَاءُ فَيَكْثُرُوا"، قَالُوا: فَكَيْفَ نَصْنَعُ؟، قَالَ: " أَوْفُوا بِبَيْعَةِ الْأَوَّلِ، فَالْأَوَّلِ أَدُّوا الَّذِي عَلَيْكُمْ، فَسَيَسْأَلُهُمُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَنِ الَّذِي عَلَيْهِمْ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بنی اسرائیل کی حکومت ان کے انبیاء چلایا کرتے تھے ، ایک نبی چلا جاتا تو دوسرا اس کی جگہ لے لیتا ، لیکن میرے بعد تم میں کوئی نبی ہونے والا نہیں “ ، لوگوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! پھر کیا ہو گا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” خلیفہ ہوں گے اور بہت ہوں گے “ ، لوگوں نے کہا : پھر کیسے کریں گے ؟ فرمایا : ” پہلے کی بیعت پوری کرو ، پھر اس کے بعد والے کی ، اور اپنا حق ادا کرو ، اللہ تعالیٰ ان سے ان کے حق کے بارے میں سوال کرے گا “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2871]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/أحادیث الأنبیاء 50 (3455)، صحیح مسلم/الإمارة 10 (1842)، (تحفة الأشراف: 13417)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/297) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يُنْصَبُ لِكُلِّ غَادِرٍ لِوَاءٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَيُقَالُ: هَذِهِ غَدْرَةُ فُلَانٍ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” قیامت کے دن ہر دغا باز کے لیے ایک جھنڈا نصب کیا جائے گا ، پھر کہا جائے گا کہ یہ فلاں شخص کی دغا بازی ہے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2872]
قال الشيخ الألباني: صحيح متواتر
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الجزیة والموادعة 22 (3186)، صحیح مسلم/الجہاد 4 (1736)، (تحفة الأشراف: 9250)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/411، 417، 441)، سنن الدارمی/البیوع 11 (2584) (صحیح متواتر)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى اللَّيْثِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، أَنْبَأَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَلَا إِنَّهُ يُنْصَبُ لِكُلِّ غَادِرٍ لِوَاءٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِقَدْرِ غَدْرَتِهِ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” خبردار ! قیامت کے دن ہر دغا باز کے لیے اس کی دغا بازی کے بقدر ایک جھنڈا نصب کیا جائے گا “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2873]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 4368، ومصباح الزجاجة: 1014)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الجہاد 4 (1738)، سنن الترمذی/الفتن 26 (2191) (صحیح) (سند میں علی بن زید بن جدعان ضعیف راوی ہیں، لیکن متابعات و شواہد کی بناء پر حدیث صحیح ہے)
43: بَابُ : بَيْعَةِ النِّسَاءِ
باب: عورتوں کی بیعت کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ مُحَمَّدَ بْنَ الْمُنْكَدِرِ ، قَالَ: سَمِعْتُ أُمَيْمَةَ بِنْتَ رُقَيْقَةَ ، تَقُولُ: جِئْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نِسْوَةٍ نُبَايِعُهُ، فَقَالَ لَنَا: " فِيمَا اسْتَطَعْتُنَّ وَأَطَقْتُنَّ، إِنِّي لَا أُصَافِحُ النِّسَاءَ".
امیمہ بنت رقیقہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں کچھ عورتوں کے ہمراہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیعت کرنے آئی ، تو آپ نے ہم سے فرمایا : ” ( امام کی بات سنو اور مانو ) جہاں تک تمہارے اندر طاقت و قوت ہو ، میں عورتوں سے ہاتھ نہیں ملاتا “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2874]
💡 وضاحت:
۱؎: جب نبی معصوم صلی اللہ علیہ وسلم نے غیر عورتوں سے ہاتھ نہیں ملایا تو پیروں اور مرشدوں کے لیے کیونکر جائز ہو گا کہ وہ غیر عورتوں سے ہاتھ ملائیں یا محرم کی طرح بے حجاب ہو کر ان سے خلوت کریں، اور جو کوئی پیر اس زمانہ میں ایسی حرکت کرتا ہے، تو یقین جان لیں کہ وہ شیطان کا مرید ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/السیر 37 (1097)، سنن النسائی/البیعة 18 (4186)، (تحفة الأشراف: 15781)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/البیعة 1 (2) مسند احمد (5/323، 6/357) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ الْمِصْرِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: " كَانَتِ الْمُؤْمِنَاتُ إِذَا هَاجَرْنَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يُمْتَحَنَّ بِقَوْلِ اللَّهِ: يَأَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا جَاءَكَ الْمُؤْمِنَاتُ يُبَايِعْنَكَ سورة الممتحنة آية 12 إِلَى آخِرِ الْآيَةِ، قَالَتْ عَائِشَةُ: فَمَنْ أَقَرَّ بِهَا مِنَ الْمُؤْمِنَاتِ فَقَدْ أَقَرَّ بِالْمِحْنَةِ، فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَقْرَرْنَ بِذَلِكَ مِنْ قَوْلِهِنَّ، قَالَ لَهُن رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " انْطَلِقْنَ فَقَدْ بَايَعْتُكُنَّ"، لَا. وَاللَّهِ مَا مَسَّتْ يَدُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَ امْرَأَةٍ قَطُّ، غَيْرَ أَنَّهُ يُبَايِعُهُنَّ بِالْكَلَامِ، قَالَتْ عَائِشَةُ: وَاللَّهِ مَا أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى النِّسَاءِ، إِلَّا مَا أَمَرَهُ اللَّهُ، وَلَا مَسَّتْ كَفُّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَفَّ امْرَأَةٍ قَطُّ، وَكَانَ يَقُولُ لَهُنَّ: إِذَا أَخَذَ عَلَيْهِنَّ: " قَدْ بَايَعْتُكُنَّ" كَلَامًا.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ مومن عورتیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہجرت کر کے آتیں تو اللہ تعالیٰ کے فرمان : «يا أيها النبي إذا جاءك المؤمنات يبايعنك» ( سورة الممتحنة : 12 ) ” اے نبی ! جب مسلمان عورتیں آپ سے ان باتوں پر بیعت کرنے آئیں کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں گی چوری نہ کریں گی ، زناکاری نہ کریں گی ، اپنی اولاد کو نہ مار ڈالیں گی ، اور کوئی ایسا بہتان نہ باندھیں گی ، جو خود اپنے ہاتھوں پیروں کے سامنے گھڑ لیں اور کسی نیک کام میں تیری بےحکمی نہ کریں گی ، تو آپ ان سے بیعت کر لیا کریں اور ان کے لیے اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کریں بیشک اللہ تعالیٰ بخشنے اور معاف کرنے والا ہے “ کی رو سے ان کا امتحان لیا جاتا ، عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ مومن عورتوں میں سے جو اس آیت کے مطابق اقرار کرتی وہ امتحان میں پوری اتر جاتی ، عورتیں اپنی زبان سے جب اس کا اقرار کر لیتیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے : ” جاؤ میں نے تم سے بیعت لے لی ہے “ اللہ کی قسم ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ ہرگز کسی عورت کے ہاتھ سے کبھی نہیں لگا ، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان عورتوں سے بیعت لیتے تو صرف زبان سے اتنا کہتے : ” میں نے تم سے بیعت لے لی “ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : اللہ کی قسم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں سے صرف وہی عہد لیا جس کا حکم آپ کو اللہ تعالیٰ نے دیا تھا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک ہتھیلی نے کبھی کسی ( نامحرم ) عورت کی ہتھیلی کو مس نہ کیا ، آپ ان سے عہد لیتے وقت یہ فرماتے : ” میں نے تم سے بیعت لے لی “ صرف زبانی یہ کہتے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2875]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الطلاق 20 (5288 تعلیقاً)، صحیح مسلم/الإمارة 21 (1866)، سنن الترمذی/تفسیرالقرآن 60 (2) (3306)، (تحفة الأشراف: 16697) (صحیح)
44: بَابُ : السَّبَقِ وَالرِّهَانِ
باب: گھوڑ دوڑ میں مقابلہ کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ أَدْخَلَ فَرَسًا بَيْنَ فَرَسَيْنِ وَهُوَ لَا يَأْمَنُ أَنْ يَسْبِقَ، فَلَيْسَ بِقِمَارٍ، وَمَنْ أَدْخَلَ فَرَسًا بَيْنَ فَرَسَيْنِ وَهُوَ يَأْمَنُ أَنْ يَسْبِقَ، فَهُوَ قِمَارٌ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس شخص نے دو گھوڑوں کے مابین ایک گھوڑا داخل کیا ، اور اسے جیتنے کا یقین نہیں تو یہ جوا نہیں ہے ، لیکن جس شخص نے دو گھوڑوں کے مابین ایک گھوڑا داخل کیا ، اور اسے جیتنے کا یقین ہے تو یہ جوا ہے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2876]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ سنن أبي داود (2579) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 481
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الجہاد 49 (2579)، (تحفة الأشراف: 13121)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/505) (ضعیف) (سفیان بن حسین کی زہری سے روایت میں ضعف ہے، نیز ملاحظہ ہو: الإروا ء: 1509)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: " ضَمَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْخَيْلَ، فَكَانَ يُرْسِلُ الَّتِي ضُمِّرَتْ مِنْ الْحَفْيَاءِ إِلَى ثَنِيَّةِ الْوَدَاعِ، وَالَّتِي لَمْ تُضَمَّرْ مِنْ ثَنِيَّةِ الْوَدَاعِ إِلَى مَسْجِدِ بَنِي زُرَيْقٍ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھوڑوں کو پھرتیلا بنایا ، آپ پھرتیلے چھریرے بدن والے گھوڑوں کو مقام حفیاء سے ثنیۃ الوداع تک اور غیر پھرتیلے گھوڑوں کو ثنیۃ الوداع سے مسجد بنی زریق تک دوڑاتے تھے ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2877]
💡 وضاحت:
۱؎: «تضمیر» (پھرتیلا بنانا) یہ ہے کہ گھوڑے کو پہلے خوب کھلایا جائے یہاں تک کہ موٹا ہو جائے، پھر اس کا چار ہ آہستہ آہستہ کم کر دیا جائے، اور اسے ایک کوٹھری میں بند کر کے اس پر جھول ڈال دی جائے تاکہ گرم ہو اور اسے خوب پسینہ آ جائے، ایسا کرنے سے گھوڑا سبک اور تیز رفتار ہو جاتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الإمارة 25 (1870)، (تحفة الأشراف: 7956)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الصلاة 41 (120)، الجہاد 56 (2868)، 57 (2869)، 58 (2870)، الاعتصام 16 (7336)، سنن ابی داود/الجہاد 67 (2575)، سنن الترمذی/الجہاد 22 (1699)، سنن النسائی/الخیل 12 (3614)، موطا امام مالک/ الجہاد 19 (45)، مسند احمد (2/5، 55، 56)، سنن الدارمی/الجہاد 36 (2473) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي الْحَكَمِ مَوْلَى بَنِي لَيْثٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا سَبْقَ إِلَّا فِي خُفٍّ أَوْ حَافِرٍ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مسابقت ( آگے بڑھنے ) کی شرط گھوڑے اور اونٹ کے علاوہ کسی میں جائز نہیں “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2878]
💡 وضاحت:
۱؎: ترمذی اور ابوداود کی روایت میں «أو نصل» (یا تیر میں) زیادہ ہے،مطلب یہ ہے کہ ان تینوں میں آگے بڑھنے کی شرط لگانا اور جیتنے پر مال لینا جائز ہے، تیر میں یہ شرط ہے کہ کس کا دور جاتا ہے، علامہ طیبی کہتے ہیں کہ گدھے اور خچر بھی گھوڑے کی طرح ہیں، ان میں بھی شرط درست ہو گی، لیکن حدیث میں یہ تین چیزیں مذکور ہیں: «نصل» یعنی تیر، «خف» یعنی اونٹ، «حافر» یعنی گھوڑا، ایک شخص نے حدیث میں اپنی طرف سے یہ بڑھا دیا «أو جناح» یعنی پرندہ اڑانے میں شرط لگانا درست ہے جیسے کبوتر باز کیا کرتے ہیں اور یہ لفظ اس وقت روایت کیا جب ایک عباسی خلیفہ کبوتر بازی کر رہا تھا، یہ شخص خلیفہ کے پاس گیا اور اس کا دل خوش کرنے اور کبوتر بازی کو جائز کرنے کی خاطر حدیث میں یہ لفظ اپنی طرف سے بڑھا دیا اور اللہ کا خوف بالکل نہ کیا، اللہ تعالیٰ ائمہ حدیث کو جزائے خیر دے اگر وہ محنت کر کے صحیح حدیثوں کو جھوٹی اور ضعیف حدیثوں سے الگ نہ کرتے تو دین برباد ہو جاتا، حدیث سے یہ اہتمام اس امت سے خاص ہے، اگلی امتوں والے کتاب الہی کی بھی اچھی طرح حفاظت نہ کر سکے حدیث کا کیا ذکر «ذلك فضل الله يؤتيه من يشاء والله ذو الفضل العظيم» (سورة الجمعة: 4)۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن النسائی/الخیل 13 (3615)، (تحفة الأشراف: 14877)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الجہاد 67 (2574)، سنن الترمذی/الجہاد 22 (1700)، مسند احمد (2/256، 358، 425، 474) (صحیح)
45: بَابُ : النَّهْيِ أَنْ يُسَافَرَ بِالْقُرْآنِ إِلَى أَرْضِ الْعَدُوِّ
باب: دشمن کے ملک میں قرآن لے کر جانے کی ممانعت۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ ، وَأَبُو عُمَرَ ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ يُسَافَرَ بِالْقُرْآنِ إِلَى أَرْضِ الْعَدُوِّ، مَخَافَةَ أَنْ يَنَالَهُ الْعَدُوُّ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دشمن کی سر زمین میں قرآن لے کر جانے کی ممانعت اس خطرے کے پیش نظر فرمائی کہ کہیں اسے دشمن پا نہ لیں ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2879]
💡 وضاحت:
۱؎: اور اس کو ضائع کر دیں یا اس کی اہانت اور بے حرمتی کریں، ممکن ہے کہ یہ ممانعت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد سے خاص ہو جب مصحف کے نسخے بہت کم تھے، اور اکثر ایسا تھا کہ مصحف کی بعض آیتیں یا بعض سورتیں خاص خاص لوگوں کے پاس تھیں اور پورا مصحف کسی کے پاس نہ تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ڈر ہوا کہ کہیں یہ مصحف تلف ہو جائیں اور قرآن کا کوئی جزء مسلمانوں سے بالکل اٹھ جائے، لیکن اس زمانہ میں جب قرآن مجید کے لاکھوں نسخے چھپے موجود ہیں اور قرآن کے ہزاروں بلکہ لاکھوں حفاظ موجود ہیں، یہ اندیشہ بالکل نہیں رہا، جب کہ قرآن کریم کی اہانت اور بے حرمتی کا اندیشہ اب بھی باقی ہے، سبحان اللہ، اگلی امتوں میں سے کسی بھی امت میں ایک شخص بھی ایسا نہیں ملتا تھا جو پوری تورات یا انجیل کا حافظ ہو، اب مسلمانوں میں ہر بستی میں سینکڑوں حافظ موجود ہیں، یہ فضیلت بھی اللہ تعالی نے اسی امت کو دی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الجہاد 129 (2990)، صحیح مسلم/الإمارة 24 (1869)، سنن ابی داود/الجہاد 88 (2610)، (تحفة الأشراف: 8347)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الجہاد 2 (7)، مسند احمد (2/6، 7، 10، 55، 63، 76، 128) (صحیح)
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَنَّهُ كَانَ يَنْهَى أَنْ يُسَافَرَ بِالْقُرْآنِ إِلَى أَرْضِ الْعَدُوِّ، مَخَافَةَ أَنْ يَنَالَهُ الْعَدُوُّ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دشمن کی سر زمین میں قرآن لے کر جانے سے منع فرماتے تھے ، کیونکہ یہ خطرہ ہے کہ کہیں دشمن اسے پا نہ لیں ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2880]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی اس کی بے حرمتی کر بیٹھیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الإمارة 24 (1869)، (تحفة الأشراف: 8286) (صحیح)
46: بَابُ : قِسْمَةِ الْخُمُسِ
باب: (مال غنیمت میں سے) خمس کی تقسیم کا بیان۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ سُوَيْدٍ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ أَنَّ جُبَيْرَ بْنَ مُطْعِمٍ ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ جَاءَ هُوَ وَعُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكَلِّمَانِهِ، فِيمَا قَسَمَ مِنْ خُمُسِ خَيْبَرَ لِبَنِي هَاشِمٍ، وَبَنِي الْمُطَّلِبِ، فَقَالَا: قَسَمْتَ لِإِخْوَانِنَا بَنِي هَاشِمٍ، وَبَنِي الْمُطَّلِبِ، وَقَرَابَتُنَا وَاحِدَةٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّمَا أَرَى بَنِي هَاشِمٍ، وَبَنِي الْمُطَّلِبِ شَيْئًا وَاحِدًا".
جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ وہ اور عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، اور خیبر کے خمس مال میں سے جو حصہ آپ نے بنی ہاشم اور بنی مطلب کو دیا تھا اس کے بارے میں گفتگو کرنے لگے ، چنانچہ انہوں نے کہا : آپ نے ہمارے بھائی بنی ہاشم اور بنی مطلب کو تو دے دیا ، جب کہ ہماری اور بنی مطلب کی قرابت بنی ہاشم سے یکساں ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں بنی ہاشم اور بنی مطلب کو ایک ہی سمجھتا ہوں “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2881]
💡 وضاحت:
۱؎: عبد مناف کے چار بیٹے تھے: ہاشم، مطلب، نوفل اور عبد شمس، جبیر نوفل کی اولاد میں سے تھے اور عثمان عبد شمس کی اولاد میں سے، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ذوی القربی کا حصہ ہاشم اور مطلب کو دیا، اس وقت ان دونوں نے اعتراض کیا کہ بنی ہاشم کی فضیلت کا تو ہمیں انکار نہیں کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بنی ہاشم کی اولاد میں سے ہیں، لیکن بنی مطلب کو ہمارے اوپر ترجیح کی کوئی وجہ نہیں، ہماری اور ان کی قرابت آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے یکساں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سچ یہی ہے لیکن بنی مطلب ہمیشہ یہاں تک کہ جاہلیت کے زمانہ میں بھی بنی ہاشم کے ساتھ رہے تو وہ اور بنی ہاشم ایک ہی ہیں، برخلاف بنی امیہ کے یعنی عبدشمس کی اولاد کے کیونکہ امیہ عبد شمس کا بیٹا تھا جس کی اولاد میں عثمان اور معاویہ اور تمام بنی امیہ تھے کہ ان میں اور بنی ہاشم میں کبھی اتفاق نہیں رہا، اور جب قریش نے قسم کھائی تھی کہ بنی ہاشم اور بنی مطلب سے نہ شادی بیاہ کریں گے، نہ میل جول رکھیں گے جب تک وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہمارے حوالہ نہ کر دیں، اس وقت بھی بنی مطلب اور بنی ہاشم ساتھ ہی رہے، پس اس لحاظ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ذوی القربی کا حصہ دونوں کو دلایا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الخمس 17 (3140)، المناقب 2 (3502)، المغازي 39 (4229)، سنن ابی داود/الخراج 20 2978، 2989)، سنن النسائی/قسم الفئی 1 (4141)، (تحفة الأشراف: 3185)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/81، 83، 85) (صحیح)
← پچھلی کتاب #27 فہرست کتب (All Books) اگلی کتاب #29 →