سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 2859
Sunan Ibn Majah 2859
کتاب #25: کتاب: جہاد کے فضائل و احکام
39: بَابُ : طَاعَةِ الإِمَامِ
باب: امام کی اطاعت و فرماں برداری کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ أَطَاعَنِي فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ، وَمَنْ عَصَانِي فَقَدْ عَصَى اللَّهَ، وَمَنْ أَطَاعَ الْإِمَامَ فَقَدْ أَطَاعَنِي، وَمَنْ عَصَى الْإِمَامَ فَقَدْ عَصَانِي".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے میری بات مانی اس نے اللہ کی بات مانی ، اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے اللہ کی نافرمانی کی ، ( اسی طرح ) جس نے امام کی بات مانی اس نے میری بات مانی ، اور جس نے امام کی نافرمانی کی اس نے میری نا فرمانی کی “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2859]
💡 وضاحت:
۱؎: حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ امام کی اطاعت فرض ہے اور اس کی نافرمانی رسول کی نافرمانی ہے مگر یہ جب تک ہے کہ امام کا حکم شریعت کے خلاف نہ ہو، اگر مسئلہ اختلافی ہو اور امام ایک قول پر چلنے کا حکم دے تو اس کی اطاعت کرنی چاہئے، لیکن جو بات صریح اور بالاتفاق شریعت کے خلاف ہو اس میں اطاعت نہ کرنی چاہئے، دوسری حدیث میں ہے کہ خالق کی معصیت میں کسی مخلوق کی اطاعت نہیں ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: (3) (تحفة الأشراف: 12477) (صحیح)