سنن أبي داود حدیث نمبر: 3831
Sunan Abi Dawud 3831
کتاب #28: کتاب: کھانے کے متعلق احکام و مسائل
42: باب فِي التَّمْرِ
باب: کھجور کا بیان۔
حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ عُتْبَةَ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، حَدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " بَيْتٌ لَا تَمْرَ فِيهِ جِيَاعٌ أَهْلُهُ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس گھر میں کھجور نہ ہو اس گھر کے لوگ فاقہ سے ہوں گے ۱؎“۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3831]
💡 وضاحت:
۱؎: اس لئے کہ اس وقت کھجور ہی عربوں کی اصل خوراک تھی، اگر گھر اس سے خالی ہو تو ظاہر ہے گھر والوں کو بھوکا رہنا پڑے گا۔ طیبی کہتے ہیں: شاید اس سے مقصود قنات کی ترغیب ہے یعنی جو اس پر قناعت کر لے وہ بھوکا نہیں رہ سکتا، اور ایک قول یہ بھی ہے کہ اس سے مقصود کھجور کی فضیلت ظاہر کرنی ہے، نئی تحقیقات سے کھجور کی افادیت اور اہمیت واضح ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم (2046)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الأشربة 26 (2046)، سنن الترمذی/الأطعمة 17 (1815)، سنن ابن ماجہ/الأطعمة 38 (3327)، (تحفة الأشراف: 16942)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/الأطعمة 26 (2105) (صحیح)