سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 2764
Sunan Ibn Majah 2764
کتاب #25: کتاب: جہاد کے فضائل و احکام
6: بَابُ : مَنْ حَبَسَهُ الْعُذْرُ عَنِ الْجِهَادِ
باب: جو شخص عذر کی وجہ سے جہاد میں شریک نہ ہو اس کے حکم کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: لَمَّا رَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ غَزْوَةِ تَبُوكَ فَدَنَا مِنَ الْمَدِينَةِ قَالَ: " إِنَّ بِالْمَدِينَةِ لَقَوْمًا مَا سِرْتُمْ مِنْ مَسِيرٍ وَلَا قَطَعْتُمْ وَادِيًا إِلَّا كَانُوا مَعَكُمْ فِيهِ"، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَهُمْ بِالْمَدِينَةِ؟ قَالَ: " وَهُمْ بِالْمَدِينَةِ، حَبَسَهُمُ الْعُذْرُ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ تبوک سے لوٹے ، اور مدینہ کے نزدیک پہنچے ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مدینہ میں کچھ ایسے لوگ ہیں کہ جس راہ پر تم چلے اور جس وادی سے بھی تم گزرے وہ تمہارے ہمراہ رہے “ ، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا : مدینہ میں رہ کر بھی وہ ہمارے ساتھ رہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہاں ، مدینہ میں رہ کر بھی ، عذر نے انہیں روک رکھا تھا “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2764]
💡 وضاحت:
۱؎: مثلاً بیماری وغیرہ تو ایسے شخص کو جہاد کا ثواب ملے گا جب اس کی نیت جہاد کی ہو، لیکن عذر کی وجہ سے مجبور ہو کر رک جائے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 758)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الجہاد 35 (2839)، صحیح مسلم/الإمارة 48 (1911)، سنن ابی داود/الجہاد 20 (2508) (صحیح)