سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 2844
Sunan Ibn Majah 2844
کتاب #25: کتاب: جہاد کے فضائل و احکام
31: بَابُ : التَّحْرِيقِ بِأَرْضِ الْعَدُوِّ
باب: دشمن کی سر زمین کو آگ لگانے کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَرَّقَ نَخْلَ بَنِي النَّضِيرِ، وَقَطَعَ وَهِيَ الْبُوَيْرَةُ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: مَا قَطَعْتُمْ مِنْ لِينَةٍ أَوْ تَرَكْتُمُوهَا قَائِمَةً سورة الحشر آية 5، الْآيَةَ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ بنو نضیر کے کھجور کا باغ جلا دیا ، اور کاٹ ڈالا ، اس باغ کا نام بویرہ تھا ، چنانچہ اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان نازل ہوا : «ما قطعتم من لينة أو تركتموها قائمة» یعنی ” تم نے کھجوروں کے جو درخت کاٹ ڈالے یا جنہیں تم نے ان کی جڑوں پہ باقی رہنے دیا یہ سب اللہ تعالیٰ کے حکم سے تھا ، اور اس لیے بھی کہ فاسقوں کو اللہ تعالیٰ رسوا کرے “ ( سورۃ الحشر : ۵ ) ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2844]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الحرث والمزارعة 4 (2356)، الجہاد 154 (3020)، المغازي 14 (4031)، صحیح مسلم/الجہاد 10 (1746)، سنن ابی داود/الجہاد 91 (2615)، سنن الترمذی/التفسیر 59 (3302، السیر 4 (1552)، (تحفة الأشراف: 8267)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/123، 140)، سنن الدارمی/السیر 23 (2503) (صحیح)