سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 2807
Sunan Ibn Majah 2807
کتاب #25: کتاب: جہاد کے فضائل و احکام
18: بَابُ : السِّلاَحِ
باب: اسلحہ کا بیان۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ حَبِيبٍ ، قَالَ: دَخَلْنَا عَلَى أَبِي أُمَامَةَ فَرَأَى فِي سُيُوفِنَا شَيْئًا مِنْ حِلْيَةِ فِضَّةٍ فَغَضِبَ وَقَالَ: " لَقَدْ فَتَحَ الْفُتُوحَ قَوْمٌ مَا كَانَ حِلْيَةُ سُيُوفِهِمْ مِنَ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ، وَلَكِنْ الْآنُكُ وَالْحَدِيدُ وَالْعَلَابِيُّ"، قَالَ أَبُو الْحَسَنِ الْقَطَّانُ: الْعَلَابِيُّ الْعَصَبُ.
سلیمان بن حبیب کہتے ہیں کہ ہم ابوامامہ رضی اللہ عنہ کے پاس گئے ، تو وہ ہماری تلواروں میں چاندی کا کچھ زیور دیکھ کر غصہ ہو گئے ، اور کہنے لگے : لوگوں ( صحابہ کرام ) نے بہت ساری فتوحات کیں ، لیکن ان کی تلواروں کا زیور سونا چاندی نہ تھا ، بلکہ سیسہ ، لوہا اور علابی تھا ۔ ابوالحسن قطان کہتے ہیں : علابی : اونٹ کا پٹھا ( چمڑا ) ہے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2807]
قال الشيخ الألباني:
صحيح الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الجہاد 83 (2909)، (تحفة الأشراف: 4874) (صحیح)