سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 2800
Sunan Ibn Majah 2800
کتاب #25: کتاب: جہاد کے فضائل و احکام
16: بَابُ : فَضْلِ الشَّهَادَةِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ
باب: اللہ کی راہ میں شہادت کی فضیلت۔
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَرَامِيُّ الْأَنْصَارِيُّ ، سَمِعْتُ طَلْحَةَ بْنَ خِرَاشٍ ، سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: لَمَّا قُتِلَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ حَرَامٍ يَوْمَ أُحُدٍ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا جَابِرُ، أَلَا أُخْبِرُكَ مَا قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِأَبِيكَ؟ قُلْتُ: بَلَى، قَالَ: " مَا كَلَّمَ اللَّهُ أَحَدًا إِلَّا مِنْ وَرَاءِ حِجَابٍ وَكَلَّمَ أَبَاكَ كِفَاحًا، فَقَالَ: يَا عَبْدِي تَمَنَّ عَلَيَّ أُعْطِكَ، قَالَ: يَا رَبِّ تُحْيِينِي فَأُقْتَلُ فِيكَ ثَانِيَةً، قَالَ: إِنَّهُ سَبَقَ مِنِّي أَنَّهُمْ إِلَيْهَا لَا يُرْجَعُونَ، قَالَ: يَا رَبِّ فَأَبْلِغْ مَنْ وَرَائِي"، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ هَذِهِ الْآيَةَ وَلا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا سورة آل عمران آية 169 الْآيَةَ كُلَّهَا.
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جب جنگ احد میں ( ان کے والد ) عبداللہ بن عمرو بن حرام رضی اللہ عنہ قتل کر دئیے گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جابر ! اللہ تعالیٰ نے تمہارے والد سے جو فرمایا ہے کیا میں تمہیں وہ نہ بتاؤں “ ؟ میں نے کہا : کیوں نہیں ! ضرور بتائیے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ نے جب بھی کسی سے بات کی تو پردہ کے پیچھے سے لیکن تمہارے والد سے آمنے سامنے بات کی ، اور کہا : اے میرے بندے ! مجھ سے اپنی خواہش کا اظہار کرو ، میں تجھے عطا کروں گا ، انہوں نے کہا : اے میرے رب ! تو مجھے دوبارہ زندہ کر دے کہ میں دوبارہ تیرے راستے میں مارا جاؤں ، اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اس بات کا پہلے ہی فیصلہ ہو چکا ہے کہ دنیا میں دوبارہ لوٹایا نہیں جائے گا ، انہوں نے کہا : اے میرے رب ! میرے پسماندگان کو ( میرا حال ) پہنچا دے ، تو یہ آیت نازل ہوئی : «ولا تحسبن الذين قتلوا في سبيل الله أمواتا» ( سورۃ آل عمران : ۱۶۹ ) ” جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے گئے انہیں تم مردہ مت سمجھو “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2800]
💡 وضاحت:
۱؎: اس سے بدھ مت والوں اور ہندؤں کا مذہب باطل ہوتا ہے، ان کے نزدیک سب آدمی اپنے اپنے اعمال کے موافق سزا اور جزا پا کر پھر دنیا میں جنم لیتے ہیں، مگر جوپرم ہنس یعنی کامل فقیر اللہ کی ذات میں غرق ہو جاتا ہے اس کا جنم نہیں ہوتا۔
قال الشيخ الألباني:
حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 2257 (ألف)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/تفسیر القرآن (3010)، تقدم برقم: 190 (حسن)