سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 2758
Sunan Ibn Majah 2758
کتاب #25: کتاب: جہاد کے فضائل و احکام
3: بَابُ : مَنْ جَهَّزَ غَازِيًا
باب: مجاہد کو سامان جہاد فراہم کرنے کی فضیلت۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْهَادِ ، عَنْ الْوَلِيدِ بْنِ أَبِي الْوَلِيدِ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سُرَاقَةَ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ جَهَّزَ غَازِيًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ حَتَّى يَسْتَقِلَّ، كَانَ لَهُ مِثْلُ أَجْرِهِ حَتَّى يَمُوتَ أَوْ يَرْجِعَ".
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : ” جو شخص اللہ کی راہ کے کسی مجاہد کو ساز و سامان سے لیس کر دے یہاں تک کہ اسے مزید کسی چیز کی ضرورت نہ رہ جائے تو اسے بھی اتنا ہی ثواب ملے گا جتنا مجاہد کو ، یہاں تک کہ وہ مر جائے یا اپنے گھر لوٹ آئے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2758]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 10605، ومصباح الزجاجة: 974)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/20، 53) (ضعیف) (سند میں ولید بن أبو ولید ضعیف ہے، اور عثمان بن عبد اللہ کی عمر رضی اللہ عنہ سے رو ایت مرسل و منقطع ہے)