سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 2792
Sunan Ibn Majah 2792
کتاب #25: کتاب: جہاد کے فضائل و احکام
15: بَابُ : الْقِتَالِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى
باب: اللہ کی راہ میں لڑنے کا ثواب۔
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ يُخَامِرَ ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ قَاتَلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ رَجُلٍ مُسْلِمٍ فُوَاقَ نَاقَةٍ وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ".
معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہو ے سنا : ” جو مسلمان شخص اللہ کے راستے میں اونٹنی کا دودھ دوھنے کے درمیانی وقفہ کے برابر لڑا ، اس کے لیے جنت واجب ہو گئی “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2792]
💡 وضاحت:
۱؎: اونٹنی کا دددھ دوھنے کے درمیانی وقفہ سے مراد یا تو وہ ٹھہرنا ہے جو ایک وقت سے دوسرے وقت تک ہوتا ہے مثلاً صبح کو دودھ دوہ کر پھر شام کو دوہتے ہیں تو صبح سے شام تک لڑے یہ مطلب ہے اور صحیح یہ ہے کہ وہ ٹھہرنا مراد ہے جو دودھ دوہنے میں تھوڑی دیر ٹھہر جاتے ہیں تاکہ اور دودھ تھن میں اتر آئے، پھر دوہتے ہیں یہ چار پانچ منٹ ہوتے ہیں، تو مطلب یہ ہو گا کہ جو کوئی اتنی دیر تک بھی اللہ کی راہ میں کافروں سے لڑا تو اس کے لئے جنت واجب ہو گئی۔ سبحان اللہ جہاد کی فضیلت کا کیا کہنا۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الجہاد 42 (2541)، سنن النسائی/الجہاد 25 (3143)، سنن الترمذی/فضائل الجہاد 19 (1654)، 21 (1956)، (تحفة الأشراف: 11359)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/230، 235، 243، 244، سنن الدارمی/الجہاد 5 (2439) (صحیح)