سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 2832
Sunan Ibn Majah 2832
کتاب #25: کتاب: جہاد کے فضائل و احکام
27: بَابُ : الاِسْتِعَانَةِ بِالْمُشْرِكِينَ
باب: جنگ میں کفار و مشرکین سے مدد لینے کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ نِيَارٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّا لَا نَسْتَعِينُ بِمُشْرِكٍ"، قَالَ عَلِيٌّ فِي حَدِيثِهِ: عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ أَوْ زَيْدٍ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہم کسی مشرک سے مدد نہیں لیتے “ ۔ علی بن محمد نے اپنی روایت میں عبداللہ بن یزید یا زید کہا ہے ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2832]
💡 وضاحت:
۱؎: کافر و مشرک سے جہاد میں بلاضرورت مدد لینا جائز نہیں، صحیح مسلم میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مشرک نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جہاد کا قصد کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوٹ جاؤ، میں مشرک سے مدد نہیں چاہتا، جب وہ اسلام لایا تو اس سے مدد لی۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الجہاد 51 (1817)، سنن ابی داود/الجہاد 153 (2732)، سنن الترمذی/السیر 10 (1558)، (تحفة الأشراف: 16358)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/67، 148)، سنن الدارمی/السیر 54 (2538) (صحیح)