كِتَاب الْأَطْعِمَةِ
کتاب: کھانے کے متعلق احکام و مسائل
|
1: باب مَا جَاءَ فِي إِجَابَةِ الدَّعْوَةِ
باب: دعوت قبول کرنے کے حکم کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا دُعِيَ أَحَدُكُمْ إِلَى الْوَلِيمَةِ فَلْيَأْتِهَا".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی ولیمہ کی دعوت میں مدعو کیا جائے تو اسے چاہیئے کہ اس میں آئے ۱؎“۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3736]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ولیمہ کی دعوت کو قبول کرنا واجب ہے، إلا یہ کہ وہاں کوئی خلاف شرع بات پائی جائے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح بخاري (5173) صحيح مسلم (1429)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/النکاح 71 (5173)، صحیح مسلم/النکاح 16 (1429)، (تحفة الأشراف: 8339، 7949)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/النکاح 25 (1914)، موطا امام مالک/النکاح 21(49)، مسند احمد (2/20)، سنن الدارمی/الأطعمة 40 (2127)، النکاح 23 (2251) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَاهُ، زَادَ: فَإِنْ كَانَ مُفْطِرًا فَلْيَطْعَمْ، وَإِنْ كَانَ صَائِمًا فَلْيَدْعُ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی مفہوم کی حدیث بیان فرمائی اس میں اتنا اضافہ ہے کہ ”اگر روزے سے نہ ہو تو کھا لے، اور اگر روزے سے ہو تو (کھانے اور کھلانے والوں کے لیے بخشش و برکت کی) دعا کرے“۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3737]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم (1429)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 7871)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/37) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا دَعَا أَحَدُكُمْ أَخَاهُ فَلْيُجِبْ عُرْسًا كَانَ أَوْ نَحْوَهُ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں کوئی اپنے بھائی کو ولیمے کی یا اسی طرح کی کوئی دعوت دے تو وہ اسے قبول کرے“۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3738]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم (1429) ¤ وانظر الحديث السابق (3736)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/ النکاح 16 (1429)، (تحفة الأشراف: 7537)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/68، 101، 127، 146) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُصَفَّى، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، حَدَّثَنَا الزُّبَيْدِيُّ، عَنْ نَافِعٍ بِإِسْنَادِ أَيُّوبَ وَمَعْنَاهُ.
اس سند سے بھی نافع سے ایوب کی روایت جیسی حدیث مروی ہے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3739]
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم (1429) ¤ وانظر الحديث السابق (3736)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/ النکاح 16 (1429)، (تحفة الأشراف: 8442)
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ دُعِيَ فَلْيُجِبْ، فَإِنْ شَاءَ طَعِمَ وَإِنْ شَاءَ تَرَكَ".
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کو دعوت دی جائے اسے دعوت قبول کرنی چاہیئے پھر اگر چاہے تو کھائے اور چاہے تو نہ کھائے“۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3740]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم (1430)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/النکاح 16 (1430)، (تحفة الأشراف: 2743)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الصیام 47 (1751)، مسند احمد (3/392) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا دُرُسْتُ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ أَبَانَ بْنِ طَارِقٍ، عَنْ طَارِقٍ، عَنْ نَافِعٍ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ دُعِيَ فَلَمْ يُجِبْ فَقَدْ عَصَى اللَّهَ وَرَسُولَهُ، وَمَنْ دَخَلَ عَلَى غَيْرِ دَعْوَةٍ دَخَلَ سَارِقًا وَخَرَجَ مُغِيرًا"، قَالَ أَبُو دَاوُد: أَبَانُ بْنُ طَارِقٍ مَجْهُولٌ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جسے دعوت دی گئی اور اس نے قبول نہیں کیا تو اس نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی، اور جو بغیر دعوت کے گیا تو وہ چور بن کر داخل ہوا اور لوٹ مار کر نکلا“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابان بن طارق مجہول راوی ہیں۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3741]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ درست ضعيف و أبان بن طارق: مجهول الحال (تق: 1825،139) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 132
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 7469) (ضعیف) (اس کے راوی درست ضعیف، اور ابان مجہول ہیں، لیکن پہلا ٹکڑا ابوہریرہ کی اگلی حدیث سے صحیح ہے)
|
|
|
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: " شَرُّ الطَّعَامِ طَعَامُ الْوَلِيمَةِ يُدْعَى لَهَا الْأَغْنِيَاءُ وَيُتْرَكُ الْمَسَاكِينُ، وَمَنْ لَمْ يَأْتِ الدَّعْوَةَ فَقَدْ عَصَى اللَّهَ وَرَسُولَهُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے تھے سب سے برا کھانا اس ولیمہ کا کھانا ہے جس میں صرف مالدار بلائے جائیں اور غریب و مسکین چھوڑ دیئے جائیں، اور جو (ولیمہ کی) دعوت میں نہیں آیا اس نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی ۱؎۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3742]
💡 وضاحت:
۱؎: معلوم ہوا کہ جو ولیمہ ایسا ہو جس میں صرف مالدار اور باحیثیت لوگ ہی بلائے جائیں، اور محتاج و فقیر نہ آنے پائیں وہ برا ہے، نہ یہ کہ خود ولیمہ برا ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح ق موقوفا م مرفوعا
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح بخاري (5177) صحيح مسلم (1432)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/ النکاح 73 (5177)، صحیح مسلم/النکاح 16 (1432)، سنن ابن ماجہ/النکاح 25 (1913)، (2110)، (تحفة الأشراف: 13955)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/240)، سنن الدارمی/الأطعمة 28(2110) (صحیح)
|
|
|
2: باب فِي اسْتِحْبَابِ الْوَلِيمَةِ عِنْدَ النِّكَاحِ
باب: نکاح ہونے پر ولیمہ کی دعوت کرنا مستحب ہے۔
|
|
|
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ ثَابِتٍ، قَالَ: " ذُكِرَ تَزْوِيجُ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ عِنْدَ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، فَقَالَ: مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْلَمَ عَلَى أَحَدٍ مِنْ نِسَائِهِ مَا أَوْلَمَ عَلَيْهَا أَوْلَمَ بِشَاةٍ".
ثابت کہتے ہیں: انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس ام المؤمنین زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے نکاح کا ذکر کیا گیا تو انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی بیویوں میں سے کسی کے نکاح میں زینب کے نکاح کی طرح ولیمہ کرتے نہیں دیکھا، آپ نے ان کے نکاح میں ایک بکری کا ولیمہ کیا۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3743]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح بخاري (5171) صحيح مسلم (1428)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/النکاح 68 (5168)، صحیح مسلم/النکاح 13 (1428)، سنن النسائی/الکبری 4 (6602)، سنن ابن ماجہ/النکاح 24 (1908)، (تحفة الأشراف: 287)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/227) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا حَامِدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا وَائِلُ بْنُ دَاوُدَ، عَنْ ابْنِهِ بَكْرِ بْنِ وَائِلٍ، عَنْ الزَّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ: أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَوْلَمَ عَلَى صَفِيَّةَ بِسَوِيقٍ وَتَمْرٍ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ام المؤمنین صفیہ رضی اللہ عنہا کے نکاح میں ستو اور کھجور کا ولیمہ کیا۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3744]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن ¤ مشكوة المصابيح (3220) ¤ وللحديث شواھد عند البخاري (371) ومسلم (1365 بعد ح 1427)
تخریج دارالدعوہ:
سنن الترمذی/النکاح 10 (1095)، سنن النسائی/النکاح 79 (3384)، سنن ابن ماجہ/النکاح 24 (1909)، (تحفة الأشراف: 1482)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/النکاح 14 (1365)، الجہاد 43 (1365) (صحیح)
|
|
|
3: باب فِي كَمْ تُسْتَحَبُّ الْوَلِيمَةُ
باب: دعوت ولیمہ کتنے روز تک مستحب ہے؟
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ الثَّقَفِيِّ، عَنْ رَجُلٍ أَعْوَرَ مِنْ ثَقِيفٍ كَانَ يُقَالُ لَهُ مَعْرُوفًا أَيْ يُثْنَى عَلَيْهِ خَيْرًا إِنْ لَمْ يَكُنْ اسْمُهُ زُهَيْرُ بْنُ عُثْمَانَ فَلَا أَدْرِي مَا اسْمُهُ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: "الْوَلِيمَةُ أَوَّلَ يَوْمٍ حَقٌّ، وَالثَّانِيَ مَعْرُوفٌ، وَالْيَوْمَ الثَّالِثَ سُمْعَةٌ وَرِيَاءٌ"، قَالَ قَتَادَةُ: وَحَدَّثَنِي رَجُلٌ: أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ دُعِيَ أَوَّلَ يَوْمٍ فَأَجَابَ، وَدُعِيَ الْيَوْمَ الثَّانِيَ فَأَجَابَ، وَدُعِيَ الْيَوْمَ الثَّالِثَ فَلَمْ يُجِبْ، وَقَالَ: أَهْلُ سُمْعَةٍ وَرِيَاءٍ.
عبداللہ بن عثمان ثقفی بنو ثقیف کے ایک کانے شخص سے روایت کرتے ہیں (جسے اس کی بھلائیوں کی وجہ سے معروف کہا جاتا تھا، یعنی خیر کے پیش نظر اس کی تعریف کی جاتی تھی، اگر اس کا نام زہیر بن عثمان نہیں تو مجھے نہیں معلوم کہ اس کا کیا نام تھا) کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ولیمہ پہلے روز حق ہے، دوسرے روز بہتر ہے، اور تیسرے روز شہرت و ریاکاری ہے“۔ قتادہ کہتے ہیں: مجھ سے ایک شخص نے بیان کیا کہ سعید بن مسیب کو پہلے دن دعوت دی گئی تو انہوں نے قبول کیا اور دوسرے روز بھی دعوت دی گئی تو اسے بھی قبول کیا اور تیسرے روز دعوت دی گئی تو قبول نہیں کیا اور کہا: (دعوت دینے والے) نام و نمود والے اور ریا کار لوگ ہیں۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3745]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ قتادة والحسن عنعنا و عبد اللّٰه بن عثمان الثقفي: مجهول (تقريب التهذيب:3470) ¤ وللحديث شواهد ضعيفة ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 133
تخریج دارالدعوہ:
سنن الدارمی/الأطعمة 28 (2109)، (تحفة الأشراف: 3651، 18719) (ضعیف) (اس کی سند میں ایک راوی مبہم ہے)
|
|
|
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ بِهَذِهِ الْقِصَّةِ، قَالَ: فَدُعِيَ الْيَوْمَ الثَّالِثَ فَلَمْ يُجِبْ، وَحَصَبَ الرَّسُولَ.
اس سند سے بھی سعید بن مسیب سے یہی واقعہ مروی ہے اور اس میں یہ ہے کہ پہلے اور دوسرے روز انہوں نے دعوت قبول کر لی پھر جب تیسرے روز انہیں دعوت دی گئی تو قبول نہیں کیا اور قاصد کو کنکری ماری۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3746]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف ¤ ضعيف ¤ قتادة عنعن وسمعه من رجل مجهول ¤ انظر الحديث السابق (3745) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 133
تخریج دارالدعوہ:
انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 3651، 18719) (ضعیف) (اس کے راوی قتادہ مدلس اور عنعنہ سے روایت کئے ہوئے ہیں)
|
|
|
4: باب الإِطْعَامِ عِنْدَ الْقُدُومِ مِنَ السَّفَرِ
باب: سفر سے آنے پر کھانا کھلانے کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: " لَمَّا قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ نَحَرَ جَزُورًا أَوْ بَقَرَةً".
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو آپ نے ایک اونٹ یا ایک گائے ذبح کی۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3747]
قال الشيخ الألباني:
صحيح الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح بخاري (3089)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الجہاد 199، 3089)، (تحفة الأشراف: 2581)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/299، 302، 319، 363) (صحیح الإسنادِ)
|
|
|
5: باب مَا جَاءَ فِي الضِّيَافَةِ
باب: ضیافت (مہمان نوازی) کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي شُرَيْحٍ الْكَعْبِيِّ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ، فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ جَائِزَتُهُ يَوْمُهُ وَلَيْلَتُهُ الضِّيَافَةُ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ وَمَا بَعْدَ ذَلِكَ فَهُوَ صَدَقَةٌ، وَلَا يَحِلُّ لَهُ أَنْ يَثْوِيَ عِنْدَهُ حَتَّى يُحْرِجَهُ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: قُرِئَ عَلَى الْحَارِثِ بْنِ مِسْكِينٍ وَأَنَا شَاهِدٌ، أَخْبَرَكُمْ أَشْهَبُ، قَالَ: وَسُئِلَ مَالِكٌ عَنْ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: جَائِزَتُهُ يَوْمٌ وَلَيْلَةٌ؟، فَقَالَ: يُكْرِمُهُ، وَيُتْحِفُهُ، وَيَحْفَظُهُ، يَوْمًا وَلَيْلَةً وَثَلَاثَةُ أَيَّامٍ ضِيَافَةَ.
ابوشریح کعبی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اللہ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتا ہو اسے اپنے مہمان کی خاطر تواضع کرنی چاہیئے، اس کا جائزہ ایک دن اور ایک رات ہے اور ضیافت تین دن تک ہے اور اس کے بعد صدقہ ہے، اور اس کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ اس کے پاس اتنے عرصے تک قیام کرے کہ وہ اسے مشقت اور تنگی میں ڈال دے“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: حارث بن مسکین پر پڑھا گیا اور میں موجود تھا کہ اشہب نے آپ کو خبر دی ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: امام مالک سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان «جائزته يوم وليلة» کے متعلق پوچھا گیا: تو انہوں نے کہا: اس کا مطلب یہ ہے کہ میزبان ایک دن اور ایک رات تک اس کی عزت و اکرام کرے، تحفہ و تحائف سے نوازے، اور اس کی حفاظت کرے اور تین دن تک ضیافت کرے ۱؎۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3748]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی پہلے دن اپنی حیثیت کے مطابق خصوصی اہتمام کرے اور باقی دو دنوں میں بغیر تکلف واہتمام کے ماحضر پیش کرے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح بخاري (6135) صحيح مسلم (48 بعد ح 1726)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الأدب 31 (6019)، 85 (6135)، الرقاق 23 (6476)، صحیح مسلم/الإیمان 19 (48)، سنن الترمذی/البر والصلة 43 (1967)، سنن ابن ماجہ/الأدب 5 (3675)، (تحفة الأشراف: 12056)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/صفة النبيﷺ10 (22) مسند احمد (4/31، 6/384، 385)، سنن الدارمی/الأطعمة 11 (2078) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، وَمُحَمَّدُ بْنُ مَحْبُوبٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " الضِّيَافَةُ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ فَمَا سِوَى ذَلِكَ فَهُوَ صَدَقَةٌ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مہمانداری تین روز تک ہے، اور جو اس کے علاوہ ہو وہ صدقہ ہے“۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3749]
قال الشيخ الألباني:
حسن صحيح الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن ¤ عاصم ھو ابن بھدلة
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 12808)، وقد أخرجہ: حم(2/354) (حسن، صحیح الإسناد)
|
|
|
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، وَخَلَفُ بْنُ هِشَامٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ أَبِي كَرِيمَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَيْلَةُ الضَّيْفِ حَقٌّ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ، فَمَنْ أَصْبَحَ بِفِنَائِهِ فَهُوَ عَلَيْهِ دَيْنٌ إِنْ شَاءَ اقْتَضَى وَإِنْ شَاءَ تَرَكَ".
ابوکریمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر مسلمان پر مہمان کی ایک رات کی ضیافت حق ہے، جو کسی مسلمان کے گھر میں رات گزارے تو ایک دن کی مہمانی اس پر قرض ہے، چاہے تو اسے وصول کر لے اور چاہے تو چھوڑ دے“۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3750]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح ¤ أخرجه ابن ماجه (3677 وسنده صحيح)
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابن ماجہ/الأدب 5 (3677)، (تحفة الأشراف: 11568) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ شُعْبَةَ، حَدَّثَنِي أَبُو الْجُودِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي الْمُهَاجِرِ، عَنْ الْمِقْدَامِ أَبِي كَرِيمَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَيُّمَا رَجُلٍ أَضَافَ قَوْمًا فَأَصْبَحَ الضَّيْفُ مَحْرُومًا فَإِنَّ نَصْرَهُ حَقٌّ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ حَتَّى يَأْخُذَ بِقِرَى لَيْلَةٍ مِنْ زَرْعِهِ وَمَالِهِ".
ابوکریمہ مقدام بن معدیکرب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص کسی قوم کے پاس بطور مہمان آئے اور صبح تک ویسے ہی محروم رہے تو ہر مسلمان پر اس کی مدد لازم ہے یہاں تک کہ وہ ایک رات کی مہمانی اس کی زراعت اور مال سے لے لے“۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3751]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن ¤ مشكوة المصابيح (4247) ¤ أبو الجودي و سعيد بن أبي المھاجر صدوقان لاينز حديثھما عن درجة الحسن
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 11564)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/131، 133)، دی/ الأطعمة 11 (2080) (ضعیف) (اس کے راوی سعید بن ابی المہاجر مجہول ہیں)
|
|
|
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، أَنَّهُ قَالَ: قُلْنَا: " يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّكَ تَبْعَثُنَا، فَنَنْزِلُ بِقَوْمٍ فَمَا يَقْرُونَنَا، فَمَا تَرَى؟، فَقَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنْ نَزَلْتُمْ بِقَوْمٍ فَأَمَرُوا لَكُمْ بِمَا يَنْبَغِي لِلضَّيْفِ فَاقْبَلُوا، فَإِنْ لَمْ يَفْعَلُوا، فَخُذُوا مِنْهُمْ حَقَّ الضَّيْفِ الَّذِي يَنْبَغِي لَهُمْ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَهَذِهِ حُجَّةٌ لِلرَّجُلِ يَأْخُذُ الشَّيْءَ إِذَا كَانَ لَهُ حَقًّا.
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ ہمیں (جہاد یا کسی دوسرے کام کے لیے) بھیجتے ہیں تو (بسا اوقات) ہم کسی قوم میں اترتے ہیں اور وہ لوگ ہماری مہمان نوازی نہیں کرتے تو اس سلسلے میں آپ کیا فرماتے ہیں؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا: ”اگر تم کسی قوم میں جاؤ اور وہ لوگ تمہارے لیے ان چیزوں کا انتظام کر دیں جو مہمان کے لیے چاہیئے تو اسے تم قبول کرو اور اگر وہ نہ کریں تو ان سے مہمانی کا حق جو ان کے حسب حال ہو لے لو ۱؎“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ اس شخص کے لیے دلیل ہے جس کا حق کسی کے ذمہ ہو تو وہ اپنا حق لے سکتا ہے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3752]
💡 وضاحت:
۱؎: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب کافروں سے صلح کی تھی تو اس صلح میں یہ بھی طے ہوا تھا کہ اگر مسلمان تمہارے ملک میں آئیں جائیں تو ان کی ضیافت لازمی ہے، اس حدیث میں وہی لوگ مراد ہیں، اس کا مطلب یہ نہیں کہ مسافر مسلمانوں کو اپنی مہمان نوازی پر مجبور کرے، یہ اور بات ہے کہ مہمان نوازی اور ضیافت مسنون و مستحب ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح بخاري (6137) صحيح مسلم (1727)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/المظالم 18 (2461)، الأدب 85 (6137)، صحیح مسلم/اللقطة 3 (1727)، سنن الترمذی/السیر 32 (1589)، سنن ابن ماجہ/الأدب 5 (3676)، (تحفة الأشراف: 9954)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/149) (صحیح)
|
|
|
6: باب نَسْخِ الضَّيْفِ يَأْكُلُ مِنْ مَالِ غَيْرِهِ
باب: دوسرے کے مال سے مہمان نوازی کی حرمت جو سورۃ نساء میں تھی وہ سورۃ النور کی آیت سے منسوخ ہو گئی۔
|
|
|
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَرْوَزِيُّ، حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ يَزِيدَ النَّحْوِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: " لا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ إِلا أَنْ تَكُونَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ مِنْكُمْ سورة النساء آية 29، فَكَانَ الرَّجُلُ يُحْرَجُ أَنْ يَأْكُلَ عِنْدَ أَحَدٍ مِنَ النَّاسِ بَعْدَ مَا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ، فَنَسَخَ ذَلِكَ الْآيَةُ الَّتِي فِي النُّورِ، قَالَ: لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَأْكُلُوا سورة النور آية 61 مِنْ بُيُوتِكُمْ إِلَى قَوْلِهِ أَشْتَاتًا سورة النور آية 61، كَانَ الرَّجُلُ الْغَنِيُّ يَدْعُو الرَّجُلَ مِنْ أَهْلِهِ إِلَى الطَّعَامِ، قَالَ: إِنِّي لَأَجَّنَّحُ أَنْ آكُلَ مِنْهُ، وَالتَّجَنُّحُ الْحَرَجُ، وَيَقُولُ: الْمِسْكِينُ أَحَقُّ بِهِ مِنِّي، فَأُحِلَّ فِي ذَلِكَ أَنْ يَأْكُلُوا مِمَّا ذُكِرَ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ، وَأُحِلَّ طَعَامُ أَهْلِ الْكِتَابِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ آیت کریمہ: «لا تأكلوا أموالكم بينكم بالباطل إلا أن تكون تجارة عن تراض منكم» (سورۃ النساء: ۲۹) کے نازل ہونے کے بعد لوگ ایک دوسرے کے یہاں کھانا کھانے میں گناہ محسوس کرنے لگے تو یہ آیت سورۃ النور کی آیت: «ليس عليكم جناح أن تأكلوا من بيوتكم ..... أشتاتا» ( سورۃ النساء: ۶۱) سے منسوخ ہو گئی، جب کوئی مالدار شخص اپنے اہل و عیال میں سے کسی کو دعوت دیتا تو وہ کہتا: میں اس کھانے کو گناہ سمجھتا ہوں اس کا تو مجھ سے زیادہ حقدار مسکین ہے چنانچہ اس میں مسلمانوں کے لیے ایک دوسرے کا کھانا جس پر اللہ کا نام لیا گیا ہو حلال کر دیا گیا ہے اور اہل کتاب کا کھانا بھی حلال کر دیا گیا۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3753]
قال الشيخ الألباني:
حسن الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 6264) (حسن الإسناد)
|
|
|
7: باب فِي طَعَامِ الْمُتَبَارِيَيْنِ
باب: جو ایک دوسرے کے مقابلے میں کھانا کھلائیں تو ان کے یہاں کھانا کیسا ہے؟
|
|
|
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَبِي الزَّرْقَاءِ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، عَنْ الزُّبَيْرِ بْنِ خِرِّيتِ، قَالَ: سَمِعْتُ عِكْرِمَةَ، يَقُولُ: كَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ، يَقُولُ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى عَنْ طَعَامِ الْمُتَبَارِيَيْنِ أَنْ يُؤْكَلَ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: أَكْثَرُ مَنْ رَوَاهُ عَنْ جَرِيرٍ لَا يَذْكُرُ فِيهِ ابْنَ عَبَّاسٍ، وَهَارُونُ النَّحْوِيُّ ذَكَرَ فِيهِ ابْنَ عَبَّاسٍ أَيْضًا، وَحَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ لَمْ يَذْكُرْ ابْنَ عَبَّاسٍ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے تھے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو باہم فخر کرنے والوں کی دعوت کھانے سے منع فرمایا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: جریر سے روایت کرنے والوں میں سے اکثر لوگ اس روایت میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کا ذکر نہیں کرتے ہیں نیز ہارون نحوی نے بھی اس میں ابن عباس کا ذکر کیا ہے اور حماد بن زید نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کا ذکر نہیں کیا ہے ۱؎۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3754]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی دونوں میں سے ہر ایک یہ چاہے کہ میں دوسرے سے بڑھ جاؤں اور اسے مغلوب کر دوں، ایسے لوگوں کی دعوت کو قبول کرنا منع ہے، کیوں کہ یہ اللہ کی رضا کے واسطے نہیں ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح ¤ مشكوة المصابيح (3225) ¤ أخرجه البيھقي (7/274) وصححه الحاكم (4/128، 129) ورواه ضياء المقدسي في المختارة (11/384 ح 401) وللحديث شواھد
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 6091) (صحیح)
|
|
|
8: باب الرَّجُلِ يُدْعَى فَيَرَى مَكْرُوهًا
باب: غیر شرعی امور کی موجودگی میں دعوت میں شرکت کے حکم کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، أَخْبَرَنَا حَمَّادٌ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُمْهَانَ، عَنْ سَفِينَةَ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ: " أَنَّ رَجُلًا أَضَافَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ فَصَنَعَ لَهُ طَعَامًا، فَقَالَتْ فَاطِمَةُ: لَوْ دَعَوْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَكَلَ مَعَنَا، فَدَعُوهُ، فَجَاءَ فَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى عِضَادَتَيِ الْبَابِ فَرَأَى الْقِرَامَ قَدْ ضُرِبَ بِهِ فِي نَاحِيَةِ الْبَيْتِ، فَرَجَعَ، فَقَالَتْ فَاطِمَةُ لِعَلِيٍّ: الْحَقْهُ فَانْظُرْ مَا رَجَعَهُ، فَتَبِعْتُهُ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا رَدَّكَ؟، فَقَالَ: إِنَّهُ لَيْسَ لِي أَوْ لِنَبِيٍّ أَنْ يَدْخُلَ بَيْتًا مُزَوَّقًا".
سفینہ ابوعبدالرحمٰن سے روایت ہے کہ ایک شخص نے علی رضی اللہ عنہ کی دعوت کی اور ان کے لیے کھانا بنایا (اور بھیج دیا) تو فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: کاش ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بلا لیتے آپ بھی ہمارے ساتھ کھانا تناول فرما لیتے چنانچہ انہوں نے آپ کو بلوایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور اپنا ہاتھ دروازے کے دونوں پٹ پر رکھا، تو کیا دیکھتے ہیں کہ گھر کے ایک کونے میں ایک منقش پردہ لگا ہوا ہے، (یہ دیکھ کر) آپ لوٹ گئے تو فاطمہ رضی اللہ عنہا نے علی رضی اللہ عنہ سے کہا: جا کر ملئیے اور دیکھئیے آپ کیوں لوٹے جا رہے ہیں؟ (علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں) میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا پیچھا کیا اور پوچھا: اللہ کے رسول! آپ کیوں واپس جا رہے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے لیے یا کسی نبی کے لیے یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ کسی آرائش و زیبائش والے گھر میں داخل ہو“۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3755]
قال الشيخ الألباني:
حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن ¤ أخرجه ابن ماجه (3360 وسنده حسن)
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابن ماجہ/الأطعمة 56 (3360)، (تحفة الأشراف: 4483)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/220، 221، 222) (حسن)
|
|
|
9: باب إِذَا اجْتَمَعَ دَاعِيَانِ أَيُّهُمَا أَحَقُّ
باب: جب دو آدمی ایک ساتھ دعوت دیں تو کون زیادہ حقدار ہے کہ اس کی دعوت قبول کی جائے۔
|
|
|
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ عَبْدِ السَّلَامِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ أَبِي خَالِدٍ الدَّالَانِيِّ، عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ الْأَوْدِيِّ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِمْيَرِيِّ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا اجْتَمَعَ الدَّاعِيَانِ، فَأَجِبْ أَقْرَبَهُمَا بَابًا، فَإِنَّ أَقْرَبَهُمَا بَابًا أَقْرَبَهُمَا جِوَارًا، وَإِنْ سَبَقَ أَحَدُهُمَا فَأَجِبْ الَّذِي سَبَقَ".
ایک صحابی رسول سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب دو دعوت دینے والے ایک ساتھ دعوت دیں تو ان میں سے جس کا مکان قریب ہو اس کی دعوت قبول کرو، کیونکہ جس کا مکان زیادہ قریب ہو گا وہ ہمسائیگی میں قریب تر ہو گا، اور اگر ان میں سے کوئی پہل کر جائے تو اس کی قبول کرو جس نے پہل کی ہو“۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3756]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ أبو خالد الدالاني عنعن ¤ والحديث ضعفه الحافظ في التلخيص (196/3ح 1561) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 133
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ أبوداو، (تحفة الأشراف: 15556)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/408) (ضعیف) (اس کے راوی ابو خالد دالانی مدلس ہیں اور عنعنہ سے روایت کئے ہوئے ہیں نیز بہت غلطیاں کرتے ہیں)
|
|
|
10: باب إِذَا حَضَرَتِ الصَّلاَةُ وَالْعَشَاءُ
باب: جب عشاء اور شام کا کھانا دونوں تیار ہوں تو کیا کرے؟
|
|
|
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، وَمُسَدَّدٌ الْمَعْنَى، قَالَ أَحْمَدُ، حَدَّثَنِي يَحْيَى الْقَطَّانُ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنِي نَافِعٌ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا وُضِعَ عَشَاءُ أَحَدِكُمْ وَأُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَلَا يَقُومُ حَتَّى يَفْرُغَ"، زَادَ مُسَدَّدٌ: وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ إِذَا وُضِعَ عَشَاؤُهُ أَوْ حَضَرَ عَشَاؤُهُ لَمْ يَقُمْ حَتَّى يَفْرُغَ، وَإِنْ سَمِعَ الْإِقَامَةَ، وَإِنْ سَمِعَ قِرَاءَةَ الْإِمَامِ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی کے لیے رات کا کھانا چن دیا جائے اور نماز کے لیے اقامت بھی کہہ دی جائے تو (نماز کے لیے) نہ کھڑا ہو یہاں تک کہ (کھانے سے) فارغ ہو لے“۔ مسدد نے اتنا اضافہ کیا: جب عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا کھانا چن دیا جاتا یا ان کا کھانا موجود ہوتا تو اس وقت تک نماز کے لیے نہیں کھڑے ہوتے جب تک کہ کھانے سے فارغ نہ ہو لیتے اگرچہ اقامت اور امام کی قرآت کی آواز کان میں آ رہی ہو ۱؎۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3757]
💡 وضاحت:
۱؎: حدیث نمبر (۳۷۵۹) کی روشنی میں اس سے وہ کھانا مراد ہے جو بہت مختصر اور تھوڑا ہو، اور جماعت میں سے کچھ مل جانے کی امید ہو۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح، صحيح بخاري (677) صحيح مسلم (559)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 8212)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأذان 42 (673)، الأطعمة (5463)، صحیح مسلم/المساجد 16 (559)، سنن الترمذی/الصلاة 145(354)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 34 (934)، مسند احمد (2/20، 103) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ بَزِيعٍ، حَدَّثَنَا مُعَلَّى يَعْنِي ابْنَ مَنْصُورٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مَيْمُونٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تُؤَخَّرِ الصَّلَاةُ لِطَعَامٍ وَلَا لِغَيْرِهِ".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کھانے یا کسی اور کام کی وجہ سے نماز مؤخر نہ کی جائے“۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3758]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ محمد بن ميمون الزعفراني ضعيف،كما في التحرير (6346) ضعفه الجمهور ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 133
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 3758) (ضعیف)
|
|
|
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْلِمٍ الطُّوسِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ، حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، قَالَ: " كُنْتُ مَعَ أَبِي فِي زَمَانِ ابْنِ الزُّبَيْرِ إِلَى جَنْبِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، فَقَالَ عَبَّادُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ: إِنَّا سَمِعْنَا أَنَّهُ يُبْدَأُ بِالْعَشَاءِ قَبْلَ الصَّلَاةِ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ: وَيْحَكَ، مَا كَانَ عَشَاؤُهُمْ أَتُرَاهُ كَانَ مِثْلَ عَشَاءِ أَبِيكَ".
عبداللہ بن عبید بن عمیر کہتے ہیں کہ میں ابن زبیر رضی اللہ عنہما کے زمانے میں اپنے والد کے ساتھ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پہلو میں تھا کہ عباد بن عبداللہ بن زبیر نے کہا: ہم نے سنا ہے کہ عشاء کی نماز سے پہلے شام کا کھانا شروع کر دیا جاتا تھا۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: افسوس ہے تم پر، ان کا شام کا کھانا ہی کیا تھا؟ کیا تم اسے اپنے والد کے کھانے کی طرح سمجھتے ہو؟ ۱؎۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3759]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی ان کا کھانا بہت مختصر ہوتا تھا، تمہارے والد عبداللہ بن زبیر کے کھانے کی طرح پرتکلف اور نواع و اقسام کا نہیں ہوتا تھا کہ جس کے کھانے میں زیادہ وقت لگتا ہے اور جماعت چھوٹ جاتی ہے۔
قال الشيخ الألباني:
حسن الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 7281) (حسن الإسناد)
|
|
|
11: باب فِي غَسْلِ الْيَدَيْنِ عِنْدَ الطَّعَامِ
باب: کھانے کے وقت دونوں ہاتھ دھونے کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ: أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" خَرَجَ مِنَ الْخَلَاءِ، فَقُدِّمَ إِلَيْهِ طَعَامٌ، فَقَالُوا: أَلَا نَأْتِيكَ بِوَضُوءٍ؟، فَقَالَ: إِنَّمَا أُمِرْتُ بِالْوُضُوءِ إِذَا قُمْتُ إِلَى الصَّلَاةِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیت الخلاء سے نکلے، تو آپ کی خدمت میں کھانا پیش کیا گیا، لوگوں نے عرض کیا: کیا ہم آپ کے پاس وضو کا پانی نہ لائیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے وضو کرنے کا حکم صرف اس وقت دیا گیا ہے جب میں نماز کے لیے کھڑا ہوں ۱؎“۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3760]
💡 وضاحت:
۱؎: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شرعی وضو کے وجوب کی نفی کی، نہ کہ مطلق وضو یعنی ہاتھ دھونے کی، اور اگر ہاتھ بھی نہ دھویا تو یہ صرف بیان جواز کے لئے تھا۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح ¤ مشكوة المصابيح (4209) ¤ أخرجه الترمذي (1848 وسنده صحيح) والنسائي (132 وسنده صحيح)
تخریج دارالدعوہ:
سنن الترمذی/الأطعمة 40 (1847)، سنن النسائی/الطہارة 101 (132)، (تحفة الأشراف: 5793)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الحیض 31 (374)، مسند احمد (1/282، 359) (صحیح)
|
|
|
12: باب فِي غَسْلِ الْيَدِ قَبْلَ الطَّعَامِ
باب: کھانے سے پہلے ہاتھ دھونے کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا قَيْسٌ، عَنْ أَبِي هَاشِمٍ، عَنْ زَاذَانَ، عَنْ سَلْمَانَ، قَالَ: قَرَأْتُ فِي التَّوْرَاةِ: أَنَّ بَرَكَةَ الطَّعَامِ الْوُضُوءُ قَبْلَهُ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: بَرَكَةُ الطَّعَامِ الْوُضُوءُ قَبْلَهُ وَالْوُضُوءُ بَعْدَهُ"، وَكَانَ سُفْيَانُ يَكْرَهُ الْوُضُوءَ قَبْلَ الطَّعَامِ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَهُوَ ضَعِيفٌ.
سلمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے تورات میں پڑھا کہ کھانے کی برکت کھانے سے پہلے وضو کرنا ہے۔ میں نے اس کا ذکر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ نے فرمایا: ”کھانے کی برکت کھانے سے پہلے وضو کرنا ہے اور کھانے کے بعد بھی“۔ سفیان کھانے سے پہلے وضو کرنے کو ناپسند کرتے تھے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ ضعیف ہے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3761]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ ترمذي (1846) ¤ قيس بن الربيع ضعيف ضعفه الجمهور من جھة حفظه وفي التحرير:”ضعيف يعتبر به في الشواهد والمتابعات“ (5573) وقال أحمد: ”ھو منكر،ما حدث به إلا قيس بن الربيع‘‘ ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 133
تخریج دارالدعوہ:
سنن الترمذی/الأطعمة 39 (1846)، (تحفة الأشراف: 4489)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/441) (ضعیف) (اس کے راوی قیس بن ربیع ضعیف ہیں)
|
|
|
13: باب فِي طَعَامِ الْفُجَاءَةِ
باب: جلدی ہو تو بغیر ہاتھ دھوئے کھانا درست ہے۔
|
|
|
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، حَدَّثَنَا عَمِّي يَعْنِي سَعَيدَ بْنَ الْحَكَمِ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، أَخْبَرَنِي خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّهُ قَالَ: " أَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ شِعْبٍ مِنَ الْجَبَلِ وَقَدْ قَضَى حَاجَتَهُ، وَبَيْنَ أَيْدِينَا تَمْرٌ عَلَى تُرْسٍ أَوْ حَجَفَةٍ، فَدَعَوْنَاهُ، فَأَكَلَ مَعَنَا وَمَا مَسَّ مَاءً".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک پہاڑ کی گھاٹی سے قضائے حاجت سے فارغ ہو کر آئے اس وقت ہمارے سامنے ڈھال پر کچھ کھجوریں رکھیں تھیں، ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بلایا تو آپ نے ہمارے ساتھ کھایا اور پانی کو ہاتھ نہیں لگایا۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3762]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ أبو الزبير عنعن ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 133
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 2700)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/397) (ضعیف الإسناد) (اس کے راوی ابوالزبیر مدلس ہیں، اور عنعنہ سے روایت کئے ہوئے ہیں لیکن یہ حدیث صرف سنداً ضعیف ہے، اس کا معنی صحیح ہے)
|
|
|
14: باب فِي كَرَاهِيَةِ ذَمِّ الطَّعَامِ
باب: کھانے کی برائی بیان کرنا مکروہ اور ناپسندیدہ بات ہے۔
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: " مَا عَابَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَعَامًا قَطُّ إِنِ اشْتَهَاهُ أَكَلَهُ وَإِنْ كَرِهَهُ تَرَكَهُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی کسی کھانے میں عیب نہیں لگایا، اگر رغبت ہوتی تو کھا لیتے ورنہ چھوڑ دیتے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3763]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح بخاري (5409) صحيح مسلم (2064)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/المناقب 23 (3563)، صحیح مسلم/الأشربة 35 (2064)، سنن الترمذی/البر والصلة 84 (2031)، سنن ابن ماجہ/الأطعمة 4 (3259)، (تحفة الأشراف: 13403)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/474، 479، 481) (صحیح)
|
|
|
15: باب فِي الاِجْتِمَاعِ عَلَى الطَّعَامِ
باب: ایک ساتھ مل کر کھانے کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى الرَّازِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي وَحْشِيُّ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ أَصْحَابَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالُوا: " يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا نَأْكُلُ وَلَا نَشْبَعُ، قَالَ: فَلَعَلَّكُمْ تَفْتَرِقُونَ؟، قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: فَاجْتَمِعُوا عَلَى طَعَامِكُمْ، وَاذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهِ يُبَارَكْ لَكُمْ فِيهِ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: إِذَا كُنْتَ فِي وَلِيمَةٍ فَوُضِعَ الْعَشَاءُ فَلَا تَأْكُلْ حَتَّى يَأْذَنَ لَكَ صَاحِبُ الدَّارِ.
وحشی بن حرب حبشی حمصی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ صحابہ کرام نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم کھانا کھاتے ہیں لیکن پیٹ نہیں بھرتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”شاید تم لوگ الگ الگ کھاتے ہو؟“ لوگوں نے کہا: ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگ مل کر اور بسم اللہ کر کے (اللہ کا نام لے کر) کھاؤ، تمہارے کھانے میں برکت ہو گی“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: جب تم کسی ولیمہ میں ہو اور کھانا رکھ دیا جائے تو گھر کے مالک (میزبان) کی اجازت کے بغیر کھانا نہ کھاؤ۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3764]
قال الشيخ الألباني:
حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ ابن ماجه (3286) ¤ الوليد بن مسلم: لم يصرح بالسماع المسلسل (تقدم: 415) وحرب بن وحشي مجهول (التحرير: 1170) لم يوثقه غير ابن حبان ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 133
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابن ماجہ/الأطعمة 17 (3286)، (تحفة الأشراف: 11792)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/501) (حسن) اس کے راوی وحشی بن حرب مستور ہیں
|
|
|
16: باب التَّسْمِيَةِ عَلَى الطَّعَامِ
باب: کھانے سے پہلے ”بسم اللہ“ کہنے کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ خَلَفٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " إِذَا دَخَلَ الرَّجُلُ بَيْتَهُ فَذَكَرَ اللَّهَ عِنْدَ دُخُولِهِ وَعِنْدَ طَعَامِهِ قَالَ الشَّيْطَانُ: لَا مَبِيتَ لَكُمْ وَلَا عَشَاءَ، وَإِذَا دَخَلَ فَلَمْ يُذْكَرِ اللَّهَ عِنْدَ دُخُولِهِ قَالَ الشَّيْطَانُ: أَدْرَكْتُمُ الْمَبِيتَ، فَإِذَا لَمْ يَذْكُرِ اللَّهَ عِنْدَ طَعَامِهِ، قَالَ: أَدْرَكْتُمُ الْمَبِيتَ وَالْعَشَاءَ".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”جب کوئی آدمی اپنے گھر میں داخل ہوتا ہے اور گھر میں داخل ہوتے اور کھانا شروع کرتے وقت اللہ کا ذکر کرتا ہے تو شیطان (اپنے چیلوں سے) کہتا ہے: نہ یہاں تمہارے لیے سونے کی کوئی جگہ رہی، اور نہ کھانے کی کوئی چیز رہی، اور جب کوئی شخص اپنے گھر میں داخل ہوتے وقت اللہ کا ذکر نہیں کرتا تو شیطان کہتا ہے: چلو تمہیں سونے کا ٹھکانہ مل گیا، اور جب کھانا شروع کرتے وقت اللہ کا نام نہیں لیتا تو شیطان کہتا ہے: تمہیں سونے کی جگہ اور کھانا دونوں مل گیا“۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3765]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم (2018)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الأشربة 13 (2018)، سنن ابن ماجہ/الدعاء 19 (3887)، (تحفة الأشراف: 2797)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/346، 383) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ خَيْثَمَةَ، عَنْ أَبِي حُذَيْفَةَ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ: " كُنَّا إِذَا حَضَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَعَامًا لَمْ يَضَعْ أَحَدُنَا يَدَهُ حَتَّى يَبْدَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَإِنَّا حَضَرْنَا مَعَهُ طَعَامًا، فَجَاءَ أَعْرَابِيٌّ كَأَنَّمَا يُدْفَعُ فَذَهَبَ لِيَضَعَ يَدَهُ فِي الطَّعَامِ، فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ، ثُمَّ جَاءَتْ جَارِيَةٌ كَأَنَّمَا تُدْفَعُ فَذَهَبَتْ لِتَضَعَ يَدَهَا فِي الطَّعَامِ، فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهَا، وَقَالَ: إِنَّ الشَّيْطَانَ لَيَسْتَحِلُّ الطَّعَامَ الَّذِي لَمْ يُذْكَرِ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ، وَإِنَّهُ جَاءَ بِهَذَا الْأَعْرَابِيِّ يَسْتَحِلُّ بِهِ فَأَخَذْتُ بِيَدِهِ، وَجَاءَ بِهَذِهِ الْجَارِيَةِ يَسْتَحِلُّ بِهَا فَأَخَذْتُ بِيَدِهَا، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، إِنَّ يَدَهُ لَفِي يَدِي مَعَ أَيْدِيهِمَا".
حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھانے میں موجود ہوتے تو آپ کے شروع کرنے سے پہلے کوئی ہاتھ نہیں لگاتا، ایک مرتبہ ہم لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھانے میں موجود تھے کہ اتنے میں ایک اعرابی (دیہاتی) آیا گویا کہ وہ دھکیل کر لایا جا رہا ہو، تو وہ کھانے میں ہاتھ ڈالنے چلا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا پھر ایک لڑکی آئی گویا وہ دھکیل کر لائی جا رہی ہو، تو وہ بھی اپنا ہاتھ کھانے میں ڈالنے چلی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا بھی ہاتھ پکڑ لیا، اور فرمایا: ”شیطان اس کھانے میں شریک یا داخل ہو جاتا ہے جس پر اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو، اور بلاشبہ اس اعرابی کو شیطان لے کر آیا تاکہ اس کے ذریعہ کھانے میں شریک ہو جائے، اس لیے میں نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا، اور اس لڑکی کو بھی شیطان لے کر آیا تاکہ اس کے ذریعہ، اس لیے میں نے اس کا بھی ہاتھ پکڑ لیا، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، شیطان کا ہاتھ ان دونوں کے ہاتھوں کے ساتھ میرے ہاتھ میں ہے“۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3766]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم (2017)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الأشربة 13 (2017)، (تحفة الأشراف: 3333)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/283، 383، 388، 397) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل، عَنْ هِشَامٍ يَعْنِي ابْنَ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الدَّسْتُوَائِيَّ، عَنْ بُدَيْلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ امْرَأَةٍ مِنْهُمْ يُقَالُ لَهَا: أُمُّ كُلْثُومٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا أَكَلَ أَحَدُكُمْ فَلْيَذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ تَعَالَى، فَإِنْ نَسِيَ أَنْ يَذْكُرَ اسْمَ اللَّهِ تَعَالَى فِي أَوَّلِهِ، فَلْيَقُلْ: بِسْمِ اللَّهِ أَوَّلَهُ وَآخِرَهُ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی کھائے تو اللہ کا نام لے، اگر شروع میں (اللہ کا نام) بسم اللہ بھول جائے تو اسے یوں کہنا چاہیئے ”بسم الله أوله وآخره“ (اس کی ابتداء و انتہاء دونوں اللہ کے نام سے)“۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3767]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح ¤ مشكوة المصابيح (4202) ¤ أخرجه الترمذي (1858 وسنده صحيح)
تخریج دارالدعوہ:
سنن الترمذی/الأطعمة 47 (1858)، (تحفة الأشراف: 17988)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الأطعمة 7 (3264)، مسند احمد (6/143، 207، 246، 265)، سنن الدارمی/الأطعمة 1 (2063) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ الْفَضْلِ الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنَا عِيسَى يَعْنِي ابْنَ يُونُسَ، حَدَّثَنَا جَابِرُ بْنُ صُبْحٍ، حَدَّثَنَا الْمُثَنَّى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْخُزَاعِيُّ، عَنْ عَمِّهِ أُمَيَّةَ بْنِ مَخْشِيٍّ وَكَانَ مَنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسًا وَرَجُلٌ يَأْكُلُ، فَلَمْ يُسَمِّ حَتَّى لَمْ يَبْقَ مِنْ طَعَامِهِ إِلَّا لُقْمَةٌ، فَلَمَّا رَفَعَهَا إِلَى فِيهِ، قَالَ: بِسْمِ اللَّهِ أَوَّلَهُ وَآخِرَهُ، فَضَحِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ: مَا زَالَ الشَّيْطَانُ يَأْكُلُ مَعَهُ، فَلَمَّا ذَكَرَ اسْمَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ اسْتَقَاءَ مَا فِي بَطْنِهِ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: جَابِرُ بْنُ صُبْحٍ جَدُّ سُلَيْمَانَ بْنَ حَرْبٍ مِنْ قِبَلِ أُمِّهِ.
مثنی بن عبدالرحمٰن خزاعی اپنے چچا امیہ بن مخشی رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں (وہ صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم تھے) وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے ہوئے تھے اور ایک شخص کھانا کھا رہا تھا اس نے بسم اللہ نہیں کیا یہاں تک کہ اس کا کھانا صرف ایک لقمہ رہ گیا تھا جب اس نے لقمہ اپنے منہ کی طرف اٹھایا تو کہا: ”اس کی ابتداء اور انتہاء اللہ کے نام سے“ یہ سن کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے اور فرمایا: ”شیطان اس کے ساتھ برابر کھاتا رہا جب اس نے اللہ کا نام لیا تو جو کچھ اس کے پیٹ میں تھا اس نے قے کر دی ۱؎“۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3768]
💡 وضاحت:
۱؎: قے کرنے سے مراد یہ ہے کہ جو برکت اس کے شریک ہونے سے جاتی رہی تھی پھر لوٹ آئی، گویا وہ برکت شیطان نے اپنے پیٹ میں رکھ لی تھی۔
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن ¤ مشكوة المصابيح (4203) ¤ المثنٰي بن عبد الرحمن حسن الحديث
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 164)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/336) (ضعیف) (اس کے راوی مثنیٰ مجہول الحال ہیں)
|
|
|
17: باب مَا جَاءَ فِي الأَكْلِ مُتَّكِئًا
باب: ٹیک لگا کر کھانا کھانا کیسا ہے؟
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْأَقْمَرِ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا جُحَيْفَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا آكُلُ مُتَّكِئًا".
ابوحجیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں ٹیک لگا کر نہیں کھاتا (کیونکہ یہ متکبرین کا طریقہ ہے)“۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3769]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح بخاري (3598)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الأطعمة 13 (5398)، سنن الترمذی/الأطعمة 28 (1830)، سنن ابن ماجہ/الأطعمة 6 (3262)، (تحفة الأشراف: 11801)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/308، 309)، سنن الدارمی/الأطعمة 31 (2115) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ شُعَيْبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: " مَا رُئِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْكُلُ مُتَّكِئًا قَطُّ، وَلَا يَطَأُ عَقِبَهُ رَجُلَانِ".
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی ٹیک لگا کر کھاتے ہوئے نہیں دیکھے گئے، اور نہ ہی آپ کے پیچھے دو آدمیوں کو چلتے دیکھا گیا (بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیچ میں یا سب سے پیچھے چلا کرتے تھے)۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3770]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم (2044) ¤ مشكوة المصابيح (4212)
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابن ماجہ/المقدمة 21 (244)، (تحفة الأشراف: 8654)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/165، 167) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى الرَّازِيُّ، أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سُلَيْمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسًا، يَقُولُ: " بَعَثَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَرَجَعْتُ إِلَيْهِ فَوَجَدْتُهُ يَأْكُلُ تَمْرًا وَهُوَ مُقْعٍ".
مصعب بن سلیم کہتے ہیں کہ میں نے انس رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (کہیں) بھیجا جب میں لوٹ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا تو آپ کو پایا کہ آپ کھجوریں کھا رہے ہیں، سرین پر بیٹھے ہوئے ہیں اور دونوں پاؤں کھڑا کئے ہوئے ہیں۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3771]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الأشربة 24 (2044)، سنن الترمذی/الشمائل (142)، (تحفة الأشراف: 1591)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/180، 203)، دی/ الأطعمة 26 (2106) (صحیح)
|
|
|
18: باب مَا جَاءَ فِي الأَكْلِ مِنْ أَعْلَى الصَّحْفَةِ
باب: رکابی اور پیالے کے اوپری حصے سے نہ کھائے بلکہ کنارے سے کھائے۔
|
|
|
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا أَكَلَ أَحَدُكُمْ طَعَامًا فَلَا يَأْكُلْ مِنْ أَعْلَى الصَّحْفَةِ وَلَكِنْ لِيَأْكُلْ مِنْ أَسْفَلِهَا فَإِنَّ الْبَرَكَةَ تَنْزِلُ مِنْ أَعْلَاهَا".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی کھانا کھائے تو پلیٹ کے اوپری حصے سے نہ کھائے بلکہ اس کے نچلے حصہ سے کھائے اس لیے کہ برکت اس کے اوپر والے حصہ میں نازل ہوتی ہے“۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3772]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن ¤ مشكوة المصابيح (4211) ¤ أخرجه ابن ماجه (3277 وسنده حسن)
تخریج دارالدعوہ:
سنن الترمذی/الأطعمة 13 (1805، سنن ابن ماجہ/الأطعمة 12 (3277)، (تحفة الأشراف: 5566)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/270، 300، 343، 345، 364)، سنن الدارمی/الأطعمة 16 (2090) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ الْحِمْصِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عِرْقٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُسْرٍ، قَالَ: " كَانَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَصْعَةٌ يُقَالُ لَهَا: الْغَرَّاءُ، يَحْمِلُهَا أَرْبَعَةُ رِجَالٍ، فَلَمَّا أَضْحَوْا وَسَجَدُوا الضُّحَى أُتِيَ بِتِلْكَ الْقَصْعَةِ يَعْنِي وَقَدْ ثُرِدَ فِيهَا، فَالْتَفُّوا عَلَيْهَا، فَلَمَّا كَثَرُوا جَثَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ أَعْرَابِيٌّ: مَا هَذِهِ الْجِلْسَةُ؟، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ اللَّهَ جَعَلَنِي عَبْدًا كَرِيمًا، وَلَمْ يَجْعَلْنِي جَبَّارًا عَنِيدًا، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كُلُوا مِنْ حَوَالَيْهَا وَدَعُوا ذِرْوَتَهَا يُبَارَكْ فِيهَا".
عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک لگن جسے غراء کہا جاتا تھا، اور جسے چار آدمی اٹھاتے تھے، جب اشراق کا وقت ہوا اور لوگوں نے اشراق کی نماز پڑھ لی تو وہ لگن لایا گیا، مطلب یہ ہے اس میں ثرید ۱؎ بھرا ہوا تھا تو سب اس کے اردگرد اکٹھا ہو گئے، جب لوگوں کی تعداد بڑھ گئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھٹنے ٹیک کر بیٹھ گئے ۲؎ ایک اعرابی کہنے لگا: بھلا یہ بیٹھنے کا کون سا طریقہ ہے؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے مجھے نیک (متواضع) بندہ بنایا ہے، مجھے جبار و سرکش نہیں بنایا ہے“ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کے کناروں سے کھاؤ اور اوپر کا حصہ چھوڑ دو کیونکہ اس میں برکت دی جاتی ہے“۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3773]
💡 وضاحت:
۱؎: ایک قسم کا کھانا ہے جو روٹی اور شوربے سے تیار کیا جاتا ہے۔
۲؎: تاکہ اور لوگوں کو بھی جگہ مل جائے اور لوگ آسانی سے بیٹھ سکیں۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن ¤ مشكوة المصابيح (4251) ¤ أخرجه ابن ماجه (3263 وسنده حسن)
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابن ماجہ/الأطعمة 6 (3263)، 12 (3275)،(تحفة الأشراف: 5199)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/الأطعمة 16 (2090) (صحیح)
|
|
|
19: باب مَا جَاءَ فِي الْجُلُوسِ عَلَى مَائِدَةٍ عَلَيْهَا بَعْضُ مَا يُكْرَهُ
باب: جس دستر خوان پر مکروہ اور حرام چیزیں ہوں اس پر بیٹھنا منع ہے۔
|
|
|
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ هِشَامٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ مَطْعَمَيْنِ: عَنِ الْجُلُوسِ عَلَى مَائِدَةٍ يُشْرَبُ عَلَيْهَا الْخَمْرُ، وَأَنْ يَأْكُلَ الرَّجُلُ وَهُوَ مُنْبَطِحٌ عَلَى بَطْنِهِ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: هَذَا الْحَدِيثُ لَمْ يَسْمَعْهُ جَعْفَرٌ مِنْ الزُّهْرِيِّ، وَهُوَ مُنْكَرٌ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو جگہ کھانا کھانے سے منع فرمایا ہے: ایک تو اس دستر خوان پر بیٹھ کر جس پر شراب پی جا رہی ہو اور دوسری وہ جگہ جہاں آدمی اوندھے منہ لیٹ کر کھائے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث منکر ہے، جعفر کا سماع زہری سے ثابت نہیں ہے (اس کی دلیل اگلی سند ہے)۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3774]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ ابن ماجه (3370) ¤ جعفر بن برقان لم يسمع ھذا الحديث من الزهري كما بينه أبو داود،بينھما رجل مجهول انظر الحديث الآتي (3775) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 133
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 6809)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/ الکبری (6107)، سنن ابن ماجہ/الأطعمة 62 (3330) (حسن) (مؤلف نے منکر کہا ہے لیکن شواہد کی بناء پر یہ حسن ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحہ، للالبانی 3394)
|
|
|
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَبِي الزَّرْقَاءِ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ، أَنَّهُ بَلَغَهُ عَنْ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْحَدِيثِ.
اس سند سے بھی زہری سے یہی حدیث مروی ہے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3775]
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ فيه مجهول ¤ وانظر الحديث السابق (3774) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 134
تخریج دارالدعوہ:
انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 6809) (حسن لغیرہ)
|
|
|
20: باب الأَكْلِ بِالْيَمِينِ
باب: دائیں ہاتھ سے کھانے کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ جَدِّهِ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا أَكَلَ أَحَدُكُمْ فَلْيَأْكُلْ بِيَمِينِهِ، وَإِذَا شَرِبَ فَلْيَشْرَبْ بِيَمِينِهِ، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَأْكُلُ بِشِمَالِهِ وَيَشْرَبُ بِشِمَالِهِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی شخص کھانا کھائے تو اسے چاہیئے کہ داہنے ہاتھ سے کھائے، اور جب پانی پیے تو داہنے ہاتھ سے پیئے اس لیے کہ شیطان اپنے بائیں ہاتھ سے کھاتا اور پیتا ہے“۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3776]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم (2020)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الأشربة 13 (2020)، سنن الترمذی/الأطعمة 9 (1799)، (تحفة الأشراف: 8579)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/صفة النبی 4 (6)، مسند احمد (2/8، 33، 106، 146)، سنن الدارمی/الأطعمة 9 (2073) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ لُوَيْنٌ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ، عَنْ أَبِي وَجْزَةَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ادْنُ بُنَيَّ، فَسَمِّ اللَّهَ وَكُلْ بِيَمِينِكَ وَكُلْ مِمَّا يَلِيكَ".
عمر بن ابوسلمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے بیٹے! قریب آ جاؤ اور اللہ کا نام (بسم اللہ کہو) لو داہنے ہاتھ سے کھاؤ، اور اپنے سامنے سے کھاؤ“۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3777]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح ¤ أبو وجزة صرح بالسماع عند عبد الله بن أحمد بن حنبل في زوائد المسند (4/27)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 10689)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأطعمة 2 (5376)، صحیح مسلم/الأشربة 13 (2022)، سنن الترمذی/الأطعمة 47 (1857)، سنن ابن ماجہ/الأطعمة 7 (3267)، موطا امام مالک/صفة النبي 10 (32)، مسند احمد (4/27)، سنن الدارمی/الأطعمة 1 (2062) (صحیح)
|
|
|
21: باب فِي أَكْلِ اللَّحْمِ
باب: گوشت کھانے کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مَعْشَرٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَقْطَعُوا اللَّحْمَ بِالسِّكِّينِ فَإِنَّهُ مِنْ صَنِيعِ الْأَعَاجِمِ، وَانْهَسُوهُ فَإِنَّهُ أَهْنَأُ وَأَمْرَأُ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَلَيْسَ هُوَ بِالْقَوِيِّ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گوشت چھری سے کاٹ کر مت کھاؤ، کیونکہ یہ اہل عجم کا طریقہ ہے بلکہ اسے دانت سے نوچ کر کھاؤ کیونکہ اس طرح زیادہ لذیذ اور زود ہضم ہوتا ہے“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث قوی نہیں ہے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3778]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ أبو معشر نجيح: ضعيف (تقريب التهذيب: 7100) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 134
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 17251) (ضعیف) (اس کے راوی ابو معشر سندھی ضعیف ہیں)
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُعَاوِيَةَ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ، قَالَ: " كُنْتُ آكُلُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَآخُذُ اللَّحْمَ بِيَدِي مِنَ الْعَظْمِ، فَقَالَ: أَدْنِ الْعَظْمَ مِنْ فِيكَ فَإِنَّهُ أَهْنَأُ وَأَمْرَأُ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: عُثْمَانُ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ صَفْوَانَ وَهُوَ مُرْسَلٌ.
صفوان بن امیہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھانا کھا رہا تھا اور اپنے ہاتھ سے گوشت کو ہڈی سے جدا کر رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہڈی اپنے منہ کے قریب کرو (اور گوشت دانت سے نوچ کر کھاؤ) کیونکہ یہ زیادہ لذیذ اور زود ہضم ہے“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عثمان نے صفوان سے نہیں سنا ہے اور یہ مرسل (یعنی: منقطع) ہے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3779]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ السند منقطع كما بينه أبو داود رحمه اللّٰه و عبد الرحمن بن معاوية بن الحويرث ضعفه الجمھور ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 134
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 4946)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الأطعمة 32 (1835)، مسند احمد (3/401، 6/466)، سنن الدارمی/الأطعمة 30 (2114) (ضعیف) (سند میں انقطاع ہے)
|
|
|
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، عَنْ زُهَيْرٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ سَعْدِ بْنِ عِيَاضٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: " كَانَ أَحَبُّ الْعُرَاقِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُرَاقَ الشَّاةِ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو «عراق» (نلی) ۱؎ میں سب سے زیادہ پسند بکری کی «عراق» (نلی) تھی۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3780]
💡 وضاحت:
۱؎: عُراق: ایسی ہڈی جس سے گوشت کا زیادہ تر حصہ اتار لیا جائے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ ترمذي في الشمائل (168) ¤ أبوإسحاق مدلس وعنعن ¤ وحديث البخاري (3340) ومسلم (194) يغني عنه ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 134
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 9234)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/397) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْجِبُهُ الذِّرَاعُ، قَالَ: وَسُمَّ فِي الذِّرَاعِ وَكَانَ يَرَى أَنَّ الْيَهُودَ هُمْ سَمُّوهُ.
اسی سند سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دست کا گوشت بہت پسند تھا، (ایک بار) دست کے گوشت میں زہر ملا دیا گیا، آپ کا خیال تھا کہ یہودیوں نے زہر ملایا تھا۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3781]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ ترمذي في الشمائل (167) ¤ انظر الحديث السابق (3780) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 134
تخریج دارالدعوہ:
انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 9233) (صحیح)
|
|
|
22: باب فِي أَكْلِ الدُّبَّاءِ
باب: کدو کھانے کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ إِسْحَاق بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ: " إِنَّ خَيَّاطًا دَعَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِطَعَامٍ صَنَعَهُ، قَالَ أَنَسٌ: فَذَهَبْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى ذَلِكَ الطَّعَامِ، فَقُرِّبَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خُبْزًا مِنْ شَعِيرٍ، وَمَرَقًا فِيهِ دُبَّاءٌ وَقَدِيدٌ، قَالَ أَنَسٌ: فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَتَبَّعُ الدُّبَّاءَ مِنْ حَوَالَيِ الصَّحْفَةِ، فَلَمْ أَزَلْ أُحِبُّ الدُّبَّاءَ بَعْدَ يَوْمَئِذٍ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک درزی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کھانے کی دعوت کی جسے اس نے تیار کیا، تو میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھانے گیا، آپ کی خدمت میں جو کی روٹی اور شوربہ جس میں کدو اور گوشت کے ٹکڑے تھے پیش کی گئی، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو رکابی کے کناروں سے کدو ڈھونڈھتے ہوئے دیکھا، اس دن کے بعد سے میں بھی برابر کدو پسند کرنے لگا۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3782]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح بخاري (5436) صحيح مسلم (2041)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/البیوع 30 (2092)، الأطعمة 4 (5379)، 25 (5420)، صحیح مسلم/الأشربة 21 (2041)، سنن الترمذی/الأطعمة 42 (1850)، سنن ابن ماجہ/الأطعمة 26 (3304)، (تحفة الأشراف: 198)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/النکاح 21 (51)، مسند احمد (3/150)، سنن الدارمی/الأطعمة 19 (2094) (صحیح)
|
|
|
23: باب فِي أَكْلِ الثَّرِيدِ
باب: ثرید کھانے کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَسَّانَ السَّمْتِيُّ، حَدَّثَنَا الْمُبَارَكُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ رَجُلٍ مَنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: " كَانَ أَحَبَّ الطَّعَامِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الثَّرِيدَ مِنَ الْخُبْزِ، وَالثَّرِيدُ مِنَ الْحَيْسِ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَهُوَ ضَعِيفٌ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا سب سے زیادہ پسندیدہ کھانا روٹی کا ثرید اور حیس کا ثرید تھا (جسے پنیر اور گھی سے تیار کیا جاتا تھا)۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث ضعیف ہے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3783]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ رجل من أھل البصرة مجهول (عون المعبود 412/3 عن المنذري) وسقط ذكره في المستدرك (116/4) فصححاه! ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 134
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 6282) (ضعیف) (اس کی سند میں ایک راوی رجل من اہل البصرة مبہم ہے)
|
|
|
24: باب فِي كَرَاهِيَةِ التَّقَذُّرِ لِلطَّعَامِ
باب: کھانے سے گھن کرنا مکروہ ہے۔
|
|
|
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنِي قَبِيصَةُ بْنُ هُلْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسَأَلَهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: " إِنَّ مِنَ الطَّعَامِ طَعَامًا أَتَحَرَّجُ مِنْهُ؟، فَقَالَ: لَا يَتَخَلَّجَنَّ فِي صَدْرِكَ شَيْءٌ ضَارَعْتَ فِيهِ النَّصْرَانِيَّةَ".
ہلب طائی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا اور آپ سے ایک شخص نے پوچھا: کھانے کی چیزوں میں بعض ایسی چیزیں بھی ہوتی ہیں جن کے کھانے میں میں حرج محسوس کرتا ہوں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے دل میں کوئی شبہ نہ آنے دو (اگر اس کے سلسلہ میں تم نے شک کیا اور اپنے اوپر سختی کی تو) تم نے اس میں نصرانیت کے مشابہت کی“۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3784]
قال الشيخ الألباني:
حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن ¤ مشكوة المصابيح (4087) ¤ أخرجه الترمذي (1565 وسنده حسن)
تخریج دارالدعوہ:
سنن الترمذی/السیر 16 (1565)، سنن ابن ماجہ/الجہاد 26 (2830)، (تحفة الأشراف: 11734)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/226) (حسن)
|
|
|
25: باب النَّهْىِ عَنْ أَكْلِ الْجَلاَّلَةِ، وَأَلْبَانِهَا
باب: گندگی کھانے والے جانور کے گوشت کو کھانا اور اس کے دودھ کو پینا منع ہے۔
|
|
|
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَكْلِ الْجَلَّالَةِ وَأَلْبَانِهَا".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نجاست خور جانور کے گوشت کھانے اور اس کا دودھ پینے سے منع فرمایا۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3785]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ ترمذي (1824) ابن ماجه (3189) ¤ ابن أبي نجيح مدلس وعنعن ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 134
تخریج دارالدعوہ:
سنن الترمذی/الأطعمة 24 (1824)، سنن ابن ماجہ/الذبائح 11 (3189)، (تحفة الأشراف: 7387) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنِي أَبُو عَامِرٍ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى عَنْ لَبَنِ الْجَلَّالَةِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نجاست خور جانور کا دودھ (پینے) سے منع فرمایا۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3786]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن ¤ انظر الحديث السابق (3719)
تخریج دارالدعوہ:
سنن النسائی/الضحایا 43 (4453)، (تحفة الأشراف: 6191)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الأطعمة 24 (1824)، سنن ابن ماجہ/الأشربة 20 (3420)، حم1/226،241، 339)، وانظر ایضًا رقم: (3719) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي سُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَهْمٍ، حَدَّثَنَا عُمْرُو بْنُ أَبِي قَيْسٍ، عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْجَلَّالَةِ فِي الْإِبِلِ أَنْ يُرْكَبَ عَلَيْهَا، أَوْ يُشْرَبَ مِنْ أَلْبَانِهَا".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غلاظت کھانے والے اونٹ کی سواری کرنے اور اس کا دودھ پینے سے منع فرمایا ہے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3787]
قال الشيخ الألباني:
حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن ¤ مشكوة المصابيح (4126) ¤ انظر الحديثين السابقين (2557، 2558)
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: (2558)، (تحفة الأشراف: 7589) (حسن صحیح)
|
|
|
26: باب فِي أَكْلِ لُحُومِ الْخَيْلِ
باب: گھوڑے کے گوشت کے کھانے کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: " نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ خَيْبَرَ عَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ، وَأَذِنَ لَنَا فِي لُحُومِ الْخَيْلِ".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے دن گھریلو گدھوں کے گوشت کھانے سے منع فرمایا اور گھوڑے کے گوشت کی ہمیں اجازت دی۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3788]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح بخاري (4219) صحيح مسلم (1941)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/المغازي 38 (4219)، الصید 27 (5520)، 28 (5524)، صحیح مسلم/الصید 6 (1941)، سنن النسائی/الصید 29 (4332)، سنن ابن ماجہ/الذبائح 12 (3191)، (تحفة الأشراف: 2810، 2639)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الأطعمة 5 (1793)، مسند احمد (3/322، 356، 361، 362، 385)، دی/ الصید 6 (2055) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: " ذَبَحْنَا يَوْمَ خَيْبَرَ الْخَيْلَ، وَالْبِغَالَ، وَالْحَمِيرَ، فَنَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْبِغَالِ وَالْحَمِيرِ، وَلَمْ يَنْهَنَا عَنِ الْخَيْلِ".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم نے خیبر کے دن گھوڑے، خچر اور گدھے ذبح کئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خچر اور گدھوں سے منع فرما دیا، اور گھوڑے سے ہمیں نہیں روکا۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3789]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح ¤ رواه مسلم (1941)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 2695)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/356، 362) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ شَبِيبٍ، وَحَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ الْحِمْصِيُّ، قَالَ حَيْوَةُ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ صَالِحِ بْنِ يَحْيَى بْنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى عَنْ أَكْلِ لُحُومِ الْخَيْلِ، وَالْبِغَالِ، وَالْحَمِيرِ"، زَادَ حَيْوَةُ: وَكُلِّ ذِي نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَهُوَ قَوْلُ مَالِكٍ، قَالَ أَبُو دَاوُد: لَا بَأْسَ بِلُحُومِ الْخَيْلِ وَلَيْسَ الْعَمَلُ عَلَيْهِ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَهَذَا مَنْسُوخٌ، قَدْ أَكَلَ لُحُومَ الْخَيْلِ جَمَاعَةٌ مَنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهُمْ ابْنُ الزُّبَيْرِ، وَفَضَالَةُ بْنُ عُبَيْدٍ، وَأَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، وَأَسْمَاءُ بِنْتُ أَبِي بَكْرٍ، وسُوَيْدُ بْنُ غَفَلَةَ، وَعَلْقَمَةُ، وَكَانَتْ قُرَيْشٌ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَذْبَحُهَا.
خالد بن الولید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھوڑے، خچر اور گدھوں کے گوشت کھانے سے منع کیا ہے۔ حیوۃ نے ہر دانت سے پھاڑ کر کھانے والے درندے کا اضافہ کیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ مالک کا قول ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: گھوڑے کے گوشت میں کوئی مضائقہ نہیں اور اس حدیث پر عمل نہیں ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث منسوخ ہے، خود صحابہ کی ایک جماعت نے گھوڑے کا گوشت کھایا جس میں عبداللہ بن زبیر، فضالہ بن عبید، انس بن مالک، اسماء بنت ابوبکر، سوید بن غفلہ، علقمہ شامل ہیں اور قریش عہد نبوی میں گھوڑے ذبح کرتے تھے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3790]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ نسائي (4336،4337) ابن ماجه (3198) ¤ صالح بن يحيي بن المقدام: لين وأبوه مستور ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 135
تخریج دارالدعوہ:
سنن النسائی/الصید 30 (4336)، سنن ابن ماجہ/الذبائح 14 (3198)، (تحفة الأشراف: 3505)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/89،90) (ضعیف) (اس کے راوی صالح ضعیف، اور یحییٰ مجہول ہیں، اور یہ جابر کی صحیح روایت کے خلاف ہے)
|
|
|
27: باب فِي أَكْلِ الأَرْنَبِ
باب: خرگوش کھانے کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: " كُنْتُ غُلَامًا حَزَوَّرًا، فَصِدْتُ أَرْنَبًا فَشَوَيْتُهَا، فَبَعَثَ مَعِي أَبُو طَلْحَةَ بِعَجُزِهَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَيْتُهُ بِهَا فَقَبِلَهَا".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں ایک قریب البلوغ لڑکا تھا، میں نے ایک خرگوش کا شکار کیا اور اسے بھونا پھر ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے اس کا پچھلا دھڑ مجھ کو دے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا میں اسے لے کر آیا تو آپ نے اسے قبول کیا۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3791]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح بخاري (2572) صحيح مسلم (1953)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الھبة 5 (2572)، الصید 10 (5489)، 32 (5535)، صحیح مسلم/الصید 9 (1953)، سنن الترمذی/الأطعمة 2 (1790)، سنن النسائی/الصید 25 (4317)، سنن ابن ماجہ/الصید 17 (3243)، (تحفة الأشراف: 1629)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/118، 171، 291)، سنن الدارمی/الصید 7 (2056) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ خَلَفٍ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي خَالِدَ بْنَ الْحُوَيْرِثِ، يَقُولُ: إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو كَانَ بالصِّفَاحِ، قَالَ مُحَمَّدٌ: مَكَانٌ بِمَكَّةَ، " وَإِنَّ رَجُلًا جَاءَ بِأَرْنَبٍ قَدْ صَادَهَا، فَقَالَ: يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو، مَا تَقُولُ؟ قَالَ: قَدْ جِيءَ بِهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا جَالِسٌ، فَلَمْ يَأْكُلْهَا وَلَمْ يَنْهَ عَنْ أَكْلِهَا، وَزَعَمَ أَنَّهَا تَحِيضُ".
محمد بن خالد کہتے ہیں کہ میں نے اپنے والد خالد بن حویرث کو کہتے سنا کہ عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما صفاح میں تھے (محمد (محمد بن خالد) کہتے ہیں: وہ مکہ میں ایک جگہ کا نام ہے) ایک شخص ان کے پاس خرگوش شکار کر کے لایا، اور کہنے لگا: عبداللہ بن عمرو! آپ اس سلسلے میں کیا کہتے ہیں؟ انہوں نے کہا: اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لایا گیا اور میں بیٹھا ہوا تھا آپ نے نہ تو اسے کھایا اور نہ ہی اس کے کھانے سے منع فرمایا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ خیال تھا کہ اسے حیض آتا ہے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3792]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ محمد بن خالد بن الحويرث مستور (تقريب التهذيب: 5842) وأبوه مجهول (التحرير: 1621) لم يوثقه غير ابن حبان ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 135
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 8621) (ضعیف الإسناد) (اس کے راوی خالد لین الحدیث ہیں)
|
|
|
28: باب فِي أَكْلِ الضَّبِّ .
باب: گوہ کھانے کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، " أَنَّ خَالَتَهُ أَهْدَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم سَمْنًا وَأَضُبًّا وَأَقِطًا، فَأَكَلَ مِنَ السَّمْنِ وَمِنَ الْأَقِطِ، وَتَرَكَ الْأَضُبَّ تَقَذُّرًا، وَأُكِلَ عَلَى مَائِدَتِهِ وَلَوْ كَانَ حَرَامًا مَا أُكِلَ عَلَى مَائِدَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ان کی خالہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گھی، گوہ اور پنیر بھیجا، آپ نے گھی اور پنیر کھایا اور گوہ کو گھن محسوس کرتے ہوئے چھوڑ دیا، اور آپ کے دستر خوان پر اسے کھایا گیا، اگر وہ حرام ہوتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دستر خوان پر نہیں کھایا جاتا۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3793]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح بخاري (2575) صحيح مسلم (1947)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الہبة 7 (2575)، الأطعمة 8 (5789)، 16 (5402)، الاعتصام 24 (7358)، صحیح مسلم/الذبائح 7 (1947)، سنن النسائی/الصید 26 (4324)، (تحفة الأشراف: 5448)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/255، 284، 322، 329، 340، 247) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ، " أَنَّهُ دَخَلَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْتَ مَيْمُونَةَ، فَأُتِيَ بِضَبٍّ مَحْنُوذٍ، فَأَهْوَى إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ، فَقَالَ بَعْضُ النِّسْوَةِ اللَّاتِي فِي بَيْتِ مَيْمُونَةَ: أَخْبِرُوا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَا يُرِيدُ أَنْ يَأْكُلَ مِنْهُ، فَقَالُوا: هُوَ ضَبٌّ، فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ، قَالَ: فَقُلْتُ: أَحَرَامٌ هُوَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟، قَالَ: لَا، وَلَكِنَّهُ لَمْ يَكُنْ بِأَرْضِ قَوْمِي فَأَجِدُنِي أَعَافُهُ"، قَالَ خَالِدٌ: فَاجْتَرَرْتُهُ فَأَكَلْتُهُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْظُرُ.
خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں داخل ہوئے تو آپ کی خدمت میں بھنا ہوا گوہ لایا گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف ہاتھ بڑھانا چاہا تو میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں موجود بعض عورتوں نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس چیز کی خبر کر دو جسے آپ کھانا چاہتے ہیں، تو لوگوں نے عرض کیا: (اللہ کے رسول!) یہ گوہ ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ اٹھا لیا۔ خالد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا یہ حرام ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں لیکن میری قوم کی سر زمین میں نہیں پایا جاتا اس لیے مجھے اس سے گھن محسوس ہوتی ہے“۔ (یہ سن کر) میں اسے کھینچ کر کھانے لگا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دیکھ رہے تھے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3794]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح بخاري (2537) صحيح مسلم (1945)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الأطعمة 10 (5391)، 14 (5400)، الذبائح 33 (5537)، صحیح مسلم/الذبائح 7 (1946)، سنن النسائی/الصید 26 (4321)، سنن ابن ماجہ/الصید 16 (3241)، (تحفة الأشراف: 3504)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/88، 89)، دی/الصید 8 (2060) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، أَخْبَرَنَا خَالِدٌ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ ثَابِتٍ بْنِ وَدِيعَةَ، قَالَ: " كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جَيْشٍ فَأَصَبْنَا ضِبَابًا، قَالَ: فَشَوَيْتُ مِنْهَا ضَبًّا، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَضَعْتُهُ بَيْنَ يَدَيْهِ، قَالَ: فَأَخَذَ عُودًا فَعَدَّ بِهِ أَصَابِعَهُ، ثُمَّ قَالَ: إِنَّ أُمَّةً مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ مُسِخَتْ دَوَابَّ فِي الْأَرْضِ، وَإِنِّي لَا أَدْرِي أَيُّ الدَّوَابِّ هِيَ، قَالَ: فَلَمْ يَأْكُلْ وَلَمْ يَنْهَ".
ثابت بن ودیعہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک لشکر میں تھے کہ ہم نے کئی گوہ پکڑے، میں نے ان میں سے ایک کو بھونا اور اسے لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ کے سامنے رکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لکڑی لی اور اس سے اس کی انگلیاں شمار کیں پھر فرمایا: ”بنی اسرائیل کا ایک گروہ مسخ کر کے زمین میں چوپایا بنا دیا گیا لیکن میں نہیں جانتا کہ وہ کون سا جانور ہے“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ تو کھایا اور نہ ہی اس سے منع کیا۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3795]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح ¤ وله شواھد عند مسلم (1949، 1951) وغيره
تخریج دارالدعوہ:
سنن النسائی/الصید 26 (4325)، سنن ابن ماجہ/الصید 16 (3238)، (تحفة الأشراف: 2069)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/220)، سنن الدارمی/الصید 8 (2059) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَوْفٍ الطَّائِيُّ، أَنَّ الْحَكَمَ بْنَ نَافِعٍ حَدَّثَهُمْ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ ضَمْضَمِ بْنِ زُرْعَةَ، عَنْ شُرَيْحِ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ أَبِي رَاشِدٍ الْحُبْرَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِبْلٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى عَنْ أَكْلِ لَحْمِ الضَّبِّ".
عبدالرحمٰن بن شبل اوسی انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گوہ کا گوشت کھانے سے منع فرمایا ۱؎۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3796]
💡 وضاحت:
۱؎: ضب: گوہ ایک رینگنے والا جانور جو چھپکلی کے مشابہ ہوتا ہے، اس کو سوسمار بھی کہتے ہیں، سانڈا بھی گوہ کی قسم کا ایک جانور ہے جس کا تیل نکال کر گٹھیا کے درد کے لئے یا طلاء کے لئے استعمال کرتے ہیں، یہ جانور نجد کے علاقہ میں بہت ہوتا ہے، حجاز میں نہ ہونے کی وجہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو نہ کھایا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دسترخوان پر یہ کھایا گیا اس لئے حلال ہے۔ جس جانور کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دسترخوان پر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کھایا اس کو عربی میں ضب کہتے ہیں اور خود حدیث میں اس کی صراحت ہے کہ یہ نجد کے علاقہ میں پایا جانے والا جانور ہے، جو بلاشبہ حلال ہے۔ احناف اور شیعی فرقوں میں امامیہ کے نزدیک گوہ کا گوشت کھانا حرام ہے، فرقہ زیدیہ کے یہاں یہ مکروہ ہے، لیکن صحیح بات اس کی حلت ہے۔ نجد کے علاقے میں پایا جانے والا یہ جانور برصغیر (ہندوستان، پاکستان، بنگلہ دیش) میں پائے جانے والے گوہ یا سانڈے سے بہت سی چیزوں میں مختلف ہے: - ضب نامی یہ جانور صحرائے عرب میں پایا جاتا ہے، اور ہندوستان میں پایا جانے والا گوہ یا سانڈا زرعی اور پانی والے علاقوں میں عام طورپر پایا جاتا ہے۔ - نجدی ضب (گوہ) پانی نہیں پیتا اور بلا کھائے اپنے سوراخ میں ایک لمبی مدت تک رہتا ہے، کبھی طویل صبرکے بعد اپنے بچوں کو کھا جاتا ہے، جب کہ برصغیر کا گوہ پانی کے کناروں پر پایا جاتا ہے، اور خوب پانی پیتا ہے۔ - نجدی ضب (گوہ) شریف بلکہ سادہ لوح جانور ہے، جلد شکار ہو جاتا ہے، جب کہ ہندوستانی گوہ کا پکڑنا نہایت مشکل ہوتا ہے۔ - نجدی ضب (گوہ) کے پنجے آدمی کی ہتھیلی کی طرح نرم ہوتے ہیں، جب کہ ہندوستانی گوہ کے پنجے اور اس کی دم نہایت سخت ہوتی ہیں، اور اس کے ناخن اس قدر سخت ہوتے ہیں کہ اگروہ کسی چیز کو پکڑلے تو اس سے اس کا چھڑانا نہایت دشوار ہوتا ہے، ترقی یافتہ دورسے پہلے مشہورہے کہ چور اس کی دم کے ساتھ رسی باندھ کر اسے مکان کے پچھواڑے سے اوپرچڑھادیتے اور یہ جانور مکان کی منڈیرکے ساتھ جاکرمضبوطی سے چمٹ جاتا اور پنجے گاڑلیتا اور چور اس کی دم سے بندھی رسی کے ذریعہ اوپرچڑھ جاتے اور چوری کرتے،جب کہ نجدی ضب (گوہ) کی دم اتنی قوت والی نہیں ہوتی۔ - ہندوستانی گوہ سانپ کی طرح زبان نکالتی اور پھنکارتی ہے، جب کہ نجدی ضب(گوہ) ایسانہیں کرتی۔ - ہندوستانی گوہ ایک بدبودار جانورہے اور اس کے قریب سے نہایت ناگوار بدبوآتی ہے،جب کہ نجدی ضب(گوہ) میں یہ نشانی نہیں پائی جاتی، اس کی وجہ یہ ہے کہ ہندوستانی گوہ گندگی کھاتی ہے، اور کیڑے مکوڑے بھی، نجدی ضب(گوہ) کیڑے مکوڑے اور خاص کر ٹڈی کھانے میں مشہور ہے،لیکن صحراء میں گندگی کا عملاً وجودنہیں ہوتا اور اگرہوبھی تومعمولی اور کبھی کبھار، صحراء میں پائی جانے والی بوٹیوں کوبھی وہ کھاتا ہے۔ - نجدی ضب(گوہ) کی کھال کوپکاکرعرب اس کی کپی میں گھی رکھتے تھے، جس کو'' ضبة'' کہتے ہیں اور ہندوستانی گوہ کی کھال کا ایسااستعمال کبھی سننے میں نہیں آیا اس لیے کہ وہ بدبودار ہوتی ہے۔ - نجدی ضب نامی جانور اپنے بنائے ہوئے پُرپیچ اور ٹیڑھے میڑھے بلوں (سوراخوں)میں اس طرح رہتا ہے کہ اس تک کوئی جانور نہیں پہنچ سکتا، اور اسی لیے حدیث شریف میں امت محمدیہ کے بارے میں ضب (گوہ) کے سوراخ میں چلے جانے کی تعبیرموجود ہے، اور یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی کمال باریک بینی اور کمالِ بلاغت پر دال ہے، امت محمدیہ سابقہ امتوں کے نقش قدم پر چلتے ہوئے طرح طرح کی گمراہیوں اور ضلالتوں کا شکار ہوگی، حتی کہ اگرسابقہ امتیں اپنی گمراہی میں اس حدتک جاسکتی ہیں جس تک پہنچنامشکل بات ہے تو امت محمدیہ وہ کام بھی کرگزرے گی، اسی کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح بیان کیا کہ اگرسابقہ امت اپنی گمراہی میں ضب (گوہ) کے سوراخ میں گھسی ہوگی تو امت محمدیہ کے لوگ بھی اس طرح کا ٹیڑھا میڑھا راستہ اختیارکریں گے اور یہ حدیث ضب (گوہ) کے مکان یعنی سوراخ کے پیچیدہ ہونے پر دلالت کررہی ہے، اور صحراء نجدکے واقف کار خاص کرضب (گوہ) کاشکارکرنے والے اس کو بخوبی جانتے ہیں،اور ضب (گوہ) کو اس کے سوراخ سے نکالنے کے لیے پانی استعمال کرتے ہیں کہ پانی کے پہنچتے ہی وہ اپنے سوراخ سے باہرآجاتی ہے، جب کہ ہندوستانی گوہ پرائے گھروں یعنی مختلف سوراخوں اور بلوں اور پرانے درختوں میں موجودسوراخ میں رہتی ہے۔ ضب اور ورل میں کیا فرق ہے؟ صحرائے عرب میں ضب کے مشابہ اور اس سے بڑا بالو، اور صحراء میں پائے جانے والے جانورکو ''وَرَل'' کہتے ہیں، تاج العروس میں ہے: ورل ضب کی طرح زمین پر رینگنے والا ایک جانورہے، جوضب کی خلقت پر ہے، إلا یہ کہ وہ ضب سے بڑا ہوتا ہے، بالواور صحراء میںپایاجاتا ہے، چھپکلی کی شکل کا بڑا جانورہے،جس کی دم لمبی اور سرچھوٹا ہوتا ہے، ازہری کہتے ہیں: ''وَرَل''عمدہ قامت اور لمبی دم والاجانورہے، گویا کہ اس کی دم سانپ کی دم کی طرح ہے،بسااوقات اس کی دم دوہاتھ سے بھی زیادہ لمبی ہوتی ہے، اور ضب (گوہ) کی دم گانٹھ دار ہوتی ہے،اور زیادہ سے زیادہ ایک بالشت لمبی، عرب ورل کو خبیث سمجھتے اور اس سے گھن کرتے ہیں، اس لیے اسے کھاتے نہیں ہیں، رہ گیا ضب تو عرب اس کا شکارکرنے اور اس کے کھانے کے حریص اور شوقین ہوتے ہیں، ضب کی دم کھُردری، سخت اور گانٹھ والی ہوتی ہے،دم کا رنگ سبززردی مائل ہوتا ہے، اور خود ضب مٹ میلی سیاہی مائل ہوتی ہے،اور موٹا ہونے پر اس کا سینہ پیلاہوجاتا ہے،اور یہ صرف ٹڈی،چھوٹے کیڑے اور سبزگھاس کھاتی ہے، اور زہریلے کیڑوں جیسے سانپ وغیرہ کو نہیں کھاتی، اور ورل بچھو، سانپ، گرگٹ اور گوبریلاسب کھاتا ہے، ورل کا گوشت بہت گرم ہوتا ہے، تریاق ہے، بہت تیز موٹاکرتا ہے، اسی لیے عورتیں اس کواستعمال کرتی ہیں، اور اس کی بیٹ (کا سرمہ) نگاہ کوتیز کرتا ہے، اور اس کی چربی کی مالش سے عضوتناسل موٹا ہوتا ہے (ملاحظہ ہو: تاج العروس: مادہ ورل، و لسان العرب) سابقہ فروق کی وجہ سے دونوں جگہ کے نجدی ضب اور ورل اور ہندوستان پائے جانے والے جانورجس کو گوہ یا سانڈاکہتے ہیں، ان میں واضح فرق ہے،بایں ہمہ نجدی ضب(گوہ) کھانا احادیث نبویہ اور اس علاقہ کے مسلمانوں کے رواج کے مطابق حلال ہے، اور اس میں کسی طرح کی قباحت اور کراہت کی کوئی بات نہیں، رہ گیا ہندوستانی گوہ کی حلت وحرمت کا مسئلہ تو سابقہ فروق کو سامنے رکھ کر اس کا فیصلہ کرنا چاہئے، اگر ہندوستانی گوہ نجاست کھاتا اور اس نجاست کی وجہ سے اس کے گوشت سے یا اس کے جسم سے بدبواٹھتی ہے تو یہ چیز علماء کے غورکرنے کی ہے، جب گندگی کھانے سے گائے بکری اور مرغیوں کا گوشت متاثر ہوجائے تو اس کاکھانا منع ہے، اس کو اصطلاح میں ''جلالہ''کہتے ہیں،تو نجاست کھانے والا جانور گوہ ہو یا کوئی اور وہ بھی حرام ہوگا، البتہ برصغیرکے صحرائی علاقوں میں پایا جانے والا گوہ نجد کے ضب (گوہ) کے حکم میں ہوگا۔ ضب اور ورل کے سلسلے میں نے اپنے دوست ڈاکٹرمحمداحمد المنیع پروفیسرکنگ سعود یونیورسٹی، ریاض جو زراعت اور غذا سے متعلق کالج میں پڑھاتے ہیں، اور صحرائے نجد کے جانوروں کے واقف کار ہیں، سوال کیا تو انہوں نے اس کی تفصیل مختصراً یوںلکھ کر دی: نجدی ضب نامی جانور کھایا جاتا ہے، اور ''ورل ''نہیں کھایا جاتا ہے ضب کا شکار آسانی سے کیا جاسکتا ہے اور ورل کا شکارمشکل کام ہے،ضب گھاس کھاتا ہے، اور ورل گوشت کھاتا ہے،ضب چیرپھاڑکرنے والا جانور نہیں ہے،جب کہ ورل چیرپھاڑکرنے والا جانور ہے، ضب کا ایک ہی رنگ ہوتا ہے، اور ورل دھاری دھار ہوتا ہے،ضب کی جلد کھُردری ہوتی ہے اور ورل کی جلد نرم ہوتی ہے،ضب کا سر چوڑا ہوتا ہے، اور وَرل کا سر دم نما ہوتا ہے، ضب کی گردن چھوتی ہوتی ہے،اور ورل کی گردن لمبی ہوتی ہے، ضب کی دم چھوٹی ہوتی ہے اور ورل کی دم لمبی ہوتی ہے،ضب کھُردرا اوکانٹے دارہوتا ہے، اور ورل نرم ہوتا ہے، ضب اپنی دم سے اپنا دفاع کرتا ہے، اور ورل بھی اپنی دم سے اپنا دفاع کرتا ہے،اور دُم سے شکاربھی کرتا ہے، ضب گوشت باکل نہیں کھاتا، اور ورل ضب اور گرگٹ سب کھا جاتا ہے، ضب تیز جانور ہے،اور ورل تیز ترضب میں حملہ آوری کی صفت نہیں پائی جاتی جب کہ ورل میں یہ صفت موجودہے،وہ دانتوں سے کاٹتا ہے،اور دم اور ہاتھ سے حملہ کرتا ہے، ضب ضرورت پڑنے پر اپنا دفاع کاٹ کراور ہاتھوں سے نوچ کر یا دُم سے مارکرتا ہے،اور وَرل بھی ایسا ہی کرتا ہے،ضب میں کچلی دانت نہیں ہے،اور وَرل میں کچلی دانت ہے، ضب حلال ہے، اور ورل حرام، ورل کے بارے میں یہ بھی کہاجاتا ہے کہ یہ زہریلا جانورہے۔ صحرائے عرب کا ضب، وَرل اور ہندوستانی گوہ یا سانڈا سے متعلق اس تفصیل کا مقصدصرف یہ ہے کہ اس جانورکے بارے میں صحیح صورتِ حال سامنے آجائے، حنفی مذہب میں بھینس کی قربانی جائز ہے اور دوسرے فقہائے کے یہاں بھی اس کی قربانی اس بناپر جائز ہے کہ یہ گائے کی ایک قسم ہے، جب کہ گائے کے بارے میں یہ مشہور ہے اور مشاہدہ بھی کہ وہ پانی میں نہیں جاتی جب کہ بھینس ایساجانور ہے جس کو پانی سے عشق اور کیچڑسے محبت ہے اور جب یہ تالاب میں داخل ہوجائے تو اس کو باہر نکالنا مشکل ہوتا ہے، اگربھینس کی قربانی کو گائے پر قیاس کرکے فقہاء نے جائز کہا ہے تو دونوں جگہ گوہ کے بعض فرق کا اعتبار نہ کرتے ہوئے اس جنس کے جانوروں کو حلال ہونا چاہئے،اہل علم کو فقہی تنگنائے سے ہٹ کر نصوص شرعیہ کی روشنی میں اس مسئلہ پرغورکرنا چاہئے اور عاملین حدیث کے نقطہ نظر کو صحیح ڈھنگ سے سمجھنا چاہئے۔ گوہ کی کئی قسمیں ہیں اور ہوسکتا ہے کہ بہت سی چیزیں سب میں قدر مشترک ہوں جیسے کہ قوت باہ میں اس کا مفیدہونا اس کی چربی کے طبی فوائد وغیرہ وغیرہ۔ حکیم مظفر حسین اعوان گوہ کے بارے میں لکھتے ہیں: نیولے کے مانند ایک جنگلی جانور ہے، دم سخت اور چھوٹی، قد بلی کے برابرہوتا ہے، اس کے پنجے میں اتنی مضبوط گرفت ہوتی ہے کہ دیوار سے چمٹ جاتا ہے، رنگ زرد سیاہی مائل، مزاج گرم وخشک بدرجہ سوم ...اس کی کھال کے جوتے بنائے جاتے ہیں۔(کتاب المفردات: ۴۲۷)، ظاہر ہے کہ یہ برصغیر میں پائے جانے والے جانور کی تعریف ہے۔ گوہ کی ایک قسم سانڈہ بھی ہے جس کے بارے میں حکیم مظفر حسین اعوان لکھتے ہیں: مشہورجانور ہے، جوگرگٹ یا گلہری کی مانندلیکن اس سے بڑاہوتا ہے،اس کی چربی اور تیل دواء مستعمل ہے، مزاج گرم وتر بدرجہ اوّل، افعال واستعمال بطورمقوی جاذب رطوبت، معظم ذکر، اور مہیج باہ ہے (کتاب المفردات: صفحہ ۲۷۵)
قال الشيخ الألباني:
حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ اسماعيل بن عياش مدلس وعنعن (معاذعلي زئي) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 135
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 9702) (حسن)
|
|
|
29: باب فِي أَكْلِ لَحْمِ الْحُبَارَى
باب: سرخاب کا گوشت کھانے کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ سَهْلٍ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ابْنِ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنِي بُرَيْهُ بْنُ عُمَرَ بْنِ سَفِينَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: " أَكَلْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَحْمَ حُبَارَى".
سفینہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (پانی کی چڑیا) سرخاب کا گوشت کھایا۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3797]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ ترمذي (1828) ¤ بريه: إبراهيم بن عمر: ضعيف (التحرير: 221) ضعفه الجمهور ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 135
تخریج دارالدعوہ:
سنن الترمذی/الأطعمة 26 (1828)، (تحفة الأشراف: 4482) (ضعیف) (اس کے راوی بریہ مجہول الحال ہیں)
|
|
|
30: باب فِي أَكْلِ حَشَرَاتِ الأَرْضِ
باب: زمین پر موجود کیڑوں مکوڑوں کے کھانے کے حکم کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا غَالِبُ بْنُ حَجْرَةَ، حَدَّثَنِي مِلْقَامُ بْنُ التَّلِبِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: " صَحِبْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ أَسْمَعْ لِحَشَرَةِ الْأَرْضِ تَحْرِيمًا".
تلب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں رہا لیکن میں نے کیڑے مکوڑوں کی حرمت کے متعلق نہیں سنا۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3798]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ ملقام: مستور (تق: 6878) أي مجهول الحال ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 135
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 2051) (ضعیف الإسناد) (اس کے راوی ملقام مجہول الحال ہیں)
|
|
|
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ الْكَلْبِيُّ أَبُو ثَوْرٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عِيسَى بْنِ نُمَيْلَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: " كُنْتُ عِنْدَ ابْنِ عُمَرَ، فَسُئِلَ عَنْ أَكْلِ الْقُنْفُذِ؟، فَتَلَا: قُلْ لا أَجِدُ فِي مَا أُوحِيَ إِلَيَّ مُحَرَّمًا سورة الأنعام آية 145، قَالَ: قَالَ شَيْخٌ عِنْدَهُ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: ذُكِرَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: خَبِيثَةٌ مِنَ الْخَبَائِثِ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: إِنْ كَانَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذَا، فَهُوَ كَمَا قَالَ مَا لَمْ نَدْرِ".
نمیلہ کہتے ہیں کہ میں ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس تھا آپ سے سیہی ۱؎ کے متعلق پوچھا گیا تو آپ نے یہ آیت پڑھی: «قل لا أجد فيما أوحي إلى محرما» ”اے نبی! آپ کہہ دیجئیے میں اسے اپنی طرف نازل کی گئی وحی میں حرام نہیں پاتا“ ان کے پاس موجود ایک بوڑھے شخص نے کہا: میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس کا ذکر کیا گیا تو آپ نے فرمایا: ”وہ ناپاک جانوروں میں سے ایک ناپاک جانور ہے“۔ تو ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا فرمایا ہے تو بیشک وہ ایسا ہی ہے جو ہمیں معلوم نہیں۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3799]
💡 وضاحت:
۱؎: بڑے چوہے کی مانند ایک جانور جس کے پورے بدن پر کانٹے ہوتے ہیں۔
قال الشيخ الألباني:
ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ عيسي بن نميلة وأبوه مجهولان (تق: 5336،7194) والشيخ مجهول ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 135
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 15494)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/381) (ضعیف) (اس کی سند میں ایک راوی شیخ مبہم ہیں)
|
|
|
31: باب مَا لَمْ يُذْكَرْ تَحْرِيمُهُ
باب: ایسی چیزوں کا بیان جن کی حرمت مذکور نہیں۔
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ صَبِيحٍ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ شَرِيكٍ الْمَكِّيَّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ أَبِي الشَّعْثَاءِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: " كَانَ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ يَأْكُلُونَ أَشْيَاءَ وَيَتْرُكُونَ أَشْيَاءَ تَقَذُّرًا، فَبَعَثَ اللَّهُ تَعَالَى نَبِيَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَنْزَلَ كِتَابَهُ، وَأَحَلَّ حَلَالَهُ، وَحَرَّمَ حَرَامَهُ، فَمَا أَحَلَّ فَهُوَ حَلَالٌ، وَمَا حَرَّمَ فَهُوَ حَرَامٌ، وَمَا سَكَتَ عَنْهُ فَهُوَ عَفْوٌ، وَتَلَا: قُلْ لا أَجِدُ فِي مَا أُوحِيَ إِلَيَّ مُحَرَّمًا سورة الأنعام آية 145 إِلَى آخِرِ الْآيَةِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ زمانہ جاہلیت میں لوگ بعض چیزوں کو کھاتے تھے اور بعض چیزوں کو ناپسندیدہ سمجھ کر چھوڑ دیتے تھے، تو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث کیا، اپنی کتاب نازل کی اور حلال و حرام کو بیان فرمایا، تو جو چیز اللہ نے حلال کر دی وہ حلال ہے اور جو چیز حرام کر دی وہ حرام ہے اور جس سے سکوت فرمایا وہ معاف ہے، پھر ابن عباس نے آیت کریمہ: «قل لا أجد فيما أوحي إلى محرما» ”آپ کہہ دیجئیے میں اپنی طرف نازل کی گئی وحی میں حرام نہیں پاتا“ اخیر تک پڑھی۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3800]
قال الشيخ الألباني:
صحيح الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح ¤ مشكوة المصابيح (4146)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 5386) (صحیح الإسناد)
|
|
|
32: باب فِي أَكْلِ الضَّبُعِ
باب: بجو کھانے کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْخُزَاعِيُّ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: " سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الضَّبُعِ؟، فَقَالَ: هُوَ صَيْدٌ، وَيُجْعَلُ فِيهِ كَبْشٌ إِذَا صَادَهُ الْمُحْرِمُ".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے لکڑبگھا (لگڑ بگڑ) ۱؎ کے متعلق پوچھا تو آپ نے فرمایا: ”وہ شکار ہے اور جب محرم اس کا شکار کرے تو اسے ایک دنبے کا دم دینا پڑے گا“۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3801]
💡 وضاحت:
۱؎: «ضبع» : ایک درندہ ہے، جو کتے سے بڑا اور اس سے زیادہ مضبوط ہوتا ہے، اس کا سر بڑا اور جبڑے مضبوط ہوتے ہیں، اس کی جمع «اضبع» ہے (المعجم الوسیط: ۵۳۳-۵۳۴) ہندو پاک میں اس درندے کو لکڑبگھا کہتے ہیں، جو بھیڑیے کی قسم کا ایک جنگلی جانور ہے، اور جسامت میں اس سے بڑا ہوتا ہے، اور اس کے کیچلی کے دانت بڑے ہوتے ہیں، اس کے جسم کے بال کالے اور راکھ کے رنگ کے رنگ دھاری دار ہوتے ہیں، پیچھے بائیں پاؤں دوسرے پاؤں سے چھوٹا ہوتا ہے، اس کا سر چیتے کے سر کی طرح ہوتا ہے، لیکن اس سے چھوٹا ہوتا ہے، وہ اپنے چوڑے چکلے مضبوط جبڑوں سے شیر اور چیتوں کے سر کو توڑ سکتا ہے، اکثر رات میں نکلتا ہے، اور اپنے مجموعے کے ساتھ رہتا ہے، یہ جانور زمین میں سوراخ کر کے مختلف چھوٹے چھوٹے کمرے بناتے ہیں، اور بیچ میں ایک ہال ہوتا ہے، جس میں سارے کمروں کے دروازے ہوتے ہیں، اور ایک دروازہ اس ہال سے باہر کو جاتا ہے، نجد میں ان کی اس رہائش کو «مضبعہ» یا «مجفرہ» کہتے ہیں، ماں پورے خاندان کی نگران ہوتی ہے، اور سب کے کھانے پینے کا انتظام کرتی ہے، اور نر سوراخ کے کنارے پر چھوٹوں کی نگرانی کرتا ہے، یہ جانور مردہ کھاتا ہے، لیکن شکار کبھی نہیں کرتا اور کسی پر حملہ بھی نہیں کرتا إلا یہ کہ کوئی اس پر حملہ آور ہو، یہ جانوروں کے پیچھے رہتا ہے، اس کی گردن سیدھی ہوتی ہے، اس لیے دائیں بائیں جسم موڑے بغیر نہیں ہو سکتا۔ اہل نجد کے یہاں یہ جانور کھایا جاتا تھا اور لوگ اس کا شکارکرتے تھے، میں نے اس کے بارے میں اپنے ایک دوست ڈاکٹر محمد احمد المنیع پروفیسر کنگ سعود یونیورسٹی، ریاض جو زراعت اور غذا سے متعلق کالج میں پڑھاتے ہیں، اور بذات خود صحرائی جانور کا تجربہ رکھتے ہیں، سے پوچھا تو انہوں نے مذکورہ بالا تفصیلات سے مجھے آگاہ کیا اور اس کے زمین کے اندر کے گھر کا نقشہ بھی بنا کر دکھایا۔ اس کے گھر کو ماند اور کھوہ سے بھی تعبیر کیا جا سکتا ہے۔ یہ تفصیل اس واسطے درج کی جاری ہے کہ مولانا وحیدالزماں نے «ضبع» کا ترجمہ بجو سے کیا ہے، فرماتے ہیں: فارسی زبان میں اسے «کفتار» اور ہندی میں بجو کہتے ہیں، یہ گوشت خور جانور ہے، جو بلوں میں رہتا ہے، مولانا محمد عبدہ الفلاح فیروز پوری کہتے ہیں کہ «ضبع» سے مراد بجو نہیں ہے بلکہ اس نوع کا ایک جانور ہے جسے شکار کیا جاتا ہے، اور اس کو لکڑبگڑکھا کہا جاتا ہے، جو سابقہ ریاست سندھ اور بہاولپور میں پایا جاتا ہے۔ اوپر کی تفصیل سے پتہ چلتا ہے کہ حدیث میں مذکور «ضبع» سے مراد لکڑبگھا ہے، بجو نہیں، شاید مولانا وحیدالزماں کے سامنے دمیری کی حیاۃ الحیوان تھی جس میں «ضبع» کی تعریف بجو سے کی گئی ہے، اور شیخ صالح الفوزان نے بھی حیاۃ الحیوان سے نقل کر کے یہی لکھا ہے، مولانا وحید الزماں بجو کے بارے میں فرماتے ہیں: ” اس سے صاف نکلتا ہے کہ بجو حلال ہے، امام شافعی کا یہی قول ہے، اور ابوحنیفہ کہتے ہیں کہ وہ دانت والا درندہ ہے، تو اور درندوں کی طرح حرام ہو گا، اور جب حلت اور حرمت میں تعارض ہو تو اس سے باز رہنا بھی احتیاط ہے “ سابقہ تفصیلات کی روشنی میں ہمارے یہاں لکڑبگھا ہی «ضبع» کا صحیح مصداق ہے، اور اس کا شکار کرنا اور اس کو کھانا صحیح حدیث کی روشنی میں جائز ہے۔ واضح رہے کہ چیرپھاڑ کرنے والے حیوانات حرام ہے، یعنی جس کی کچلی ہوتی ہے، اور جس سے وہ چیر پھاڑ کرتا ہے، جیسے: کتا، بلی جن کا شمار گھریلو یا پالتو جانور میں ہے اور وحشی جانور جیسے: شیر، بھیڑیا، چیتا، تیندوا، لومڑی، جنگلی بلی، گلہری، بھالو، بندر، ہاتھی، سمور (نیولے کے مشابہ اور اس سے کچھ بڑا اور رنگ سرخ سیاہی مائل) گیدڑ وغیرہ وغیرہ۔ حنفیہ، شافعیہ اور حنابلہ کے یہاں یہ سارے جانور حرام ہیں، اور مالکیہ کا ایک قول بھی ایسے ہی ہے، لکڑبگھا اور لومڑی ابویوسف اور محمد بن حسن کے نزدیک حلال ہے، جمہور علماء ان حیوانات کی حرمت کے دلیل میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث پیش کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر کچلی والے درندے کا کھانا حرام ہے (صحیح مسلم و موطا امام مالک) لکڑبگھا حنابلہ کے یہاں صحیح حدیث کی بنا پر حلال ہے، کچلی والے درندے میں سے صرف لکڑبگھا کو حرمت کے حکم سے مستثنی کرنے والوں کی دلیل اس سلسلے میں وارد احادیث و آثار ہیں، جن میں سے زیر نظر جابر رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے، جو صحیح ہے بلکہ امام بخاری نے بھی اس کی تصحیح فرمائی ہے (کمافي التلخیص الحبیر۴/۱۵۲)، نافع مولیٰ ابن عمر سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے ابن عمر کو یہ بتایا کہ سعد بن ابی وقاص لکڑبگھا کھاتے ہیں تو ابن عمر نے اس پر نکیر نہیں فرمائی۔ مالکیہ کے یہاں ان درندوں کا کھانا حلال ہے، ان کا استدلال اس آیت کریمہ سے ہے «قل لا أجد في ما أوحي إلي محرما على طاعم يطعمه إلا أن يكون ميتة أو دما مسفوحا أو لحم خنزير فإنه رجس أو فسقا أهل لغير الله به فمن اضطر غير باغ ولا عاد فإن ربك غفور رحيم» (سورة الأنعام: 145) ان آیات میں درندوں کے گوشت کا ذکر نہیں کیا گیا ہے، اس لیے یہ حلال ہوں گے اور ہر کچلی والے درندے کے گوشت کھانے سے ممانعت والی حدیث کراہت پر محمول کی جائے گی۔ خلاصہ یہ کہ مالکیہ کے علاوہ صرف حنبلی مذہب میں صحیح حدیث کی بنا پر لکڑبگھا حلال ہے (ملاحظہ ہو: الموسوعۃ الفقہیۃ الکویتیۃ: ۵/۱۳۳-۱۳۴)
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح ¤ مشكوة المصابيح (2704)
تخریج دارالدعوہ:
سنن الترمذی/الحج 28 (851)، الأطعمة 4 (1792)، سنن النسائی/الحج 89 (2839)، الصید 27 (4328)، سنن ابن ماجہ/المناسک 90 (3085)، الصید 15 (3236)، (تحفة الأشراف: 2381)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/297، 318، 322)، سنن الدارمی/المناسک 90 (1984) (صحیح)
|
|
|
33: باب النَّهْىِ عَنْ أَكْلِ السِّبَاعِ
باب: درندہ (پھاڑ کھانے والے جانور) کھانے کی ممانعت کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ: " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ أَكْلِ كُلِّ ذِي نَابٍ مِنَ السَّبُعِ".
ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھاڑ کھانے والے جانوروں میں سے ہر دانت والے جانور کے کھانے سے منع فرمایا ہے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3802]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح بخاري (5530) صحيح مسلم (1932)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الصید 29 (5530)، الطب 57 (5780)، صحیح مسلم/الصید 3 (1932)، الأطعمة 33 (1932)، سنن الترمذی/الصید 11 (1477)، سنن النسائی/الصید 28 (4330)، 30 (4348) سنن ابن ماجہ/الصید 13 (3232)، (تحفة الأشراف: 11874)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/193، 194، 195)، سنن الدارمی/ الأضاحی 18 (2023) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَكْلِ كُلِّ ذِي نَابٍ مِنَ السَّبُعِ، وَعَنْ كُلِّ ذِي مِخْلَبٍ مِنَ الطَّيْرِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر دانت والے درندے، اور ہر پنجہ والے پرندے کے کھانے سے منع فرمایا ہے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3803]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم (1934)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الصید 3 (1934)، (تحفة الأشراف: 6506)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الصید 33 (4353)، سنن ابن ماجہ/الصید 13 (3234)، مسند احمد (1/244، 289، 302، 327، 332، 339، 373)، دی/ الأضاحی 18 (2025) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّى الْحِمْصِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ الزُّبَيْدِيِّ، عَنْ مَرْوَانَ بْنِ رُؤْبَةَ التَّغْلِبِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَوْفٍ، عَنْ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِ كَرِبَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " أَلَا لَا يَحِلُّ ذُو نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ، وَلَا الْحِمَارُ الْأَهْلِيُّ، وَلَا اللُّقَطَةُ مِنْ مَالِ مُعَاهَدٍ إِلَّا أَنْ يَسْتَغْنِيَ عَنْهَا، وَأَيُّمَا رَجُلٍ ضَافَ قَوْمًا فَلَمْ يَقْرُوهُ فَإِنَّ لَهُ أَنْ يُعْقِبَهُمْ بِمِثْلِ قِرَاهُ".
مقدام بن معدیکرب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سنو! دانت والا درندہ حلال نہیں، اور نہ گھریلو گدھا، اور نہ کافر ذمی کا پڑا ہوا مال حلال ہے، سوائے اس مال کے جس سے وہ مستغنی اور بے نیاز ہو، اور جو شخص کسی قوم کے یہاں مہمان بن کر جائے اور وہ لوگ اس کی مہمان نوازی نہ کریں تو اسے یہ حق ہے کہ اس کے عوض وہ اپنی مہمانی کے بقدر ان سے وصول کر لے“۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3804]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح ¤ مشكوة المصابيح (4247) ¤ أخرجه البيھقي (9/332) وانظر الحديث السابق (460) وصححه ابن حبان (97)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 11571)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/العلم 10 (2663)، سنن ابن ماجہ/الصید 2 (3234)، مسند احمد (4/132) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، عَنْ ابْنِ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحَكَمِ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ خَيْبَرَ عَنْ أَكْلِ كُلِّ ذِي نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ، وَعَنْ كُلِّ ذِي مِخْلَبٍ مِنَ الطَّيْرِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے دن ہر دانت والے درندے اور ہر پنجہ والے پرندے کے کھانے سے منع فرما دیا۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3805]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ ابن ماجه (3234) نسائي (4353) ¤ سعيد بن أبي عروبة مدلس و عنعن ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 135
تخریج دارالدعوہ:
سنن النسائی/ الصید 33 (4353)، سنن ابن ماجہ/ الصید 13 (3234)، (تحفة الأشراف: 5639)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/339) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ سُلَيْمَانُ بْنُ سُلَيْمٍ، عَنْ صَالِحِ بْنِ يَحْيَى بْنِ الْمِقْدَامِ، عَنْ جَدِّهِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِ كَرِبَ، عَنْ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ، قَالَ: " غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْبَرَ، فَأَتَتْ الْيَهُودُ فَشَكَوْا أَنَّ النَّاسَ قَدْ أَسْرَعُوا إِلَى حَظَائِرِهِمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَلَا لَا تَحِلُّ أَمْوَالُ الْمُعَاهَدِينَ إِلَّا بِحَقِّهَا، وَحَرَامٌ عَلَيْكُمْ حُمُرُ الْأَهْلِيَّةِ، وَخَيْلُهَا، وَبِغَالُهَا، وَكُلُّ ذِي نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ، وَكُلُّ ذِي مِخْلَبٍ مِنَ الطَّيْرِ".
خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ میں نے خیبر کا غزوہ کیا، تو یہود آ کر شکایت کرنے لگے کہ لوگوں نے ان کے باڑوں کی طرف بہت جلدی کی ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خبردار! جو کافر تم سے عہد کر لیں ان کے اموال تمہارے لیے جائز نہیں ہیں سوائے ان کے جو جائز طریقے سے ہوں اور تمہارے لیے گھریلو گدھے، گھوڑے، خچر، ہر دانت والے درندے اور ہر پنجہ والے پرندے حرام ہیں“۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3806]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ صالح بن يحيي بن مقدام:لين،وأبوه مستور كما ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 135
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ أبو داود، انظر حدیث رقم: 3790، (تحفة الأشراف: 3508)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/89) (ضعیف منکر) (اس کے راوی صالح ضعیف، اور یحییٰ مجہول ہیں، نیز خالد رضی اللہ عنہ غزوہ خیبر تک مسلمان ہی نہیں ہوئے تھے تو اس میں شریک کیسے ہوئے)
|
|
|
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ زَيْدٍ الصَّنْعَانِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى عَنْ ثَمَنِ الْهِرِّ"، قَالَ ابْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ: عَنْ أَكْلِ الْهِرِّ، وَأَكْلِ ثَمَنِهَا.
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بلی کی قیمت سے منع فرمایا۔ ابن عبدالملک کی روایت میں بلی کھانے سے اور اس کی قیمت کھانے سے کے الفاظ ہیں۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3807]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح ¤ انظر الحديث السابق (3480)
تخریج دارالدعوہ:
سنن الترمذی/البیوع 49 (1280)، سنن ابن ماجہ/الصید 20 (3250)، (تحفة الأشراف: 2894) (ضعیف) (اس کے راوی عمر ضعیف ہیں)
|
|
|
34: باب فِي أَكْلِ لُحُومِ الْحُمُرِ الأَهْلِيَّةِ
باب: گھریلو گدھے کا گوشت کھانا حرام ہے۔
|
|
|
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَسَنٍ الْمِصِّيصِيُّ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، أَخْبَرَنِي رَجُلٌ، عَنْ جَابِرِ بَنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ خَيْبَرَ، عَنْ أَنْ نَأْكُلَ لُحُومَ الْحُمُرِ، وَأَمَرَنَا أَنْ نَأْكُلَ لُحُومَ الْخَيْلِ"، قَالَ عَمْرٌو: فَأَخْبَرْتُ هَذَا الْخَبَرَ أَبَا الشَّعْثَاءِ، فَقَالَ: قَدْ كَانَ الْحَكَمُ الْغِفَارِيُّ فِينَا يَقُولُ هَذَا، وَأَبَى ذَلِكَ الْبَحْرُ يُرِيدُ ابْنَ عَبَّاسٍ.
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے دن گھریلو گدھے کے گوشت کھانے سے منع فرمایا، اور ہمیں گھوڑے کا گوشت کھانے کا حکم دیا۔ عمرو کہتے ہیں: ابوالشعثاء کو میں نے اس حدیث سے باخبر کیا تو انہوں نے کہا: حکم غفاری بھی ہم سے یہی کہتے تھے اور اس «بحر» (عالم) نے اس حدیث کا انکار کیا ہے ان کی مراد ابن عباس رضی اللہ عنہما سے تھی ۱؎۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3808]
💡 وضاحت:
۱؎: ابن عباس رضی اللہ عنہما گھریلو گدھا کے کھانے کو جائز مانتے تھے، ہو سکتا ہے کہ انہیں حرمت والی حدیث نہ پہنچی ہو، آیت کریمہ: «قل لا أجد فيما أوحي إلي محرما» سے ان کا اس پر استدلال اس لئے صحیح نہیں ہے کہ یہ آیت مکی ہے، اور حرمت مدینہ میں ہوئی تھی۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح ق دون قول عمرو فأخبرت . . الخ
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح ¤ انظر الحديثين السابقين (3480، 3807)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/ الصید 28 (5529)، انظر حدیث رقم: 3788، (تحفة الأشراف: 3422)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/413) (صحیح) (اس سند میں رجل سے مراد محمد بن علی باقر ہیں)
|
|
|
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي زِيَادٍ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ عُبَيْدٍ أَبِي الْحَسَنِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ غَالِبِ بْنِ أَبْجَرَ، قَالَ: " أَصَابَتْنَا سَنَةٌ فَلَمْ يَكُنْ فِي مَالِي شَيْءٌ أُطْعِمُ أَهْلِي إِلَّا شَيْءٌ مِنْ حُمُرٍ، وَقَدْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَرَّمَ لُحُومَ الْحُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَصَابَتْنَا السَّنَةُ وَلَمْ يَكُنْ فِي مَالِي مَا أُطْعِمُ أَهْلِي إِلَّا سِمَانُ الْحُمُرِ، وَإِنَّكَ حَرَّمْتَ لُحُومَ الْحُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ، فَقَالَ: أَطْعِمْ أَهْلَكَ مِنْ سَمِينِ حُمُرِكَ فَإِنَّمَا حَرَّمْتُهَا مِنْ أَجْلِ جَوَّالِ الْقَرْيَةِ يَعْنِي الْجَلَّالَةَ"، قَالَ 12 أَبُو دَاوُدَ 12: عَبْدُ الرَّحْمَنِ هَذَا هُوَ ابْنُ مَعْقِلٍ، قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَى شُعْبَةُ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ عُبَيْدٍ أَبِي الْحَسَنِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَعْقِلٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ بِشْرٍ، عَنْ نَاسٍ مِنْ مُزَيْنَةَ: أَنَّ سَيِّدَ مُزَيْنَةَ أَبْجَرَ، أَوِ ابْنَ أَبْجَرَ، سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
غالب بن ابجر کہتے ہیں ہمیں قحط سالی لاحق ہوئی اور ہمارے پاس گدھوں کے علاوہ کچھ نہیں تھا جسے ہم اپنے اہل و عیال کو کھلاتے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھریلو گدھوں کے گوشت کو حرام کر چکے تھے، چنانچہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم کو قحط سالی نے آ پکڑا ہے اور ہمارے پاس سوائے موٹے گدھوں کے کوئی مال نہیں جسے ہم اپنے اہل و عیال کو کھلا سکیں اور آپ گھریلو گدھوں کے گوشت کو حرام کر چکے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اپنے اہل و عیال کو اپنے موٹے گدھے کھلاؤ میں نے انہیں گاؤں گاؤں گھومنے کی وجہ سے حرام کیا ہے“ یعنی نجاست خور گدھوں کو حرام کیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عبدالرحمٰن سے مراد ابن معقل ہیں۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس حدیث کو شعبہ نے عبیدابوالحسن سے، عبید نے عبدالرحمٰن بن معقل سے عبدالرحمٰن بن معقل نے عبدالرحمٰن بن بشر سے انہوں نے مزینہ کے چند لوگوں سے روایت کیا کہ مزینہ کے سردار ابجر یا ابن ابجر نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا تھا۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3809]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف الإسناد مضطرب
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ ناس من مزينة: مجاهيل،كلھم ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 135
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 11018) (ضعیف الإسناد/ مضطرب) (اس کی سند میں سخت اضطراب ہے)
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ عُبَيْدٍ، عَنْ ابْنِ مَعْقِلٍ، عَنْ رَجُلَيْنِ مِنْ مُزَيْنَةَ أَحَدُهُمَا عَنْ الْآخَرِ أَحَدُهُمَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ عُوَيْمٍ، وَالْآخَرُ غَالِبُ بْنُ الْأَبْجَرِ، قَالَ مِسْعَرٌ: أَرَى غَالِبًا الَّذِي أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا الْحَدِيثِ.
ابن معقل مزینہ کے دو آدمیوں سے روایت کرتے ہیں اور ان میں سے ایک شخص دوسرے سے روایت کرتا ہے ایک کا نام عبداللہ بن عمرو بن عویم اور دوسرے کا نام غالب بن أبجر ہے۔ مسعر کہتے ہیں: میرا خیال ہے غالب ہی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس بات (قحط والے معاملے) کو لے کر آئے تھے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3810]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ انظرالحديث السابق (3809) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 135
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 11018) (ضعیف الإسناد) (اس سند میں سخت اضطراب ہے)
|
|
|
حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ بَكَّارٍ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنْ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ خَيْبَرَ، " عَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ، وَعَنِ الْجَلَّالَةِ عَنْ رُكُوبِهَا وَأَكْلِ لَحْمِهَا".
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے دن گھریلو گدھوں کے گوشت سے اور نجاست خور جانور کی سواری کرنے اور اس کا گوشت کھانے سے منع فرمایا۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3811]
قال الشيخ الألباني:
حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن ¤ أخرجه النسائي (4452 وسنده حسن)
تخریج دارالدعوہ:
سنن النسائی/الضحایا 42 (4452)، (تحفة الأشراف: 8762)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/219) (حسن صحیح)
|
|
|
35: باب فِي أَكْلِ الْجَرَادِ
باب: ٹڈی کھانے کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ النَّمَرِيُّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي يَعْفُورٍ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي أَوْفَى , وَسَأَلْتُهُ" عَنِ الْجَرَادِ؟، فَقَالَ: غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِتَّ أَوْ سَبْعَ غَزَوَاتٍ، فَكُنَّا نَأْكُلُهُ مَعَهُ".
ابویعفور کہتے ہیں میں نے ابن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے سنا اور میں نے ان سے ٹڈی کے متعلق پوچھا تھا تو انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چھ یا سات غزوات کئے اور ہم اسے آپ کے ساتھ کھایا کرتے تھے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3812]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح بخاري (5495) صحيح مسلم (1952)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الصید 13 (5495)، صحیح مسلم/الصید 8 (1952)، سنن الترمذی/الأطعمة 10 (1821)، سنن النسائی/الصید 37 (4361)، (تحفة الأشراف: 5182)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/353، 357،380)، سنن الدارمی/الصید 5 (2053) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَرَجِ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ الزِّبْرِقَانِ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، عَنْ سَلْمَانَ، قَالَ: " سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْجَرَادِ؟، فَقَالَ: أَكْثَرُ جُنُودِ اللَّهِ، لَا آكُلُهُ، وَلَا أُحَرِّمُهُ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ الْمُعْتَمِرُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَمْ يَذْكُرْ سَلْمَانَ.
سلمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ٹڈی کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا: ”اللہ کے بہت سے لشکر ہیں، نہ میں اسے کھاتا ہوں اور نہ اسے حرام کرتا ہوں“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے معتمر نے اپنے والد سلیمان سے، سلیمان نے ابوعثمان سے، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے، انہوں نے سلمان رضی اللہ عنہ کا ذکر نہیں کیا ہے (یعنی مرسلاً روایت کی ہے)۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3813]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ سليمان التيمي عنعن وتابعه أبو العوام ولم يوثقه غير ابن حبان ¤ وانظر الحديث الآتي (3814) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 136
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابن ماجہ/الصید 9 (3219)، (تحفة الأشراف: 4495) (ضعیف) (اس کے راوی محمد بن زبر قان حافظہ کے کمزور ہیں اس لئے ان کی مرفوع روایت معتمر کی مرسل روایت کے بالمقابل مرجوح ہے صحیح سند سے اس روایت کا مرسل ہونا ہی صحیح ہے)
|
|
|
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، وَعَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَا: حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى بْنِ عُمَارَةَ، عَنْ أَبِي الْعَوَّامِ الْجَزَّارِ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، عَنْ سَلْمَانَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ، فَقَالَ مِثْلَهُ، فَقَالَ: أَكْثَرُ جُنْدِ اللَّهِ، قَالَ عَلِيٌّ: اسْمُهُ فَائِدٌ يَعْنِي أَبَا الْعَوَّامِ، قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي الْعَوَّامِ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَذْكُرْ سَلْمَانَ.
سلمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ٹڈی کے متعلق پوچھا گیا تو آپ نے ایسے ہی فرمایا: ”اللہ کے بہت سے لشکر ہیں“۔ علی کہتے ہیں: ان کا یعنی ابوالعوام کا نام فائد ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس حدیث کو حماد بن سلمہ نے ابوالعوام سے ابوالعوام نے ابوعثمان سے اور ابوعثمان نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا اور سلمان رضی اللہ عنہ کا ذکر نہیں کیا۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3814]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ ابن ماجه (3219) ¤ أبو العوام وثقه ابن حبان وحده ولعله منه دلسه سليمان التيمي ¤ وانظر الحديث السابق (3813) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 136
تخریج دارالدعوہ:
انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 4495) (ضعیف) (زکریا کے بالمقابل حماد کی روایت صحیح ہے، اور حماد کی روایت سے یہ روایت مرسل ہے)
|
|
|
36: باب فِي أَكْلِ الطَّافِي مِنَ السَّمَكِ
باب: مر کر پانی کے اوپر آ جانے والی مچھلی کا کھانا کیسا ہے؟
|
|
|
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ الطَّائِفِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ أُمَيَّةَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا أَلْقَى الْبَحْرُ أَوْ جَزَرَ عَنْهُ فَكُلُوهُ، وَمَا مَاتَ فِيهِ وَطَفَا فَلَا تَأْكُلُوهُ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، وَأَيُّوبُ، وَحَمَّادٌ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ أَوْقَفُوهُ عَلَى جَابِرٍ، وَقَدْ أُسْنِدَ هَذَا الْحَدِيثُ أَيْضًا مِنْ وَجْهٍ ضَعِيفٍ عَنْ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سمندر جس مچھلی کو باہر ڈال دے یا جس سے سمندر کا پانی سکڑ جائے تو اسے کھاؤ، اور جو اس میں مر کر اوپر آ جائے تو اسے مت کھاؤ“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس حدیث کو سفیان ثوری، ایوب اور حماد نے ابو الزبیر سے روایت کیا ہے، اور اسے جابر پر موقوف قرار دیا ہے اور یہ حدیث ایک ضعیف سند سے بھی مروی ہے جو اس طرح ہے: «عن ابن أبي ذئب عن أبي الزبير عن جابر عن النبي صلی اللہ علیہ وسلم » ۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3815]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ ابن ماجه (3247) ¤ أبو الزبير عنعن ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 136
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابن ماجہ/الصید 18 (3247)، (تحفة الأشراف: 2657) (ضعیف) (اس کے راوی یحییٰ حافظہ کے کمزور، اور ابو الزبیر مدلس ہیں اور عنعنہ سے روایت کئے ہوئے ہیں)
|
|
|
37: باب فِي الْمُضْطَرِّ إِلَى الْمَيْتَةِ
باب: مردار کھانے پر مجبور ہو تو اس کے حکم کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، أَنَّ رَجُلًا نَزَلَ الْحَرَّةَ وَمَعَهُ أَهْلُهُ وَوَلَدُهُ، فَقَالَ رَجُلٌ: إِنَّ نَاقَةً لِي ضَلَّتْ فَإِنْ وَجَدْتَهَا فَأَمْسِكْهَا، فَوَجَدَهَا فَلَمْ يَجِدْ صَاحِبَهَا، فَمَرِضَتْ، فَقَالَتِ امْرَأَتُهُ: انْحَرْهَا، فَأَبَى، فَنَفَقَتْ، فَقَالَتْ: اسْلُخْهَا حَتَّى نُقَدِّدَ شَحْمَهَا وَلَحْمَهَا وَنَأْكُلَهُ، فَقَالَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَاهُ، فَسَأَلَهُ، فَقَالَ: " هَلْ عِنْدَكَ غِنًى يُغْنِيكَ؟، قَالَ: لَا، قَالَ: فَكُلُوهَا، قَالَ: فَجَاءَ صَاحِبُهَا فَأَخْبَرَهُ الْخَبَرَ، فَقَالَ: هَلَّا كُنْتَ نَحَرْتَهَا، قَالَ: اسْتَحْيَيْتُ مِنْكَ".
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے اپنے اہل و عیال کے ساتھ حرہ میں قیام کیا، تو ایک شخص نے اس سے کہا: میری ایک اونٹنی کھو گئی ہے اگر تم اسے پانا تو اپنے پاس رکھ لینا، اس نے اسے پا لیا لیکن اس کے مالک کو نہیں پاس کا پھر وہ بیمار ہو گئی، تو اس کی بیوی نے کہا: اسے ذبح کر ڈالو، لیکن اس نے انکار کیا، پھر اونٹنی مر گئی تو اس کی بیوی نے کہا: اس کی کھال نکال لو تاکہ ہم اس کی چربی اور گوشت سکھا کر کھا سکیں، اس نے کہا: جب تک کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھ نہیں لیتا ایسا نہیں کر سکتا چنانچہ وہ آپ کے پاس آیا اور اس کے متعلق آپ سے دریافت کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تیرے پاس کوئی اور چیز ہے جو تجھے (مردار کھانے سے) بے نیاز کرے“ اس شخص نے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر تم کھاؤ“۔ راوی کہتے ہیں: اتنے میں اس کا مالک آ گیا، تو اس نے اسے سارا واقعہ بتایا تو اس نے کہا: تو نے اسے کیوں نہیں ذبح کر لیا؟ اس نے کہا: میں نے تم سے شرم محسوس کی (اور بغیر اجازت ایسا کرنا میں نے مناسب نہیں سمجھا)۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3816]
قال الشيخ الألباني:
حسن الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 2150)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/87، 88، 89، 97، 104) (حسن الإسناد)
|
|
|
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ، حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ وَهْبِ بْنِ عُقْبَةَ الْعَامِرِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ، عَنْ الْفُجَيْعِ الْعَامِرِيِّ، أَنَّهُ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " مَا يَحِلُّ لَنَا مِنَ الْمَيْتَةِ؟، قَالَ: مَا طَعَامُكُمْ؟، قُلْنَا: نَغْتَبِقُ وَنَصْطَبِحُ، قَالَ أَبُو نُعَيْمٍ: فَسَّرَهُ لِي عُقْبَةُ قَدَحٌ غُدْوَةً، وَقَدَحٌ عَشِيَّةً، قَالَ: ذَاكَ وَأَبِي الْجُوعُ، فَأَحَلَّ لَهُمُ الْمَيْتَةَ عَلَى هَذِهِ الْحَالِ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: الْغَبُوقُ مِنْ آخِرِ النَّهَارِ، وَالصَّبُوحُ مِنْ أَوَّلِ النَّهَارِ.
فجیع عامری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور پوچھا: مردار میں سے ہمارے لیے کیا حلال ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارا کھانا کیا ہے؟“ انہوں نے کہا: ہم شام کو دودھ پیتے ہیں اور صبح کو دودھ پیتے ہیں۔ ابونعیم کہتے ہیں: عقبہ نے مجھ سے اس کی تفسیر یہ کی کہ صبح کو ایک پیالہ پیتے ہیں اور شام کو ایک پیالہ پیتے ہیں میرا کل یہی کھانا ہے قسم ہے میرے والد کی میں بھوکا رہتا ہوں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسی صورت حال میں ان کے لیے مردار کو حلال کر دیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: «غبوق» کے معنی دن کے آخری حصہ کے ہیں اور «صبوح» کے معنی دن کے شروع حصہ کے ہیں۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3817]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ في سماع وھب بن عقبة من فجيع رضي اللّٰه عنه نظر ¤ والحديث ضعفه البيهقي (357/9) بقوله:”وفي ثبوت ھذه الأحاديث نظر“ ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 136
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 11021) (ضعیف الإسناد) (اس کے راوی عقبہ عامری لین الحدیث ہیں)
|
|
|
38: باب فِي الْجَمْعِ بَيْنَ لَوْنَيْنِ مِنَ الطَّعَامِ
باب: ایک وقت میں دو قسم کے کھانے جمع کرنا۔
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رِزْمَةَ، أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ حُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَدِدْتُ أَنَّ عِنْدِي خُبْزَةً بَيْضَاءَ مِنْ بُرَّةٍ سَمْرَاءَ مُلَبَّقَةً بِسَمْنٍ وَلَبَنٍ، فَقَامَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ، فَاتَّخَذَهُ فَجَاءَ بِهِ، فَقَالَ: فِي أَيِّ شَيْءٍ كَانَ هَذَا؟ قَالَ: فِي عُكَّةِ ضَبٍّ، قَالَ: ارْفَعْهُ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: هَذَا حَدِيثٌ مُنْكَرٌ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَأَيُّوبُ لَيْسَ هُوَ السَّخْتِيَانِيُّ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے گندمی رنگ کے گیہوں کی سفید روٹی جو گھی اور دودھ میں چپڑی ہوئی ہو بہت محبوب ہے“ تو قوم میں سے ایک شخص کھڑا ہوا اور اسے بنا کر آپ کی خدمت میں لایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”یہ کس برتن میں تھا؟“ اس نے کہا: سانڈا (سوسمار) کی کھال کے بنے ہوئے ایک برتن میں تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر تو اسے اٹھا لے جاؤ“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث منکر ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اور اس حدیث میں وارد ایوب، ایوب سختیانی نہیں ہیں۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3818]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ ابن ماجه (3341) ¤ أيوب ھذا ينظر فيه ولعله ابن خوط كما في النكت الظراف (75/9) وھو متروك (تقريب التهذيب: 612) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 136
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابن ماجہ/الأطعمة 47 (3341)، (تحفة الأشراف: 7551) (ضعیف) (اس کے راوی ایوب بن خوط متروک الحدیث ہیں)
|
|
|
39: باب فِي أَكْلِ الْجُبْنِ
باب: پنیر کھانے کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى الْبَلْخِيُّ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَنْصُورٍ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: " أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجُبْنَةٍ فِي تَبُوكَ، فَدَعَا بِسِكِّينٍ فَسَمَّى وَقَطَعَ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ غزوہ تبوک میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پنیر لائی گئی آپ نے چھری منگائی اور بسم الله پڑھ کر اسے کاٹا۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3819]
قال الشيخ الألباني:
حسن الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن ¤ مشكوة المصابيح (4227)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 7114)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/ الأشربة 40 (3052)، 20 (3827) (حسن الإسناد)
|
|
|
40: باب فِي الْخَلِّ
باب: سرکہ کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " نِعْمَ الْإِدَامُ الْخَلُّ".
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سرکہ کیا ہی اچھا سالن ہے“۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3820]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح ¤ انظر الحديث الآتي (3821)
تخریج دارالدعوہ:
سنن الترمذی/الأطعمة 35 (1842)، سنن ابن ماجہ/الأطعمة 33 (3317)، (تحفة الأشراف: 2579)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الأشربة40 (3052)، سنن النسائی/الأیمان 20 (3827) مسند احمد (3/304، 371، 389،390)، سنن الدارمی/الأطعمة 18 (2092) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، وَمُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَا: حَدَّثَنَا الْمُثَنَّى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ نَافِعٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " نِعْمَ الْإِدَامُ الْخَلُّ".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سرکہ کیا ہی اچھا سالن ہے“۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3821]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم (2052)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/ الأطعمة 30 (2052)، سنن النسائی/ الأیمان 20 (3827)، (تحفة الأشراف: 2338) (صحیح)
|
|
|
41: باب فِي أَكْلِ الثُّومِ
باب: لہسن کھانے کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، حَدَّثَنِي عَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ، أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ أَكَلَ ثُومًا أَوْ بَصَلًا، فَلْيَعْتَزِلْنَا أَوْ لِيَعْتَزِلْ مَسْجِدَنَا، وَلْيَقْعُدْ فِي بَيْتِهِ، وَإِنَّهُ أُتِيَ بِبَدْرٍ فِيهِ خَضِرَاتٌ مِنَ الْبُقُولِ، فَوَجَدَ لَهَا رِيحًا، فَسَأَلَ فَأُخْبِرَ بِمَا فِيهَا مِنَ الْبُقُولِ، فَقَالَ: قَرِّبُوهَا إِلَى بَعْضِ أَصْحَابِهِ كَانَ مَعَهُ، فَلَمَّا رَآهُ كَرِهَ أَكْلَهَا، قَالَ: كُلْ فَإِنِّي أُنَاجِي مَنْ لَا تُنَاجِي"، قَالَ أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ بِبَدْرٍ: فَسَّرَهُ ابْنُ وَهْبٍ طَبَقٌ.
عطا بن ابی رباح کا بیان ہے کہ جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو لہسن یا پیاز کھائے وہ ہم سے الگ رہے“ یا آپ نے فرمایا: ”ہماری مسجد سے الگ رہے، اور اپنے گھر میں بیٹھا رہے“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک طبق لایا گیا جس میں کچھ سبزیاں تھیں، آپ نے اس میں بو محسوس کی تو پوچھا: ”کس چیز کی سبزی ہے؟“ تو اس میں جس چیز کی سبزی تھی آپ کو بتایا گیا، تو اسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بعض ساتھیوں کے پاس لے جانے کو کہا جو آپ کے ساتھ تھے تو جب دیکھا کہ یہ لوگ بھی اسے کھانا ناپسند کر رہے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم کھاؤ کیونکہ میں ایسی ذات سے سرگوشی کرتا ہوں جس سے تم نہیں کرتے“۔ احمد بن صالح کہتے ہیں: ابن وہب نے بدر کی تفسیر طبق سے کی ہے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3822]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح بخاري (855) صحيح مسلم (564)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الأذان 160 (854)، الأطعمة 49 (ز545)، الاعتصام 24 (7359)، صحیح مسلم/المساجد 17 (564)، (تحفة الأشراف: 2485)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الأطعمة 13 (1806)، سنن النسائی/المساجد 16 (708)، سنن ابن ماجہ/الأطعمة 59 (3363)، مسند احمد (3/ 374، 387، 400) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، أَنَّ بَكْرَ بْنَ سَوَادَةَ حَدَّثَهُ، أَنَّ أَبَا النَّجِيبِ مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدٍ حَدَّثَهُ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ ذُكِرَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الثُّومُ وَالْبَصَلُ، وَقِيلَ: " يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَأَشَدُّ ذَلِكَ كُلُّهُ الثُّومُ أَفَتُحَرِّمُهُ؟، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كُلُوهُ، وَمَنْ أَكَلَهُ مِنْكُمْ فَلَا يَقْرَبْ هَذَا الْمَسْجِدَ حَتَّى يَذْهَبَ رِيحُهُ مِنْهُ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لہسن اور پیاز کا ذکر کیا گیا اور عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! ان میں سب سے زیادہ سخت لہسن ہے کیا آپ اسے حرام کرتے ہیں؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے کھاؤ اور جو شخص اسے کھائے وہ اس مسجد (مسجد نبوی) میں اس وقت تک نہ آئے جب تک اس کی بو نہ جاتی رہے“۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3823]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن ¤ صححه ابن خزيمة (1669 وسنده حسن) أبو النجيب وثقه ابن خزيمة وابن حبان فھو حسن الحديث
تخریج دارالدعوہ:
(تحفة الأشراف: 4438)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/المساجد 17 (566)، مسند احمد (4/252) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ أَظُنُّهُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ تَفَلَ تُجَاهَ الْقِبْلَةِ جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ تَفْلُهُ بَيْنَ عَيْنَيْهِ، وَمَنْ أَكَلَ مِنْ هَذِهِ الْبَقْلَةِ الْخَبِيثَةِ فَلَا يَقْرَبَنَّ مَسْجِدَنَا ثَلَاثًا".
حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے قبلہ کی جانب تھوکا تو اس کا تھوک قیامت کے دن اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان لگا ہوا آئے گا، اور جس نے ان گندی سبزیوں کو کھایا وہ ہماری مسجد کے قریب نہ آئے“ یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ فرمایا۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3824]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ جرير بن عبدالحميد شك في رفع الحديث ¤ فالسند معلل ¤ وللحديث طريق موقوف عند ابن أبي شيبة (2/ 365) وسنده صحيح ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 136
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 3326) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ أَكَلَ مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ فَلَا يَقْرَبَنَّ الْمَسَاجِدَ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اس درخت (لہسن) سے کھائے وہ مسجدوں کے قریب نہ آئے“۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3825]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح بخاري (853) صحيح مسلم (561)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الأذان 160 (853)، صحیح مسلم/المساجد 17 (561)، (تحفة الأشراف: 8143)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 58 (1016)، مسند احمد (2/20)، سنن الدارمی/الأطعمة 21 (2097) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، حَدَّثَنَا أبُو هِلَالٍ، حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ هِلَالٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، قَالَ: " أَكَلْتُ ثُومًا، فَأَتَيْتُ مُصَلَّى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ سُبِقْتُ بِرَكْعَةٍ، فَلَمَّا دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ وَجَدَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رِيحَ الثُّومِ، فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاتَهُ، قَالَ: مَنْ أَكَلَ مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ فَلَا يَقْرَبَنَّا حَتَّى يَذْهَبَ رِيحُهَا أَوْ رِيحُهُ، فَلَمَّا قُضِيَتِ الصَّلَاةُ جِئْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَاللَّهِ لَتُعْطِيَنِّي يَدَكَ، قَالَ: فَأَدْخَلْتُ يَدَهُ فِي كُمِّ قَمِيصِي إِلَى صَدْرِي، فَإِذَا أَنَا مَعْصُوبُ الصَّدْرِ، قَالَ: إِنَّ لَكَ عُذْرًا".
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں لہسن کھا کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد آیا میری ایک رکعت چھوٹ گئی تھی، جب میں مسجد میں داخل ہوا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لہسن کی بو محسوس کی، تو جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نماز پوری کر چکے تو فرمایا: ”جو شخص اس درخت (لہسن) سے کھائے وہ ہمارے قریب نہ آئے یہاں تک کہ اس کی بو جاتی رہے“۔ راوی کو شک ہے آپ نے «ريحها» کہا یا «ريحه» کہا، تو جب میں نے نماز پوری کر لی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا: اللہ کے رسول! قسم اللہ کی آپ اپنا ہاتھ مجھے دیجئیے، وہ کہتے ہیں: میں نے آپ کا ہاتھ پکڑ کر اپنے کرتے کے آستین میں داخل کیا اور سینہ تک لے گیا، تو میرا سینہ بندھا ہوا نکلا آپ نے فرمایا: ”بلاشبہ تو معذور ہے ۱؎“۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3826]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی بھوک کی شدت کی وجہ سے انہوں نے پیٹ پر پتھر باندھ لیا تھا جس کا بندھن سینے تک تھا، اور انہیں کھانے کے لئے لہسن کے سوا کچھ نہیں ملا تھا جسے کھا کر وہ مسجد آئے تھے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح ¤ أبو ھلال تابعه سليمان بن المغيرة عند أحمد (4/252) وصححه ابن خزيمة (1672) وابن حبان (319)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 11539)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/249، 252) (صحیح) (اس کے راوی ابو ہلال متکلم فیہ ہیں مگر صحیح ابن خزیمہ میں ان کی صحیح متابعت موجود ہے، نمبر 1672)
|
|
|
حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَيْسَرَةَ يَعْنِي الْعَطَّارَ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ، عَنْ أَبِيهِ: أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ هَاتَيْنِ الشَّجَرَتَيْنِ، وَقَالَ: " مَنْ أَكَلَهُمَا فَلَا يَقْرَبَنَّ مَسْجِدَنَا، وَقَالَ: إِنْ كُنْتُمْ لَا بُدَّ آكِلِيهِمَا، فَأَمِيتُوهُمَا طَبْخًا"، قَالَ: يَعْنِي الْبَصَلَ وَالثُّومَ.
قرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دو درختوں سے منع کیا، اور فرمایا: ”جو شخص انہیں کھائے وہ ہماری مسجد کے قریب نہ آئے“ اور فرمایا: ”اگر تمہیں کھانا ضروری ہی ہو تو انہیں پکا کر مار دو“۔ راوی کہتے ہیں: آپ کی مراد پیاز اور لہسن سے تھی۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3827]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن ¤ مشكوة المصابيح (736)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ أبودواد، (تحفة الأشراف: 1180)، و قد أخرجہ: سنن النسائی/ الکبری (6681)، مسند احمد (4/19) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا الْجَرَّاحُ أَبُو وَكِيعٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ شَرِيكٍ، عَنْ عَلِيٍّ رَضَي اللهُ عَنْهُ، قَالَ: " نُهِيَ عَنْ أَكْلِ الثُّومِ إِلَّا مَطْبُوخًا"، قَالَ أَبُو دَاوُد: شَرِيكُ بْنُ حَنْبَلٍ.
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں لہسن کھانے سے منع فرمایا گیا ہے مگر یہ کہ پکا ہوا ہو۔ ابوداؤد کہتے ہیں: شریک (جن کا ذکر سند میں آیا ہے) وہ شریک بن حنبل ہیں۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3828]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ ترمذي (1808) ¤ أبو إسحاق عنعن واختلط أيضًا (انظر التقريب: 5065) ¤ والحديث ضعفه الترمذي ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 136
تخریج دارالدعوہ:
سنن الترمذی/الأطعمة 14 (1809)، (تحفة الأشراف: 10127) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا. ح حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، عَنْ بَحِيرٍ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي زِيَادٍ خِيَارِ بْنِ سَلَمَةَ، أَنَّهُ" سَأَلَ عَائِشَةَ عَنِ الْبَصَلِ؟ فَقَالَتْ: إِنَّ آخِرَ طَعَامٍ أَكَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَعَامٌ فِيهِ بَصَلٌ".
ابوزیاد خیار بن سلمہ سے روایت ہے کہ انہوں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پیاز کے متعلق پوچھا کیا تو آپ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو آخری کھانا تناول کیا اس میں پیاز تھی۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3829]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ خيار بن سلمة: مجهول (التحرير: 1771) لم يوثقه غير ابن حبان ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 136
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 16068)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/89) (ضعیف) (اس کے راوی خیار بن سلمہ لین الحدیث ہیں)
|
|
|
42: باب فِي التَّمْرِ
باب: کھجور کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي يَحْيَى، عَنْ يَزِيدَ الْأَعْوَرِ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ، قَالَ: " رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذَ كِسْرَةً مِنْ خُبْزِ شَعِيرٍ فَوَضَعَ عَلَيْهَا تَمْرَةً، وَقَالَ: هَذِهِ إِدَامُ هَذِهِ".
یوسف بن عبداللہ بن سلام کہتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ نے جو کی روٹی کا ایک ٹکڑا لیا اور اس پر کھجور رکھا اور فرمایا: ”یہ اس کا سالن ہے“۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3830]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ انظر الحديث السابق (3260) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 137
تخریج دارالدعوہ:
انظرحدیث رقم: (3259)، (تحفة الأشراف: 11854) (ضعیف) (اس کے راوی یزیدا لاعور مجہول ہیں)
|
|
|
حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ عُتْبَةَ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، حَدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " بَيْتٌ لَا تَمْرَ فِيهِ جِيَاعٌ أَهْلُهُ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس گھر میں کھجور نہ ہو اس گھر کے لوگ فاقہ سے ہوں گے ۱؎“۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3831]
💡 وضاحت:
۱؎: اس لئے کہ اس وقت کھجور ہی عربوں کی اصل خوراک تھی، اگر گھر اس سے خالی ہو تو ظاہر ہے گھر والوں کو بھوکا رہنا پڑے گا۔ طیبی کہتے ہیں: شاید اس سے مقصود قنات کی ترغیب ہے یعنی جو اس پر قناعت کر لے وہ بھوکا نہیں رہ سکتا، اور ایک قول یہ بھی ہے کہ اس سے مقصود کھجور کی فضیلت ظاہر کرنی ہے، نئی تحقیقات سے کھجور کی افادیت اور اہمیت واضح ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم (2046)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الأشربة 26 (2046)، سنن الترمذی/الأطعمة 17 (1815)، سنن ابن ماجہ/الأطعمة 38 (3327)، (تحفة الأشراف: 16942)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/الأطعمة 26 (2105) (صحیح)
|
|
|
43: باب فِي تَفْتِيشِ التَّمْرِ الْمُسَوَّسِ عِنْدَ الأَكْلِ
باب: کھاتے وقت کھجور سے کیڑے تلاش کرنا اور نکالنے کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ جَبَلَةَ، حَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ قُتَيْبَةَ أَبُو قُتَيْبَةَ، عَنْ هَمَّامٍ، عَنْ إِسْحَاق بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: " أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِتَمْرٍ عَتِيقٍ، فَجَعَلَ يُفَتِّشُهُ يُخْرِجُ السُّوسَ مِنْهُ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ پرانے کھجور لائے گئے تو آپ اس میں سے چن چن کر کیڑے (سرسریاں) نکالنے لگے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3832]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن ¤ مشكوة المصابيح (4226) ¤ أخرجه ابن ماجه (3333 وسنده حسن)
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابن ماجہ/الأطعمة 42 (3333)، (تحفة الأشراف: 215) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا هَمَّامٌ، عَنْ إِسْحَاق بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُؤْتَى بِالتَّمْرِ فِيهِ دُودٌ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ.
اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھجور لایا جاتا جس میں کیڑے (سرسریاں) ہوتے، پھر انہوں نے اسی مفہوم کی حدیث ذکر کی۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3833]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن ¤ انظر الحديث السابق (3832)
تخریج دارالدعوہ:
انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 215) (صحیح) (یہ مرسل ہے، لیکن سابقہ حدیث سے تقویت پاکر صحیح ہے)
|
|
|
44: باب الإِقْرَانِ فِي التَّمْرِ عِنْدَ الأَكْلِ
باب: دو دو تین تین کھجوریں ایک ساتھ کھانے کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا وَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ جَبَلَةَ بْنِ سُحَيْمٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْإِقْرَانِ، إِلَّا أَنْ تَسْتَأْذِنَ أَصْحَابَكَ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کئی کھجوریں ایک ساتھ ملا کر کھانے سے منع فرمایا الا یہ کہ تم اپنے ساتھیوں سے اجازت لے لو۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3834]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح ¤ رواه البخاري (5446) ومسلم (2045)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الشرکة 4 (2490)، صحیح مسلم/الأشربة 25 (2045)، سنن الترمذی/الأطعمة 16 (1814)، سنن ابن ماجہ/الأطعمة 41 (3331)، (تحفة الأشراف: 6667)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/7، 44، 46، 60، 74، 81، 103، 131)، سنن الدارمی/الأطعمة 25 (2103) (صحیح)
|
|
|
45: باب فِي الْجَمْعِ بَيْنَ لَوْنَيْنِ فِي الأَكْلِ
باب: دو قسم کے کھانے ایک ساتھ کھانے کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ النَّمَرِيُّ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ" يَأْكُلُ الْقِثَّاءَ بِالرُّطَبِ".
عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ککڑی پکی ہوئی تازی کھجور کے ساتھ کھاتے تھے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3835]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح بخاري (5447) صحيح مسلم (2043)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الأطعمة 39 (5440)، صحیح مسلم/الأشربة 23 (2043)، سنن الترمذی/الأطعمة 37 (1844)، سنن ابن ماجہ/الأطعمة 37 (3325)، (تحفة الأشراف: 5219)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/203)، سنن الدارمی/الأطعمة 24 (2102) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ نُصَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَأْكُلُ الْبِطِّيخَ بِالرُّطَبِ، فَيَقُولُ: نَكْسِرُ حَرَّ هَذَا بِبَرْدِ هَذَا وَبَرْدَ هَذَا بِحَرِّ هَذَا".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تربوز یا خربوزہ پکی ہوئی تازہ کھجور کے ساتھ کھاتے تھے اور فرماتے تھے: ”ہم اس (کھجور) کی گرمی کو اس (تربوز) کی ٹھنڈک سے اور اس (تربوز) کی ٹھنڈک کو اس (کھجور) کی گرمی سے توڑتے ہیں“۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3836]
قال الشيخ الألباني:
حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح ¤ مشكوة المصابيح (4225)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 16853)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الأطعمة 36 (1843) (حسن)
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْوَزِيرِ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مَزْيَدَ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ جَابِرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي سُلَيْمُ بْنُ عَامِرٍ، عَنْ ابْنَيْ بُسْرٍ السُّلَمِيَّيْنِ، قَالَا: " دَخَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَدَّمْنَا زُبْدًا وَتَمْرًا، وَكَانَ يُحِبُّ الزُّبْدَ وَالتَّمْرَ".
بسر سلمی کے لڑکے عبداللہ و عطیہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے تو ہم نے آپ کی خدمت میں مکھن اور کھجور پیش کیا، آپ مکھن اور کھجور پسند کرتے تھے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3837]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح ¤ مشكوة المصابيح (4232) ¤ أخرجه ابن ماجه (3334 وسنده صحيح) ابنا بسر سلميين ھما عبد الله بن بسر وعطية بن بسر رضي الله عنھما
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابن ماجہ/الأطعمة 43 (3334)، (تحفة الأشراف: 5192) (صحیح)
|
|
|
46: باب الأَكْلِ فِي آنِيَةِ أَهْلِ الْكِتَابِ
باب: اہل کتاب یعنی یہود و نصاریٰ کے برتنوں میں کھانا کیسا ہے؟
|
|
|
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، وَإِسْمَاعِيل، عَنْ بُرْدِ بْنِ سِنَانٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: " كُنَّا نَغْزُو مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنُصِيبُ مِنْ آنِيَةِ الْمُشْرِكِينَ وَأَسْقِيَتِهِمْ فَنَسْتَمْتِعُ بِهَا، فَلَا يَعِيبُ ذَلِكَ عَلَيْهِمْ".
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ کرتے تھے تو ہم مشرکین کے برتن اور مشکیزے پاتے تو انہیں کام میں لاتے تو آپ اس کی وجہ سے ہم پر کوئی نکیر نہیں فرماتے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3838]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 2400)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/327، 343، 379، 389) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ زَبْرٍ، عَنْ أَبِي عُبَيْدِ اللَّهِ مُسْلِمِ بْنِ مِشْكَمٍ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ، أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّا نُجَاوِرُ أَهْلَ الْكِتَابِ، وَهُمْ يَطْبُخُونَ فِي قُدُورِهِمُ الْخِنْزِيرَ، وَيَشْرَبُونَ فِي آنِيَتِهِمُ الْخَمْرَ؟، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنْ وَجَدْتُمْ غَيْرَهَا فَكُلُوا فِيهَا وَاشْرَبُوا، وَإِنْ لَمْ تَجِدُوا غَيْرَهَا فَارْحَضُوهَا بِالْمَاءِ وَكُلُوا وَاشْرَبُوا".
ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہا: ہم اہل کتاب کے پڑوس میں رہتے، وہ اپنی ہانڈیوں میں سور کا گوشت پکاتے ہیں اور اپنے برتنوں میں شراب پیتے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تمہیں ان کے علاوہ برتن مل جائیں تو ان میں کھاؤ پیئو، اور اگر ان کے علاوہ برتن نہ ملیں تو انہیں پانی سے دھو ڈالو پھر ان میں کھاؤ اور پیو“۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3839]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 11872)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الصید 4 (5478)، 10 (5488)، 14 (5496)، صحیح مسلم/الصید 1 (1930)، سنن الترمذی/الصید 1 (1464)، سنن ابن ماجہ/الصید 3 (3207) (صحیح)
|
|
|
47: باب فِي دَوَابِّ الْبَحْرِ
باب: سمندری جانوروں کے کھانے کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: " بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَمَّرَ عَلَيْنَا أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ الْجَرَّاحِ نَتَلَقَّى عِيرًا لِقُرَيْشٍ، وَزَوَّدَنَا جِرَابًا مِنْ تَمْرٍ لَمْ نَجِدْ لَهُ غَيْرَهُ، فَكَانَ أَبُو عُبَيْدَةَ يُعْطِينَا تَمْرَةً تَمْرَةً كُنَّا نَمُصُّهَا كَمَا يَمُصُّ الصَّبِيُّ، ثُمَّ نَشْرَبُ عَلَيْهَا مِنَ الْمَاءِ، فَتَكْفِينَا يَوْمَنَا إِلَى اللَّيْلِ، وَكُنَّا نَضْرِبُ بِعِصِيِّنَا الْخَبَطَ، ثُمَّ نَبُلُّهُ بِالْمَاءِ، فَنَأْكُلُهُ، وَانْطَلَقْنَا عَلَى سَاحِلِ الْبَحْرِ، فَرُفِعَ لَنَا كَهَيْئَةِ الْكَثِيبِ الضَّخْمِ، فَأَتَيْنَاهُ فَإِذَا هُوَ دَابَّةٌ تُدْعَى الْعَنْبَرَ، فَقَالَ أَبُو عُبَيْدَةَ: مَيْتَةٌ وَلَا تَحِلُّ لَنَا، ثُمَّ قَالَ: لَا، بَلْ نَحْنُ رُسُلُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَقَدِ اضْطُرِرْتُمْ إِلَيْهِ فَكُلُوا، فَأَقَمْنَا عَلَيْهِ شَهْرًا، وَنَحْنُ ثَلَاثُ مِائَةٍ حَتَّى سَمِنَّا، فَلَمَّا قَدِمْنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرْنَا ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ: هُوَ رِزْقٌ أَخْرَجَهُ اللَّهُ لَكُمْ، فَهَلْ مَعَكُمْ مِنْ لَحْمِهِ شَيْءٌ فَتُطْعِمُونَا مِنْهُ؟، فَأَرْسَلْنَا مِنْهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَكَلَ".
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کو ہم پر امیر بنا کر قریش کا ایک قافلہ پکڑنے کے لیے روانہ کیا اور زاد سفر کے لیے ہمارے ساتھ کھجور کا ایک تھیلہ تھا، اس کے علاوہ ہمارے پاس کچھ نہیں تھا، ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ ہمیں ہر روز ایک ایک کھجور دیا کرتے تھے، ہم لوگ اسے اس طرح چوستے تھے جیسے بچہ چوستا ہے، پھر پانی پی لیتے، اس طرح وہ کھجور ہمارے لیے ایک دن اور ایک رات کے لیے کافی ہو جاتی، نیز ہم اپنی لاٹھیوں سے درخت کے پتے جھاڑتے پھر اسے پانی میں تر کر کے کھاتے، پھر ہم ساحل سمندر پر چلے توریت کے ٹیلہ جیسی ایک چیز ظاہر ہوئی، جب ہم لوگ اس کے قریب آئے تو کیا دیکھتے ہیں کہ وہ ایک مچھلی ہے جسے عنبر کہتے ہیں۔ ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ مردار ہے اور ہمارے لیے جائز نہیں۔ پھر وہ کہنے لگے: نہیں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بھیجے ہوئے لوگ ہیں اور اللہ کے راستے میں ہیں اور تم مجبور ہو چکے ہو لہٰذا اسے کھاؤ، ہم وہاں ایک مہینہ تک ٹھہرے رہے اور ہم تین سو آدمی تھے یہاں تک کہ ہم (کھا کھا کر) موٹے تازے ہو گئے، جب ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو آپ سے اس واقعہ کا ذکر کیا، تو آپ نے فرمایا: ”وہ رزق تھا جسے اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے بھیجا تھا، کیا تمہارے پاس اس کے گوشت سے کچھ بچا ہے، اس میں سے ہمیں بھی کھلاؤ“ ہم نے اس میں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا تو آپ نے اسے کھایا۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3840]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح بخاري (2483) صحيح مسلم (1935)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الصید 4 (1935)، (تحفة الأشراف: 2724، 5045)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/311، 378) (صحیح)
|
|
|
48: باب فِي الْفَأْرَةِ تَقَعُ فِي السَّمْنِ
باب: گھی میں چوہیا گر جائے تو کیا کیا جائے؟
|
|
|
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ مَيْمُونَةَ، أَنَّ فَأْرَةً وَقَعَتْ فِي سَمْنٍ، فَأُخْبِرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أَلْقُوا مَا حَوْلَهَا وَكُلُوا".
ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک چوہیا گھی میں گر گئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی خبر دی گئی، آپ نے فرمایا: ”(جس جگہ گری ہے) اس کے آس پاس کا گھی نکال کر پھینک دو اور (باقی) کھاؤ“۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3841]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح بخاري (5538)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الوضوء 67 (235)، والذبائح 34 (5538)، سنن الترمذی/الأطعمة 8 (1798)، سنن النسائی/الفرع والعتیرة 9 (4263)، (تحفة الأشراف: 18065)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الاستئذان 7 (20)، مسند احمد (6/329، 330، 335)، سنن الدارمی/الطہارة 60 (765) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، وَاللَّفْظُ لِلْحَسَنِ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا وَقَعَتِ الْفَأْرَةُ فِي السَّمْنِ فَإِنْ كَانَ جَامِدًا فَأَلْقُوهَا وَمَا حَوْلَهَا، وَإِنْ كَانَ مَائِعًا فَلَا تَقْرَبُوهُ"، قَالَ الْحَسَنُ: قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ: وَرُبَّمَا حَدَّثَ بِهِ مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ مَيْمُونَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب چوہیا گھی میں گر جائے تو اگر گھی جما ہو تو چوہیا اور اس کے اردگرد کا حصہ پھینک دو (اور باقی کھا لو) اور اگر گھی پتلا ہو تو اس کے قریب مت جاؤ“۔ حسن کہتے ہیں: عبدالرزاق نے کہا: اس روایت کو بسا اوقات معمر نے: «عن الزهري عن عبيدالله بن عبدالله عن ابن عباس عن ميمونة عن النبي صلی اللہ علیہ وسلم » کے طریق سے بیان کیا ہے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3842]
قال الشيخ الألباني:
شاذ
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ الزهري عنعن ومعمر خالفه الثقات فيه ¤ والحديث ضعفه البخاري والترمذي وغيرھما ¤ انظر الحديث الآتي (3843) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 137
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 13303، 18065) (شاذ)ط (کیوں کہ معمر کے سوا زہری کے اکثر تلامذہ اس کو میمونہ کی حدیث سے اور بغیر تفصیل کے روایت کرتے ہیں)
|
|
|
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بُوذَوَيْهِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ مَيْمُونَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ ابْنِ الْمُسَيِّبِ.
اس سند سے بھی ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا سے زہری کی حدیث کے مثل روایت ہے جسے انہوں نے ابن مسیب کے واسطہ سے (ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے) روایت کیا ہے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3843]
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ نسائي (4265) ¤ وانظر الحديث السابق (3842) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 137
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ أبو داود، أي بھذا السیاق، (تحفة الأشراف: 18065) (شاذ) (کیوں کہ معمر کے سوا زہری کے دیگر تلامذہ میمونہ کی حدیث سے بھی بغیر تفصیل روایت کرتے ہیں)
|
|
|
49: باب فِي الذُّبَابِ يَقَعُ فِي الطَّعَامِ
باب: کھانے میں مکھی گر جائے تو کیا کیا جائے؟
|
|
|
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا بِشْرٌ يَعْنِي ابْنَ الْمُفَضَّلِ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا وَقَعَ الذُّبَابُ فِي إِنَاءِ أَحَدِكُمْ فَامْقُلُوهُ فَإِنَّ فِي أَحَدِ جَنَاحَيْهِ دَاءً وَفِي الْآخَرِ شِفَاءً وَإِنَّهُ يَتَّقِي بِجَنَاحِهِ الَّذِي فِيهِ الدَّاءُ فَلْيَغْمِسْهُ كُلُّهُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی کے برتن میں مکھی گر جائے تو اسے برتن میں ڈبو دو کیونکہ اس کے ایک پر میں بیماری ہوتی ہے اور دوسرے میں شفاء، اور وہ اپنے اس بازو کو برتن کی طرف آگے بڑھا کر اپنا بچاؤ کرتی ہے جس میں بیماری ہوتی ہے، اس کے پوری مکھی کو ڈبو دینا چاہیئے“۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3844]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح ¤ مشكوة المصابيح (4143) ¤ أخرجه ابن خزيمة (105) ابن عجلان صرح بالسماع عند الطحاوي في مشكل الآثار (4/283 وسنده حسن) وله شواھد عند البخاري (3320)
تخریج دارالدعوہ:
تفر دبہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 13049)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/بدء الخلق 17 (3320)، الطب 58 (5782)، سنن ابن ماجہ/الطب 31 (3505)، سنن الدارمی/الأطعمة 12 (2081) (صحیح)
|
|
|
50: باب فِي اللُّقْمَةِ تَسْقُطُ
باب: کھاتے میں نوالہ گر جائے تو کیا کرنا چاہئے؟
|
|
|
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ" إِذَا أَكَلَ طَعَامًا لَعِقَ أَصَابِعَهُ الثَّلَاثَ، وَقَالَ: إِذَا سَقَطَتْ لُقْمَةُ أَحَدِكُمْ فَلْيُمِطْ عَنْهَا الْأَذَى وَلْيَأْكُلْهَا وَلَا يَدَعْهَا لِلشَّيْطَانِ، وَأَمَرَنَا أَنْ نَسْلُتَ الصَّحْفَةَ، وَقَالَ: إِنَّ أَحَدَكُمْ لَا يَدْرِي فِي أَيِّ طَعَامِهِ يُبَارَكُ لَهُ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کھانا کھاتے تو اپنی تینوں انگلیاں چاٹتے اور فرماتے: ”جب تم میں سے کسی کا لقمہ گر جائے تو اسے چاہیئے کہ لقمہ صاف کر کے کھا لے اسے شیطان کے لیے نہ چھوڑے“ نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں پلیٹ صاف کرنے کا حکم دیا اور فرمایا: ”تم میں سے کسی کو یہ معلوم نہیں کہ اس کے کھانے کے کس حصہ میں اس کے لیے برکت ہے“۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3845]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم (2034)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الأشربة 18 (2034)، سنن الترمذی/الأطعمة 11 (1802)، (تحفة الأشراف: 310)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/177، 290)، سنن الدارمی/الأطعمة 8 (7071) (صحیح)
|
|
|
51: باب فِي الْخَادِمِ يَأْكُلُ مَعَ الْمَوْلَى
باب: مالک کے ساتھ خادم کے کھانے کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا صَنَعَ لِأَحَدِكُمْ خَادِمُهُ طَعَامًا ثُمَّ جَاءَهُ بِهِ وَقَدْ وَلِيَ حَرَّهُ وَدُخَانَهُ، فَلْيُقْعِدْهُ مَعَهُ لِيَأْكُلَ، فَإِنْ كَانَ الطَّعَامُ مَشْفُوهًا فَلْيَضَعْ فِي يَدِهِ مِنْهُ أَكْلَةً أَوْ أَكْلَتَيْنِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں کسی کے لیے اس کا خادم کھانا بنائے پھر اسے اس کے پاس لے کر آئے اور اس نے اس کے بنانے میں گرمی اور دھواں برداشت کیا ہے تو چاہیئے کہ وہ اسے بھی اپنے ساتھ بٹھائے تاکہ وہ بھی کھائے، اور یہ معلوم ہے کہ اگر کھانا تھوڑا ہو تو اس کے ہاتھ پر ایک یا دو لقمہ ہی رکھ دے“۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3846]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح بخاري (2557) صحيح مسلم (1663)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الأیمان 10 (1663)، (تحفة الأشراف: 14628)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الأطعمة 44 (1853)، مسند احمد (2/277، 283) (صحیح)
|
|
|
52: باب فِي الْمِنْدِيلِ
باب: رومال کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا أَكَلَ أَحَدُكُمْ فَلَا يَمْسَحَنَّ يَدَهُ بِالْمِنْدِيلِ حَتَّى يَلْعَقَهَا أَوْ يُلْعِقَهَا".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی شخص کھانا کھائے تو اپنا ہاتھ اس وقت تک رومال سے نہ پونچھے جب تک کہ اسے خود چاٹ نہ لے یا کسی کو چٹا نہ دے“۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3847]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح بخاري (5456) صحيح مسلم (2031)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الأشربة 18 (2031)، (تحفة الأشراف: 5916)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأطعمة 52 (5456)، سنن ابن ماجہ/الأطعمة 9 (3269)، مسند احمد (1/293، 346، 370، 3/301)، سنن الدارمی/الأطعمة 6 (2069) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ ابْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ: أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ" يَأْكُلُ بِثَلَاثِ أَصَابِعَ، وَلَا يَمْسَحُ يَدَهُ حَتَّى يَلْعَقَهَا".
کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تین انگلیوں سے کھاتے تھے اور اپنا ہاتھ جب تک چاٹ نہ لیتے پونچھتے نہیں تھے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3848]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم (2032)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الأشربة 18 (2032)، سنن الترمذی/الشمائل (137، 141)، (تحفة الأشراف: 11146)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/454، 6/386)، دی/ الأطعمة 10 (2076) (صحیح)
|
|
|
53: باب مَا يَقُولُ الرَّجُلُ إِذَا طَعِمَ
باب: کھانے کے بعد کیا دعا پڑھے؟
|
|
|
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ ثَوْرٍ، عَنْ خَالِدِ بَنِ مَعْدَانَ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، قَال: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" إِذَا رُفِعَتِ الْمَائِدَةُ، قَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ غَيْرَ مَكْفِيٍّ وَلَا مُوَدَّعٍ وَلَا مُسْتَغْنًى عَنْهُ رَبُّنَا".
ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں جب دستر خوان اٹھایا جاتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا پڑھتے «الحمد لله كثيرا طيبا مباركا فيه غير مكفي ولا مودع ولا مستغنى عنه ربنا» ”اللہ تعالیٰ کے لیے بہت سارا صاف ستھرا بابرکت شکر ہے، ایسا شکر نہیں جو ایک بار کفایت کرے اور چھوڑ دیا جائے اور اس کی حاجت نہ رہے اے ہمارے رب تو حمد کے لائق ہے“۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3849]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح بخاري (5458) ¤ ورواه الترمذي (3456 وسنده صحيح)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الأطعمة 54 (5458)، سنن الترمذی/الدعوات 56 (3456)، سنن ابن ماجہ/الأطعمة 16 (3284)، (تحفة الأشراف: 4856)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/252، 256، 261، 267) سنن الدارمی/الأطعمة 3 (2066) (صحیح)
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي هَاشِمٍ الْوَاسِطِيِّ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ رَبَاحٍ، عَنْ أَبِيهِ أَوْ غَيْرِهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ" إِذَا فَرَغَ مِنْ طَعَامِهِ، قَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَطْعَمَنَا وَسَقَانَا وَجَعَلَنَا مُسْلِمِينَ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنے کھانے سے فارغ ہوتے تو یہ کہتے: «الحمد لله الذي أطعمنا وسقانا وجعلنا مسلمين» ”تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے ہمیں کھلایا پلایا اور مسلمان بنایا“۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3850]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ إسماعيل بن رباح وغيره مجهولان (تقريب التهذيب: 444) ¤ وللحديث طرق ضعيفة ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 137
تخریج دارالدعوہ:
سنن الترمذی/الشمائل (191)، سنن النسائی/ الیوم واللیلة (289، 290) (تحفة الأشراف: 4035)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/15، 32، 98) (ضعیف) (اس سند میں سخت اختلاف ہے، نیز اسماعیل مجہول راوی ہیں)
|
|
|
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي عَقِيلٍ الْقُرَشِيِّ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا أَكَلَ أَوْ شَرِبَ، قَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَطْعَمَ وَسَقَى، وَسَوَّغَهُ، وَجَعَلَ لَهُ مَخْرَجًا".
ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کھاتے یا پیتے تو کہتے: «الحمد لله الذي أطعم وسقى، وسوغه، وجعل له مخرجا» ”ہر طرح کی تعریف اس اللہ کے لیے ہے جس نے ہمیں کھلایا، پلایا، اسے خوشگوار بنایا اور اس کے نکلنے کی راہ بنائی“۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3851]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح ¤ مشكوة المصابيح (4207)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 3467)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/ الکبری (6894)، الیوم واللیلة (285) (صحیح)
|
|
|
54: باب فِي غَسْلِ الْيَدِ مِنَ الطَّعَامِ
باب: کھانا کھا کر ہاتھ دھونے کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ نَامَ وَفِي يَدِهِ غَمَرٌ وَلَمْ يَغْسِلْهُ فَأَصَابَهُ شَيْءٌ فَلَا يَلُومَنَّ إِلَّا نَفْسَهُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص سو جائے اور اس کے ہاتھ میں گندگی اور چکنائی ہو اور وہ اسے نہ دھوئے پھر اس کو کوئی نقصان پہنچے تو وہ اپنے آپ ہی کو ملامت کرے“۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3852]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح ¤ مشكوة المصابيح (4219)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 12656)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الأطعمة 48 (1860)، سنن ابن ماجہ/الأطعمة 22 (3296)، مسند احمد (2/263، 537)، سنن الدارمی/الأطعمة 27 (2107) (صحیح)
|
|
|
55: باب مَا جَاءَ فِي الدُّعَاءِ لِرَبِّ الطَّعَامِ إِذَا أُكِلَ عِنْدَهُ
باب: جب کسی کے یہاں کھانا کھایا جائے تو اس کے لیے دعا کرنے کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ يَزِيدَ أَبِي خَالِدٍ الدَّالَانِيِّ، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: " صَنَعَ أَبُو الْهَيْثَمِ بْنُ التَّيْهَانِ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَعَامًا، فَدَعَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابَهُ، فَلَمَّا فَرَغُوا، قَالَ: أَثِيبُوا أَخَاكُمْ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَا إِثَابَتُهُ؟، قَالَ: إِنَّ الرَّجُلَ إِذَا دُخِلَ بَيْتُهُ، فَأُكِلَ طَعَامُهُ وَشُرِبَ شَرَابُهُ، فَدَعَوْا لَهُ فَذَلِكَ إِثَابَتُهُ".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں ابوالہیثم بن تیہان نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کھانا بنایا پھر آپ کو اور صحابہ کرام کو بلایا، جب یہ لوگ کھانے سے فارغ ہوئے تو آپ نے فرمایا: ”تم لوگ اپنے بھائی کا بدلہ چکاؤ“ لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اس کا کیا بدلہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کوئی شخص کسی کے گھر جائے اور وہاں اسے کھلایا اور پلایا جائے اور وہ اس کے لیے دعا کرے تو یہی اس کا بدلہ ہے“۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3853]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف ¤ إسناده ضعيف ¤ أبو خالد الدالاني عنعن والرجل مجهول ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 137
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 3170) (ضعیف) (اس کی سند میں رجل ایک مبہم راوی ہے)
|
|
|
حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" جَاءَ إِلَى سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ، فَجَاءَ بِخُبْزٍ وَزَيْتٍ فَأَكَلَ، ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَفْطَرَ عِنْدَكُمُ الصَّائِمُونَ وَأَكَلَ طَعَامَكُمُ الْأَبْرَارُ وَصَلَّتْ عَلَيْكُمُ الْمَلَائِكَةُ".
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تو وہ آپ کی خدمت میں روٹی اور تیل لے کر آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کھایا پھر آپ نے یہ دعا پڑھی: «أفطر عندكم الصائمون وأكل طعامكم الأبرار وصلت عليكم الملائكة» ”تمہارے پاس روزے دار افطار کیا کریں، نیک لوگ تمہارا کھانا کھائیں، اور فرشتے تمہارے لیے دعائیں کریں۔“ [سنن ابي داود/حدیث: 3854]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ حدیث ابن ماجہ (۱۷۴۷) میں ہے، لیکن اس میں البانی صاحب قرعۃ میں (صحیح دون الفطر عند سعد)
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن ¤ وله شاھد حسن في مشكل الآثار (1/498، 499)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 476)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/118، 138، 201)، سنن الدارمی/الصوم 51 (1813) (صحیح)
|
|