سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 2766
Sunan Ibn Majah 2766
کتاب #25: کتاب: جہاد کے فضائل و احکام
7: بَابُ : فَضْلِ الرِّبَاطِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ
باب: اللہ کے راستے میں مورچہ بندی کی فضیلت۔
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، قَالَ: خَطَبَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ النَّاسَ فَقَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنِّي سَمِعْتُ حَدِيثًا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَمْنَعْنِي أَنْ أُحَدِّثَكُمْ بِهِ إِلَّا الضِّنُّ بِكَمْ وَبِصَحَابَتِكُمْ فَلْيَخْتَرْ مُخْتَارٌ لِنَفْسِهِ أَوْ لِيَدَعْ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ رَابَطَ لَيْلَةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ سُبْحَانَهُ كَانَتْ كَأَلْفِ لَيْلَةٍ صِيَامِهَا وَقِيَامِهَا".
عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے لوگوں میں خطبہ دیا اور فرمایا : لوگو ! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک حدیث سنی ہے جو میں نے تم سے صرف اس لیے نہیں بیان کی کہ میں تمہارا اور تمہارے ساتھ رہنے کا بہت حریص ہوں ۱؎ ، اب اس پر عمل کرنے اور نہ کرنے کا اختیار ہے ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے : ” جس نے اللہ کے راستے میں ایک رات بھی سرحد پر پڑاؤ ڈالا ، تو اسے ہزار راتوں کے صیام و قیام کے مثل ثواب ملے گا “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2766]
💡 وضاحت:
۱؎: کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ حدیث سنتے ہی تم جہاد کے لئے نکل جاؤ اور میں اکیلا رہ جاؤں۔
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف ¤ عبد الرحمٰن بن زيد بن أسلم ضعيف ¤ وللحديث شاھد ضعيف عند الحاكم (2/ 81) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 479
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 9816، ومصباح الزجاجة: 976)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/61، 64) (ضعیف جدا) (عبدالرحمن بن زید بن اسلم ضعیف ہیں، ترمذی اور نسائی کے یہاں یہ روایت صِيَامِهَا وَقِيَامِهَا کے بغیر موجود ہے)